اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





معراج محبوب ﷺ

انوار کا نزول ہے ‘ آسماں سے کیا؟ محبوب کا عُروج ہے ‘ کون و مکاں سے کیا؟ حاضر ہوئے ہیں رُوحِ امیں چھت کو توڑ کر پردے تمام کھول دیے‘ درمیاں سے کیا؟ در پر بُراق ‘ چشم بردہ‘ جبرئیل ساتھ وہ عرض کر رہے ہیں شہہ دو جہاں سے کیا؟ شاہِ زمن کو یاد کیا کردگار نے کھلتے ہیں راز سرورِ عالی مقام سے کیا؟ لے کر بُراق، چشمِ زدن میں ہَوَا ہُوا حیراں ہے وہم، کوئی گیا ہے یہاں سے کیا؟ اقصٰی میں انبیاء کی جماعت ہے منتظر اظہار تہنیت ہے، کسی میہماں سے کیا؟ صف بستہ ہیں ملائکہ اور ہِل رہے ہیں لب ذکر دُرود کرتے ہیں اپنی زباں سے کیا؟ کیوں اس درجہ آج جو عرش محوِ سرور ہے شوق لقائے سیّدِ کون و مکاں سے کیا؟ آج استواءِ عرش کی تفسیر مل گئی اب بھی تُو معترض نہ ہلے گا گماں سے کیا؟ فرمایا،جبرئیل، جو سدرہ پہ رُک گئے ’’ہوتے ہیں آپ ہم سے جُدا اب یہاں سے کیا؟‘‘ قصرِ د۔۔۔

مزید

مقصد معراج

 نبی کے نور سے عالم کو جگمگانا تھا نبی کی ذات عرشِ استوا بنانا تھا مکان سے انہیں لا مکاں بنانا تھا دِکھانی شان تھی، معراج اِک بہانہ تھا نبی کے جلوہ قدرت ہیں یہ مکین و مکاں نبی کے سایۂ رحمت ہیں یہ زمین و زماں یہ آسمان یہ شمس و قمر یہ سارا جہاں سبھی نے ان کی اطاعت کا حکم مانا تھا قدم حرم سے اُٹھا بیتِ اقدس میں پہنچا عجیب لُطفِ تقریب تھا، قابَ قَوسین کا خطاب کر کے اِلیٰ عبدِہِ فَاَوحیٰ   کا عظیم رفعتِ محبوب ِ حق دِکھانا تھا حبیبِ حق پہ ہوئی اسریٰ بِعبدہٖ نازل یہی وہ عبد ہیں، ہے جن کی عبدیّت کامل صفاتِ حق کے خلائق میں مظہر و حامل انہی کو خلق کا مختارِ کُل بنانا تھا رضائے احمدِ مُر سل، رضا خدا کی ہے عطا حبیب کے ہاتھوں، عطا خدا کی ہے اطاعت اُن کی ہی، بس بندگی خدا کی ہے مطاعِ خلق محمّد کا آستانا تھا وضو، بُراق، امامت رُسُل کی اقصٰی میں عروج سبعِ سَمٰوات عرش و سدرہ میں ۔۔۔

مزید

اے نقش نعل پاک نبیﷺ

اے نقشِ نعلِ پاکِ نبیﷺ، یہ تیری وجاہت کیا کہناجس نعل کی تُوتصویر بنا، اُس نعل کی عزت کیا کہنا جن پیارے پیارے قدموں کی، پاپوش بنی، باپوس رہیٹھنڈی ہوں مری آنکھیں جس سے، اُس نعل کی صورت کیا کہنا وہ بھی تھے جنہوں نے خدمت کی، اُس نعلِ پاک محمد ﷺ کیاُن روشن قسمت والوں کا، یہ تاجِ سعادت کیا کہنا ہے ناز  ہمیں بھی قسمت پر، گو نعل نہیں تصویر تو ہےکافی ہے عقیدت مندوں کو، یہ پیاری نسبت کیا کہنا اقصٰی سے سما، سدرہ سے دنیٰ، پھر عبد پہ انعامِ فاوحیٰجن قدموں کو ہو یہ سیر عطا، اُن قدموں کی رفعت کیا کہنا جن قدموں  نے عرش کو زینت دی ، اُن قدموں کی اس نے حفاظت کیسو جان سے میں صدقے  جاؤں، اُس نعل کی قسمت کیا کہنا جن آنکھوں نے دیکھا آقا کو، جن ہونٹوں نے چوما  قدموں کواُن آنکھوں کی قسمت کیا کہنا، اُن ہونٹوں کی لذّت کیا کہنا نعلین پہ قرباں ہو جاؤں، میں اُن  کا غبار کہاں پاؤںاے ۔۔۔

