مئے حُبِّ نبیﷺ سے جس کا دل سرشار ہو جائے وہ دانائے حقیقت، واقفِ اسرار ہو جائے زیارت روضۂ سرکارﷺ کی اک بار ہو جائے پھر اس کے بعد چاہے یہ نظر بے کار ہو جائے کرم اُنﷺ کا اگر اپنا شریکِ کار ہو جائے تلاطم خیز طوفانوں سے بیڑا پار ہو جائے اگر بے پردہ حُسنِ سیّدِ اَبرارﷺ ہو جائے زمیں سے آسماں تک عا لمِ اَنوار ہو جائے نظر آئے جسے حُسنِ شہہِ کونینﷺ میں خامی الٰہ العالمین ایسی نظر بے کار ہو جائے عطا فرما ئیے آنکھوں کو میری ایسی بینائی نظر جس سمت اُٹھے آپ کا دیدار ہو جائے اگر عکسِ رخِ سرکارﷺ کی ہو جلوہ آرائی مِرے دل کا سیہ خانہ تجلّی زار ہو جائے سکوں پرور ہیں لمحے ذکرِ آقائے دو عالمﷺ کے خدایا! زندگی وقفِ غمِ سرکارﷺ ہو جائے تمھارا نام لیوا ہے گدائے بے نوا تحسیؔں کرم کی اک نظر اِس پر بھی، اے سرکار ﷺ ! ہو جائے۔۔۔
مزید
وہ یوں تشریف لائے ہم گنہ گاروں کے جھرمٹ میں مسیحا جیسے آجاتا ہے بیماروں کے جھرمٹ میں مدد فرما ئیے، آقاﷺ! پریشاں حال امّت کی کہ شورِ ’’المدد‘‘ برپا ہے بے چاروں کے جھرمٹ میں لرز جاتی ہے ہر موجِ بلا سے آج وہ کشتی رہا کرتی تھی جو خنداں کبھی دھاروں کے جھرمٹ میں تلاشِ جذبۂ ایماں عبث ہے کینہ کاروں میں وفا کی جستجو اور ان جفا کاروں کے جھرمٹ میں حُسین ابنِ علی کی آج بھی ہم کو ضرورت ہے گھرا ہے آج بھی اسلام خوں خواروں کے جھرمٹ میں اُنھیں کا عکس ِ رخ جلوہ فگن ہے ورنہ، اے تحسیؔں! چمک ایسی کہاں سے آ گئی تاروں کے جھرمٹ میں ۔۔۔
مزید
رکتا نہیں ہرگز وہ اِدھر باغِ ارم سے وابستہ ہو جو آپﷺ کے دامانِ کرم سے للہ! کرم کیجیے، سرکارِ مدینہﷺ! دل ڈوب رہا ہے مِرا فرقت کے اَلم سے آلامِ زمانہ کا بھلا اس میں گذر کیا آباد ہے جو دل شہہِ خوباںﷺ کے اَلم سے لب پر ہو دُرود اور ہوں گنبد پہ نگاہیں ایسے میں بُلاوا مِرا آجائے عدم سے منظور نہیں ہے کہ وہ پامالِ جبیں ہو یوں سجدہ کرایا نہ درِ پاک پہ ہم سے دیدار کی اُمّید نہ ہوتی جو سرِ حشر بیدار نہ ہوتے کبھی ہم خوابِ عدم سے بیٹھے ہیں یہاں چھوڑ کے نیر نگیِ عالم ہم کو نہ اٹھا حشر درِ شاہِ اممﷺ سے دیکھو میری آنکھوں سے درِ شاہِ امم ﷺ کو آتی ہے صدا یہ در و دیوارِ حرم سے یارب! دلِ تحسیؔں کی بھی بر آئے تمنّا آجائے بُلاوا درِ سرکارِ کرمﷺ سے ۔۔۔
مزید
