منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

عبد الکریم بزودی

                عبد الکریم بن موسیٰ بن عیسٰی بزودی: آپ فخر الاسلام بزدوی کے جد امجد ہیں اور قلعۂ بزدہ میں جو نسف سے چھ فرسنگ کے فاصلہ پر وقع ہے،رہا کرتے تھے، علوم امام الہدیٰ ابی منصور ماتردیدی تلمیذ بکر جوزجانی  سے حاصل کیے اور ۳۹۰؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد ابی نصر العراقی

           احمد بن عمرو بن موسیٰ[1] بن عبد اللہ بخاری المعروف بہ ابی نصر العراقی: اصحاب مذہب امام ابو حنیفہ میں سے امام اجل محدث اکمل تھے۔حدیث کو ابی نعیم عبد الملک بن محمد بن عدی سے سنا ور روایت کیا اور مدت تک سمر قند کے قاضی رہے اور ۳۹۰؁ھ میں شہر بخارا میں وفات پائی۔   1۔ احمد بن عمرو بن محمد بن موسیٰ  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عبد الکریم منغی

            عبد الکریم بن محمد بن موسیٰ منغی: قصبہ منع میں جو بخارا کے پاس واقع ہے، رہتے تھے،ابو محمد کنیت تھی۔اپنے عہد کے امام بے نظیر زاہد و پر ہیز گار تھے، فقہ استاذ عبد اللہ سبز مونی شاگرد ابی حفص صغیر سے پڑھی اور مدت تک تدریس و۲ افتاء میں مصروف رہ کر ۳۹۰؁ھ[1] میں وفات پائی۔   1۔ جمادی الآخر ۳۹۸ھ (حدائق الحنفیہ)  ۔۔۔

مزید

احمد بن محمد مکحولی

          احمد بن محمد بن مکحول بن فضل نسفی مکحلوی: فقیہ فاضل محدث عالم عارف مذہب تھے،کنیت ابو البدیع تھی اور اپنے دادا کے نام پر منسوب تھے۔علم اپنے باپ محمد مکحول شاگرد ابی المعین مکحول سے حاصل کیا اور حدیث کو ابا سہل ہارون بن احمد الاسفرائنی اور احمد بن حمدان المقرائی سے سُنا۔۳۳۱؁ھ میں پیدا ہوئے ۳۷۹؁ھ میں بمقام بخارا فوت ہوئے مگر آپ کا جنازہ لوگوں نے بخارا سے لا کر نسف میں دفن کیا۔’’امام نامور‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابن طبری  

              احمد بن حسن[1] بن علی فقیہ مروزی: کنیت آپ کی ابو حامد تھی اور ابن طبری کے نام سے معروف تھے،بڑے حافظ حدیث اور عالم تفسری زاہد متورع ماہر اصول و فروع اور عارف مذہب امام اعظم تھے،خطیب بغدادی نے لکھ ہے کہ علمائے مجتہدین اور متقین میں سے آپ جیسا کوئی حافظ احادیث اور بغداد م یں اماما بی الحسن کرخی اور بلخ میں ابی القادم صفار شاگرد نصیر بن یحییٰ تلمیذ محمد بن سماعہ سے حاصل کی اور حدیث کو احمد بن حصیر مروزی اور ابا العباس احمد بن عبد الرحمٰن بر غزی سے سماعت و روایت کیا۔بغداد سے تحصیل علم کرکے خراسان میں آئے اور وہاں مدت تک قاضی القضاۃ رہے اور کثرت سے تصنیفات کی جن میں سے تاریخ بدیع مشہور و معروف ہے۔وفات آپ کی ماہ صفر۳۷۶؁ھ میں ہوئی۔ ’’آپ کی تاریخ وفات ہے۔   1۔ احمد بن حسین بن علی۔(جوابر المضیہ)  (حدائق الحنفی۔۔۔

مزید

محمد فضل کماری

          محمد بن فضل جعفر بن رجا بن زرعہ فضلی کماری بخاری: اپنے زمانہ کے امام کبیر اور شیخ اجل معتمد فی الروایت والد رایت تھے۔ائمہ بلا دنے آپ کی طرف رجوع کیا۔مشاہیر کتب فتاویٰ آپ کی روایات و فتاویٰ سے مملو ہیں۔ابو بکر کنیت تھی،فقہ آپ نے استاذ عبد اللہ سبذ موتی تلمیذ ابو حفص صغیر سے حاصل کی اور آپ سے قاضی ابو علی حسین بن خضر نسفی اور امام حاکم عبد الرحمٰن بن محمد کاتب اور امام زاہد ابو محمد خیز اخزی اور امام اسمٰعیل زاہد نے تفقہ کیا اور آپ نے واسطے املاء حدیث کے مجلس منعقد کی،کہتے ہیں کہ جب آپ فتوےٰدینے کی اجازت دی گئی تو بلخ میں فقیہ ہندوانی نے اس خبر کو سن کر یہ خیال کیا کہ یہ لڑکا جو اس قدر حافظ نہیں رکھتا اس کو فتوےٰ دینے کی اجازت کیونکر دی گئی؟پس وہ اس خبر کی تصدیق کے لیےبذات خود بخارا میں تشریف لائے اور رات کو اپنے مکان میں اترے اور رات بھ۔۔۔

