اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





سرکار دو عالم کی محبت

نہاں جس دل میں سرکارِ دو عالم کی محبت ہے وہ خلوت خانۂ مولیٰ ہے وہ دل رشک جنت ہے   خلائق پر ہوئی روشن ازل سے یہ حقیقت ہے دو عالم میں تمہاری سلطنت ہے بادشاہت ہے   خدا نے یاد فرمائی قسم خاکِ کفِ پا کی ہوا معلوم طیبہ کی دو عالم پر فضیلت ہے   سوائے میرے آقا کے سبھی کے رشتے ہیں فانی وہ قسمت کا سکندر ہے جسے آقا سے نسبت ہے   یہی کہتی ہے رندوں سے نگاہِ مست ساقی کی درِ میخانہ وا ہے میکشوں کی عام دعوت ہے   غم شاہِ دنیٰ میں مرنے والے تیرا کیا کہنا تجھے لَا یَحْزَنُوْا کی تیرے مولیٰ سے بشارت ہے   اٹھے شورِ مبارکباد ان سے جا ملا اخترؔ غم جاناں میں کس درجہ حسیں انجام فرقت ہے۔۔۔

مزید

جان بہاراں

شہنشاہِ دو عالم کا کرم ہے مرے دل کو میسر اُن کا غم ہے   یہیں رہتے ہیں وہ جانِ بہاراں یہ دنیا دل کی رشک صد ارم ہے   بھلا دعوے ہیں ان سے ہمسری کے سر عرشِ بریں جن کا قدم ہے   یہ دربارِ نبی ہے جس کے آگے نہ جانے عرشِ اعظم کب سے خم ہے   ترس کھائو میری تشنہ لبی پر مری پیاس اور اک جام؟ کم ہے   دلِ بیتاب کو بہلائوں کیسے بڑھے گی اور بے تابی ستم ہے   یہاں قابو میں رکھیے دل کو اخترؔ یہ دربار شہنشاہِ امم ہے۔۔۔

مزید

تاروں کی انجمن

تاروں کی انجمن میں یہ بات ہو رہی ہے مرکز تجلیوں کا خاک درِ نبی ہے   ذرے یہ کہہ رہے ہیں، اس نور کے قدم سے یہ آب و تاب لے کر ہم نے جہاں کو دی ہے   یکتا ہیں جس طرح وہ ہے ان کا غم بھی یکتا خوش ہوں کہ مجھ کو دولت انمول مل گئی ہے   پھر کیوں کہوں پریشاں ہو کر بقول شخصے یکتا کے غم میں اب بھی بے کیف زندگی ہے۔۔۔

مزید

اے نسیم کوئے جاناں

ترے دامن کرم میں جسے نیند آگئی ہے جو فنا نہ ہوگی ایسی اسے زندگی ملی   مجھے کیا پڑی کسی سے کروں عرض مدعا میں مری لو تو بس انہیں کے درِ جود سے لگی ہے   وہ جہان بھر کے داتا مجھے پھیردیں گے خالی؟ مری توبہ اے خدایہ مرے نفس کی بدی ہے   جو پئے سوال آئے مجھے دیکھ کر یہ بولے! اسے چین سے سلائو کے یہ بندۂ نبی ہے   میں مروں تو میرے مولیٰ یہ ملائکہ سے کہہ دیں کوئی اس کو مت جگانا ابھی آنکھ لگ گئی ہے   میں گناہ گارہوں اور بڑے مرتبوں کی خواہش تو مگر کریم ہے خو تری بندہ پروری ہے   تری یاد تھپکی دیکر مجھے اب شہا سلا دے مجھے جاگتے ہوئے یوں بڑی دیر ہوگئی ہے   اے نسیم کوئے جاناں ذرا سوئے بد نصیباں چلی آ کھلی ہے تجھ پہ جو ہماری بے کسی ہے   ترا دل شکستہ اخترؔ اسی انتظار میں ہے کہ ابھی نویدِ وصلت ترے در سے آرہی ہے۔۔۔

مزید

فرقت طیبہ

فرقت طیبہ کی وحشت دل سے جائے خیر سے میں مدینے کو چلوں وہ دن پھر آئے خیر سے   دل میں حسرت کوئی باقی رہ نہ جائے خیر سے راہِ طیبہ میں مجھے یوں موت آئے خیر سے   میرے دن پھر جائیں یا رب شب وہ آئے خیر سے دل میں جب ماہِ مدینہ گھر بنائے خیر سے   رات میری دن بنے ان کی لقائے خیر سے قبر میں جب ان کی طلعت جگمگائے خیر سے   ہیں غنی کے در پہ ہم بستر جمائے خیر سے خیر کے طالب کہاں جائیں گے جائے خیر سے   وہ خرامِ ناز فرمائیں جو پائے خیر سے کیا بیاں ہو زندگی وہ دل جو پائے خیر سے   مر کے بھی دل سے نہ جائے اُلفتِ باغِ نبی خلد میں بھی باغِ جاناں یاد آئے خیر سے   رنج و غم ہوں بے نشاں آئے بہارِ بے خزاں دل میں میرے باغِ جاناں کی ہوائے خیر سے   اس طرف بھی دو قدم جلوے خرامِ ناز کے رہگذر میں ہم بھی ہیں آنکھیں بچھائے خیر سے   انتظار ان سے کہے ہے۔۔۔

