منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

محمد فقیہ جرجانی

          محمد بن یحییٰ بن مہدی فقیہ خرجانی: امام فاضل فقیہ کامل علامۂ زماں فہامۂ دوراں تھے،صاحب ہدایہ نے آپ کو اصحاب تخریج میں سے شمارکیا ہے،کنیت ابو عبد اللہ تھی،فقہ آپ نے ابی بکر رازی سے حاصل کی اور آپ سے ابو الحسین احمد قدوری و احمد بن محمد ناطقی نے تفقہ کیا۔فالج کی بیماری سے ۳۹۸؁ھ میں وفات پائی اور بغداد میں امام ابو حنیفہ کی قبر کے پاس دفن کیے گئے۔’’مکرم زمان‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حسن بن داؤد سمر قندی

            حسن بن داؤد بن رضوان سمر قندی: فقہاء متقدمین میں سے مناظرہ ومباحثہ یگانۂ زمانہ تھے،ابو علی کنیت تھی،علم نیشا پور میں ابی سہل زجاج تلمیذ امام کرخی سے پڑھا اور ان ہیں سے فقہ کو اخذ کیا اور ۳۹۵؁ھ میں وفات  پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

زعفرانی

          محمد بن احمد بن[1] محمد عبدوس بن کامل الد لائل المعروف بہ زعفرانی: فقیہ صالح ثقہ تھے،کنیت ابو الحسن تھی،صاحب ہدایہ نے آپ کا ذکر ہدایہ میں کیا،فقہ آپ نے ابی بکر سے پڑھی اور ۳۹۳؁ھ میں فوت ہوئے۔زعفرانی زعفران کی طرف منسوب ہے جو علاقۂ بغداد میں ایک شہر کا نام ہے،بعض نے کہا کہ زعفران مابین ہمدان ورسد آباد کے واقع ہے،بعض کا یہ قول ہے کہ آپ زعفران بیچا کرتے تھے اس لیے زعفرانی کے نام سے مشہور ہوئے۔   1۔ محمد بن عبدوس۔ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)  ۔۔۔

مزید

عبد الکریم بزودی

                عبد الکریم بن موسیٰ بن عیسٰی بزودی: آپ فخر الاسلام بزدوی کے جد امجد ہیں اور قلعۂ بزدہ میں جو نسف سے چھ فرسنگ کے فاصلہ پر وقع ہے،رہا کرتے تھے، علوم امام الہدیٰ ابی منصور ماتردیدی تلمیذ بکر جوزجانی  سے حاصل کیے اور ۳۹۰؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد ابی نصر العراقی

           احمد بن عمرو بن موسیٰ[1] بن عبد اللہ بخاری المعروف بہ ابی نصر العراقی: اصحاب مذہب امام ابو حنیفہ میں سے امام اجل محدث اکمل تھے۔حدیث کو ابی نعیم عبد الملک بن محمد بن عدی سے سنا ور روایت کیا اور مدت تک سمر قند کے قاضی رہے اور ۳۹۰؁ھ میں شہر بخارا میں وفات پائی۔   1۔ احمد بن عمرو بن محمد بن موسیٰ  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عبد الکریم منغی

            عبد الکریم بن محمد بن موسیٰ منغی: قصبہ منع میں جو بخارا کے پاس واقع ہے، رہتے تھے،ابو محمد کنیت تھی۔اپنے عہد کے امام بے نظیر زاہد و پر ہیز گار تھے، فقہ استاذ عبد اللہ سبز مونی شاگرد ابی حفص صغیر سے پڑھی اور مدت تک تدریس و۲ افتاء میں مصروف رہ کر ۳۹۰؁ھ[1] میں وفات پائی۔   1۔ جمادی الآخر ۳۹۸ھ (حدائق الحنفیہ)  ۔۔۔

مزید

احمد بن محمد مکحولی

          احمد بن محمد بن مکحول بن فضل نسفی مکحلوی: فقیہ فاضل محدث عالم عارف مذہب تھے،کنیت ابو البدیع تھی اور اپنے دادا کے نام پر منسوب تھے۔علم اپنے باپ محمد مکحول شاگرد ابی المعین مکحول سے حاصل کیا اور حدیث کو ابا سہل ہارون بن احمد الاسفرائنی اور احمد بن حمدان المقرائی سے سُنا۔۳۳۱؁ھ میں پیدا ہوئے ۳۷۹؁ھ میں بمقام بخارا فوت ہوئے مگر آپ کا جنازہ لوگوں نے بخارا سے لا کر نسف میں دفن کیا۔’’امام نامور‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابن طبری  

