سرکار کرم، آقائے نعم جو آپ کا بندہ ہوجائے دنیا کے جو بندہ پرور ہیں، وہ ان کا آقا ہو جائے ایمان کی دولت، دولت ہے، جو حشر میں کام آئیگی سرکار کی مہرِ محبت سے معمور خزانہ ہو جائے قبروں کی بھیانک تاریکی، محشر کے تپتے سُورج کا کیا حزن ہو اور کیوں خوف رہے جب لُطف تمہارا ہو جائے جب نور نے ان کو نور کیا اور ہاتھ میں ان کے نور دیا پھر نور سے کیا شے مخفی ہو، جب نور کا جلوہ ہو جائے یہ کتنا آسان نسخہ ہے اللہ کو راضی کرنے کا بس آپ کا بندہ بن جائے، محبوبِ خدا کا ہو جائے اے ربِّ دو عالم جلِّ علا، اے رحمتِ عالم صلِّ علیٰ طوفانِ حوادث سے باہر مُسلم کا سفینہ ہو جائے محبوب کی گلیاں دل میں بسیں جنّت کی تمنّا کون کرے اے کاش محبت کے صدقے دیدارِ مدینہ ہو جائے اِک چشمِ زدن میں عصیاں کا سب انبار فنا ہو جائے گا گر حشر کی نفسی نفسی میں اِک اُن کا اشارہ ہو جائے آنکھیں تو لگی ہیں کعبہ پر دل روضۂ اقد۔۔۔
مزید
سارے عالم میں ہلچل یہ ہونے لگی آج تشریف لاتا ہے ایسا نبی آرزو مند تھا جس کا ہر اِک نبی، جس کی پھیلی ضیاء آج کی رات ہے کُھل گیا آج عقدۂ والضحیٰ، راز و وَاللَّیل کا آج افشا ہوا آج صبح ولادت ہوئی رُونما، شب میں شب ِ بے بہا آج کی رات ہے شانِ واللَّیل جس لیل میں ہے عیاں، ہوئے اس میں پیدا شہِ انس جاں صبح جس کی کہ صبحِ ولادت ہوئی، وہ شب ِ پُر ضیاء آج کی رات ہے رحمتِ عالمیں جلوہ فرما ہوا، موج زن آج ہے بحرِ جود و سخا مانگ لو جس کو جو کچھ بھی ہو مانگنا، شاہدِ مدّعا آج کی رات ہے فرش سے عرش تک مچ رہی ہے دھوم، ہے چہرہ شیطاں وہابی کا مسموم بہجت و غم سے دونوں کے مفہوم ہے مولدِ مصطفٰیﷺ آج کی رات ہے جو خدا کی رضا وہ نبی کی رضا ہے، نبی کی رضا عین رب کی رضا مانگ بُرہانؔ جو مانگنا ہو تجھے، پار بیڑا تِرا آج کی رات ہے۔۔۔
مزید
زباں پراس لئے صلّ علیٰ بے اختیار آیا کہ دل میں نام پاک سیّدِعالی وقار آیا تصور میں مِرے محبوب کا پیارا دیار آیا جہاں میں جس گھڑی وہ رحمتِ پروردگار آیا منادی، مژدۂ آمد، دوعالم میں پکار آیا غریبی جی اُٹھی، لیجئے غریبوں کا وہ ہار آیا زمین سے عرش تک اِک دھوم ہے تشریف لانے پر سلاطیں سر بسجدہ ہوں گے جس کے آستانے پر دوعالم کا وہ ملجا اور ماویٰ شہرِ یار آیا نہ میں دوزخ سے خائف ہوں نہ خواہاں ہوں میں جنّت کا سِوا محبوب کہ کیا چاہے، دیوانہ محبّت کا اُسے تو مِل گیا سب کچھ جو مولا کا دیار آیا مٹائے ہوش بھی اُن کی محبت میں فنا ہو کر فِدا لاکھوں خرد ایسے جنونِ ہوش پرور پر کہ فوراً سر بسجدہ ہوگیا جب کوئے یارآیا جہنّم کی تپش سے سینۂ گُستاخ بریاں ہے عداوت سے وہ سوزاں اور ہیبت سے وہ لرزاں ہے کہ اُس کو ’’یا رسول اللہ ‘‘سُنتے ہی بُخار آیا تمیزِ خیر و شر میں نفس امّارہ جو ح۔۔۔
مزید
