پیر , 08 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 19 October,2026

حضرت مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری علیہ الرحمۃ

شہر دربھنگہ سے دور،اتروکچھم جانب کوردنی، بھپوری وہ بستیاں ہیں، جو ایک ساتھ بولی جاتی ہیں،صاحب ترجمہ بھپورہ کے ساکن تھے،اپنی بغی کے ضرب وجوار میں فارسی عربی پڑھی،مدرسہ عالیہ رام پور سے علوم متعارفہ کی تکمیل کی، مولوی محمد طیب عرب التوفی ۱۳۲۳؁ھ، مولانا فضل حق رامپوری المتوفی ۱۹۴۰؁ھ نامور اساتذہ کی شاگردی میں کئی سال رہے،مولوی محمد شاہ محدث رام پور ی المتوفی ۱۳۲۸؁ھ سے حدیث پاک پڑھی،مدرسہ شمس العلوم بد ایوں (قائم کردہ حضرت شہید مرحوم مولانا حکیم عبد القیوم بد ایونی) اور رام پور کی عربی درسگاہ مدرسہ انوار العلوم میں مدرس اوّل رہے،جامعہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ صوبہ بہار میں مدرس ہوئے،جب مدرہ گورنمنٹ صوبہ بہار کے تحت آیا،سینیر مدرس مدرس قرار دیئے گئے،بعدہ پرسنپل کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوکر وطن میں رہے اور وہیں ۱۳۷۰؁ھ میں فوت ہوئے،ہدایہ توضیح و تلویح اور حمداللہ کا درس صوبہ بھ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ریحان حسین رام پوری علیہ الرحمۃ

حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے صاحبزادے محلہ کھاری کنواں رام پور میں ۱۳۰۰؁ھ میں پیدا ہوئے،والد کے شاگردوں مریدوں مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری،مولانا عبد الغفار خاں رام پوری وغیرہ سے کسب علوم کیا۔ ۔۔۔

مزید

معمار ملت مولانا شبیہہ القادری رضوی

پرنسپل غوث الوریٰ کالج سیوان بہار ولادت حضرت علامہ مولانا شبیہہ القادری رضوی بن محمد منظور عالم بن شتاب علی کی ولادت ان کی ننہال موضع کٹیائی ضلع مظفر پور (بہار) میں ۱۵؍جولائی ۱۹۸۳ء بروز دو شنبہ بوقت پانچ بجے صبح ہوئی۔ آپ کے دادا موضع پوکھریرا ضلع سیتا مڑھی کے اچھے زمیندار اور کم و بیش تین سوا یکڑ آراضی کے کاشتکار تھے۔ مزاج بہت مخیر تھا۔ اس لیے مساجد، عید گاہ ہیں وغیرہ علاقہ وجوار میں بنوائیں۔ مولانا شبیہہ القادری کے والد ماجد بھی اپ نے والد کے نقش قدم پر چلے اور ہمیشہ غیر جانبداری کو پیش نظر رکھا۔ آپ کٹائی سے آکر موضع پوکھریرا سیتا مڑھی میں مقیم ہوگئے۔ اس موضع میں مدرسہ نور نور الہدیٰ (جودارالعلوم منظر اسلام بریلی کی معاصر ہے) میں مولانا شبیہہ القادری کے جد امجد نے چند ایکڑ زمین بھی وقف کی تھی۔ تسمیہ خوانی غالباً پانچ سال کی عمر میں مولانا۔۔۔

مزید

حضرت مولانا رجب علی نانپاروی رحمۃ اللہ

بریلی مدرسہ منظر اسلام میں حضرت مولانا عبد العزیز خاں محدث سے تکمیل علوم کی،حضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین قادری علیہ الرحمۃ سے تاریخ الفخری مسلم شریف کا درس لیا،اول الذکر سے بیعت و ارادت کا رتہ قائم کیا،متقی ،متشرع ،پاک نہاد،وعظ کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں ہیسل پور،بمبئی، بریلی میں درس و خطابت کی خدمات انجام دیں،مفتئ اعظم ہند حضرت مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا مدظلہٗ نے ۱۳۷۷؁ھ میں بمقام سبیل پور اپنے سلاسل کا مجاز کیا،تین بار حج وزیارت سے مشرف ہوچکے ہیں مسلمانوں کی تعلیمی ودینی ترقی کے پیش نظر وطن میں مرشد کے نام پر مدرسہ عزیز العلوم قائم کیا،ذاتِ رسالت پناہی سےوالہانہ وابستگی نے شاعر بنادیا ہے،جوش ومستی سے لبریز نعتیہ اشعار کہتےہیں، ‘‘ریاض عقیدت’’ ایک مختصر سا انتخاب چھپ کر شائع ہوچکا ہے،پچاس کے قریب عمر ہے،راقم سطور سے بایں فضل وکمال و بزرگی دوتانہ ومخلصانہ سلوک۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن مسعود السلمی الہزی: ان کے بھائیوں کے نام مجالد اور مجاشع تھے۔ معبد کی حدیث، مجالد کی حدیث کی طرح ہے۔ امام بخاری ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ ابو عثمان نہدی نے مجاشع سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعد از فتح مکہ اپنے بھائی معبد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مَیں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ میں اپنے بڑے بھائی معبد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرانے لایا ہوں فرمایا۔ ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ کس امر پر آپ سے بیعت ہوسکتی ہے۔ فرمایا، ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ میں نے معبد سے اس کا ذکر کیا وہ مجاشع سے عمر میں بڑے تھے۔ کہنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح فرمایا ہے۔ مجاشع سے ایک اور بات مروی ہے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے بھائی ابی معبد کے ساتھ حضور اکرم صلی ا۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن میسرۃ السلمی: اس میں کچھ شبہ ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ محمد سلامت اللہ کشفی بد ایونی قدس سرہٗ

مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی بد ایونی،بد ایوں کے مشہور صدیقی متولی خاندان کے فرد تھے، آپ کے والد شیخ برکت اللہ قادری صدیقی بد ایوں کے روسا میں تھے۔ ابتدائی تعلیم مدرسۂ عالیہ قادریہ میں پائی،مولانا ابو المعانی ابن مولانا عبد الغنی بد ایونی سے تحصیل علم کے بعد بریلی میں مولانا مجد والدین عرف مدن شاہ جہاں پوری اور حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی سے حدیث و فقہ کا درس لیا، مثنوی مولانا رومی حضرت مولانا،خطیب محمد عمران سے پڑھی، حضرت شاہ عین الحق عبد المجید بد ایونی خلیفہ حضرت شمس العارفین اچھے میاں کے ہمراہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر مرید ہوئے،اور خلافت ملی،کچھ عرصہ لکھنؤ میں رہے، مرزا قتیل سے شعرو سخن میں مشروہ کیا،کشفی تخلص کرتے تھے،کان پور میں محلہ ناچ گھر میں قیام تھا،وہیں اب حضرت کانقاہ ہے(اطراف و جوانب میں ہنود کی آبادی ہے)۱۲۸۱ھ میں ۳؍رجب کو انتقال ہوا،مولانا شاہ محمد عادل ناروی المتوفی ۱۳۲۵ھ آپ ک۔۔۔

مزید

فخر المحدث مولانا سید محمد عارف رضوی نانپاروی

شیخ الحدیث مرکز اہلسنت منظر اسلام بریلی شریف نانپارہ ضلع بہرائچ شریف کا ایک مشہور قصبہ ہے جو نیپال کی تائی سے متصل ایک چھوٹی سی اسٹیٹ کی شکل میں جاناپہچانا جاتا ہے۔ اسٹیٹ کے زمانے میں یہ قصبہ ارباب علم ودانش کی آماجگاہ اور مسکن بنارہا ہے۔ آج بھی بحمدہٖ تعالیٰ اس قصبہ اور اس کے مضافات علماء وحفاظ، قراء اور شعراء سے آباد ہے۔ نانپارہ ایک زمانے میں نوابوں کا دارالسلطنت رہ چکا ہے۔ نانپارہ کے نواب کی فرمائش پر امام احمد رضا قادری بریلوی نے ایک نعت پاک تحریر فرمائی۔ مقطع میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں؎ کروں مدح اہلِ دوَل رضاؔ پڑے اس بلا میں مری بلا میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ ناں نہیں ولادت اسی قصبہ نانپارہ کی سر زمین پر فخر المحدثین علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد عارف رضوی ۷؍مارچ ۱۹۸۳ء کو پیدا ہوئے اور وہیں ا۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد سلیمان بھاگل پوری رحمۃ اللہ

حضرت مولانا شاہ محمد اشرفی کچھوچھوی قدس سرہٗ سے جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد میں ابتدائی عربی درس نظامی کی کتابیں پڑھیں بعدہٗ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے،اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ میں حضرت صدر الشریعۃ مولانا شاہ محمد امجد علی اعظمی قدس سرہٗ اور دیگر اساتذہ سے کتب متداولہ پڑھیں،فارغ التحصیل ہوئے،جامعہ نعیمیہ مراد آ﷜باد،و،دار العلوم اشرفیہ مبارک پور اعظم گڈھ،بحر العلوم کٹیہار،جامعہ حمیدیہ بنارس میں درس دیا،۔۔۔۔۔اب اپنے وطن اگر پور ماچھی ضلع بھاگل پور میں مدرسہ اشرفیہ اظہار العلوم کے شیخ الحدیث وصدر مدرس ہیں، درس نظامی کے جملہ فنون میں مہارت ہے۔علوم عقلیہ سے خاص شغف ہے،مزاج بہت نفاست پسند اور شاہانہ پایا ہے قطب المشائخ حضرت مخدوم اشرفی میاں قدس سرہے کےمرید ہیں،ممتاز علمائے اہل سنت میں شمار کیے جاتے ہیں۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی گونڈوی

حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی گونڈوی ولادت فاضل گرامی حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی ۴؍جنوری ۱۹۴۴ء کو ننہال کے موضع جوڑیکوئیاں ضلع گونڈہ میں پیدا ہوئے جو قصبہ بچڑوا سے قریب ہے۔ ابتدائی پرورش والدین کے زیر سایہ ہوئی لیکن جب مولانا عبدالمصطفیٰ رونق کی عمر سات سال کی ہوئی تو والد ماجد کے سایہ عاطفت سےمحروم ہوگئے اور ان کی پرورش نانا نانی کے زیر سایہ ہونے لگی۔ خاندانی حالات والدین کریمین بڑے زمیندار تھے۔ مولانا رونق کا سلسلہ نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ یہی وجہ ہےکبدیقی لکھتے ہیں آپ کے جد کریم بسڈیلہ ضلع بستی سے ترک وطن کر کے پچڑ واکے رجسٹر واضلع گونڈہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ اس وقت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق کےجد مکرم ریلوے میں ملازم تھے ان دنوں آپ آبائی وطن چھوڑ کر قصبہ اترولہ ضلع گونڈہ میں مع اہل وعیال سکونت پذیر ہوئے۔ تعلیم وتربیت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق نے اپن۔۔۔

مزید