اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





کن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو

کھاری کنویں شیریں ہوئے کن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا کچھ عرب پر ہی نہیں موقوف اے شاہ جہاں لوہا مانا ایک عالم نے تری تلوار کا کاٹ کر یہ خود سر میں گھس کے بھیجا چاٹ لے کاٹ ایسا ہے تمہاری کاٹھ کی تلوار کا اس کنارے ہم کھڑے ہیں پاٹ ایسا دھاریہ المدد اے نا خدا ہے قصہ اپنے پار کا رَبِّ سَلِّمْ کی دعا سے پار بیڑا کیجئے راہ ہے تلوار پر نیچے ہے دریا نار کا تو ہے وہ شیریں دہن کھاری کنویں شیریں ہوئے ان کو کافی ہو گیا آب دہن اک بار کا جس نے جو مانگا وہ پایا اور بے مانگے دیا پاک منہ پر حرف آیا ہی نہیں انکار کا دل میں گھر کرتا ہے اعدا کے ترا شیریں سخن ہے میرے شیریں سخن شہرہ تری گفتار کا ظلمت مرقد کا اندیشہ ہو کیوں نورؔی مجھے قلب میں ہے جب مرے جلوہ جمال یار کا سامانِ بخشش۔۔۔

مزید

چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا

لامکاں کس کا مرے سرکار کا   چارہ گر ہے دل تو گھائل عشق کی تلوار کا کیا کروں میں لے کے پھاہا مرہم زنگار کا روکش خلد بریں ہے دیکھ کوچہ یار کا حیف بلبل اب اگر لے نام تو گلزار کا حسن کے بے پردگی پردہ ہے آنکھوں کے لئے خود تجلی آپ ہی پردہ ہے روئے یار کا حسن تو بے پردہ ہے پردہ ہے اپنی آنکھ پر دل کی آنکھوں سے نہیں ہے پردہ روئے یار کا اک جھلک کا دیکھنا آنکھوں سے گو ممکن نہیں پھر بھی عالم دل سے طالب ہے ترے دیدار کا تیرے باغ حسن کی رونق کا کیا عالم کہوں آفتاب اک زرد پتا ہے ترے گلزار کا کب چمکتا یہ ہلال آسماں ہر ماہ یوں جو نہ ہوتا اس پہ پر تو ابروئے سرکار کا جاگ اٹھی سوئی قسمت اور چمک اٹھا نصیب جب تصور میں سمایا روئے انور یار کا حسرت دیدار میں اور آنکھیں بہہ چلیں تو ہی والی ہے خدایا دیدۂ خوں بار کا بھیک اپنے مرہم دیدار کی کردو عطا چاہئے کچھ منہ بھی کرنا زخم دامن دار کا کام نشتر کا ک۔۔۔

مزید

کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیا

کیسی پر نور ہے جنت کون ایسا ہے جسے خیرِ وَریٰ نے نہ دیاکوئی ایسا بھی ہے کیا جس کو خدا نے نہ دیا آپ کے دین کا منکر ہے نرا، ناشکراکوئی کافر ہی کہے گا کہ خدا نے نہ دیا جس کو تم نے دیا اللہ نے اس کو بخشاجس کو تم نے نہ دیا اس کو خدا نے نہ دیا آپ کے رب نے دیا آپ کو فضل کلیوہ دیا تم کو جو اوروں کو خدا نے نہ دیا وہ فضائل تمہیں بخشے ہیں خدا نے جن کاآپ کے غیر میں امکان بھی آنے نہ دیا مثل ممکن ہی نہیں ہے ترا اے لاثانیوہم نے بھی تو ترا مثل سمانے نہ دیا آپ کے جوڑ کا آئے تو کہاں سے آئےجب و جود اس کو شہ ارض و سمانے نہ دیا آدم و نوح، ابراہیم، کلیم و عیسیٰان کو سب کو ملا کیا رب علا نے نہ دیا باوجود اس کے تمہیں جو ملا ان کو نہ ملاآپ کا رتبہ کسی کو بھی خدا نے نہ دیا سب مطالب مرے بر آئے کرم سے ان کےکوئی مطلب بھی مرے دل کا برانے نہ دیا کیسی پر نور ہے جنت کی فضا اے نورؔیپھر بھی طیبہ کا مزا اس کی فض۔۔۔