زمانہ نے زمانہ میں سخی ایسا کہیں دیکھا لبوں پر جس کے سائل نے نہیں آتے نہیں دیکھا مصیبت میں جو کام آئے گنہگاروں کو بخشائے وہ اک فخرِ رُسُل محبوبِ رب العالمیں دیکھا بنایا جس نے بگڑوں کو سنبھالا جس نے گرتوں کو وہ ہی حَلّال مشکل رحمتُ لِّلعالمیں دیکھا وہ ہادی جس نےدنیا کو خدا والا بنا ڈالا دلوں کو جس نے چمکایا عرب کا مہ جبیں دیکھا بسے جو فرش پر اور عرش تک اس کی حکومت ہو وہ سلطانِ جہاں طیبہ کا اک ناقہ نشین دیکھا وہ آقا جو کہ خود کھائے کھجوریں اور غلاموں کو کھلائے نعمتیں دنیا کی کب ایسا کہیں دیکھا بھلا عالم سی شے مخفی رہے اس چشمِ حق بیں سے کہ جس نے خالقِ عالم کو بے شک بالیقیں دیکھا مسلمانی کا دعویٰ اور پھر توہین سرور کی زمانہ کیا زمانے بھر میں کب ایسا لعیں دیکھا ہو لب پر امتی جس کے کہیں جب انبیاء نفسی دو عالم نے اُسے ساؔلک شفیع المذنبین دیکھا۔۔۔
مزید
نورِ حق جلوہ نما تھا مجھے معلوم نہ تھاشکلِ انساں میں چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا بارہا جس نے کہا تھا اَنَا بَشَرٌاس نےمَن دَاٰنِیْ بھی کہا تھا مجھے معلوم نہ تھا بکریاں جس نے چرائیں تھیں حلیمہ تیریعرش پر وہی گیا مجھے معلوم نہ تھا جس نے امت کیلئے رو کے گزاریں راتیںوہ ہی محبوبِ خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا چاند اشارے سے پھٹا حکم سے سورج لوٹامظہرِ ذاتِ خدا تھا مجھے معلوم نہ تھا دیکھا جب قبر میں اس پردہ نشیں کو تو کھُلادل سالکؔ میں رہا تھا مجھے معلوم نہ تھا۔۔۔
مزید
جن کا لقب ہے صلِّ علیٰ محمدٍﷺ ان سے ہمیں خدا ملا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ روح الامیں تو تھک گئے اور وہ عرش تک گئے عرشِ بریں پکار اٹھا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ خلدِ بریں ہر جگہ نام شہِ انام ہے خلد ہے ملک آپ کا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ دھوم ہے ان کی چارسو ذکر ہے اُن کا کو بکو مظہرِ ذاتِ کبریا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ جو ہو مریضِ لادوا یا کسی غم میں مبتلا صبح و مسا پڑھے سدا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ مشکلیں ان کی حل ہوئیں قسمتیں ان کی کھل گئیں ورد جنہوں نے کر لیا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ شدت جانکنی ہو جب نزع کی جب ہو کشمکش وردِ زباں کے ہو یا خدا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ قبر میں جب فرشتے آئیں شکل خدا نما دکھائیں پڑھتا اُٹھوں میں یا خدا صلِّ علیٰ محمدﷺٍ لاج گنہگار کی آپ کے ہاتھ میں ہے نبیﷺ بدہے مگر ہے آپ کا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ حشر میں سالکؔ حزیں تھام کے دامنِ نبی ﷺ عرض کرے یہ بر ملا صلِّ علیٰ محمدٍﷺ۔۔۔
مزید
