قضاعی ثم قینی۔انھیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قین پرعامل بنایاتھاجب قضاعہ کے عمال مرتدہوئےتوعمروبن حکم اورامراءالقیس بن اصبع ان لوگوں میں تھے جواپنے دین پرقائم رہےان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہےاورکہاہے کہ میں ان کواس سے زیادہ نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
قضاعی ثم قینی۔انھیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے بنی قین پرعامل بنایاتھاجب قضاعہ کے عمال مرتدہوئےتوعمروبن حکم اورامراءالقیس بن اصبع ان لوگوں میں تھے جواپنے دین پرقائم رہےان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہےاورکہاہے کہ میں ان کواس سے زیادہ نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کا تذکرہ سبزکے نام میں گذرچکاہے۔ابوموسیٰ نے ان کاتذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن زید بن لوذان بن عمروبن عبدعوف بن غنم بن مالک بن نجار۔انصاری خزرجی ثم البخاری بعض لوگ ان کا نسب مالک بن جسم بن خزرج کے خاندان میں اوربعض ثعلبہ بن زید مناہ بن حبیب بن عبدحارثہ بن مالک کے خاندان سے بیان کرتےہیں ۔ان کی والد ہ قبیلۂ بنی ساعدہ کے تھیں کنیت ان کی ابوضحاک تھی سب سے پہلاغزوہ ان کا خندق تھا ۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اہل نجران پرعامل بھی بنایاتھااس وقت ان کی عمرسترہ سال کی تھی ان سے پہلے آپ خالد بن ولید کواہل نجران کے پاس بھیج چکے تھے اوروہ لوگ مسلمان ہوچکےتھے آپ نے ان لوگوں کوایک تحریر بھی بھیجی تھی جس میں فرائض اورسنن اورصدقات ودیات کابیان آپ نے کیاتھا۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اجازۃً اپنی سند ابوبکریعنی احمد بن عمرو تک پہنچاکر خبردی وہ کہتےتھے ہمیں یعقوب بن حمید نے خبر دی وہ کہتےتھےہم سے عبدالہ بن وہب نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے عمروبن حار۔۔۔
مزید
۔ابویعلیٰ موصلی نے ان کا تذکرہ عمروبن حریث مخزومی کے بعد لکھاہے اورکہاہے کہ ابو خیثمہ نے ان کو ذکرکیاہے اوران سے دوحدیثیں بھی روایت کی ہیں کہاہےکہ ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیاابویعلیٰ کہتےتھے کہ ہم سے ابن دورقی یعنی احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوعبدالرحمن نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سعید بن ایوب نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے ابوہانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عمروبن حریث نے بیان کیایہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنے خادم سے خدمت لینے میں جس قدر تخفیف کروگے اس کاثواب تمھارے ترازوئے اعمال میں ہوگا۔ابویعلیٰ کہتےتھےکہ ہم سے زہیرنے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حیوہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھے ابوہانی یعنی حمید بن ہانی خولا نے خبردی کہ انھوں نے خبردی کہ انھوں نے ابوعبدالرحمن جبلی اورعمرو ب۔۔۔
مزید
۔ابویعلیٰ موصلی نے ان کا تذکرہ عمروبن حریث مخزومی کے بعد لکھاہے اورکہاہے کہ ابو خیثمہ نے ان کو ذکرکیاہے اوران سے دوحدیثیں بھی روایت کی ہیں کہاہےکہ ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیاابویعلیٰ کہتےتھے کہ ہم سے ابن دورقی یعنی احمد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے ابوعبدالرحمن نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سعید بن ایوب نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھ سے ابوہانی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عمروبن حریث نے بیان کیایہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اپنے خادم سے خدمت لینے میں جس قدر تخفیف کروگے اس کاثواب تمھارے ترازوئے اعمال میں ہوگا۔ابویعلیٰ کہتےتھےکہ ہم سے زہیرنے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حیوہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے مجھے ابوہانی یعنی حمید بن ہانی خولا نے خبردی کہ انھوں نے خبردی کہ انھوں نے ابوعبدالرحمن جبلی اورعمرو ب۔۔۔
مزید
زبیدی۔ابن اسحاق نے کہاہے کہ یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اسلام لاچکے تھے۔جب قبیلۂ زبید کے لوگوں نے اسلام سے مرتد ہوجانے کا ارادہ کیا توانھوں نے بہت اچھا کام کیاان لوگوں کو ارتداد سے منع کیااوراسلام پر قائم رہنے کی ترغیب دی۔عمروبن فحیل انہی کا نام ہے۔یہ ابن دباغ کاقول تھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبدشمس ۔بعض لوگ ان کوعمروبن سمرہ اقطع کہتےہیں۔یہ ابن مندہ کا قول ہے اور انھوں نے عمروبن ثعلبہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ عمروبن سمرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں حاضرہوئے اورعرض کیا کہ یارسول اللہ میں نے چوری کی ہے یہ حدیث پوری ہم ثعلبہ کے نام میں ذکرکرچکے ہیں۔بعض لوگ ان کا نام عمروبن ابی حبیب اوربعض عمروبن جندب بیان کرتے ہیں۔ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ان کو حسن بن سفیان نے ذکرکیاہے صفوان بن عمرو نے ابورواحہ سے انھوں نے عمروبن حبیب سے روایت کی ہے کہ انھوں نے سعید بن عمروسے کہاکہ کیاتم نہیں جانتے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ بندہ نامراد ہے جس کے دل میں اللہ نے بشرپر رحمت نہ رکھی ہو۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ہمیشہ بن حارث بن امیہ بن معاویہ بن مالک۔غزوہ احد میں یہ اوران کے بھائی عبداللہ بن حارث شریک تھے ان دونوں بھائیوں کے اولادنہ تھی۔ان کا تذکرہ عدوی نے واقدی سے نقل کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن کندہ بن عمروبن ثعلبہ۔انصاری۔بیعت عقبہ ثانیہ میں شریک تھے۔یہ ابن اسحاق کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید