اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





مومنو وقت ادب ہے

ایضاً برائے قیام مومنو وقت ادب ہے آمد محبوب رب ہےجائے آداب و طرف ہے آمد شاہ عرب ہے غنچے چٹکے پھول مہکے شاخ گل پر مرغ چہکےروتا ہے شیطاں یہ کہہ کے آمد شاہ عرب ہے خواہش ِزلفِ نبی میں مست ہیں گُل کی شمیمیںجھوم کر آئیں نسیمیں آمد شاہ عرب ہے بدلیاں رحمت کی چھائیں بوندیاں رحمت کی آئیںاب مرادیں دل کی پائیں آمد شاہ عرب ہے بج رہے ہیں شادیانے بُت لگے کلمہ سنانےہر زباں پہ ہیں ترانے آمد شاہ عرب ہے ابرِ رحمت چھا گیا ہے کعبے پہ جھنڈا گڑا ہےباب ِرحمت آج واہے آمد شاہ عرب ہے قصر ِکِسریٰ کانپتا ہے خشک سا واہوگیا ہےہر طرف سےیہ صدا ہے آمد شاہ عرب ہے آتا وہ ماہ ِلِقا ہے جس پہ پیارا کبریا ہےدوجہاں میں غُلغُلہ ہے آمد شاہ عرب ہے آنے والا ہے وہ پیارا دونوں عالم کا سہاراکعبے کا چمکا ستارہ آمد شاہ عرب ہے آتا ہے شاہ ِحکومت فرض ہے جس کی اِطاعتہر نبی نے دی بشارت آمد شاہ عرب ہے ہونے والی وہ سحر ہے جو سحر رشک۔۔۔

مزید

مچی ہے دھوم پیمبر کی آمد آمد ہے

مچی ہے دھوم پیمبر کی آمد آمد ہےحبیب خالق اکبر کی آمد آمد ہے کیا ہے سبز علم نصب بام کعبہ پرکہ دو جہاں کے سرور کی آمد آمد ہے نہ کیوں ہو نور سے تبدیل کفر کی ظلمتخدا کے ماہ منور کی آمد آمد ہے ہے جبرئیل کو حکم خدا خبر کردوہکہ آج حق کے پیمبر کی آمد آمد ہے خوشی کے جوش میں ہیں بلبلیں بھی نغمہ کناںچمن میں آج گل ِترکی آمد آمد ہے دوز انو ہو کے ادب سے پڑھو صلاۃ وسلامعزیز و خلق کے مصدر کی آمد آمد ہے جمیلِ قادری کہہ دے کھڑے ہوں اہل سننہمارے حامی ویاور کی آمد آمد ہے قبالۂ بخشش۔۔۔

مزید

یہ دل عرش اعظم بنا چاہتا ہے

یہ دل عرش اعظم بنا چاہتا ہےگھر اِس میں نبی کا ہوا چاہتا ہے نہ پوچھو کہ بندے تو کیا چاہتا ہےفقط اک تمہاری رضا چاہتا ہے عجب کیا جو انس وملائک ہیں شیداتمہیں تو تمہارا خدا چاہتا ہے غلاموں پہ کیوں کہ نہ تیرا کرم ہوتو دشمن کا بھی کب برا چاہتاہے سبھی کی نظر ہے ترے دامنوں پرہر اک انکی ٹھنڈی ہوا چاہتا ہے خدا کی رضا کا ہے ہر ا یک طالبخدا تیرا تیری رضا چاہتا ہے نہ کیوں دونوں عالم بنیں اس کے منگتاعرب والا سب کا بھلا چاہتا ہر اک پیش خالق از ل سے ابد تکوسیلہ اسی ذات کا چاہتا ہے عجب پیار مژدہ ہے یُحْبِبْکُمُ اللہکہ بندوں کو ان کے خدا چاہتا ہے کنارہ بہت دور کشتی شکستہمعاصی کا دریا چڑھا چاہتا ہے خدا را خبر لو کہ کوہ ِگناہاںسرِنا تواں پر گرا چاہتا ہے عطا اس کو ہوتی ہے فی الفور صحتجو اس در سے آکر دوا چاہتا ہے نہ دنیا کی خواہش نہ جنت کا طالبفقط اک تمہاری رضا چاہتا ہے رہے و رد دنیا میں نام مبارک۔۔۔