طرب انگیز ہے راحت فزا ہے کیف ساماں ہے یہ کوئی گلستاں ہے یا مدینے کا بیاباں ہے مِری جانب نگاہِ لطفِ سردارِ رسولاںﷺ ہے مقدر پر میں نازاں ہوں مقدر مجھ پہ نازاں ہے یہ مانا باغِ رضواں روح پرور کیف ساماں ہے مدینے کا گلستاں پھر مدینے کا گلستاں ہے مجھے دنیا میں کوئی غم نہ عقبیٰ میں پریشانی یہاں بھی اُن کا داماں ہے وہاں بھی اُن کا داماں ہے نبیﷺ کی یاد ہے کافی سہارا دونوں عالم میں یہاں وجہ سکونِ دل، وہاں بخشش کا ساماں ہے مجھے پرواہ نہیں موجیں اُٹھیں طوفان آ جائے نگہبانِ دو عالمﷺ میری کشتی کا نگہباں ہے نبیوں میں کچھ ایسی شان ہے سرکارِ والاﷺ کی کہ اگلے انبیا کو اُمّتی بننے کا ارماں ہے جو اُن کے ہیں انہیں نارِ جہنم چھو نہیں سکتی خدا کے خاص بندوں پر خدا کا خاص احساں ہے نہیں فعلِ عبث سرکارِ طیبہﷺ کی ثنا خوانی جو وہ تحسیؔن فرما دیں تو یہ بخشش کا ساماں ہے ۔۔۔
مزید
یادِ سرکارِ طیبہﷺ جو آئی مل گئی دل کو غم سے رہائی جس نے دیکھا بیابانِ طیبہ اس کو رضواں کی جنّت نہ بھائی مجھ کو بے بس نہ سمجھے زمانہ ان کے در تک ہے میری رسائی پھر مصائب نے گھیرا ہے مجھ کو اے غمِ عشقِ آقاﷺ دہائی جس نے سمجھا اُنھیں اپنے جیسا اُس نے ایماں کی دولت گنوائی ۔۔۔
مزید
تابِ مرآتِ سحر گردِ بیابانِ عرب غازۂ روئے قمر دودِ چراغانِ عرب اللہ اللہ بہارِ چمنستانِ عرب پاک ہیں لَوثِ خزاں سے گُل و رَیحانِ عرب جوشِش ابر سے خونِ گلِ فردوس کرے چھیڑ دے رگ کو اگر خارِ بیابانِ عرب تشنۂ نہرِ جِناں ہر عربی و عجمی! لبِ ہر نہرِ جِناں تشنۂ نیسانِ عرب طوقِ غم آپ ہوائے پرِ قمری سے گرے اگر آزاد کرے سروِ خرامانِ عرب مہر میزاں میں چھپا ہو تو حمل میں چمکے ڈالے اِک بوند شبِ دے میں جو بارانِ عرب عرش سے مژدۂ بلقیسِ شفاعت لایا طائرِ سدرہ نشیں مرغِ سلیمانِ عرب حسنِ یوسف پہ کٹیں مصر میں انگشتِ زناں سر کٹاتے ہیں تِرے نام پہ مردانِ عرب کوچے کوچے میں مہکتی ہے یہاں بوئے قمیص یوسفستاں ہے ہر اِک گوشۂ کنعانِ عرب بزمِ قدسی میں ہے یادِ لبِ جاں بخش حضور عالمِ نور میں ہے چشمۂ حیوانِ عرب پائے جبریل ۔۔۔
مزید
راہِ طیبہ میں بے قراروں کو یاد آئیں قدم قدم سجدے ہر نفس میں مہک دُرُود کی ہو جگمگائیں قدم قدم سجدے عشق ان کا جو سرفراز کرے بندگی بندگی پہ ناز کرے اشک آنکھوں سے دم بَہ دم برسیں مسکرائیں قدم قدم سجدے ہم کو سرکار نے بلایا ہے سر پہ لطف وکرم کا سایہ ہے شکر کا بس یہی تقاضا ہے کرتے جائیں قدم قدم سجدے بندگی کی ہے یہ اساسِ حسیں سجدۂ شوق سے سجاؤ جبیں سوز ڈھل جائے سارے نغموں میں گنگنائیں قدم قدم سجدے اَب سفر اپنا ہے کرم کی طرف حسُن سرکار ہے شرف ہی شرف توڑ کر خواہشوں کے سارے صنم کرتے جائیں قدم قدم سجدے دَہر سے بے نیاز ہوجائیں ہم سراپا نماز ہو جائیں عِشق ان کا مراد بن جائے رنگ لائیں قدم قدم سجدے ہے یہی عشقِ اَحمد ِ مختار مئے توحید سے ہو دل سرشار کوئی اس کے سوا نہیں مسجود، دیں صدائیں قدم قدم سجدے ذوق خاؔلد ہمارا خام سہی ربط ان سے بر۔۔۔
مزید
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتائیں تمہیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمہارے درسے ہی لولگی ہے تجلّیوں کے کفیل تم ہو مرُاد ِ قلب ِ خلیل تم ہو خدا کی روشن دلیل تم ہو یہ سب تمہاری ہی روشنی ہے تمہیں ہو روح ِ رَوانِ ہستی سکوں نظر کا دِلوں کی مستی ہے دو جہاں کی بہار تم سے تمہیں سے پھولوں میں تازگی ہے شعور و فکر و نظر کے دعوے حدِ تعیّن سے بڑھ نہ پائے نہ چھو سکے اُن بلندیوں کو جہاں مقامِ محمدی ہے نظر نظر رحمتِ سراپا ادا ادا غَیرت ِ مسیحا ضمیرِ مُردہ بھی جی اُٹھے ہیں جِدھر تمہاری نظر اُٹھی ہے عمل کی میرے اساس کیا ہے بجُز نَدامت کے پاس کیا ہے رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں ت۔۔۔
مزید
چلو دیار نبی کی جانب دُرود لب پر سجا سجا کر بہار لوٹیں گے ہم کرم کی دلوں کو دامن بنا بنا کر نہ ان کے جیسا سخی ہے کوئی نہ ان کے جیسا غنی ہے کوئی وہ بے نواؤں کو ہر جگہ سے نواز تے ہیں بلا بلا کر جو شاہکار ان کی یاد کے ہیں امانتاً عشق نے دیے ہیں چراغِ منزل بنیں گے اک دن رکھو وہ آنسو بچا بچا کر ہماری ساری ضرورتوں پر کفالتوں کی نظر ہے ان کی وہ جھولیاں بھر رہے ہیں سب کی کرم کے موتی لٹا لٹا کر وہ راہیں اب تک سجی ہوئی ہیں دلوں کا کعبہ بنی ہوئی ہیں جہاں جہاں سے حضورﷺ گزرے ہیں نقش اپنا جما جما کر کبھی جو میرے غریب خانے کی آپ آکر جگائیں قسمت میں خیر مقدم کے گیت گاؤں گا اپنی پلکیں بچھا بچھا کر تمہاری نسبت کے میں تصدّق اَساسِ عظمت ہے یہ تعلّق کہ انبیاء سُرخ رُو ہوئے ہیں سرِ اطاعت جھکا جھکا کر ہے ان کو امّت سے پیار کتنا کرم ہے رحمت شعار کتنا۔۔۔
مزید
