ہفتہ , 12 شعبان 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 31 January,2026


نعت   (894)





ذکر جہاں میں ہم سب پڑکر کیوں ضائع لمحات کریں

ذکر جہاں میں ہم سب پڑکر کیوں ضائع لمحات کریں آؤ پڑھیں والشّمس کی سورت روئے نبی ﷺکی بات کریں جن کے آنے کی برکت سے دھرتی کی تقدیر کھلی آؤ ہم سب ان چرنوں پر جان و دل سوغات کریں نور خدا ہے نور نبی ہے نور ہے دیں اور نور کتاب ہم ایسے روشن قسمت کیوں تاریکی کی بات کریں رحمت والے پیارے نبی ﷺ پر پڑھتے رہو دن رات درود آؤ لوگوں اپنے اوپر رحمت کی برسات کریں کیا یہ صورت ان کو دکھانے کے لائق ہے غور کرو سامنے ان کے ہوں شرمندہ کیوں ایسے حالات کریں قبر میں ھَاھَالَااَدْرِیْ کہنے کی رسوائی سے بچو بگڑی حالت کب بنتی ہے چاہے لاکھ ھَیْھَاتَ کریں اہل عشق گزر جاتے ہیں دارونار کی منزل سے اہل خرد کے بس میں نہیں ہے اہل عشق کی مات کریں رات پر ان کی زلف کے سائے دن عارض کا صدقہ لائے کیوں نہ پھر انکے دیوانے یاد انھیں دن رات کریں یہ لذّات کی دنیا کب تک؟ اس کی اسیری ٹھیک نہیں آؤ سمجھ سے کام لیں اخؔتر خود کو طالب ذات کریں ۔۔۔

مزید

وہ مری جان بھی جان کی جان بھی میرا ایمان بھی روح ایمان بھی

وہ مری جان بھی جان کی جان بھی میرا ایمان بھی روح ایمان بھی مہبط وحئی آیات قرآن بھی اور قرآن بھی روح قرآن بھی نور و بشریٰ کا یہ امتزاج حسیں جیسے انگشتری میں چمکتا نگیں عالم نور میں نور رحمٰن بھی عالم اِنس میں پیک انسان بھی نے نبیﷺ کو ملی وسعتِ دم زدن نہ ملک کی زباں کو مجال سخن لی مَعَ اللہ وَقتٌ سے ظاہر ہوا ہے تمہارے لئے ایک وہ آن بھی مجھ سے مت پوچھ معراج کا واقعہ ہے مشیت کے رازوں کا اِک سلسلہ دل کو ان کی رسائی پہ ایمان بھی عقل ایسی رسائی پہ حیران بھی کیا بتاؤں قیامت کا میں ماجرا رحمتوں غفلتوں کا ہے اک معرکہ دل کو انکی شفاعت پہ ایمان بھی عقل اپنے کئے پر پشیمان بھی ناز سے اک دن آپ نے یہ کہا یہ بتا طائر سدرۃالمنتہیٰ ہے ترے سامنے عالم کن فکاں تو نے پائی کسی میں مری شان بھی بولے یہ حضرت جبرائیل امیں  اے نگاہ مشیت کے زہرہ جبیں ہوتر امثل کوئی، کبھی اور کہیں رب نے رکھا نہیں اس کا امکان بھی انکی ر۔۔۔

مزید

روشن زمیں ہوئی تو حسیں آسماں ہوا

روشن زمیں ہوئی تو حسیں آسماں ہوا نورِ رخِ نبیﷺ سے منور جہاں ہوا صد شکر اے وفورِ مسرت کے آنسوؤں دامانِ عشق غیرتِ ہفت آسماں ہوا مٹ کے غبار راہ دیار نبیﷺ بنا میں یوں شریک قافلئہ کہکشاں ہوا کیا خوب ہے کمال تصرف کی یہ مثال پروردۂ نبیﷺ پہ خدا کا گماں ہوا چشم علی میں کیوں نہ ہوں یکساں شہود و غیب زیب نگاہ کحل لعاب دہاں ہوا نعت رسولﷺ آیۂ رحمت کا ہے کرم میں ہم زبان انجمن قدسیاں ہوا اخؔتر یہ راز فہم بشر کیا سمجھ سکے کیسے مکان(۱) زیب دۂ لامکاں ہوا   مکان  سے مراد آپﷺ کا لباس بشری ہے۔ نور محمدیﷺ جس میں مکین ہے۔۔۔