مزید

حسن سیرافی

  حسن بن عبداللہ[1] بن المرزبان المعروف بہ القاضی ابو سعید السیرافی النحوی: شہر یسراف میں جو بلا وفارس سے ہے ۲۷۰؁ھ سے پہلے پیدا ہوئے۔معرفت نحو،فقہ بغت،شعر،عروض،قوافی،قرآن،حدیث،کلام،حساب،ہندسہ میں شیخ الشیوخ وامام الائمہ احفظ نظم و نثر تھے اور با وجود اس کے زاہد،عابد،خاشع،متدین، متورع،متقی،عفیف،جمیل الامر،حسن الا خلاق تھے،عالم لغت کو ابن درید سے اور نحو کو ابن السراج سے حاصل کیا،فقہ کو عمان میں اخذ کیا۔مدت تک بغداد میں علوم قرآن و نحو و لغت و فقہ و فرائض کا درس دیتے رہے ،پچاس سال تک جامع رصافہ میں امام ابو حنیفہ کے مذہب پر فتوےٰ دیا اور کوئی خطانہ پائی گئی،چالیس سال یا اس سے زیادہ ثقاہت و دیانت و امانت کے ساتھ بغداد میں قضا کرتے رہے ار اپنے ہاتھ کے کسب سے روزی کھاتے تھے اور جب تک دس ورق جن کی اُجرت دس درم ہوتی تھی،نہ لکھ لیتے تھے،باہر مجلس میں نہ آتے تھے ،ابو علی فارسی اور اس کے اصحاب ۔۔۔

مزید

امام ہندوانی

                محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عمر بلخی ہندوانی بلخ میں اپنے زمانہ کےشیخ جلیل القدر،امام کبیر،فقیہ بے نظیر محدث عدیم التمثیل صاحب ذکار وزہد ورع اور موضح مشکلات و معضلات تھے،ابو جعفر کنیت تھی اور بہ سبب کثرت فقاہت کے ابو حنیفہ صغیر کے لقب سے ملقب تھے،فقہ آپ نے ابی بکر عمش شاگرد ابی بکر اسکاف تلمیذ محمد بن سلمہ صاحب ابی سلیمان سے حاصل کی اور نیز علی بن احمد فارسی تلمیذ امام نصیر بن یحییٰ سے اخذ کیا اور آپ سے نصربن محمدابواللیث فقیہ اور جماعت کثیرہ نے تفقہ کیا۔مدت تک بلخ دماوراء النہر میں تحدیث کرتے اور بڑے بڑے مشکل مسائل کے فتوےٰ دیتے رہے۔آپ کا قاعدہ تھا کہ جب فجر کی نماز پڑھتے تو پہلے گھر میں داخل ہوتے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے جاتے۔جب آپ کی والدہ ماجدہ نے وفات پائی تب آپ نے گھر میں جانا چھوڑدیا،۔۔۔

مزید

محمد میدانی

             محمد بن ابراہیم الضریر المیدانی: اپنے وقت کے شیخ کبیر اور عارف مذہب ابو بکر محمد بن احمد عیاضی کے ہمعصروں میں سے تھے،آپ کے زمانہ میں آپ کے مثل اور کوئی کم پایا جاتا تھا۔وفات آپ کی ۳۲۶؁ھ میں ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن احمد عیاضی

           محمد بن احمد بن عباس [1] حسین عیاضی: سمر قند جلیل القدر اپنے شہر کے رؤسائے عطیم الشان میں سے تھے،باوجود حافظ علوم دینیہ اور عارف فنون مذہبیہ ہونے کے علوم حساب وزیچ و عمل اشدکال اقلیدس کے استاد زمانہ تھے۔کنیت ابو بکر تھی۔فقہ آپ نے ابی احمد محمد بن فقیہ اور ابو سلمہ اور صاحب کتاب جمل اصول الدین سے پڑھی اور آپ سےایک جم غفیر نے اخذ کیا۔صمیری کہتے ہیں کہ اسمٰعیل زاہد نے مجھ سے کہا کہ میں نے ایک دن ابا بکر محمد بن فضل کو دیکھا کہ وہ ایک جزو مشکلات کتب کا آپ کے پاس لایا اور آپ نے ایک گھڑی میں اس کو لکھ لیا۔اس پر میں نےکہا کہ فضل خدا کی طرف سے ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ آپ جیسا روئے زمین پر اور کوئی شخص نہ ہوگا۔           ایک دفعہ آپ کو عضد الدولہ نے ایک گردہ فقہاء کے ساتھ سفیر بنا کر بخارا ک۔۔۔

مزید