منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

مولانا غلام محمد نعیمی

  مولانا غلام محمد بن حضرت مفتی محمد عبداللہ نعیمی ۱۹، ستمبر ۱۹۵۷ء کو داوٗ د گوٹھ ملیر سٹی میں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت : مکتب سے قرآن شریف کی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۷۰ء میں غازی بروہی پرائمری اسکول داوٗ د گوٹھ سے پانچویں جماعت پاس کی ۔ اس کے بعد درس نظامی کی تعلیم اپنے والد ماجد مفتی محمد عبداللہ نعیمی سے شروع کی، تفسیر جلالین مشکوۃ شریف اور شرح جامی تک کتب بالمشافہ اپنے والد صاحب سے ہی پڑھیں ۔ ابھی تعلیم جاری تھی کہ ۱۹۸۲ء میں مفتی صاحب کا ایک حادثہ میں انتقال ہو گیا، بقیہ کتب حضرت مفتی محمد نعیمی صاحب سے پڑھ کر ۱۹۸۶ء میں سند الفراغ حاصل کی۔ ۱۹۸۷ء میں ایم اے سیکنڈ ڈویژن سے پاس کیا۔ سفر حج : ۱۹۸۶ء میں اپنے استاد محترم مفتی محمد احمد نعیمی کی رفاقت میں حج اور زیارت حرمین شریفین کی سعادت حاصل کی۔ پہلے مسقط و عمان تبلیغ کے لئے گئے وہیں سے سفر حج پرروانہ ہو گئے ۔ تصنیف و تالیف : زمانہ طالب ۔۔۔

مزید

مولانا غلام عمر آریجوی

  نامور نعتیہ شاعر و عالم مولانا غلام عمر بن محمد عثمان آریجا گوٹھ خیر محمد آریجہ ( ضلع لاڑکانہ ) میں ۲۶، اپریل ۱۸۴۹ء کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : تین سال کی عمر میں والد انتقال کر گئے ۔ اس طرح آپ نے یتیم کی زندگی بسر کی اور والدہ ماجدہ کی سر پرستی میں تصی منازل طے کیں ۔ مولانا اللہ بخش ( والد مولانا ثناء اللہ ثنائی ) کے پاس عربی کے ساتھ طب کی بھی تعلیم حاصل کی۔ پھر وہاں سے پلٹ کر پہلے استاد مولانا اللہ بخش کے پاس واپس آئے اور وہیں نصاب مکمل کیا۔ درس و تدریس : گوٹھ فاضل کلہوڑو میں مدرسہ قائم کر کے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور ساتھ میں گذراوقات کیلئے مطب کھولا۔ آٹھ ؍دس سال وہیں درس دیا ۔ رئیس اللہ بخش بگھیو کے اصرار کے پیش نظر انہی کے گوٹھ میں درس کا سلسلہ پانچ ؍ سات تک جاری رکھا۔ اس کے بعد اپنے گوٹھ واپس آئے مدرسہ اور شفا خانہ قائم کیا ، بقیہ زندگی وہیں بسر کی اور دونوں کا۔۔۔

مزید

مفتی سید غلام محی الدین نعیمی

  مفتی سید گلام محی الدین بن مولانا سید غلام احمد فریدی ’’شوق‘‘ مراد آباد ( یو ۔ پی ۔ بھارت ) میں۱۴، اگست ۱۹۲۲ ء کو تولد ہوئے۔ مولانا شوق جامعہ نعیمیہ مٰن شعبہ فارسی کے استاد اور کہنہ مشق شاعر تھے، تخلص ’’شوق ‘‘ رکھتے تھے اور حضرت صدر الافاضل کے قریبی رشتہ دار تھے ۔ ( مفتی صاحب کے بیٹے سید ناظر الدین کی روایت کے مطابق) تعلیم و تربیت : آپ نے علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ درس نظامی کی تکمیل برصغیر کی نامور دینی درسگاہ ’’جامعہ نعیمیہ ‘‘ مراد آباد سے کی۔ آپ کو اپنے استاد محترم ، سواد اعظم کے عظیم قائد ، امام المناظرین رئیس المتکلمین صدر الافاضل علامہ الحاج حکیم سید محمد نعیم الدین مراد آبادی قدس سرہ سے نہایت عقیدت و محبت تھی ۔ پاکستان میں قیام : استاد محترم صدر الافاضل کے وصال کے بعد آپ ۱۹۵۰ء کو مراد آباد سے پاک۔۔۔

