جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

قاطع نجدیت مولانا محمد حسن علی رضوی

بانی انوارِ رضا اہلسنت میلسی، پاکستان ولادت قاطع کفر و بدعت حضرت مولانا محمد حسن علی رضوی کی ولادت تقسیم ہند اور قیام پاکستان سےکچھ پیشتر ہریانہ شہر ہانسی شریف ضلع حصار نبالہ ڈویژن میں ہوئی۔ جو دہلی سے ۸۰ میل جانب مغرب میں روہتک سے کچھ آگے ہے۔ جہاں تارا گڑھ اجمیر مقدس کے بعد پر تھوی راج کا دوسرا بڑا قلعہ تھا۔جس کو سلطان اسلام شہاب الدین محمد غوری نے فتح کیا تھا۔ یہ شہر اولیاء اللہ کا مرکز و مسکن رہا ہے۔ حضرت باب فرید گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خواجہ مسعود علیہ الرحمۃ یہاں بارہ سال رونق افروز رہے۔ قلعہ پر حضرت میراں نعمت اللہ ولی شہید رضی اللہ عنہ کا مزار ہے۔ اور شہر ہانسی کے مغرب میں شمالی ہند کی عظیم درساہ چار قطب آستانہ خواجہ قطب جمال ہے۔ جو حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے اولین و محبوب ترین خلیفہ و مجاز مہر ولایت تھے۔ پاکستان آمد ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حبیب اللہ بھاگلپوری رحمۃ اللہ

ضلع بھاگل پور صوبہ بہار میں ولادت وئی،درمیات کی تکمیل جامعہ نعیمیہ مراد آباد کے اساتذہ حضرت مولانا محمد عمر نعیمی ونیرہ سے کی،حضرت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین علیہ الرحمۃ سے کسب علوم کیا،اور فخر العارفین حضرت مولانا الحاج سید شاہ محمد مختار اشرف سجادہ نشین کچھوچھہ شریف سے مرید ہوئے، تدریس کی ابتداء جامعہ نسیمیہ سے کی،اب اس کے صدر مدرس،مفتی اور روحِ رواں ہیں، ابلاغ نظر،تبحر علم میں اپنے معاصرین میں خاص مقام پایا ہے،کثرت سے جزئیات فقہ ازبریں،عمر ۵۵اور ۶۰کے درمیان ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ حامد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ

شیخ المشائخ مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ شریف کے فرزند اصغر قدوۃ الاصفیا حضرت مولانا سید شاہ مصطفیٰ اشرف مدظلہٗ العالی کے چھوٹے بیٹے، علوم اسلامیہ کے فاضل،دار العلوم اشرفیہ مبارک پور کے اساتذہ سے تکمیل درمیات کی دس برس تک وہیں درس دیا،تین سال ہوئے کہ بمبئی کے دار العلوم اہل سنّت کے صدر مدرس کی حیثیت سے بمبئی رونق افروز ہیں،والد ماجد سے بیعت واجازت حاصل ہے،اوصاف میں اپنے بزرگوں کے مظہر کامل ہیں،درس کے علاوہ اوقات طاعات وعبادات سے معمور رہتے ہیں،متواضع،خلیق ، ہمدرد خلائق ہیں،خداوند قدوس آپ کا سایہ تادیر قائم رکھے،آمین۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری علیہ الرحمۃ

شہر دربھنگہ سے دور،اتروکچھم جانب کوردنی، بھپوری وہ بستیاں ہیں، جو ایک ساتھ بولی جاتی ہیں،صاحب ترجمہ بھپورہ کے ساکن تھے،اپنی بغی کے ضرب وجوار میں فارسی عربی پڑھی،مدرسہ عالیہ رام پور سے علوم متعارفہ کی تکمیل کی، مولوی محمد طیب عرب التوفی ۱۳۲۳؁ھ، مولانا فضل حق رامپوری المتوفی ۱۹۴۰؁ھ نامور اساتذہ کی شاگردی میں کئی سال رہے،مولوی محمد شاہ محدث رام پور ی المتوفی ۱۳۲۸؁ھ سے حدیث پاک پڑھی،مدرسہ شمس العلوم بد ایوں (قائم کردہ حضرت شہید مرحوم مولانا حکیم عبد القیوم بد ایونی) اور رام پور کی عربی درسگاہ مدرسہ انوار العلوم میں مدرس اوّل رہے،جامعہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ صوبہ بہار میں مدرس ہوئے،جب مدرہ گورنمنٹ صوبہ بہار کے تحت آیا،سینیر مدرس مدرس قرار دیئے گئے،بعدہ پرسنپل کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوکر وطن میں رہے اور وہیں ۱۳۷۰؁ھ میں فوت ہوئے،ہدایہ توضیح و تلویح اور حمداللہ کا درس صوبہ بھ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ریحان حسین رام پوری علیہ الرحمۃ

حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے صاحبزادے محلہ کھاری کنواں رام پور میں ۱۳۰۰؁ھ میں پیدا ہوئے،والد کے شاگردوں مریدوں مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری،مولانا عبد الغفار خاں رام پوری وغیرہ سے کسب علوم کیا۔ ۔۔۔