مزید

قفسِ جسم سے چھُٹتے ہی یہ پرّاں ہوگا

جان ایماں ہے محبت تری قفس جسم سے چھُٹتے ہی یہ پرّاں ہوگامرغ جاں گنبد خضرا پہ غزل خواں ہوگا روز و شب مرقد اقداس کا جونگراں ہوگااپنی خوش بختی پہ وہ کتنا نہ نازاں ہوگا اس کی قسمت کی قسم کھائیں فرشتے تو بجاعید کی طرح وہ ہر آن میں شاداں ہوگا اس کی فرحت پہ تصدق ہوں ہزاروں عیدیںکب کسی عید میں ایسا کوئی فرحاں ہوگا چمن طیبہ میں تو دل کی کلی کھلتی ہےکیا مدینے سے سوا روضۂ رضواں ہوگا وہ گلستاں ہے جہاں آپ ہوں اے جان جناںآپ صحرا میں اگر آئیں گلستاں ہوگا آپ آجائیں جو چمن سے تو چمن جان چمنخاصہ اک خاک بسر دشت مغیلاں ہوگا جان ایماں ہے محبت تری جان جاناںجس کے دل میں یہ نہیں خاک مسلماں ہوگا درد فرقت کا مداوا نہ ہوا اور نہ ہوکیا طبیبوں سے مرے درد کا درماں ہوگا جس نے تبرید بتائی خفقاں ہوگا اسےکیا ٹھنڈائی سے علاج تپ ہجراں ہوگا کہر بائی نہ ہو کیوں رنگ مرے چہرے کاجتنا ایقان بڑھا اتنا ہی ترساں ہوگا نو۔۔۔

مزید

آہ پورا مرے دل کا کبھی ارماں ہوگا

خورشیدِ رسالت آہ پورا مرے دل کا کبھی ارماں ہوگاکبھی دل جلوہ گہ سرور خوباں ہوگا میرے دل پر جو کبھی جلوۂ جاناں ہوگالمعۂ نور مرے رخ سے نمایاں ہوگا جلوۂ مصحف رخ دل میں جو پنہاں ہوگاپارے پارے میں مرے قلب کے قرآں ہوگا چوندھ جائے گی تری آنکھ بھی مہر محشران کے ذرہ کو جو دیکھے گا پریشاں ہوگا حسن وہ پایا ہے خورشیدِ رسالت تو نےتیرے دیدار کا طالب مہ کنعاں ہوگا جلوۂ حسن جہاں تاب کا کیا حال کہوںآئینہ بھی تو تمہیں دیکھ کے حیراں ہوگا کون پوچھے گا بھلا روز جزا وہ بھی مجھےان کی رحمت کے سوا کوئی بھی پرساں ہوگا چاک تقدیر کو کیا سوزن تدبیر سئےلاکھ وہ بخیہ کرے چاک گریباں ہوگا مجھ کو دعویٰ نہیں عصمت کا مگر بے موقععیب جوئی نہ کرے گا جو سخنداں ہوگا دل دشمن کے لئے تیغِ دو پیکر ہے سخنچشم حاسد کو مرا شعر نمک داں ہوگا عمر ساری تو کٹی لہو میں اپنی نوریؔکب مدینے کی طرف کوچ کا ساماں ہوگا۔۔۔

مزید

میرا گھر غیرتِ خورشیدِِ درخشاں ہوگا

شانِ کرم میرا گھر غیرت خورشیدِ درخشاں ہوگاخیر سے جان قمر جب کبھی مہماں ہوگا جو تبسم سے عیاں اک درِ دنداں ہوگاذرہ ذرہ مرے گھر کا مہِ تاباں ہوگا کیوں مجھے خوف ہو محشر کا کہ ہاتھوں میں مرےدامن حامی خود، ماحی عصیاں ہوگا پلہ عصیاں کا گراں بھی ہو تو کیا خوف مجھےمیرے پلے پہ تو وہ رحمت رحماں ہوگا مجھ سے عاصی کو جو بے داغ چھڑا لائیں گےاہل محشر میں جو دیکھے گا وہ حیراں ہوگا کوئی منہ میرا تکے گا کہ یہ وہ عاصی ہےجس کو ہم جانتے تھے داخل میزاں ہوگا کوئی اس رحمت عالم پہ تصدق ہوگاکوئی یہ شان کرم دیکھ کے قرباں ہوگا ماجرا دیکھ کے ہوگا یہ کسی کو سکتہاک تعجب سے وہ انگشت بد نداں ہوگا ان کی حیرت پہ کہوں گا کہ تعجب کیا ہےخود خدا ہوگا جدھر سرور ذیشاں ہوگا دم نکل جائے تمہیں دیکھ کے آسانی سےکچھ بھی دشوار نہ ہوگا جو یہ آساں ہوگا زخم پر زخم یہی کھائے یہی قتل بھی ہوخون مسلم ابھی کیا اس سے بھی ارزاں ہوگا ۔۔۔