مزید

دست قدرت نے عجب صورت بنائی آپ کی

دست قدرت نے عجب صورت بنائی آپ کیوالہ و شیدا ہوئی ساری خدائی آپ کی آپ پر صدقے نہ کیوں کر ہوں حسینان ِجہاںصانع مُطلق کو شکل ِپاک بھائی آپ کی آپ محبوبِ خدا کونین کے مختار ہیںجب خدا ہےآپ کا ساری خدائی آپ کی بادشاہانِ جہاں کو بھی یہی کہتے سناسلطنت دنیا کی چھوڑ و، لو گدائی آپ کی ناروالے ایک دم میں نور والے ہوگئےرحمت ِعالم عجب ہے رہنمائی آپ کی ساری مخلوق الہٰی آپ کی فرماں پذیرمیں بھی بندہ آپ کا ساری خدائی آپ کی امتِ عاصی کی بخشش آپ پر موقوف ہےمخلصی دلوائے گی مشکل کشائی آپ کی جمع ہوں گے روز محشر اولین و آخریںسب پہ روشن ہوگی شان مصطفائی آپ کی اب تو بلوا لو مدینے میں خدا کے واسطےپارہ پارہ دل کو کرتی ہے جدائی آپ کی یا الہٰی روز محشر لب پہ جاری ہو مرےالمدد اے شافع ِمحشر دوہائی آپ کی جمع کرلے تو شۂ عقبےٰ جمیل ِقادریکام دےگی حشر میں مدحت سرائی آپ کی قبالۂ بخشش۔۔۔

مزید

جوداغِ عشقِ شہ دیں ہیں دل پہ کھائےہوئے

جوداغِ عشقِ شہ دیں ہیں دل پہ کھائےہوئےوہ گویا خلد بریں کی سند ہیں پائے ہوئے تمہارے در کے گداؤں کے واسطے یا شاہبہشت لائے ہیں رضواں دلہن بنائے ہوئے اٹھا کے آنکھ نہ دیکھے وہ حورو غلما کونظر میں جس کی ہیں ماہ عرب سمائے ہوئے ہے عاشقوں کی نظر تیرے رخ پہ باطن میںبظاہر اپنا کفن میں ہیں منہ چھپائے ہوئے ہے ان کے دفن پہ قربان جان عالم کیجو تیرے ہاتھ سے ہیں قبر میں سلائے ہوئے ٹھہر ذرا ملک الموت دیکھ لینے دےشہِ مدینہ ہیں بالیں پہ میرے آئے ہوئے اجل ہے سر پہ کھڑی دیر کرنہ اے غافلرہ مدینہ کو طے کر قدم بڑھائے ہوئے نہ جائیں گے کہیں ہل کر اس آستانے سےکہ ہم ہیں یا شہ طیبہ ترے ہلائے ہوئے وہ دن نصیب ہو ہاتھوں میں جالیاں تھامےکھڑے ہوں ترے روضے پہ سر جھکائے ہوئے فرشتے کرتے ہیں یوں زائر و ں کا استقبالکہ یہ حبیب مکرم کے ہیں بلائے ہوئے کچھ ایک ہم ہی نہیں ہیں درِ نبی کے گداقمر بھی داغ غلامی ہے دلپہ کھائے ۔۔۔

مزید

احمد کی رِضا خالق ِعالم کی رِضا ہے

احمد کی رِضا خالق ِعالم کی رِضا ہےمرضی ِخدا مرضیِ شاہ دوسرا ہے ہوتا ہے فَتَرْضٰ کے اشارات سے ظاہرمرضی ِخدا وہ ہے جو احمد کی رِضا ہے اَعدائے رِضا جوئے نبی ہوتے ہیں رسوااور ان کے غلاموں کا دو عالم میں بھلا ہے چاہے جو رضا ان کی خدا اس سے ہے راضیطالب جو رضا کانہیں مردودِ خدا ہے محبوب الہٰی سے تمہیں بغض و عداوتاے دشمنو اللہ کے گھر اس کی سزا ہے اللہ کسی کی نہ ہو قسمت کا بُرایوںجس طرح کہ اَعدائےسیہ روکا بُرا ہے اچھے کا جو اچھا ہے خدا کا ہے وہ اچھااچھوں سے جو پھر جائے بروں سے وہ برا ہے احمد کو دیا فضل خدائے دو جہاں نےہاں اس کی رضا خالق عالم کی رضا ہے حامد کی رضا احمد و محمود کی مرضیوہ چاہے کہ منظور جسے حق کی رضا ہے واللہ کہ بندہ ہوں میں احمد کی رضا کایہ نام مبارک مری آنکھوں کی ضیا ہے اعدا کے مٹائے سے مٹے کب تری عزتاللہ تعالیٰ نے تجھے فضل دیا ہے ایمان کی یہ ہے کہ ترا قول ہے ایماںاور قو۔۔۔