              احمد بن حسن[1] بن علی فقیہ مروزی: کنیت آپ کی ابو حامد تھی اور ابن طبری کے نام سے معروف تھے،بڑے حافظ حدیث اور عالم تفسری زاہد متورع ماہر اصول و فروع اور عارف مذہب امام اعظم تھے،خطیب بغدادی نے لکھ ہے کہ علمائے مجتہدین اور متقین میں سے آپ جیسا کوئی حافظ احادیث اور بغداد م یں اماما بی الحسن کرخی اور بلخ میں ابی القادم صفار شاگرد نصیر بن یحییٰ تلمیذ محمد بن سماعہ سے حاصل کی اور حدیث کو احمد بن حصیر مروزی اور ابا العباس احمد بن عبد الرحمٰن بر غزی سے سماعت و روایت کیا۔بغداد سے تحصیل علم کرکے خراسان میں آئے اور وہاں مدت تک قاضی القضاۃ رہے اور کثرت سے تصنیفات کی جن میں سے تاریخ بدیع مشہور و معروف ہے۔وفات آپ کی ماہ صفر۳۷۶؁ھ میں ہوئی۔ ’’آپ کی تاریخ وفات ہے۔   1۔ احمد بن حسین بن علی۔(جوابر المضیہ)  (حدائق الحنفی۔۔۔

مزید

محمد فضل کماری

          محمد بن فضل جعفر بن رجا بن زرعہ فضلی کماری بخاری: اپنے زمانہ کے امام کبیر اور شیخ اجل معتمد فی الروایت والد رایت تھے۔ائمہ بلا دنے آپ کی طرف رجوع کیا۔مشاہیر کتب فتاویٰ آپ کی روایات و فتاویٰ سے مملو ہیں۔ابو بکر کنیت تھی،فقہ آپ نے استاذ عبد اللہ سبذ موتی تلمیذ ابو حفص صغیر سے حاصل کی اور آپ سے قاضی ابو علی حسین بن خضر نسفی اور امام حاکم عبد الرحمٰن بن محمد کاتب اور امام زاہد ابو محمد خیز اخزی اور امام اسمٰعیل زاہد نے تفقہ کیا اور آپ نے واسطے املاء حدیث کے مجلس منعقد کی،کہتے ہیں کہ جب آپ فتوےٰدینے کی اجازت دی گئی تو بلخ میں فقیہ ہندوانی نے اس خبر کو سن کر یہ خیال کیا کہ یہ لڑکا جو اس قدر حافظ نہیں رکھتا اس کو فتوےٰ دینے کی اجازت کیونکر دی گئی؟پس وہ اس خبر کی تصدیق کے لیےبذات خود بخارا میں تشریف لائے اور رات کو اپنے مکان میں اترے اور رات بھ۔۔۔

مزید

حسن سیرافی

  حسن بن عبداللہ[1] بن المرزبان المعروف بہ القاضی ابو سعید السیرافی النحوی: شہر یسراف میں جو بلا وفارس سے ہے ۲۷۰؁ھ سے پہلے پیدا ہوئے۔معرفت نحو،فقہ بغت،شعر،عروض،قوافی،قرآن،حدیث،کلام،حساب،ہندسہ میں شیخ الشیوخ وامام الائمہ احفظ نظم و نثر تھے اور با وجود اس کے زاہد،عابد،خاشع،متدین، متورع،متقی،عفیف،جمیل الامر،حسن الا خلاق تھے،عالم لغت کو ابن درید سے اور نحو کو ابن السراج سے حاصل کیا،فقہ کو عمان میں اخذ کیا۔مدت تک بغداد میں علوم قرآن و نحو و لغت و فقہ و فرائض کا درس دیتے رہے ،پچاس سال تک جامع رصافہ میں امام ابو حنیفہ کے مذہب پر فتوےٰ دیا اور کوئی خطانہ پائی گئی،چالیس سال یا اس سے زیادہ ثقاہت و دیانت و امانت کے ساتھ بغداد میں قضا کرتے رہے ار اپنے ہاتھ کے کسب سے روزی کھاتے تھے اور جب تک دس ورق جن کی اُجرت دس درم ہوتی تھی،نہ لکھ لیتے تھے،باہر مجلس میں نہ آتے تھے ،ابو علی فارسی اور اس کے اصحاب ۔۔۔

مزید