مزید

ماہِ تاباں توہوا مہرِ عجم ماہِ عرب

جلوۂ ماہِ عرب ماہِ تاباں تو ہوا مہرِ عجم ماہِ عرب ہیں ستارے انبیا مہر عجم ماہِ عرب ہیں صفات حق کے نوری آئینے سارے نبیذات حق کا آئینہ مہر عجم ماہِ عرب کب ستارا کوئی چمکا سامنے خورشید کےہو نبی کیسے نیا مہر عجم ماہِ عرب آپ ہی کے نور سے تابند ہیں شمس و قمردل چمک جائے مرا مہر عجم ماہِ عرب قبر کا ہر ذرہ اک خورشید تاباں ہوا بھیرخ سے پردہ دو ہٹا مہر عجم ماہِ عرب روسیہ ہوں منہ اجالا کر مرا جان قمرصبح کر یا چاند نا مہر عجم ماہِ عرب کوچۂ پر نور کا ہر ذرہ رشک مہر ہےواہ کیا کہنا ترا مہر عجم ماہِ عرب روسیہ ہوں منہ اجالا کر مرا جان قمرصبح کر یا چاند نا مہر عجم ماہِ عرب نیر چرغ رسالت جس گھڑی طالع ہوااوج پر تھا غلغلہ مہر عجم ماہِ عرب آپ نے جب مشرق انوار سے فرمایا طلوعدامن شب پھٹ گیا مہر عجم ماہِ عرب ظلمت شب مٹ گئی جب آپ جلوہ گر ہوئےرات تھی پر دن ہوا مہر عجم ماہِ عرب تم نے مغرب سے نکل کر اک قی۔۔۔

مزید

ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہر عرب

جلوہ ہے جلوہ آپ کا ہے تم سے عالم پر ضیا ماہِ عجم مہر عربدے دو مرے دل کو جلا ماہِ عجم مہر عرب دونوں جہاں میں آپ ہی کے نور کی ہے روشنیدنیا و عقبیٰ میں شہا ماہِ عجم مہر عرب کب ہوتے یہ شام و سحر کب ہوتے یہ شمس و قمرجلوہ نہ ہوتا گر ترا ماہِ عجم مہر عرب ہے روسیہ مجھ کو کیا آقا مرے اعمال نےکردو اجالا منہ مرا ماہِ عجم مہر عرب خورشید تاباں بھیک کو آیا تری سرکار سےہے نور سے کا سہ بھرا ماہِ عجم مہر عرب خورشید کے سر آپ کے در کی گدائی سے رہاسہرا شہا انوار کا ماہ عجم عرب کاسہ لیسی سے ترے دربار کی مہتاب بھیکیسا منور ہوگیا ماہِ عجم مہر عرب ہیں یہ زمین و آسماں منگتا اسی سرکار نےہے ان کی آنکھوں کی ضیا ماہِ عجم مہر عرب یوں بھیک لیتا ہے دو وقتہ آسماں انوار کیصبح و مسا ہے جبہ سا ماہ عجم مہر عرب اس جبہ سائی کے سبب شب کو اسی سرکار نےانعام میں ٹیکا دیا ماہِ عجم مہر عرب اور صبح کو سرکار سے اس کو ملا ن۔۔۔

مزید

ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورت

بہار گلشن ان کو دیکھا تو گیا بھول میں غم کی صورتیاد بھی اب تو نہیں رنج و الم کی صورت خواب میں دیکھوں اگر دافع غم کی صورتپھر نہ واقع ہو کبھی رنج و الم کی صورت آبلے پاؤں میں پڑ جائیں جو چلتے چلتےراہ طیبہ میں چلوں سر سے قدم کی صورت تم اگر چاہو تو اک چین جبیں سے اپنیکردو اعدا کو قلم شاخ قلم کی صورت نام والا ترا اے کاش مثال مجنوںریگ پر انگلیوں سے لکھوں قلم کی صورت تیرا دیدار کرے رحم مجسم تیرادیکھنی ہو جسے رحماں کے کرم کی صورت آپ ہیں شان کرم کان کرم جان کرمآپ ہیں فضل اتم لطف اعم کی صورت اک اشارہ ترے ابرو کاشہ ہر دوسراکاٹ دے دشمنوں کو تیغ دو دم کی صورت آپ کا مثل شہا کیسے نظر میں آئےکس نے دیکھی ہے بھلا اہل عدم کی صورت موم ہے ان کے قدم کے لئے دل پتھر کاسنگ نے دل میں رکھی ان کے قدم کی صورت خواب میں بھی نہ نظر آئے اگر تم چاہودرد و غم، رنج و الم، ظلم و ستم کی صورت اے سحاب کرم اک بوند کرم۔۔۔