مزید

آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا

ہر مسلمان کو لازم ہے مسلماں ہونا جانِ اسلام ہے سرکار پہ ایماں ہونا پیروی جس کی بنا دیتی ہے محبوبِ خدا اُن کا ہر کام میں بس تابع فرما ہونا آپ ہی سے تو ہوئی آدمیّت کی تکمیل شرف انساں کا ہے وابستۂ داماں ہونا سرورِ دین کی غلامی نہ ہو جب تک حاصل ”آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا‘‘ اُن کے ہی نور سے پیدا ہے جہاں پھر اُن سے غیر مُمکن ہے کسی چیز کا پنہاں ہونا راستہ صدق و سعادت کا بتا دیتا ہے دل میں اخلاصِ نیّت ، ہاتھ میں قرآں ہونا یاد دل میں رہے اور اسمِ مبارک لب پر منزلِ قبر کا مشکل نہیں آساں ہونا یا نبی کہتے رہو ، پُل سے گزرتے جاؤ رَبِّ سَلِّم کی صدا ہے، نہ پریشاں ہونا زندگی، موت ، سبھی وقت وہ کام آئینگے اُن سے پھِر کر نہ کہیں حشر میں حیراں ہونا ہے شفاعت پہ نظر، گر چہ گنہگار ہیں ہم عاصیوں تم نہ کبھی اس سے ہراساں ہونا ہوتی ہے مظہرِ اخلاص، ہر اِک قربانی بہ دلِ صدق و۔۔۔

مزید

کلام اللہ شاہد ہے

کلام اللہ شاہد ہے نبی کی شانِ رفعت پر مدارِ عالم امکان ہے بس اُن کی رحمت پر خدا کا فضل چاہے تو وسیلہ لے محمد ﷺ کا خدا کا فضل ملتا ہے محمدﷺ کی حمایت پر محبت گر خدا کی ہے تو بن بندہ  محمدﷺ کا رضا اللہ کی ہے، منحصر ان کی محبت پر کیا شق چاند کو ، سورج کو پلٹا، نخل پاس آیا گواہی برمَلا دی سنگ ریزوں نے نبوّت پر اثر صدیق پر ہونے نہ پایا زہرِافعیٰ کا نثار ایسے لعاب ِ دہن کی معجز کرامت پر چلائے اُنگلیوں سے آبِ رحمت کے وہ فوارے سبیلیں کھول دیں تشنہ صحابہ کی جماعت پر یہ سُبحٰنَ الَّذِیْ اَسْریٰ بِعَبدِہٖ اشارہ ہے فضیلت آپ ہی کو ہے رسُولوں کی امامت پر چلے اقصٰی سے ہفت افلاک و عرش و سدرہ جا پہنچے دنیٰ تالا مکاں حیرت زدہ ہیں ان کی عزت پر یہاں مستانِ غفلت، خوب محوِ خوابِ غفلت ہیں وہاں رحمت کی بارش تھی گنہگارانِ امّت پر علومِ اوّلین و آخریں سے بھر دئیے دامن کھلیں کیا راز محبوب و۔۔۔

مزید

ایک سے سو دئیے جلیں سب کی چمک الگ الگ

نوُرِ حُضور سے بنے، اَرض و فلک الگ الگ جِنّ و بشر جُدا جُدا، حور و مَلَک الگ الگ اصل انہی کی ذات ہے، جملہ نبی طفیل ہیں ایک سے سو دئیے جلیں سب کی چمک الگ الگ شمس و قمر کی یہ جِلا، عقل و بصر میں یہ ضیاء سب میں وہ ایک نور ہے، سب کی جھلک الگ الگ باغِ جہاں کی ہر کلی، اُن کے ہی فیض سے  کِھلی رنگ ہر ایک کا ہے جُدا، سب کی مہک الگ الگ ممکن و مظہرِ  وجوب، حادث و پَر توِ قِدَمْ چاروں ہی رنگ ایک میں ، جیسے دھنک الگ الگ فوقِ کمالِ عبدیّت، تحت ظِلالِ حقیقت رہتی ہے آنکھ درمیاں، دونوں پَلَک الگ الگ فرشِ زمیں پہ کیوں رہے، عرشِ بریں پہ کیوں گئے چاندنی اُن کے فیض کی، جائے چنک الگ الگ نائبِ غوث و مصطفٰیﷺ، عبد السلام اور رضا بُرہاںؔ تو اختیار کر، دونوں جھلک الگ الگ۔۔۔

