اتوار , 13 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 01 February,2026


نعت   (894)





شمیم زلف نبی

شمیم زلفِ نبی لا صبا مدینے سے مریضِ ہجر کو لا کر سونگھا مدینے سے یہ آرہی ہے مرے دل! صدا مدینے سے ہر ایک دکھ کی ملے گی دوا مدینہ سے مدینہ کہتا ہے ہمدم نہ جا مدینے سے تجھے ہے عیشِ ابد کی صلا مدینہ سے نسیمِ مست چلے دلربا مدینے سے بہار دل میں بسے دل کشا مدینے سے نسیمِ مست چلے دلربا مدینے سے بہار و باغ بنے دل مرا مدینے سے اٹھائو بادہ کشو! ساغرِ شرابِ کہن وہ دیکھو جھوم کے آئی گھٹا مدینے سے مدینہ جانِ جنان و جہاں ہے وہ سن لیں جنہیں جنونِ جناں لے چلا مدینے سے فضائے دھر کو گھیرا ہے جس کی موجوں نے وہ سیلِ نورِ محمد(ﷺ) چلا مدینے سے جہان بھر کے سکھانے کو خسروی کے اصول غبارِ خاک نشیناں اٹھا مدینے سے بسا وہ خلد میں جو بس گیا مدینہ میں گیا وہ خلد سے جو چل دیا مدینہ سے مریضِ ہجر کو چین آگیا مدینہ میں دلِ شکستہ کا درماں ہوا مدینہ سے ترے کرم کے بھروسے یہ عرض کرتا ہوں نہ جائے گا ترا ۔۔۔

مزید

مری چشم کان گہر ہورہی ہے

نظر پہ کسی کی نظر ہو رہی ہے مری چشم کانِ گہر ہو رہی ہے مرے خفیہ نالوں کو وہ سن رہے ہیں عنایت کسی کی ادھر ہو رہی ہے وہ طیبہ میں مجھ کو طلب کر رہے ہیں طلب میری اب معتبر ہو رہی ہے ہوا طالبِ طیبہ مطلوبِ طیبہ طلب تیری اے منتظر ہو رہی ہے مدینے میں ہوں اور پچھلا پہر ہے شبِ زندگی کی سحر ہو رہی ہے نئی زندگی کی وہ مے دے رہے ہیں مری زندگانی امر ہو رہی ہے مدینے سے میری بلا جائے اخترؔؔ مری زندگی وقفِ در ہو رہی ہے۔۔۔

مزید

لب جاں بخش

لبِ جاں بخش کا اے جاں مجھے صدقہ دیدو مژدۂ عیشِ ابد جانِ مسیحا دے دو غمِ ہستی کا مداوا مرے مولیٰ دے دو بادۂ خاص کا اک جام چھلکتا دے دو غرق ہوتی ہوئی ناؤ کو سہارا دے دو موج تھم جائے خدارا یہ اشارہ دے دو ہم گنہگار سہی حضرتِ رضواں لیکن ان کے بندے ہیں جناں حق ہے ہمارا دیدو تپش مہرِ قیامت کو سہیں ہم کیسے اپنے دامانِ کرم کا ہمیں سایہ دے دو بھول جائے جسے پی کر غم دوراں اخترؔ ساقیٔ کوثر و تسنیم وہ صہبا دے دو۔۔۔

مزید

گلوں کی خوشبو

وہی تبسم وہی ترنم وہی نزاکت وہی لطافت وہی ہیں دزدیدہ سی نگاہیں کہ جن سے شوخی ٹپک رہی ہے گلوں کی خوشبو مہک رہی ہے دلوں کی کلیاں چٹک رہی ہیں نگاہیں اٹھ اٹھ کے جھک رہی ہیں کہ ایک بجلی چمک رہی ہے یہ مجھ کو کہتی ہے دل کی دھڑکن کہ دستِ ساقی سے جام لے لو وہ دور ساغر کا چل رہا ہے شرابِ رنگیں چھلک رہی ہے یہ میں نے مانا حسین و دلکش سماں یہ مستی بھرا ہے لیکن خوشی میں حائل ہے فکر فردا مجھے یہ مستی کھٹک رہی ہے نہ جانے کتنے فریب کھائے ہیں راہِ الفت میں ہم نے اخترؔ پر اپنی مت کو بھی کیا کریں ہم فریب کھا کر بہک رہی ہے ٭…٭…٭۔۔۔

مزید

محمد محمد پکارے چلا جا

محمد محمد پکارے چلا جا محمد کا نغمہ سنائے چلا جادُرودی ترانے تو گائے چلا جا دلِ مضمحل کو سنبھالے چلا جا مِرے قلبِ محزوں کی تسکیں یہی ہے  جو جلتا ہے اُس کو جَلائے چلا جا   وسیلے سے اُن کے، سہارے سے اُن کے تو بگڑی کو اپنی بَنائے چلا جا   زمانہ خفا ہے تو کیا غم ہے اِس کا  زمانے کو ٹھوکر لگائے چلا جا   زمانہ بھی اِک دن تِرے ساتھ ہوگا  تو آقا کو اپنے سنائے چلا جا   دو عالَم کی نعمت وہیں سے ملے گی  تو دامن کو اپنے پسارے چلا جا   مدینے کے راہی خدا تیرا حافظ خدا کی مدد کے سہارے چلا جا سفینے کو تیرے کنارے لگائیں  یہ لہریں یہ موجیں بہ دھارے چلا جا   تِرے دردِ دل کی دوا بس یہیں ہے چلا جا وہیں غم کے مارے چلا جا   نگارِ مدینہ گلستانِ جنّت  مدینے کو دل میں بسائے چلا جا مدینے کے خاروں پہ قربان گلشن اُنھیں ۔۔۔