مزید

اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالی

اے دل تودرودوں کی اول تو سجا ڈالیپھر جا کر مدینہ میں روضے پہ چڑھا ڈالی کیا نذر کروں تیرے دربار مقدس میںتوصیف کے پھولوں کی لایا ہوں شہا ڈالی احمد کو کیا آقا اور ہم کو کیا بندہاللہ نے رحمت کی کیا خوب بنا ڈالی بس جائے دماغ جاں عشاق کا خوشبو سےلاباغ مدینہ سے پھولوں کی صبا ڈالی خورشید و قمر ایسے ہوتے نہ کبھی روشنتو نے ہی جھلک ان میں اے نور خدا ڈالی تم سے نہ کہوں کیوں کر تم چاند عرب کے ہودیکھو تو شب غم نے کیا مجھ پہ بلا ڈالی شرمندہ کیا مجھ کو آگے میرے آقا کےاے نفس ِلعیں تونےمجھ پریہ بلاڈالی مولیٰ میرےنامے سےدُھل جائیں گےسب عصیاںاک بونداگرتونےاےابرِسخاڈالی مجرم ترے ارمانوں کا ہے باغ پھلا پھولالے فرد گنا ہوں کی مولیٰ نے مٹا ڈالی سب بھر دیے زخمِ دل سرکار مدینہ نےقلبو ں میں غلاموں کے رحمت کی دوا ڈالی کچھ ایسی گھٹا نوری امنڈی کہ تری امتپاک ہوگئی رحمت کی بارش میں نہا ڈالی واللہ مدد ان کی ۔۔۔

مزید

مدینہ میں بلا اے رہنے والے سبزگنبد کے

مدینہ میں بلا اے رہنے والے سبزگنبد کےبدوں کو بھی نِبھا اے رہنے والے سبز گنبد کے سنہری جالیوں کے سامنے بستر لگے اپناوہیں آئے قضا اے رہنے والے سبزگنبد کے جسے عشاق کی جنت کہا کرتے ہیں اہل حقوہ ہے صحر اترااےرہنے والے سبز گنبد کے گر جاتے ہیں تیرے نام لیوا بار عصیاں سےتو گر تو ں کو اٹھا اے رہنے والے سبز گنبد کے کنارہ دور ہے کشتی شکستہ اور بھنور حائلخبر لے میں چلا اے رہنے والے سبز گنبد کے دو عالم کی مرادوں کے لیے کافی و وافی ہےترا دست عطا اے رہنے والے سبز گنبد کے اگر مل جائے چھینٹا قطرۂ رحمت سے عالم کوتو ہو سب کا بھلا اے رہنے والے سبز گنبد کے کھلیں جس سے یہ مرجھائی ہوئی کلیاں مرے دل کیچلا ایسی ہوا اے رہنے والے سبز گنبد کے رضائے حق کے طالب و جہاں لیکن ترا مولیٰتری چاہے رضا اے رہنے والے سبز گنبد کے گنہگاروں کی جانب سے خطاؤں پر خطائیں ہیںمگر تجھ سے عطا اے رہنے والے سبز گنبد کے دردنداں کا۔۔۔

مزید

عجب دل کشا ہیں مدینے کی گلیاں

ترجیع بند نہ کیوں کر مدینے پہ مکہ ہو قرباںکہ ہیں جلوہ گر اس میں محبوب یزداں برستے ہیں ہر وقت انوار سبحاںہے ہر ایک گوشہ وہاں کا گلستاں عجب دل کشا ہیں مدینے کی گلیاںمعطر ہیں یوں جیسے پھولوں کی کلیاں سرطور پر تھے جو جلوے نمایاںہیں انوار وہ ہی یہاں پر درخشاں جناب کلیم آکے دیکھیں اگریاںکہیں غش میں آکر کہ یار تری شاں عجب دل کشا ہیں مدینے کی گلیاںمعطر ہیں یوں جیسے پھولوں کی کلیاں مدینے کی جانب چلوں پابجولاںنکلتے ہی گھر سے بنوں ان کا مہماں پہنچ کر وہاں پر کروں یہ دل وجاںسنہرے کلس سبزگنبد پہ قرباں عجب دل کشا ہیں مدینے کی گلیاںمعطر ہیں یوں جیسے پھولوں کی کلیاں مدینے کی ہر شے نفاست بھری ہےمدینے سے کعبے کو عزت ملی ہے وہیں کی تو پھولوں میں خوشبو بسی ہےصبا وجدمیں جھومکر کہہ رہی ہے عجب دل کشا ہیں مدینے کی گلیاںمعطر ہیں یوں جیسے پھولوں کی کلیاں وہ کوچہ ہے یا کوئی رحمت کا خواں ہےکہ سارا زمان۔۔۔