مزید

یہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں

سُنیں گے وہ، بپا ہے شورِ داروگیر امت میں یہ رحمت ہے کہ بے تابانہ آئیں گے قیامت میں اَماں جو عاصیوں کو مِل گئی دامانِ رحمت میں یہ جرأت ہے کہ بے باکانہ جائینگے قیامت میں وہ وَاحدْ لاَ شَریکَ لَہٗ، ہے یکتا اپنی وحدت میں محمد مصطفٰی ﷺ کو کر دیا، یکتا نبوّت  میں وہاں تھا لَنْ تَرَانِیْ، رَبِّ اَرِنِیْ کی تمنّا پر نہ تھی تابِ تجلّی حضرت موسی﷤ کی قسمت میں شبِ اسریٰ تقاضہ اُدْنُ یَا اَحمد ﷺ مسلسل تھا کہ محبوبِ خدا بڑھ کر ہیں سب سے اپنی رفعت میں عمل، محبوب کو راضی کرے جو، وہ محبت ہے کہ نافرمانئ محبوب خامی ہے محبت  میں نِرا ایمان کا دعویٰ تو لاحاصل ہے مومن کا دلیل ایمان کی خود کو مِٹا دینا ہے اُلفت میں کہیں مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ سے تنبیہ فرمائی نہیں کوئی شریک اس ذاتِ اقدس کا شفاعت میں وہ ربِّ العٰلمیں کے، رحمت لّلعالمیں ہو کر بتایا میں ہوں جس کا رب وہ سب ہے اُن کی رحم۔۔۔

مزید

اے سرور عالم ﷺ

تم سیّدِ کونین، شہہِ ہر دو سَرا ہو، اے سرورِ عالم طالب ہو خدا کے، تمہیں مطلوبِ خدا ہو، اے سرورِ عالم تم منعمِ کل، لُطف و کرم عام تمہارا، انعام تمہارا تم سیّدِ کُل، فخرِ رُسُل، شاہِ ھُدا ہو، اے سرورِ عالم گلشن کی ہر ایک شاخ میں، ہر برگ و شجر میں، ہر گُل میں ثمر میں تم حسنِ ازل، نورِ ابد،رنگِ بقا ہو، اے سرورِ عالم انگشتِ تحیّر تہہِ دندانِ حَکیماں، اعجاز نمایاں ہو نُور سے پُرجسم نہ سائے کا پتا ہو، اے سرورِ عالم سرکار بھلا کب یہ طلب دل کی ہو پُوری، حاصل ہو حضوری ہو آپ کا دربارِ مقدّس، یہ گدا ہو، اے سرورِ عالم بیماریِٔ دل کو ہے ترقّی پہ ترقّی، اب کیا کرے  کوئی خدمت میں بُلا لو کہ تمہی اس کی دَوَا ہو، اے سرورِ عالم بُرہانؔ کو کب شعر و سخن کا ہے سلیقہ ، صدقہ رضا کا ہے پھر لطف کہ ہر شعر محبت سے بھرا ہو، اے سرورِ عالم۔۔۔

مزید

جس قدم کا عرش پامال خرام ناز ہو

اُلفتِ سرکار کا جس دل میں پنہاں راز ہو بے اثر اس پہ ہے سب کچھ، سوز ہو یا ساز ہو حشر کی ہیبت سے دل جس وقت ہوں گے چاک چاک اُس کو کیا خطرہ ہو، جس کا آپ سا دم ساز ہو شمس کو پھیرا، قمر کو شق اشارے سے کیا اُس کی اُنگلی کے میں قرباں جس اُنگلی کا یہ اعجاز ہو ہوں نہ کیوں سات آسمان و لا مکاں اس پر نثارجس قدم کا عرش پامالِ خرام ناز ہو عَلَّمَکَ مَالَمْ َکُنْ تَعْلَمْ‘‘ سے واضح کردیا رازِ قدرت کے مِرے مولا تم ہی ہم راز ہو صورتِ انسان میں، اللہ کے نُورِ مبین کی نظر آئے اُسے جس کی نظر ناساز ہو اُن کے نائب انبیاء، روح الامیں اُن کے سفیر کیوں نہ ہوں سب کا وسیلہ، جن کا یہ اعزاز ہو سجدۂ اوّل میں محشر کی قیادت کی عطا اُس کا یہ انجام خوش ہے جس کا یہ آغاز ہو عظمتِ سرکار کو سمجھے نگہہ ایمان کی اور بُرہانؔ کی طرح چشم بصیرت باز ہو۔۔۔