مزید

معمار ملت مولانا شبیہہ القادری رضوی

پرنسپل غوث الوریٰ کالج سیوان بہار ولادت حضرت علامہ مولانا شبیہہ القادری رضوی بن محمد منظور عالم بن شتاب علی کی ولادت ان کی ننہال موضع کٹیائی ضلع مظفر پور (بہار) میں ۱۵؍جولائی ۱۹۸۳ء بروز دو شنبہ بوقت پانچ بجے صبح ہوئی۔ آپ کے دادا موضع پوکھریرا ضلع سیتا مڑھی کے اچھے زمیندار اور کم و بیش تین سوا یکڑ آراضی کے کاشتکار تھے۔ مزاج بہت مخیر تھا۔ اس لیے مساجد، عید گاہ ہیں وغیرہ علاقہ وجوار میں بنوائیں۔ مولانا شبیہہ القادری کے والد ماجد بھی اپ نے والد کے نقش قدم پر چلے اور ہمیشہ غیر جانبداری کو پیش نظر رکھا۔ آپ کٹائی سے آکر موضع پوکھریرا سیتا مڑھی میں مقیم ہوگئے۔ اس موضع میں مدرسہ نور نور الہدیٰ (جودارالعلوم منظر اسلام بریلی کی معاصر ہے) میں مولانا شبیہہ القادری کے جد امجد نے چند ایکڑ زمین بھی وقف کی تھی۔ تسمیہ خوانی غالباً پانچ سال کی عمر میں مولانا۔۔۔

مزید

حضرت مولانا رجب علی نانپاروی رحمۃ اللہ

بریلی مدرسہ منظر اسلام میں حضرت مولانا عبد العزیز خاں محدث سے تکمیل علوم کی،حضرت ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین قادری علیہ الرحمۃ سے تاریخ الفخری مسلم شریف کا درس لیا،اول الذکر سے بیعت و ارادت کا رتہ قائم کیا،متقی ،متشرع ،پاک نہاد،وعظ کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں ہیسل پور،بمبئی، بریلی میں درس و خطابت کی خدمات انجام دیں،مفتئ اعظم ہند حضرت مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا مدظلہٗ نے ۱۳۷۷؁ھ میں بمقام سبیل پور اپنے سلاسل کا مجاز کیا،تین بار حج وزیارت سے مشرف ہوچکے ہیں مسلمانوں کی تعلیمی ودینی ترقی کے پیش نظر وطن میں مرشد کے نام پر مدرسہ عزیز العلوم قائم کیا،ذاتِ رسالت پناہی سےوالہانہ وابستگی نے شاعر بنادیا ہے،جوش ومستی سے لبریز نعتیہ اشعار کہتےہیں، ‘‘ریاض عقیدت’’ ایک مختصر سا انتخاب چھپ کر شائع ہوچکا ہے،پچاس کے قریب عمر ہے،راقم سطور سے بایں فضل وکمال و بزرگی دوتانہ ومخلصانہ سلوک۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن مسعود السلمی الہزی: ان کے بھائیوں کے نام مجالد اور مجاشع تھے۔ معبد کی حدیث، مجالد کی حدیث کی طرح ہے۔ امام بخاری ان کی صحبت کے قائل ہیں۔ ابو عثمان نہدی نے مجاشع سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بعد از فتح مکہ اپنے بھائی معبد کے ساتھ حاضر ہوئے۔ مَیں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ میں اپنے بڑے بھائی معبد کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کرانے لایا ہوں فرمایا۔ ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی ہے۔ میں نے عرض کیا۔ کس امر پر آپ سے بیعت ہوسکتی ہے۔ فرمایا، ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ میں نے معبد سے اس کا ذکر کیا وہ مجاشع سے عمر میں بڑے تھے۔ کہنے لگے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح فرمایا ہے۔ مجاشع سے ایک اور بات مروی ہے کہ وہ اپنے بھائی مجالد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ وہ اپنے بھائی ابی معبد کے ساتھ حضور اکرم صلی ا۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن میسرۃ السلمی: اس میں کچھ شبہ ہے۔ ابو عمر نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ محمد سلامت اللہ کشفی بد ایونی قدس سرہٗ

مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی بد ایونی،بد ایوں کے مشہور صدیقی متولی خاندان کے فرد تھے، آپ کے والد شیخ برکت اللہ قادری صدیقی بد ایوں کے روسا میں تھے۔ ابتدائی تعلیم مدرسۂ عالیہ قادریہ میں پائی،مولانا ابو المعانی ابن مولانا عبد الغنی بد ایونی سے تحصیل علم کے بعد بریلی میں مولانا مجد والدین عرف مدن شاہ جہاں پوری اور حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی سے حدیث و فقہ کا درس لیا، مثنوی مولانا رومی حضرت مولانا،خطیب محمد عمران سے پڑھی، حضرت شاہ عین الحق عبد المجید بد ایونی خلیفہ حضرت شمس العارفین اچھے میاں کے ہمراہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر مرید ہوئے،اور خلافت ملی،کچھ عرصہ لکھنؤ میں رہے، مرزا قتیل سے شعرو سخن میں مشروہ کیا،کشفی تخلص کرتے تھے،کان پور میں محلہ ناچ گھر میں قیام تھا،وہیں اب حضرت کانقاہ ہے(اطراف و جوانب میں ہنود کی آبادی ہے)۱۲۸۱ھ میں ۳؍رجب کو انتقال ہوا،مولانا شاہ محمد عادل ناروی المتوفی ۱۳۲۵ھ آپ ک۔۔۔

مزید