مزید

یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا شانہ رہے

یا خدا ہر دم نگہ میں ان کا شانہ رہےدونوں عالم میں میں خیال روئے جانا نہ رہے اے عرب کے چاند تیرے ذرے کا ذرہ ہوں میںتا ابد پر نور میرے دل کا کاشانہ رہے کیوں معطر ہو نہ خوشبو سے دعا لم کا دماغپنجۂ قدرت ترے گیسو کا جب شانہ رہے جس مکاں کی اپنی پائے پاک سے عزت بڑھائیںکیوں نہ سب امراض کا وہ گھر شفا خانہ رہے زندگی میں بعد مردن انکے نام پاک سےیا خدا آباد میرے دل کا ویرانہ ہے عین ایماں ہے یہی اور ہے ہر اک مومن پہ فرضان کے نام پاک کا دنیا میں مستانہ رہے در دلب مصرع ہو یہ جب سیر ہوں پیاسے ترےساقی کو ثر ترا آباد میخانہ رہے مست ان کے جھومتے ہیں جوش میں کہتے ہوئےساقی کو ثر تراآباد میخانہ رہے کیوں جلائے نارو دوزخ اس کو اے شمع ہدیٰجو فدا دنیا میں تم پر مثل پروانہ رہے محو نظارہ رہیں تا حشر آنکھیں یا خدااور دل دحشی رخ و گیسو کا دیوانہ رہے کر بلند ایسا علم اسلام کا اے شاہ دیںمسجدیں آباد ہوں ویرا۔۔۔

مزید

پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کا

نعت شہ والا پڑھوں وہ مطلعِ نوری ثنائے مہرِ انور کاہو جس سے قلب روشن جیسے مطلع مہر محشر کا سر عرش علا پہنچا قدم جب میرے سرور کازبان قدسیاں پر شور تھا اللہ اکبر کا بنا عرش بریں مسند کف پائے منور کاخدا ہی جانتا ہے مرتبہ سرکار کے سرکار دو عالم صدقہ پاتے ہیں مرے سرکار کے درکااسی سرکار سے ملتا ہے جو کچھ ہے مقدر کا بڑے دربار میں پہنچایا مجھ کو میری قسمت نےمیں صدقے جاؤں کیا کہنا مرے اچھے مقدر کا ہے خشک و تر پہ قبضہ جس کا وہ شاہ جہاں یہ ہےیہی ہے بادشاہ بر کا یہی سلطاں سمندر کا مٹے ظلمت جہاں کی نور کا تڑکا ہو عالم میںنقاب روئے انور اے مرے خورشید اب سرکا ضیا بخشی تری سرکا کی عالم پہ روشن ہےمہ و خورشید صدقہ پاتے ہیں پیارے ترے درکا نگاہ مہر سے اپنی بنایا مہر ذروں کوالہٰی! نور دن دونا ہو مہر ذرہ پرور کا طبق پر آسماں کے لکھتا میں نعت شہ والاقلم اے کاش مل جاتا مجھے جبریل کے پرکا مقابل ان کے ذ۔۔۔

مزید

وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کا

مخزنِ انوار وصف کیا لکھے کوئی اس مہبط انوار کامہرومہ میں جلوہ ہے جس چاند سے رخسا رکا عرش اعظم پر پھریرا ہے شہ ابرار کا بجتا ہے کونین میں ڈنکا مرے سرکار کا دو جہاں میں بٹتا ہے باڑہ اس سرکار کادونوں عالم پاتے ہیں صدقہ اسی دربار کا جاری ہے آٹھوں پہر لنگر سخی دربار کافیض پر ہر دم ہے دریا احمد مختار کا روضۂ والائے طیبہ مخزن انوار ہےکیا کہوں عالم میں تجھ سے جلوہ گاہِ یارکا دل ہے کس کا جان کس کی سب کے مالک ہیں وہیدونوں عالم پر ہے قبضہ احمد مختار کا کیا کرے سونے کا کشتہ، کشتہ تیر عشق کادید کا پیاسا کرے کیا شربت دینار کا فق ہو چہرہ مہر و مہ کا ایسے منہ کے سامنےجس کو قسمت سے ملے بوسہ تری پیزار کا لات ماری تم نے دنیا پر اگر تم چاہتےسلسلہ سونے کا ہوتا سلسلہ کہسار کا میں تری رحمت کے قرباں اے مرے امن واماںکوئی بھی پر ساں نہیں ہے مجھ سے بد کردار کا ہیں معاصی حد سے باہر پھر بھی زاہد غم نہیںرح۔۔۔

مزید