مزید

وجہ نشاط زندگی

وجہِ نشاطِ زندگی راحتِ جاں تم ہی تو ہو روحِ روانِ زندگی جانِ جہاں تم ہی تو ہو   تم جو نہ تھے توکچھ نہ تھا تم جو نہ ہو تو کچھ نہ ہو جانِ جہاں تم ہی تو ہو جانِ جناں تم ہی تو ہو   تاجِ وقارِ خاکیاں نازشِ عرش و عرشیاں فخر زمین و آسماں فخر زماں تم ہی تو ہو   کس سے کروں بیانِ غم کون سنے فغانِ غم پائوں کہاں امانِ غم امن و اماں تم ہی تو ہو   روح و روانِ زندگی تاب و توانِ زندگی امن و امانِ زندگی شاہ شہاں تم ہی تو ہو   تم ہو چراغِ زندگی تم ہو جہاں کی روشنی مہر و مہ و نجوم میں جلوہ کناں تم ہی تو ہو   تم سے جہانِ رنگ و بو تم ہو چمن کی آبرو جانِ بہارِ گلستاں سروِ چماں تم ہی تو ہو   تم ہو قوام زندگی تم سے ہے زندگی بنی تم سے کہے ہے زندگی روح رواں تم ہی تو ہو   اصلِ شجر میں ہو تم ہی نخل و ثمر میں ہو تم ہی ان میں عیاں تم ہی تو ہو ان میں نما۔۔۔

مزید

مصطفائے ذات یکتا آپ ہیں

مصطفائے ذاتِ یکتا آپ ہیں یک نے جس کو یک بنایا آپ ہیں   آپ جیسا کوئی ہوسکتا نہیں اپنی ہر خوبی میں تنہا آپ ہیں   آب و گِل میں نور کی پہلی کرن جانِ آدم جانِ حوا آپ ہیں   حسنِ اوّل کی نمودِ اوّلیں بزمِ آخر کا اجالا آپ ہیں   لا مکاں تک جس کی پھیلی روشنی وہ چراغِ عالم آرا آپ ہیں   ہے نمک جس کا خمیر حسن میں وہ ملیح حسن آرا آپ ہیں   زیب و زین خاک و فخر خاکیاں زینت عرش معلی آپ ہیں   نازشِ عرش و وقارِ عرشیاں صاحب قوسین و ادنیٰ آپ ہیں   آپ کی طلعت خدا کا آئینہ جس میں چمکے حق کا جلوہ آپ ہیں   آپ کی رؤیت ہے دیدارِ خدا جلوہ گاہِ حق تعالیٰ آپ ہیں   آپ کو رب نے کیا اپنا حبیب ساری خلقت کا خلاصہ آپ ہیں   آپ کی خاطر بنائے دو جہاں اپنی خاطر جو بنایا آپ ہیں   جاں توئی جاناں قرارِ جاں توئی جانِ جاں جانِ مسیحا آپ ۔۔۔

مزید

منوّر میری آنکھوں کو

منور میری آنکھوں کو مرے شمس الضحیٰ کردیں غموں کی دھوپ میں وہ سایۂ زلف دوتا کردیں   جہاں بانی عطا کردیں بھری جنت ہبہ کردیں نبی مختارِ کل ہیں جس کو جو چاہیں عطا کردیں   جہاں میں ان کی چلتی ہے وہ دم میں کیا سے کیا کردیں زمیں کو آسماں کردیں ثریا کو ثریٰ کردیں   فضا میں اڑنے والے یوں نہ اترائیں ندا کردیں وہ جب چاہیں جسے چاہیں اسے فرماں رَوا کردیں   ہر اک موجِ بلا کو میرے مولیٰ ناخدا کردیں مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں   ہر اک موجِ بلا کو بحر غم میں ناخدا کردیں مری مشکل کو یوں آساں مرے مشکل کشا کردیں   عطا ہو بے خودی مجھ کو خودی میری ہوا کردیں مجھے یوں اپنی الفت میں مرے مولیٰ فنا کردیں   جہاں میں عام پیغام شہ احمد رضا کردیں پلٹ کر پیچھے دیکھیں پھر سے تجدید وفا کردیں   نبی سے ہو جو بیگانہ اسے دل سے جدا کردیں پدر ، مادر ۔۔۔