مزید

مولانا سید غلام محمد شاہ ’’گدا

  مولانا سید غلام محمد شاہ صاحب صحیح النسب حسینی سید تھے، آ پ کا سلسلہ نسب آٹھویں امام سید نا موسیٰ رضا سے ملتا ہے، اس لئے آپ کا خاندان ’’رضوی سادات ‘‘ کہلاتا ہے۔ آپ نصر پور (حیدر آباد) کے مشہورصوفی شاعر و بزرگ حضرت سید مصری شاہ نصر پوری اور حضرت شاہ عنایت رضوی کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ شاہ صاحب کے پڑدا دا حضرت مولانا سید بچل شاہ ایک کامل ولی اللہ ، عالم فاضل اور صاحب دل انسان تھے اور کئی لوگ آپ سے دست بیعت تھے۔ سید غلام محمد شاہ ۱۲۵۳؍ ۱۸۲۶ء میں میر نصیر خان ٹالپر کے عہد حکمرانی میں حیدرآباد شہر میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں حاصل کی ۔ فارسی حیدرآباد کے چیرانی آخوند سے حاصل کی ان دنوں آپ کے ہم درس نامور شاعر محمد بخش واصف کے استاد آخوند حاجی فقیر محمد عاجز تھے۔ اس کے علاوہ اپنے جد کریم حضرت علامہ سید محمد بچل شاہ و دیگر۔۔۔

مزید

حضرت مولانا غلام محمد سوڈہر

  مولاناغلام محمد بن فقیر محمد رمضان سوڈہر گوٹھ اشرف سوڈہر ( تحصیل میہڑ ضلع دادو سندھ ) میں تولد ہوئے۔ فقیر محمد رمضان کو تین بیٹے تولد ہوئے۔ ۱۔      مولانا غلام محمد غلام                 ۲۔     مولانا غلام نبی غلام                 ۳۔     مولانا غلام رسول غلام ۔ک تینوں بھائی ، عالم دین ، رہڑ و شریف کے نامور عالم علامہ غلام عمر مہیسر کے فاضل شاگرد ، شاعر اور عاشق رسول اللہ ﷺ تھے اور تینوں کا تخلص غلام تھا۔ تعلیم و تربیت : مولانا غلام محمد نے ابتدائی تعلیم اپنے گوٹھ میں حاصل کی۔ اس کے بعد قرب و جوار مٰن رہڑو شریف کے فیض کا چشمہ جاری تھا وہیں جا کر علوم ظاہر و باطن حاصل کر کے ۔۔۔

مزید

استاد العلماء مفتی غلام محمد جتوئی

  درویش صفت عالم دین ، استاد العلماء حضرت مولانا مفتی غلام محمد جتوئی بن میاں محمد اسماعیل جتوئی ، سراج الفقہاء ، مفتی اعظم ، قطب دوران ، رئیس العلماء ، علامۃ الزمان مفتی غلام عمر جتوئی قدس سرہ الاقدس کے بھتیجے ، ابتدائی دور کے نامور شاگرد اور عظیم علمی وارث تھے۔ گوٹھ سونہ جتوئی ( ضلع لاڑکانہ ) میں ۱۸۸۰ء کو تولد ہوئے۔ گوشہ نشین اہل اللہ مفتی غلام محمد جتوئی نے مدرسہ دارالفیض ( گوٹھ سونہ جتوئی ) میں مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد حضرت استاد مکرم ، چچا محترم ، سراج الفقہاء کے زیر سایہ مادر علمی میں چٹائی پر بیٹھ کر ، روکھی سوکی کھا کر ، ساری زندگی درس و تدریس میں گذار دی ۔ آپ نے تاج الفقہاء کے وصال کے بعد بھی مدرسہ کا عروج برقرار رکھا اور علمی چراغ اپنے خون پسینہ سے روشن رکھا۔ آپ نہایت پارسا، کم و، شب بیدار ، سادہ طبیعت ، گوشہ نشین ، طلباء پر نہایت شفیق تھے، اکثر اوقات مدرسہ میں تدریس یا۔۔۔

مزید

مرد درویش مولانا مفتی غلام محمد قاسمی

  استاد العلماء فنافی الشیخ ، مرد درویش حضرت مولانا مفتی غلام محمد قاسمی بن خمیسو خان بگھیو گوٹھ شاہ حسن ضلع دادو میں غالبا ۱۹۲۵ء کو تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت: گوٹھ شاہ حسن سے پرائمری کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد دادو اور کراچی کے اسکول و کالج سے دنیوی تعلیم حاصل کی ۔ بعد فراغت گورنمنٹ ہائی اسکول دادو میں انگریزی سبجیکٹ کے استاد مقرر ہوئے۔ وہ دادو میں استاد تھے انہی دنوں کی بات ہے کہ حضور قبلہ عالم ، تاج العارفین ، فقیہ اعظم ، بحر حضرت خواجہ محمد قاسم مشوری قدس سرہ دادو دعوت پر تشریف فرما ہوئے ، حضرت کی نظر کے شکار ہو گئے ۔ ایک نظر میں ’’تم ہمارے ہم تمہارے‘‘ کی مصداق کا معاملہ تھا۔ ایک جھلک دیکھ کر بے قرار دل کو قرار مل گیا ، آنکھوں کو سرور مل گیا۔ زندگی میں ایسا انقلاب آیا کہ ساری حیاتی حضرت کے ہو کر رہے۔ تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا میری قسمت جگانا تیرا ک۔۔۔