مزید

عرش پر کُرسی مِلی جس کو خدا کو سامنے

کیسی عظمت ہے محمدﷺ کی خدا کے سامنے ہیچ ہیں سب عظمتیں خیر الوریٰ کے سامنے اِک خدا کا نور تھا اور کن کے فرمانے کے بعد پرتوِ نورِ خدا تھا بس خدا کے سامنے نور اگلوں کے جو چمکے وہ چمک کر رہ گئے مطلعِ انوارِ حق، شمس الضحیٰ کے سامنے طُور پر موسیٰ گِرے لائے تجلّی کی نہ تاب اور محبوبِ خدا ہیں خُود خدا کے سامنے نوح و ابراہیم و عیسیٰ دے چکے سب کو جواب اب چلے ہیں شافعِ روزِ جزا کے سامنے حشر کے دن نفسی نفسی کہہ رہا ہے ہر نبی رحمۃ للعالمیں ہیں کبریا کے سامنے کیا قلم تعریف لکھ سکتا ہے اس کی لوح پر عرش پر کُرسی مِلی جس کو خدا کے سامنے آفتاب روزِ محشر کا ہمیں کیا خوف ہو سایۂ دامانِ محبوبِ خدا کے سامنے بابِ خیبر ایک تِنکے کی طرح سے اُڑ گیا حضرتِ خیبر شکن، شیرِ خدا کے سامنے غوثِ اعظم کو دیا وہ مرتبہ اللہ نے اولیاء ہیں سَرنگوں غوث الوریٰ کے سامنے سر پہ ہے بار گنہہ حاضر ہیں پیشِ ذوالجلال ۔۔۔

مزید

عید ولادت

وہ سرکار عالی مقام آرہا ہے شہنشاہِ ذی اقتدار آرہا ہے جو باعث ہے تخلیقِ اَرض و سما کا وہ محبوبِ پروردِگار آرہا ہے ہے جس کی اطاعت خدا کی اطاعت وہ آقائے بااختیار آرہا ہے لباسِ بشر میں وہ نُورِ مجسّم بصد شانِ عزّو وقار آرہا ہے بشیر و نذیر و امینِ دو عالم شہِ دین بصد افتخار آرہا ہے زمین و فلک جس کے زیرِ نگیں ہیں خدائی کا وہ تاجدار آرہا ہے غریبی مسرّت سے اِترا رہی ہے غریبی کا والی و یار آرہا ہے چمکنے لگے ہیں یتیموں کے چہرے یتیمی کا اِک غمگسار آرہا ہے ہر اک ذرّے نے جس کی تعظیم کی ہے وہ سلطان عظمت مدار آرہا ہے اُٹھیں اُس کی تعظیم کو اہلِ سنّت ہدایت کا اِک شاہکار آرہا ہے صلاۃ و سلام اُس کی خدمت میں بُرہاںؔ جو محبوبِ پروردگار آرہا ہے۔۔۔

مزید

نبی کا دیا سب خدا کا دیا ہے

تِرا نور عالم میں جلوہ نُما ہے اسی سے زمین و فلک منجلا ہے نجوم و کواکب میں شمس و قمر میں اُسی کی تجلّی، اُسی کی ضیاء ہے نبی اپنی امّت کے سردار تھے سب ہمارا نبی سیّد الانبیاء ہے رسالت رسولوں کی تھی ایک حد تک ہمارے نبی کی رسالت سِوا ہے نبی ہوتے آئے یکے بعد دیگر ہمارا نبی خاتم الانبیاء ہے ہم ہی ایک کیا سارا عالم ہے اُن کا خُدا کے وہ ہیں اور اُن کا خدا ہے مِلا، مِل رہا ہے، ملے گا اُن ہی سے نبی کا دیا، سب خدا کا دیا ہے چَلے سیر سبعِ سمٰوات کرلی گئے عرش تک، کون اُس جا گیا ہے؟ وَاَوْحٰی فَاَوْحٰی فَقَدْ جَاءَ رَجْعاً فقط ایک ہی آن میں سب ہُوا ہے وَرُوْحٰی رِیَاحْ الصَّبَا عِنْدَ رَوْضٍ فَقَدْ لِیْ لِمَنْ فِیْہِ جلوہ نما ہے وَاَنْتَ عَزِیْز ٌ حَرِیْصٌ عَلَیْنَا رَؤُوفُ رَحِیْمٌ کَرِیْمٌ عطا ہے تِرے نام پر ہند میں جی رہے ہی مگر دل مدینہ میں اپنا پڑا ہے مئے کو جِلا، مار، اپ۔۔۔

مزید