ترانہ ولادت ماہِ ربیع الاوّل آیا رب کی رحمت ساتھ میں لایا وقت مبارک رات سہانی صبح کا تڑکا ہے نورانی پیر کا دن تاریخ ہے بارہ فرش پہ چمکا عرشی تارہ آج کی رات برات رچی ہے آمنہ کے گھر دھوم مچی ہے گھر میں حوریں در پہ ملک ہیں جن کی قطاریں تا بہ فلک ہیں ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا شور مچا اک صلِّ علیٰ کا لو وہ اٹھی اب گردِ سواری پیدا ہوئے محبوبِ باری باغِ خلیل کا وہ گلِ زیبا کشتِ صفی کا نخلِ تمنّا رحمتِ عالم نورِ مجسّم صلی اللہ علیہ وسلم تم بھی اٹھو اب وقتِ ادب ہے، ذکرِ ولادتِ شاہِ عرب ہے تخت ہے اُنکا تاج ہے اُن کا دونوں جہاں میں راج ہے اُن کا جنّ و ملک ہیں انکے سپاہی رب کی خدائی میں ان کی شاہی اونچے اونچے یہاں جھکتے ہیں سارے انہی کا منہ تکتے ہیں شاہ و گدا ہیں ان کے سلامی فخر ہے سب کو ان کی غلامی کعبہ کی زینت انہی کے دم سے طیبہ کی رونق ان کے قدم سے کعبہ ہی کیا ہے ان کے جہاں ۔۔۔
مزید
نصیب چمکے ہیں فرشیوں کے کہ عرش کے چاند آرہے ہیں جھلک سے جن کی فلک ہے روشن وہ شمس تشریف لا رہے ہیں زمانہ پلٹا ہے رُت بھی بدلی فلک پہ چھائی ہوئی ہے بدلی تمام جنگل بھرے ہیں جل تھل ہرے چمن لہلہا رہے تھے ہیں وجد میں آج ڈالیاں کیوں یہ رقص پتوں کو کیوں ہے شاید بہار آئی یہ مژدہ لائی کہ حق کے محبوب آرہے ہیں خوشی میں سب کی کھلی ہیں باچھیں رچی ہے شادی مچی ہے دھومیں چرند ادھر کھلکھلا رہے ہیں پرند ادھر چہچہا رہے ہیں نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں شبِ ولادت میں سب مسلماں نہ کیوں کریں جان و مال قرباں ابو لہب جیسے سخت کافر خوشی میں جب فیض پا رہے ہیں زمانہ بھر کا یہ قاعدہ ہے کہ جس کا کھانا اسی کا گانا تو نعمتیں جن کی کھا رہے ہیں انہیں کے گیت ہم بھی گا رہے ہیں حبیبِ حق ہیں خدا کی نعمت بِنِعْمَۃ رَبِّکَ فَحَدِّثْ خدا کے فرم۔۔۔
مزید
ہے جسکی ساری گفتگو وحیِ خدا یہی تو ہیں حق جس کے چہرے سے عیاں وہ حق نمایہی تو ہیں جن کی چمک سورج میں ہے جن کا اجالا چاند میں جنکی مہک پھولوں میں ہے وہ مہ لقا یہی تو ہیں جس مجرم و بد کار کو سارا جہاں دھتکار دے وہ ان کے دامن میں چھپے مشکل کشا یہی تو ہیں ہر لب پہ جن کا ذکر ہے ہر دل میں جن کی فکر ہے گائے ہیں جن کے گیت سب صبح و مسا یہی تو ہیں چرچا ہے جن کا چار سو ہر گل میں جن کا رنگ و بو ہیں حسن کی جو آبرو وہ دل رُبا یہی تو ہیں باغِ رسالت کی ہیں جڑ اور ہیں بہار آخری مبدا جو اس گلشن کے تھے وہ منتہےٰ یہی تو ہیں یہ ہیں حبیبِ کبریا یہ ہیں محمد مصطفیٰﷺ دو جگ کو جن کی ذات کا ہے آسرا یہی تو ہیں جس کی نہ لے کوئی خبر ہوں بند جس پر سارے در اس کی یہ رکھتے ہیں خبر اس کی پناہ یہی تو ہیں گن گائیں جن کے انبیاء مانگیں رسل جن کی دعا وہ دو جہاں کے مدّعٰی صَلِّ علیٰ یہی تو ہیں جن کو شجر سجد۔۔۔