رشتے تمام توڑ کے سارے جہاں سے ہم وابستہ ہوگئے ترے آستاں سے ہم ہر رُخ سے ہر جگہ تھیں مصائب کی یورشیں ان کا کرم نہ ہوتا تو بچتے کہاں سے ہم ہم ہیں غلام ان کی غلامی پہ ناز ہے پہچانے جائیں گے اسی نام ونشان سے ہم سرکارﷺ آپ خود کرم سے نواز دیں کچھ عرض کر سکیں گے نہ اپنی زباں سے ہم یہ سب غمِ حبیبِ مکرم کا فیض ہے آزاد ہوگئے ہیں غم دو جہاں سے ہم دنیا سمجھ رہی ہے غنی اور ہیں غنی پاتے ہیں بھیک ایسے سخی آستاں سے ہم حق کر سکے ادا جو ثنائے حضور کا ایسی زباں لائیں تو لائیں کہاں سے ہم حارج نہیں ہے وسعتِ کون و مکاں کہیں سنتے ہیں وہ ضرور پکاریں جہاں سے ہم ایسا سدا بہار ہے داغِ غم نبی محفوظ ہی رہیں گے ہمیشہ خزاں سے ہم اندازہ ہے یہ شدت ِ جذبات دیکھ کر پہنچے اگر نہ آئیں گے واپس وہاں سے ہم سوئے حرم چلے جو مسرت ک۔۔۔
مزید
دل میں سوز و گداز ہوتا ہے دہرسے بے نیاز ہوتا ہے دل اگر پاک ہو تو پیش نظر خود ہی آئینہ ساز ہوتا ہے منگتے ہیں کرم ان کا سدا مانگ رہے ہیں دن رات مدینے کی دعا مانگ رہے ہیں ہر نعمت کونین ہے دامن میں ہمارے ہم صدقہ محبوب خدا مانگ رہے ہیں اے دردِ محبت ابھی کچھ اور فزوں ہو دیوانے تڑپنے کی ادا مانگ رہے ہیں یوں کھو گئے سرکار کے الطاف وکرم میں یہ بھی تو نہیں ہوش کہ کیا مانگ رہے ہیں اسرار کرم کے فقط ان پر ہی کھلے ہیں جو تیرے وسیلے سے دعا مانگ رہے ہیں سرکار کا صدقہ مرے سرکار کا صدقہ محتاج وغنی شاہ وگدا مانگ رہے ہیں اس دور ِ ترقی میں بھی ذہنوں کے اندھیرے خور شید ِ رسالت کی ضیاء مانگ رہے ہیں یہ مان لیا ہے کہ ترا درد ہے درماں طالب میں شفا کے نہ دوا مانگ رہے ہیں ہم کو بھی ملے دولت دیدار کا صدقہ دیدار کی جرأت بھی ۔۔۔
مزید
جو گدا محوِ یاس رہتے ہیں اُن کے غم میں اُداس رہتے ہیں دیکھنے کو وہ دُور ہیں خاؔلد اپنے آقا کے پاس رہتے ہیں بے عمل ہوں مرے پاس کچھ بھی نہیں میری جھولی میں اشکوں کی سوغات ہے غفلتوں میں کٹی ہے مری زندگی آبرو لاج والے ترے ہاتھ ہے عشق کی بیکلی میر ایمان ہے دردِ عشق نبی کا یہ احسان ہے ڈھل رہے ہیں ستارے مری آنکھ سے میری ہر رات تاروں بھری رات ہے سامنے اب تو صورت ہے سرکار کی گرگئی فاصلوں کی جو دیوار تھی، میرا ربطِ تصّور سلامت رہے روز خلوت میں ان سے ملاقات ہے نسبتِ مصطفیٰ کا بیاں کیا کروں مل رہا ہے مجھے زندگی کا سکوں راحتوں کی ضمانت ہے سوزِ دروں ہر تمنا پہ رحمت کی برسات ہے ہو رہا ہے نمایاں کرم آپکا کیا ہوں میں صرف تصویر توفیق ہوں آپ کے ذکر نے مجھ کو چمکا دیا ورنہ میں کیا ہوں کیا میری اوقات ہے ذکر ان کا ہے لاریب ذکرِ خدا مصطفیٰ کی عطا ہے عطائے ۔۔۔
مزید