بدھ , 19 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 06 May,2026

حضرت علامہ ابو الفیض محمد عبد الکریم ابدالوی

حضرت علامہ ابو الفیض محمد عبد الکریم ابدالوی (خانقاہ ڈوگراں) علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت عمدۃ المدرسین علامہ سیّد محمد زبیر شاہ

حضرت عمدۃ المدرسین علامہ سیّد محمد زبیر شاہ، چکوال علیہ الرحمۃ    استاذالعلماء حضرت علامہ مولانا سیّد محمد زبیر شاہ بن سیّد محمد مہدی شاہ، ضلع کیمبلپور کے موضع لنگر میں پیدا ہوئے۔ آپ نسباً سیّد ہیں اور آپ کے والد  اور نانا رحمہما اللہ اپنے وقت کے جیّدِ عالم تھے۔ تعلیم و تربیت: آپ نے علومِ اسلامیہ کی کتب متداولہ مختلف مساجد میں پڑھنے کے بعد جامعہ رضویہ مظہرِ اسلام فیصل آباد میں کتب حدیث پڑھ کر سندِ فراغ اور دستارِ فضیلت حاصل کی۔ آپ کو جن مایۂ ناز اکابرِ اہلِ سنّت کی شاگردی کا شرف حاصل ہے، ان میں محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد، مولانا محمد دین بدھوی المعروف منطقی بابا رحمہما اللہ اور حضرت مولانا فضل حق خطیب فتح جنگ کے اسماء گرامی شامل ہیں۔ تائیدِ غیبی: آپ چکوال میں مولوی محمد سلیمان (دیوبندی) کے ہاں زیرِ تعلیم تھے کہ محدث اعظم پاکستان مولانا محمد سردار صاحب قدس ۔۔۔

مزید

عنایت اللہ قادری رضوی، شیر اہل سنّت مولانا مفتی محمد

مناظر اہل سنّت مولانا مفتی محمد عنایت اللہ قادری رضوی (سانگلہ ہل، شیخوپورہ)     مناظر اہل سنّت حضرت علامہ محمد عنایت اللہ بن جناب نواب الدین ۱۳۳۸ھ/ ۱۹۱۹ء میں شیخوپورہ کے موضع ہر دویر پار میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی کتب درسِ نظامی مولانا احمد دین صاحب سے سکھیکی (گوجرانوالہ) کے مقام پر پڑھیں۔ صرف و نحو حضرت استاذ العلماء قاضی عبدالسبحان کھلا بٹی رحمہ اللہ سے علی پور شریف (سیالکوٹ) میں پڑھنے کے بعد آپ بریلی شریف حاضر ہوئے، جہاں آپ نے فقہ اور اصول کا درس حضرت علامہ شمس الدین سے لیا۔ بعض علوم آپ نے حضرت خواجہ غلام فرید رحمہ اللہ تعالیٰ کوٹ مٹھن شریف (ڈیرہ غازی خان) کے دربار پر قائم مدرسہ میں داخل ہوکر پڑھے۔ کتب احادیث کا درس حضرت محدث اعظم مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد رحمہ اللہ سے دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف میں لیا اور اس طرح تکمیل علوم و فنون کے بعد آپ نے سندِ فراغ۔۔۔

مزید

شیخ نور الدین المشہور نور قطب عالم بنگال قدس سرہ

آپ شیخ علاء الدین علاء الحق بنگالی قدس سرہ کے فرزند اور خلیفہ طریقت تھے۔ ہندوستان کے مشہور مشائخ میں مانے جاتے ہیں بڑے صاحب عشق و محبت اور ذوق و شوق کے مالک تھے۔ صاحب تصرف و کرامات تھے اپنے والد کی خدمت میں رہ کر بڑی روحانی منزلیں طے کیں اور درجہ قطبیت کو پہنچے اس طرح آپ قطب عالم کے خطاب سے مشہور ہوئے۔ اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ آپ اپنے والد کی خانقاہ کے تمام امور کو اپنے ہاتھ سے سرانجام دیا کرتے تھے کپڑے دھونا خانقاہ کو صاف کرنا۔ پانی  لاکر نمازیوں اور مسافروں کو مہیا کرنا جنگل سے لکڑیاں لاکر لنگر تیار کرنا سب آپ کے ذمہ تھا۔ حتٰی کہ درویشوں کے کپڑے دھونے گندگی کا اٹھانا اور بیت الخلاء کی نجاست ہٹانا بھی آپ کے ذمہ تھا۔ ایک دن ایک درویش کو آدھی رات کے وقت پیٹ میں درد اٹھا وہ بیت الخلاء کی طرف بھاگا وہاں شیخ علاء الحق اپنی روزمرہ  کی خدمت پر مصروف تھے۔ اس درویش کو زور سے جو پاخان۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمد سلیم چشتی صابری لاہوری

