اماموں کے سردار، امت کے مقتدا شرلعیت کے معین و مدگار طریقت کے استاد، عارفین کے تاج سالکوں کے رہنما خواجہ ہبیرۃ البصری ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ خواجہ حذیفہ المرعشی کی خدمت سے حاصل کیا تھا۔ یہ واجب الاعتصام بزرگ علماء وقت کے مقتدا اولیاء زمانہ کے سرتاج تھے اور خدائے جل وعلا کی معرفت میں تمام مشائخ کبار کے درمیان انتہا سے زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ آپ درجات رفیع اور مقامات عالی رکھتے اور عمل فضل میں بے نظیر اقتدار رکھتے تھے۔ (سیر الاولیاء)۔۔۔
مزید
آپ مشائخ نیشاپور میں شمار ہوتے ہیں ابوعلی سقفی عبداللہ منازل ابوبکر شبلی ابوبکر طاہر ابہری، اور حضرت مرتعش رحمۃ اللہ علیہم سے فیض صحبت پایا شیخ عمو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر مجھے شیخ ابوبکر فراز کی زیارت نہ ہوتی تو میں صوفی نہ بن سکتا شیخ عمو نے ایک اور جگہ فرمایا کہ ایک بار میں اپنے دوستوں کے ساتھ سفر حج پر جا رہا تھا جب ہم نیشاپور پہنچے تو دوستوں نے بتایا اس شہر میں حضرت ابوبکر فرما رہتے ہیں آؤ ان کی زیارت کرلیں بعض دوستوں نے مشورہ دیا کہ وہ تو حج پر جانے والوں کو حج سے روک دیتے ہیں، اور کہتے ہیں اپنے والدین کی خدمت کرو، میں چند لمحوں کے لیے رکا، مگر پھر میں نے ارادہ کرلیا کہ آپ کو ضرور ملوں گا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا سلام عرض کیا آپ نے پوچھا تم کون ہو اور کدھر جانے کا ارادہ رکھتے ہو میں نے بتایا کہ ہر ات سے آیا ہوں اور حج پر جا رہا ہوں آپ نے پوچھا تمہارے والدین زندہ۔۔۔
مزید
آپ کا اسم گرامی محمد بن فضل بن طاتی سختانی الہردی تھا۔ آپ موسیٰ بن عمران صیرنی قدس سرہ کے مرید تھے۔ علوم ظاہر و باطن میں کامل اور زہدو تقوی میں مکمل تھے۔ آخرین عمر میں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔ اس حالت میں بھی آپ سے ہزاروں کرامات ظاہر ہوتی تھیں وہ آنکھ والوں سے ہر حالت میں آگے رہے آپ کی زبان حق ترجمان سے جو کچھ نکلتا اللہ تعالیٰ اسے پورا فرمادیتے تھے۔ آپ ۴۱۶ھ میں فوت ہوئے۔ چو رحلت کرد زین دنیائے فانی وصالش اہل دین اہل یقین طاق ۴۱۶ھ جناب شاہ عالی جاہ طاتی ہم اہل حسن عبداللہ طاتی ۴۱۶ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ بخارا کے سادات عظام میں سے تھے لاہور کے قدیم مشائخ اور محدثین میں شمار ہوتے ہیں علوم ظاہری اور باطنی میں جامع تھے زہدو تقوی میں بے مثال تھے۔ علم تفسیر و حدیث اورفقہ میں اپنے وقت کے امام تھے ۳۹۵ھ کے آخر میں لاہور وارد ہوئے (یہ وہ زمانہ تھا جب محمود غزنوی کی فتوحات سے لاہور اہل اسلام کا مسکن بن رہا تھا) لاہور آتے ہی آپ نے عام مخلوق کو دعوت اسلام دی۔ تحفۃ الواصلین کے مولّف لکھتے ہیں۔ واعظانِ اسلام میں سب سے پہلے عالم دین تھے جنہوں نے لاہور میں قیام کیا اور عام لوگوں کو نور اسلام سے منور کیا تھا آپ کا وعظ اتنا موثر ہوتا کہ آپ کی مجلس میں بے پناہ لوگ جمع ہوتے اپنے تو اپنے اسلام سے بیگانے لوگ بھی آپ کے وعظ سے متاثر ہوتے آپ کی خوش بیانی کا یہ عالم تھا کہ ہر روز مجلس وعظ میں ہزاروں غیر مسلم دولتِ ایمان حاصل کرتے تھے ایک بار جو ہندو یا دوسرے مذہب کا آدمی آپ کی مجلس میں بیٹھتا کلمہ پڑھے بغ۔۔۔
مزید
آپ لاہور کے فاضل علماء کرام میں سے تھے، آپ استادِ کل مظہر کمالات دینی اور دنیوی ہوئے ہیں، علم و حلم سخا و عطا میں شہرت رکھتے تھے تھدریس و تعلیم میں متقدمین میں سے سبقت لے گئے تھے، ہزاروں لوگ آپ کے وسیلہ جمیلہ سے زیور علم دین سے آراستہ ہوئے، علوم نثر و نظم صرف و نحو منطق و معانی، فقہ و حدیث اور تفسیر میں یکتائے روزگار تھے،علماء کرام میں لاہور شہر میں جس شخص نے علم علم تدریس بلند رکھا وہ آپ کی ذات گرامی تھی، حالانکہ لاہور کا یہ زمانہ بڑا افراتفری کا دور تھا، پنجاب بھر کا کوئی ایسا عالم نہیں تھا جس نے اس چشمۂ فیض سے فیض حاصل نہ کیا ہو، آپ کا سارا خاندان علم و فضل کا سرچشمہ تھا، آپ کے والد حضرت غلام فرید اور آپ کے برادر گرامی مولانا غلام رسول فاضل لاہوری (جن کا ذکرِ خیر سابقہ صفحات میں گزر چکا ہے) بھی تدریس و تعلیم میں یکتائے روزگار تھے۔ آپ کی وفات ۱۲۷۲ھ میں ہوئی تھی، اور مادۂ تاریخ وفا۔۔۔
مزید