مزید

مولانا غلام رسول جتوئی

  نامور عالم ، ادیب و شاعر حضرت مولانا غلام رسول جتوئی بن رئیس بہاول خان جتوئی ۱۲۸۷ھ/۱۸۷۰ء کو گوٹھ محراب پور (تحصیل ڈوکری ضلع لاڑکانہ) میں تولد ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد اصل میں بلوچستان کے باسی تھے۔ وہاں سے دو بھائی خیرو خان اور سلطان خان منتقل ہو کر سندھ میں آباد ہوئے۔ سلطان خان کی اولاد میں سے محراب پور کے جتوئی ہیں۔ تعلیم و تربیت: مولانا غلام رسول نے ابتدائی تعلیم محراب پور میں مولانا عبداللہ کیریو سے حاصل کی۔ اس کے بعد سندھ کی نامور دینی درسگاہ مدرسہ دارالفیض گوٹھ سونہ جتوئی (تحصیل ڈوکری) میں سراج الفقہا استاد الاساتذہ حضرت علامہ مفتی غلام عمر جتوئی قدس سرہٗ سے تعلیم حاصل کی اور حضڑت علامہ مفتی عبدالرحمن وہامراہ کے ہاں بقیہ درسی کتب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد علم طب میں اپنے برادر رئیس دوست محمد جتوئی سے پڑھی اور سیکھی۔ طب آپ کا پیشہ تھا اور اس سے خوب نام کمایا۔ بی۔۔۔

مزید

مولانا غلام محمد خانزئی

  عالم، ادیب و عارف حضرت مولانا غلام محمد بن خان محمد خانزئی غالباً خان زئی خاندان بلوچوں کے بروہی قبیلہ کی شاخ ہے۔ آپ ایک اندازے کے مطابق ۱۲۵۰ھ میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: غلام محمد بڑے ذہین و ذکی حافظہ کے مالک تھے۔ ابتدائی تعلیم مسجد شریف کے مکتب سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم چوٹیاری کی مشہور دینی درسگاہ (تحصیل سانگھڑ) سے حاصل کی۔ مولاناغلام محمد پر جو سب سے زیادہ استاد مہربان تھے ،وہ اس درسگاہ کے استاد مخدوم عبدالحکیم تھے جو کہ اپنے وقت کے بڑے عالم فاضل اور فقیہ تھے۔ انہوں نے ایک رسالہ ’’نجوم الھدی فی آخر الظہر‘‘ تصنیف فرمایا۔ مولانا غلام محدم اسی درسگاہ سے درسی نصٓب مکمل کرکے فارغ التحصیل ہوئے۔ بیعت و خلافت: مولانا غلام محدم کا پورا خاندان ، عارف باللہ، سلطان العارفین، غوث الزمان حضرت خواجہ سید محدم رشید الدین شاہ راشدی المعروف پیر صٓحب بیعت دھنی قدس سرہ ا۔۔۔

مزید

استاد العلماء حضرت علامہ غلام حسین ولیدائی

  درمیانہ قد، بھرا ہوا مضبوط جسم، منہ گول، بڑی بڑی آنکھیں، گندمی رنگ، چہرہ نورانی سر پر ہمیشہ دو انچ تک گھنگریالے بال، شلوار ، کبھی تہبند، سر پر سفید ٹوپی، باہر جاتے اور نماز کے وقت عمامہ شریف سر پر سجاتے ہمیشہ سادہ اور سفید کپڑے کا لباس، جیسی فطرت میں سادگی ویسی کھانے پینے اور اوڑھنے میں سادگی، اخلاق میں پاکیزگی، مہمان نوازی میں دریا دل ، عمل میں تقویٰ ، فالتو بحث اور لڑائی جھگڑے سے دور، ذہین، تیز حافظہ، گفتگو میں آہستگی، ٹھہرائو شائستگی، آخری عمر میں اونچا سننا، کچھ دانت سالم، آخر عمر تک بغیر چشمہ کے لکھنا اور پڑھنا، فارسی میں کم طبع آزمائی ، اعلیٰ مدرس، بڑے لکھاری، بزرگ اور عاشق حبیب کریم ﷺ ان اوصٓف کے مالک ہیں حضرت استاد العلماء علامہ غلام حسین ولیدائی۔ جنہوں نے ۱۸۹۳ء میں اپنے والد حضرت مولانا محمد یوسف عباسی کے گھر میں آنکھ کھولی۔ تعلیم و تربیت: ولید نامی گوٹھ (جو کہ اب لاڑ۔۔۔

مزید