مزید

شجر کا نہ حجر کا نہ مہ و خورشید و اختر کا

شجر کا نہ حجر کا نہ مہ و خورشید و اختر کا میں بندہ ہوں پجاری ہوں بس اک اللہ اکبر کا نبیِّ پاک کے ہاتھوں سے پی کر جام کوثر کا  ہمیں بھی دیکھنا ہے حوصلہ خورشیدِ محشر کا   ہمیں بھی کاش مل جاتا مقدّر ایسے پتھر کا وہ پتھر جس میں اُترا نقش تیرے پائے اطہر کا   غلامِ مصطفیٰ ہو کر سکندر ہوں مقدّر کا سکندر کب ہوا محتاج دنیا میں کسی در کا   دوعالم پر حکومت ہے مگر جو پر قناعت ہے ہے اندازِ جہاں بانی انوکھا میرے سَروَر کا   حسینوں میں بہت دیکھا مگر تم سا نہیں دیکھا  نمونہ بھی نہیں ملتا تمھارے رُوئے اَنور کا   نکمّا بد عمل ہوں اس لیے کچھ کہہ نہیں سکتا  سمجھ لیں آپ ہی مفہوم میرے دیدۂ تر کا   تِرے در سے تِرے دشمن بھی خالی ہاتھ نہ لوٹے  مِری بھی لاج رکھ لینا کہ منگتا ہوں تِرے در کا   سلامِ عاجزی جب میں کروں گا اُن کو تربت میں &۔۔۔

مزید

اے نبی پیار سے جس نے تمہیں دیکھا ہوگا

اے نبی پیار سے جس نے تمھیں دیکھا ہوگااُس کی آنکھوں سے بھی اِک نور برستا ہوگا جس نے ایماں کی نظر سے تمھیں دیکھا ہوگا اُس کی آنکھوں سے بھی کیا نور برستا ہوگا جس نے طوفاں میں کبھی تم کو پکارا ہوگاموجِ طوفاں سے مِلا اُس کو سہارا ہوگا جب فرشتوں نے اُسے حشر میں پکڑا ہوگااِک سیہ کار گنہگار یہ کہتا ہوگا لے چلو مجھ کو مِرے شافعِ محشر کے حضوروہ جو چاہیں گے وہی فیصلہ میرا ہوگا حُسنِ خوباں کو بھلا کیا وہ سمجھتا ہوگاجس کی آنکھوں میں تِرے حُسن کا جلوہ ہوگا زُہد و تقویٰ کا کسی اور کو دعویٰ ہوگامجھ سے مجرم کو فقط تیرا سہارا ہوگا قبر میں اُس رُخِ پُر نور کا جلوہ ہوگامَوت جب آئے گی تو اُن کا نظارا ہوگا رب نے یہ فرمایا نبی سے اپنےمیرے محبوب جو تیرا ہو وہ میرا ہوگا  جس نے آقا تمھیں ایماں کی نظر سے دیکھااُس کی نظروں سے بھی اِک نور ٹپکتا ہوگا جن کا مجرم ہ۔۔۔

مزید

ہے کام شریروں کا یہ قمر و جفا کرنا

ہے کام شریروں کا یہ قہر و جفا کرنااور اُن کی بھلائی کو آقا کا دعا کرنا یہ عرض مِری جا کر آقا کو سنا دینااِتنا تو مِری خاطر اے بادِ صبا کرنا مجرم ہوں تمھارا ہوں للہ کرم کر دوجب کام تمھارا ہے وشمن پہ دَیا کرنا تم رحمت عالَم ہو اُمّت میں تمھاری ہوںعاصی کو سرِ محشر رُسوا نہ ذرا کرنا  ناواقفِ عظمت ہیں نادان ہیں جھوٹے ہیںبدلے میں عذاب اُن پر اے میرے خدا کرنا    ۔۔۔