مزید
وہ بندۂ خاص خدا کے ہیں اور ان کی ساری خدائی ہے ان ہی کی پہنچ ہے خالق تک ان تک خلقت کی رسائی ہے وہ رب کے ہیں رب ان کا ہے جو ان کا ہے وہ رب کا ہے بے ان کے حق سےجو ملا چاہے دیوانہ ہے سودائی ہے وہ سخت گھڑی اللہ غنی کہتے ہیں نبی نفسی نفسی اس وقت اک رحمت والے کو مجرم امّت یاد آئی ہے اچھوں کا زمانہ ساتھی ہے میں بد ہوں مجھ کو نبھا ہو تم کہلا کہ تمہارا جاؤں کہاں بے بس کی کہاں شنوائی ہے آجاؤ بدن میں جاں ہو کر اور دل میں رہو ایمان بن کر ہے جسم ترا یہ جان تیری اور دل تو خاص کمائی ہے آنکھوں میں ہیں لیکن مثل نظر یوں دل میں ہیں جیسےجسم میں جاں ہیں مجھ میں وہ لیکن مجھ سے نہاں اس شان کی جلوہ نمائی ہے اللہ کی مرضی سب چاہیں اللہ رضا ان کی چاہے ہے جنبشِ لب قانونِ خدا قرآن و خبر کی گواہی ہے مالک ہیں خزانۂ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں دی خلد جنابِ ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے دنیا کو مبار۔۔۔
مزید
منظوم تفسیر جوت سے ان کی جگ او جیالا وہ سورج اور سارے تارے اِنَّا اَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرْ تم رب کے ہم سب ہیں تمہارے یُعْطِیْ ربک حتیٰ تَرْضیٰ مر ضئ رب ہیں تمہارے اشارے کلمہ و خطبہ نماز و اذاں میں بولتے ہیں سب بول تمہارے اہلِ زمیں کے نصیبے چمکے جب وہ فرش سے عرش سد ہارے ہم نے ناؤ بھنور میں ڈالی تم اس ناؤ کے کھیون ہارے ہم نے ہمیشہ کام بگاڑے تم نے بگڑے کام سنوارے آقا حشر میں عزت رکھنا عیب نہ یہ کھل جائیں ہمارے ہم کو نہ دیکھو آپ کو دیکھو گو بَد ہیں کس کے ہیں؟ تمہارے! در کے کمین ہیں غیر نہیں ہیں پھرتے پھریں کیوں مارے مارے تھوڑی زمین جو مدینہ میں دے دو آن پڑیں قدموں میں تمہارے نزع میں قبر میں اس سالکؔ کو چاند سی شکل دکھانا پیارے۔۔۔
مزید
کلامِ سیّدنا امام زین العابدین اِنْ نِّلْتِ يَا رِيْحَ الصَّبَا يَوْمًا اِلٰٓي اَرْضِ الْحَرَمبَلِّغْ سَلاَمِيْ رَوْضَةً فِيْهَا النَّبِيُّ الْمُحْتَرَمبادِ صبا تیرا گزر ہو جائے جب سوئے حرممیرا سلام کہنا اُنھیں جو ہیں نبیِّ محترم مَنْ وَّجْهُهٗ شَمْسُ الضُّحٰي مَنْ خَدُّهٗ بَدْرُ الدُّجٰيمَنْ ذَاتُهٗ نُوْرُ الْهُدٰي مَنْ كَفُّهٗ بَحْرُ الْهِمَمجن کا ہے رُخ مہرِ مُبیں رُخصار ہے ماہِ تمامجن کی ہے ذات نورِ ہُدیٰ، دستِ عطا بحرِ کرم قُرْاٰنُهٗ بُرْهَانُنَا نَسْخًا لِّاَدْيَانٍ مَّضَتْاِذْ جَاءَنَآ اَحْكَامُهٗ كُلُّ الصُّحُفِ صَارَ الْعَدَم ہے ناسخِ اَدیانِ سابق، اُن کا قرآنِ ہُدیٰاَحکام اُس کے آنے سے حکم ِ گزشتہ ہیں عدم1 اَكْبَادُنَا مَجْرُوْحَةٌ مِّنْ سَيْفِ هِجْرِ الْمُصْطَفٰيطُوْبٰي لِاَهْلِ بَلْدَةٍ فِيْهَا النَّبِيُّ الْمُحْتَشَمتیغِ فِراقِ ۔۔۔
مزید