مزید

اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے سرور عالی مقام

پیکر حسن تمام اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے سرور عالی مقاماَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے رہبر جملہ اناماَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے مظہر ذات السلاماَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اے پیکر حسن تمام اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اَصَّلَاۃُ وَالسَّلاماے نبیوں کے نبی اور اے رسولوں کے امام یَا حَبِیْبَ اللہ اَنْتَ مَھْبِطُ الْوَحْیِ الْمُبِیْںاِنِّیْ مُذْنِب سَیِّدِیْ اَنْتَ شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْںیَا رَسُوْلَ اللہ اَنْتَ صَادِقُ الْوَعْدِ الْاَمِیْںیَا نَبِیَّ اللہ اَنْتَ رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْں اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اَصَّلَاۃُ وَالسَّلاماے نبیوں کے نبی اور اے رسولوں کے امام اے شہ عرش آستاں اے سرور کون و مکاںاے مرے ایمانِ جاں اے جانِ ایمانِ زماںاے مرے امن و اماں اے سرور ہر دو جہاںمیں ہوں عاصی سرورا اور تم شفیعِ عاصیاں اَصَّلَاۃُ وَالسَّلام اَصَّلَاۃُ وَالسَّلاماے نبیوں کے نبی اور اے رسولوں کے امام اے کہ تیری ذاتِ عالی۔۔۔

مزید

ماہ طیبہ نیر بطحا صلی اللہ علیک وسلم

جاری رہے گا سکہ تیرا ماہ طیبہ نیر بطحا صلی اللہ علیک وسلمتیرے دم سے عالم چمکا صلی اللہ علیک وسلم تو ہے مظہر رب اجمل ظل ہیں تیرے سارے مرسلکون ہے ہم سر تیرا شاہا صلی اللہ علیک وسلم تم ہو پیارے اصل ہماری سارا جہاں ہے فرع تمہاریتم سب کی ماہیت گویا صلی اللہ علیک وسلم تم ہو آقا معرّف حق کے جلوے ہو نور مطلق کےتم ہو حجت رب بر اعدا صلی اللہ علیک وسلم تو ہے نائب رب اکبر پیارے ہر دم تیرے در پراہل حاجت کا ہے میلہ صلی اللہ علیک وسلم حق نے بنایا ایسا تونگر اکبر و اوسط و اصغر و سرورتیرے در پر حاضر جملہ صلی اللہ علیک وسلم ہر شے میں ہے تیرا جلوہ تجھ سے روشن دین و دنیابانٹا تو نے نور کا باڑا صلی اللہ علیک وسلم ایماں تیری عظمت و الفت اور تصدیق و جزم نسبتمومن وہ جس نے پایا صلی اللہ علیک وسلم بے شبہہ ہے زین طاعت حق یہ کہ ہے عین عبادتحق کے پیارے تصور تیرا صلی اللہ علیک وسلم تیری ضیا سے عالم چمکا سبح۔۔۔

مزید

اعلیٰ سے اعلیٰ رفعت والے

صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ اعلیٰ سے اعلیٰ رفعت والےبالا سے بالا عظمت والےسب سے برتر عزت والےصلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ سب سے زائد حرمت والےسب سے بڑھ کر ہمت والےسب سے برتر قدرت والےصلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ جاہ و جلال، وجاہت والےقوت و سطوت، صولت والےشان و شوکت، حشمت والےصلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ تم ہو ماہ لاہوت خلوتتم ہو شاہ ناسوت جلوتتم ہو جامعیت والےصلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ تم ہو جوہر فرد عزتتم ہو جسم و جان وجاہتتم ہو تاج رفعت والےصلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ تم ہو آب عین رحمتتم ہو تاب ماہ وحدتاے چمکیلی رنگت والےصلی اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیک وسلم صلی اللہ صلی اللہ تم ہو نہر بحر وحدتتم ہو پیارے منبع کثرتوحدت والے کثرت والےص۔۔۔

مزید