مزید

صرف اتنا ہی نہیں غم سے رہائی مل جائے

صرف اتنا ہی نہیں غم سے رہائی مل جائے وہ جو مل جائیں تو پھر ساری خدائی مل جائے میں یہ سمجھوں گا مجھے دولتِ کونین ملی راہ طیبہ کی اگر آبلہ پائی مل جائے دور رکھنا ہو تو پھر جذب اویسی دیدو تاکہ مجھ کو بھی تو کچھ کیف جدائی مل جائے عرش بھی سمجھے ہوئی اس کو بھی معراج نصیب ان کے دیوانے کے دل تک جو رسائی مل جائے ہو عطا ہم کو بھی سرکار عبادت کا شعور ہم کو بھی ذائقہ ناصیہ سائی مل جائے اللہ اللہ رے اس عارض والشّمس کا نور جس پہ پڑجائے اسے دل کی صفائی مل جائے جس کو سہنا نہ پڑے پھر الم ہجر و فراق اخؔتر خستہ جگر کو وہ رسائی مل جائے ۔۔۔

مزید

نگاہ ہے سر مگیں تمہاری

نگاہ ہے سر مگیں تمہاری مہ منوّر جبیں تمہاری شبیہہ کوئی نہیں تمہاری کہ نازش گل عذار ہو تم اگر تمہارا ہو اک اشارہ فلک سے میں نوچ لاؤں تارا قمر بھی سینہ کرے دو پارا قرار لیل و نہار ہو تم چمن کی رنگینیاں تمہیں سے گلوں میں رعنائیاں تمہیں سے مہک رہا ہے جہاں تمہیں سے مرے چمن کی بہار ہو تم ہمیں ہے بس آپ کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں ہمارا توئی سفینہ توئی کنارا ہمارا دارومدار ہو تم اگر ہنسو تم جہان ہنس دے جہاں کیا رب جہان ہنس دے زمین ہنس سے زمان ہنس دے زمانے بھر کا قرار ہو تم یہ مانا کوئی خلیل نکلا کوئی کلیم جلیل نکلا کوئی مسیح جمیل نکلا حبیب پروردگارﷺ ہو تم جو تم کو دیکھے خدا کو دیکھے جو تم کو سمجھے خدا کو سمجھے جو تم کو چاہے خدا کو چاہئے کہ مرأۃ حسن یار ہو تم زمیں پہ ہے تیز گام کوئی فلک پہ محو خرام کوئی خدا سے ہے ہم کلام کوئی وہ نازش گل عذار ہو تم ہے کس کا آج عرش پر بلاوا براق کس کے لئے ہے آی۔۔۔

مزید

صبا بصد شان دلربائی ثنائے رب گنگنا رہی ہے

صبا بصد شان دلربائی ثنائے رب گنگنا رہی ہے کچھ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ مدینے سے آرہی ہے مجھے مبارک یہ ناتوانی سہارا دینے وہ اٹھ کے آئے خرد ہے حیراں کہ اِک توانا  کو نا توانی اُٹھا رہی ہے میں ان عنایات پر نچھاور کبھی نہ رکھا رہین ساغر نگاہ نوری کا پھر کرم ہے نگاہ نوری پلا رہی ہے کہیں نہ رہ جائیں ہم خود اپنی ہی حسرتوں کا مزار بنکر ہماری شمع اُمید کی لو حضور اب جھلملا رہی ہے زیارت قبر مصطفیٰﷺ ہے شفاعت مصطفیٰﷺ کی ضامن ہم عاصیوں کو بڑی محبت سے انکی رحمت بلا رہی ہے سیاہ زلفیں سیاہ کملی سیاہ بختوں کو ہو مبارک سیاہ بختی کو رحم والی سیاہی کیسا چھپا رہی ہے حضورﷺ مجھ سے وہ کام لیجئے جو قلب انور کو شاد کردے یہی مری آرزو رہی ہے یہی مری التجا رہی ہے نہ کیوں ہو وہ بخت کا سکندر کہ جسکی جاں اسکے تن سے باہر گئی تو بہر خدا گئی ہے رہی تو بہر خدا رہی ہے نگاہ ادراک میں دیار نبیﷺ کے جلوے سماگئے ہیں نہ پوچھ۔۔۔

مزید

پشیماں نہ ہوں شرمساروں سے کہدو

پشیماں نہ ہوں شرمساروں سے کہدو نبیﷺ آگئے غم کے ماروں سے کہدو مجھے بھاگئے ہیں کھجوروں کے جھرمٹ ذرا خلد کے سبزہ زاروں سے کہدو محمدﷺ چلے ہیں سوئے عرشِ اعظم ادب سے رہیں چاند تاروں سے کہدو زمانے کے اندھوں کو احمد کی منزل بتادیں ذرا تیس پاروں سے کہدو مجھے خواب ہی میں نظارہ کرادیں مدینے کے دلکش نظاروں سے کہدو ذرا چھیڑدیں نغمۂ نعت احمد میری زندگی کے ستاروں سے کہدو ہے جان گلستاں کی آمد چمن میں ہوں جاروب کش نو بہاروں سے کہدو یہی تو ہیں اخؔتر مری زندگانی نہ ہوں سرد دل کے شراروں سے کہدو ۔۔۔