مزید

یہ دیار سرور کونین طیبہ چھوڑ کر

یہ دیارِ سَروَرِ کونین طیبہ چھوڑ کرگنبدِ خضرا کا منظر پیارا پیارا چھوڑ کر اِن سنہری جالیوں کا یہ نظارا چھوڑ کرسوئے جنّت کون جائے در تمھارا چھوڑ کر چلنے والے تو چلا کرتے ہیں دھارا چھوڑ کرمیری طوفاں میں چلی کشتی کنارا چھوڑ کر اُن کی رحمت راہبر میری رہی ہر گام پرجب مدینے کو چلا میں بابِ کعبہ چھوڑ کر دوستو! جاؤ مجھے تو مَوت ہی لے جائے گیمیں تو جیتے جی نہیں جاؤں گا روضہ چھوڑ کر آبروئے عیش ہوگی راحتِ خُلدِ بریںپھر یہ دل کیسے لگے گا میرا طیبہ چھوڑ کر  بے نیازِ دہر تم نے اپنا سائل کر دیادر بَہ در پھرتا ہے نجدی درتمھارا چھوڑ کر  اے تَعَالَی اللہ دنیا اُس کے پیچھے پیچھے ہےجو تمھارے در پہ آیا ۔۔۔۔۔۔۔(؟) چھوڑ کر  تو جو مِل جائے تو میں کس کی کروں پھر آرزو ہر تمنّا چھوڑ دی تیری تمنّا چھوڑ کر  سارے رشتے منقطع ہو جائیں گے پھر آرزوپس غلام۔۔۔

مزید

نہ سمجھو کہ وہ بس مدینے میں ہیں

نہ سمجھو کہ وہ بس مدینے میں ہیںمِری آنکھوں میں میرے سینے میں ہیں بگاڑے گی تو کیا ہوائے مخالفمِرے نا خدا جب سفینے میں ہیں  تمھاری گلی سے چلے آئے جب ہمنہ تو مرنے میں ہیں، نہ جینے میں ہیں جو اَسرار مخفی تھے سارے جہاں پروہ سب میرے آقا کے سینے میں ہیں  اے حبیبِ خدا تم پہ روشن ہے سبحسرتیں کیا کہوں کتنی سینے میں ہیں جس گلی سے گئے وہ مہکتی رہیکمالات کیسے پسینے میں ہیں زمانہ ہُوا عرش پر وہ گئے تھےنبی اور سب اب بھی زینے میں ہیں  مزے آنکھ سے اُن کی پینے میں ہیں جووہ کب جام و مینا سے پینے میں ہیں یہ ریحؔاں کو مُژدہ نسیمِ سحر دےتجھے وہ بلاتے مدینے میں ہیں  ۔۔۔

مزید

جبریل امیں شان بشر دیکھ رہے ہیں

جبریلِ اَمیں شانِ بشر دیکھ رہے ہیںسِدرہ پہ کھڑے گردِ سفر دیکھ رہے ہیں یہ اُن کی محبّت کا اثر دیکھ رہے ہیںبس اُن کے نظارے ہیں جدھر دیکھ رہے ہیں صِدّیق کی اُلفت کا ثمر دیکھ رہے ہیںبوجہل کو ہم خاک بَہ سر دیکھ رہے ہیں سرکارِ دو عالَم کی غلامی میں جو آئے سرتاجیِ کونین عمر دیکھ رہے ہیںفیضانِ محبّت ہے کہ عُشّاق یہاں ہیں اللہ کے محبوب کا گھر دیکھ رہے ہیںاللہ کے محبوب کی تعظیم کی خاطر جھکتے ہوئے سرداروں کے سر دیکھ رہے ہیںانسان تو کیا چیز ہے ہم پائے نبی پر رکھتے ہوئے جبریل کو سر دیکھ رہے ہیں  اللہ کے بندوں نے اُنھیں نور بھی دیکھااور دیو کے بندے ہیں بشر دیکھ رہے ہیں  جھولی کو پسارے ہوئے محتاج و غنی ہیںاور رحمتِ کونین کا در دیکھ رہے ہیں  اللہ مِری چشمِ تمنّا کا بھرم رکھوہ دیکھ کہ سرکار اِدھر دیکھ رہے ہیں عالَم میں نِکو نام ہوں فیضانِ ۔۔۔

مزید

زمیں کیا آسماں پر مِرے آقا کی سطوت ہے

زمیں کیا آسماں پر مِرے آقا کی سطوت ہےعطائے ربِّ اکرم سے ہر اِک شے پر حکومت ہے ہر اِک شَے پر حکومت ہے مگر ہیں پیٹ پر پتھرغریبوں سے یتیموں سے اُنھیں کتنی محبّت ہے  بشر ہیں وہ مگر ایسے بشر فخرِِِ بشر کہیےکہ آدم بو البشر کو بھی مِرے آقا کی حاجت ہے  وہ مکے میں ہوئے پیدا مدینے میں وہ رہتے ہیںمگر اُن کا وجودِ پاک ہر عالَم کی رحمت ہے  نبی ہیں اُن سے کوئی چیز مخفی رہ نہیں سکتیکہ غیبوں کی خبر رکھنا، خبر دینا نبوّت ہے کبھی میزان پر ہیں اور کبھی ہیں حَوضِ کوثر پرغمِ اُمّت میں کتنی مضطرب اُن کی شفاعت ہے  جو منکر ہے شہِ دیں کا قیامت اُس پہ ٹوٹے گیمجھے کیا خوف محشر کا مجھے اُن سے محبّت ہے  گلستانِ رضا کا پھول ہوں ریحاؔن کہتے ہیںمِرا آغاز جنّت ہے مِرا  اَنجام جنّت ہے    ۔۔۔

مزید