مزید

غم ہستی

جب کبھی ہم نے غمِ جاناں کو بھلایا ہوگا غمِ ہستی نے ہمیں خون رلایا ہوگا دامنِ دل جو سوئے یار کھنچا جاتا ہے ہو نہ ہو اس نے مجھے آج بلایا ہوگا آنکھ اٹھا کر تو ذرا دیکھ مرے دل کی طرف تیری یادوں کا چمن دل میں سجایا ہوگا گردشِ دور ہمیں چھیڑ نہ اتنا ورنہ اپنے نالوں سے ابھی حشر اٹھایا ہوگا ڈوب جائے نہ کہیں غم میں ہمارے عالم ہم جو رو دیں گے تو بہتا ہوا دریا ہوگا سوچئے کتنا حسیں ہوگا وہ لحظہ اخترؔؔ سرِ بالیں پہ دمِ مرگ وہ آیا ہوگا۔۔۔

مزید

فرشتے جس کے زائر ہیں

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تربت ہے یہ وہ تربت ہے جس کو عرشِ اعظم پر فضیلت ہے بھلا دشت مدینہ سے چمن کو کوئی نسبت ہے مدینے کی فضا رشک بہارِ باغِ جنت ہے مدینہ گر سلامت ہے تو پھر سب کچھ سلامت ہے خدا رکھے مدینے کو اسی کا دم غنیمت ہے مدینہ ایسا گلشن ہے جو ہر گلشن کی زینت ہے بہارِ باغِ جنت بھی مدینے کی بدولت ہے مدینہ چھوڑ کر سیر جناں کی کیا ضرورت ہے یہ جنت سے بھی بہتر ہے یہ جیتے جی کی جنت ہے ہمیں کیا حق تعالیٰ کو مدینے سے محبت ہے مدینے سے محبت ان سے الفت کی علامت ہے گدا گر ہے جو اس گھر کا وہی سلطان قسمت ہے گدائی اس درِ والا کی رشکِ بادشاہت ہے جو مستغنی ہوا ان سے مقدر اس کا خیبت ہے خلیل اللہ کو ہنگام محشر ان کی حاجت ہے الٰہی وہ مدینہ کیسی بستی ہے دکھا دینا جہاں رحمت برستی ہے جہاں رحمت ہی رحمت ہے مدینہ چھوڑ کر جنت کی خوشبو مل نہیں سکتی مدینے سے محبت ہے تو جنت کی ضمانت ہے۔۔۔

مزید

اپنے یار کی باتیں

کچھ کریں اپنے یار کی باتیں کچھ دلِ داغدار کی باتیں ہم تو دل اپنا دے ہی بیٹھے ہیں اب یہ کیا اختیار کی باتیں میں بھی گزرا ہوں دورِ الفت سے مت سنا مجھ کو پیار کی باتیں اہل دل ہی یہاں نہیں کوئی کیا کریں حالِ زار کی باتیں پی کے جامِ محبتِ جاناں اللہ اللہ خمار کی باتیں مر نہ جانا متاعِ دنیا پر سن کے تو مالدار کی باتیں یوں نہ ہوتے اسیر ذلت تم سنتے گر ہوشیار کی باتیں ہر گھڑی وجد میں رہے اخترؔ کیجئے اس دیار کی باتیں ٭…٭…٭۔۔۔

مزید

سب مدینے چلیں

تم چلو ہم چلیں سب مدینے چلیں جانب طیبہ سب کے سفینے چلے میکشو! آئو آئو مدینے چلیں بادۂ خلد کے جام پینے چلیں جی گئے وہ مدینے میں جو مرگئے آئو ہم بھی وہاں مر کے جینے چلیں زندگی اب سرِ زندگی آگئی آخری وقت ہے اب مدینے چلیں شوقِ طیبہ نے جس دم سہارا دیا چل دئیے ہم کہا بے کسی نے چلیں طائرِ جاں مدینے کو جب اُڑ چلا زندگی سے کہا زندگی نے چلیں جانِ نو راہِ جاناں میں یوں مل گئی آنکھ میچی کہا بے خودی نے چلیں راہِ طیبہ میں جب ناتواں رہ گئے دل کو کھینچا کہا بے کلی نے چلیں خاکِ طیبہ میں اپنی جگہ ہوگئی خوب مژدہ سنایا خوشی نے چلیں بے تکلف شہِ دو جہاں چل دئیے سادگی سے کہا جب کسی نے چلیں اگلے پچھلے سبھی خلد میں چل دئیے روزِ محشر کہا جب نبی نے چلیں ان کی شانِ کرم کی کشش دیکھنا کاسہ لے کر کہا خسروی نے چلیں اخترِؔؔ خستہ بھی خلد میں چل دیا جب صدا دی اسے مرشدی نے چلیں۔۔۔

مزید