مزید

زہے تقدیر بیمار محبت چارہ گر آیا

زہے تقدیر بیمار محبت چارہ گر آیا سکوں جان عالم راحت قلب و نظر آیا نظر مائل بہ گریہ تھی وفور شادانی سے عجب تھا ماجرا پیش نظر جب تیرا در آیا فلک پر بنکے چمکے مثل خاور سارے پیغبر محمد مصطفیٰﷺ لیکن باندازدگر آیا مٹانے فتنہ انگیزی زمانے کی زمانے سے کنار آمنہ﷝ میں امن کا پیغامبرﷺ آیا عجب انداز سے توحید کا گاتا ہوا نغمہ نواسنج گلستان براہیمی ادھر آیا جب آئے جلوہ گاہ رب میں موسیٰ ہوگئے بیخود تبسم تھا لبوں پر جب وہاں خیر البشر آیا کہیں واللیل کا منظر کہیں والشّمس کے جلوے نظارہ انکی زلف ورخ میں نظروں کو نظر آیا کلام اللہ تو کہتا ہے ان کو نور یزدانی مگر کہتے ہیں اہل شر انہیں مجھ سا بشر آیا تری نغمہ سرائی پر اثر ثابت ہوئی اخؔتر زبان اہل محفل بول اٹھی نغمہ گر آیا ۔۔۔

مزید

ہم غریبوں کا آسرا تم ہو

ہم غریبوں کا آسرا تم ہو بزم کونین کی ضیا تم ہو کون ہے میری زندگی کی بہار راز پہناں سے آشنا تم ہو ہوگیا نازش دو عالم وہ جس کو کہدو مِرے دوا تم ہو اس طرف بھی ذرا نگاہ کرم درد دل کی مِرے دوا تم ہو میرے دل کو ہو خوف رہزن کیوں جبکہ خود میرے رہنما تم ہو عکس ہے تیرا شیشۂ دل میں مرے دل سے کہاں جدا تم ہو ہم غریبوں کی جھولیاں بھر دو بحر جود و سخا شہا تم ہو پھر بھلا خوف موج طوفاں کیا میری کشتی کے ناخدا تم ہو بختِ اخؔتر بھی جگمگا اُٹھا ملتفت جب سے باخدا تم ہو! ۔۔۔

مزید

ہوا ہے ضوفگن نور رسالتﷺ بزم امکاں میں

ہوا ہے ضوفگن نور رسالتﷺ بزم امکاں میں کلی چٹکی کھلے غنچے بہار آئی گلستاں میں ادھر شیطاں سراپا غرق ہے بحرِ خجالت میں ادھر صلٌ علیٰ کا شور برپا ہے گلستاں میں درخشانی یہ اس خورشید کی ہے جس کی آمد سے تزلزل آگیا ہے قیصر و کسریٰ کے ایواں میں محمدﷺ یا محمدﷺ کی صدا آتی ہے گلشن سے ہے میلادالنبیﷺ کا جسن بزم عندلیباں میں ۔۔۔

مزید

آگئے ہیں وہ زلفیں بکھیرے

آگئے ہیں وہ زلفیں بکھیرے جن پہ صدقے اُجالے اندھیرے عرش حق جھوم اٹھا لیا جب نام احمد سویرے سویرے وہ سراپا ہیں نور الہیٰ یہ نہ کہنا کہ ہیں مثل میرے فرش والے بھی اور چرخ والے ان کے در پہ لگاتے ہیں پھیرے گرد مہتاب جیسے ہوں تارے یوں صحابہ ﷢ نبیﷺ کو ہیں گھیرے ربط ہے ایسے در سے ہمارا جن کے تابع اجالے اندھیرے پھر ہو کیوں آرزوئے دو عالم جب کہ اخؔتر محمدﷺ ہیں میرے ۔۔۔

مزید

ہے شانِ درمصطفیٰﷺ کیا نرالی

ہے شانِ درمصطفیٰﷺ کیا نرالی کہیں سبز گنبد کہیں سبز جالی بہ پیش ضیائے غبار مدینہ مہ چاردہ نے بھی گردن جھکالی ہماری سمجھ میں یہ اب تک نہ آیا یہ شب ہے کہ ہے عکس گیسوئے عالی سلامت رہے کالی کملی تمہاری ہم ایسوں کی بھی روسیاہی چھپالی قسم ہے خدا کی درِ مصطفیٰﷺ کا زمیں تو زمیں آسماں ہے سوالی قمر اپنے سینے کو دو نیم کر دے جو حرکت میں آئے کمانِ ھلالی کہاں کوئی مخلوق ہے آپ جیسی ہے ضرب المثل آپ کی بے مثالی ہو خاموش اخؔتر یہ جائے ادب ہے ہے پیش نظر دیکھ روضے کی جالی ۔۔۔

مزید