سابقہ صفحات میں مصنف علام مفتی غلام سرور لاہوری نے قد س سرہ حضور سرور کائنات کی ازواج مطہرات اور اہل بیت کے چند افراد کا تذکرہ اس لیے اختصار سے کیا ہے کہ صالحات و عارفات امت کے حالات کا آغاز مین و برکت سے ہو، خاندان نبوت کے افراد کے مفصل حالات پر صلحائے امت نے بہت کچھ لکھا ہے اس لیے قارئین سے استدعا ہے کہ ان نفوس قدسیہ کے تذکرہ کو تفصیل سے جاننے کے لیے دوسری کتابوں سے رجوع فرمائیں۔ (مترجم) (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی سلطان المشائخ قدس سرہ کی والدۂ بزرگوار تھیں، بڑی بزرگ، صالحہ صاحب عفت و عصمت عورت تھیں حضرت سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے میری والدہ کے سامنے کوئی مشکل کام آتا، تو اس کا نتیجہ انہیں پہلے ہی معلوم ہوجایا کرتا تھا، میرا اپنا بھی زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ اگر مجھے کوئی مہم یا مشکل درپیش آتی تو میں اپنی والدہ کی قبر پر چلا جاتا مشکل پیش آتا ایک ہفتہ یا کم از کم ایک ماہ میں مشکل حل ہوجاتی تھی۔ اخبارالاخیار میں لکھا ہے کہ جن دنوں سلطان علاؤ الدین خلجی حضرت سلطان المشائخ کے خلاف ہوکر ایذا رسانی پر آمادہ ہوا تو اس نے حکم دیا کہ سلطان المشائخ ہر مہینے کی پہلی تاریخ دربار میں پیش ہوا کریں ورنہ میں سخت سزا دوں گی، یہ حکم سنتے ہی حضرت اپنی والدہ مرحومہ کے مزار پر حاضر ہوئے اور کہا بادشاہ دلی طور پر مجھے نقصان پہنچانے اور ایذا رسانی کے درپے ہے اگر پہلی تار۔۔۔
مزید
آپ حضرت رکن الدین ابوالفتح ملتانی قدس سرہ کی والدہ ماجدہ تھیں، آپ بڑی عابدہ زاہد تھیں، راستی اور درستگی میں یگانہ عصر تھیں، قرآن کی حافظ تھیں، ہر روز ایک قرآن پاک ختم کرتی تھیں، اپنے خُسر حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی قدس سرہ سے نسبت بیعت تھی، آپ کا وصال ۶۹۵ھ میں ہوا۔ مزار ملتان میں پاک دروازہ کے باہر واقعہ ہے، جمعرات کو لوگ جوق در جوق فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ لیکن مردوں کو مزار کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ راستی مخدومۂ عالم کہ بود ہست مخدومہ وصال پاک اُو راست رد چوں تیر اندر راستی سال ترحیلش چو از من خواستی (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت مولانا حاجی غلام قادر شائق فاروقی قادری نو شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ ابن مولانا شیخ احمد (ف ۱۲۴۳ھ) قصبہ رسول نگر ضلع گوجرانوالہ کے ایک قدیمی علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔آپ نے اپنے والد گرامی سے تحصیل علوم کی اور حضرت حافظ سید قل احمد نوشاہ ثانی بر خورداری ساہن پالوی( ف ۱۳۸۶ھ) سے بیعت ہو کر خلافت سے نوازے گئے ۔ مولانا شائق ،عربی اور فارسی کے بلند پایہ اویب و شاعر اور خوش نویس تھے، تاریخ گوئی میں بھی با کمال تھے اور اپنے علاقہ کے مفتٔی اعظم تھے۔ آپ کی تصنیف شائق نامہ بجواب محمود نامہ ہنوز غیر مطبوعہ ہے ۔ آپ کی بیاض کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے عصر سے آپ کے گہرے مراسم تھے، ان علمائے کرام میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی یہ ہیں:۔ ۱۔ حضرت مولانا غلام محی الدین ۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کے تمام پوتوں اور نواسوں میں زیادہ ممتاز تھے آپ علو درجات، رفعت مقامات، شدت مجاہدات اور ذوقِ مشاہدات میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ جو دوسخا میں مشہور تھے اور طہارت ظاہری وباطنی میں بے نظیر تھے۔ چنانچہ صائم الدہر تھے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھتے تھے) ایک پہر رات گئے آپ نماز اور اذکار ومشاغل سے فارغ ہوکر ایک روتی کو گھی لگاکر تناول فرماتے تھے۔ یہی آپ کا افطار ہوتا تھا۔ حالانکہ دوسرے لوگوں کے لیے انواع واقسام کے کھانے تیار کراتے تھے۔ ایک دن حضرت خواجہ گنجشکر چارپائی پر تشریف رکھتے تھے۔ خواجہ علاؤ الدین دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے آئے اور چارپائی کا پایہ پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت خواجہ گنجشکر نے اپنے منہ سے پان نکال کر اُنکے منہ میں دیا اور کرسی (یعنی چوکی) پر بیٹھ کر وضو بنانے لگے خواجہ عیسیٰ نامی درویش جو حضرت اقدس کی ۔۔۔
مزید