حضرت شیخ محمد سلیم چشتی صابری لاہوری  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ شیخ محمد صدیق چشتی لاہوری کے خلیفۂ کامل تھے آپ عشق و محبت جذب و سکرِ سماع و وجد اور فقر میں بلند مقام کے مالک تھے آپ کا صوفیا میں بھی بڑا بلند مقام تھا سماع کے دوران آپ کو یہ کیفیت ہوئی کہ بعض اوقات یہ گمان ہوتا کہ آپ فوت ہوگئے ہیں دو دو تین تین دن مست اور بے ہوش رہتے آخر کار ۱۰۳۰ ہجری میں اس دنیا سے کوچ کرگئے آپ کا مزار اپنے پیر و مرشد کے مزار کے پہلو میں میدان زین خان میں ہے۔ چو از دنیا بفردوس برین رفت سلیم آن شیخ عالم شاہ حق بین بگو سال وصال آنشہِ دین دگر فیض سلیم آید وصالش ۱۰۳۰ھ۔۔۔

مزید

رضی الدین ابن حنبلی  

              علامہ رضی الدین ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن یوسف بن عبد الرحمٰن تاذفی حلبی معوف بہ ابن حنبلی: ادیب،مؤرخ اور محدث تھے۔۹۰۸؁ھ میں حلب میں پیدا ہوئے اور وہیں جمادی الاولیٰ ۹۷۱؁ھ میں وفات پائی،ان کی کثیر تصانیف میں سے حاشیہ علیٰ شرح وقایہ فی مسائل ہدایہ،حاشیہ علیٰ شرح تصریف الغری تفتازانی، مواردالصفاء فی فوائد الشفاء(حدیث میں)اور در الجب فی تاریخ حلب مشہور ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

رضی الدین ابن حنبلی  

              علامہ رضی الدین ابو عبداللہ محمد بن ابراہیم بن یوسف بن عبد الرحمٰن تاذفی حلبی معوف بہ ابن حنبلی: ادیب،مؤرخ اور محدث تھے۔۹۰۸؁ھ میں حلب میں پیدا ہوئے اور وہیں جمادی الاولیٰ ۹۷۱؁ھ میں وفات پائی،ان کی کثیر تصانیف میں سے حاشیہ علیٰ شرح وقایہ فی مسائل ہدایہ،حاشیہ علیٰ شرح تصریف الغری تفتازانی، مواردالصفاء فی فوائد الشفاء(حدیث میں)اور در الجب فی تاریخ حلب مشہور ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت علامہ مولانا عبدالکریم بن ابی حنیفہ اندقی

حضرت علامہ مولانا عبدالکریم بن ابی حنیفہ اندقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ           عبد الکریم بن ابی حنفیہ بن عباس بن مظفر اندقی: چوتھی صدی کے بعد پیدا ہوئے،قصبۂ اندق کے جو بخارا کے پاس واقع ہے،رہنے والے تھے،اپنے زمانہ کے امام فاضل زاہد پرہیز گار متواضع نیک سیرت تھے،فقہ ابی محمد بن احمد حلوائی اور ابی طاہر محمد بن علی بن احمد اسمٰعیل اور ابی نصر احمد بن علی بن منصور سے حاصل کی اورانہیں سے حدیث کو سُنا،آپ سے ابو عمر و عظمان بنعلی البیکندی نے روایت کی اور شعبان کے مہینے ۴۸۱؁ھ میں فوت ہوئے۔’’قمر عالم‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی

حضرت مولانا ہدایت علی بریلوی علیہ الرحمۃ مولانا ہدایت علی بریلی محلہ قرولان کے ساکن، شیخ فاروقی، حضرت علامہ فضل حق خیر آبادی سے تحصیل علم کیا، نواب مشتاق علی خاں عرش آشیاں نے بریلی سے بلاکر مدرسہ عالیہ رامپور کا پرنسپل مقرر کیا، بریلی مدرسہ شریعت قائم کیا، خود درس دیتے تھے، ۱۳۲۲؁ھ میں انتقال ہوا، حضرت استاذ العلماء مولانا فضل حق رام پوری، حضرت مخدوم شاہ ابو الحسین احمد نوری سجادہ نشین مارہرہ شریف اور مولانا یونس علی بد ایونی علیہم الرحمۃ مشہور شاگرد تھے۔ (تذکرہ کاملان رامپور، تذکرہ نوری)۔۔۔

مزید

حضرت علامہ علی بن محمد سمنانی

حضرت علامہ علی  بن محمد سمنانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ            علی بن محمد بن احمد سمنانی: اپنے زمانہ کے امام فاضل تھے،کنیت ابو القاسم تھی۔فقہ کو قاضی القضاۃ ابو عبداللہ محمد بن علی دامغانی کبیر سے اخذ کیا اور اصول و کلام کو ابی علی محمد بن احمد بن ولید سے پڑھا۔فقہ،شروط،تواریخ میں تصنیفات کیں اور کتاب روضۃ القضاء فی ادب القضاء ایک مجلد کبیر اور نہایت لطیف فروع حنفیہ ۴۷۸؁ھ میں تصنیف کی اور ۴۹۹؁ھ یا بقول ملا علی قاری ۴۹۳؁ھ میں وفات پائی۔سمنانی سمنان کی طرف منسوب ہے جو بلاد قومس سے دامغان اور خوارزی کے درمیان ایک شہر کا نام ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید