جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا عکرمہ ابن ابی جہل رضی اللہ عنہ

   بن ہشام بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمربن مخزوم قریشی مخزومی۔ان کی والدہ ام مجالد خاندان بنی ہلال بن عامرکی ایک خاتون تھیں ابوجہل کانام عمروتھااورکنیت اس کی ابوالحکم تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اورمسلمانوں اس کوابوجہل کہناشروع کیا اس طرح یہی کنیت اس کی مشہور ہوئی اوراس کانام عکرمہ اورپہلی کنیت ابوعثمان تھی فتح مکہ کےتھوڑے ہی دنوں بعد اسلام لےآئے تھے۔زمانہ جاہلیت میں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت دشمن تھےاورجو شخص اپنے باپ کے مثل ہواس کو لوگ برانہیں کہتے۔یہ بڑے مشہورشہسوارتھے جب رسول خدا صلی اللہ  علیہ وسلم نے مکہ کو فتح کیاتویہ وہاں سےبھاگ گئے اوریمن میں جارہےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ کی طرف چلے توآپ نے عکرمہ کے قتل کاحکم دیااوران کے ساتھ اوربھی چندلوگوں کاحکم دیاہمیں ابوالفضل فقیہ مخزومی نے اپنی سندابویعلی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوبکر بن ش۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن وقاص رضی اللہ عنہ

   لیثی۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھے جیساکہ واقدی نے ذکرکیاہےیہ ابوعمرکاکلام تھااورابن مندہ نے کہاہے کہ ان سے ان کے بیٹے عمرونے روایت کی ہے کہ یہ کہتےتھے میں غزوہ خندق میں شریک تھااوراس وفد میں تھاجورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیاتھا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔اورابونعیم نے کہاہے کہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہےاورحاکم ابواحمد اورنیزاورلوگوں نے ان کوتابعین میں ذکرکیاہے ان کی وفات بعہد عبدالملک بن  مروان مدینہ میں ہوئی۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن  نضلہ رضی اللہ عنہ

   بن عبدالرحمٰن بن علقمہ ۔کنانی اوربعض لوگ ان کو کندی کہتے ہیں ۔مکہ میں رہتےتھے عثمان بن ابی سلیمان نے علقمہ بن نضلہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اورابوبکروعمرکی وفات ہوگئی اورمکہ کی زمین اس وقت تک وقف سمجھی جاتی تھی جومحتاج ہوتاتھا وہاں رہتاتھااور جب اس کی احتیاج دفع ہوجاتی تھی کسی دوسرے کو اپنی جگہ ٹھہرادیتاتھا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے اورابن مندہ نے کہاہے کہ ان کاتذکرہ صحابہ میں کیاگیاہے مگریہ تابعین میں ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن ناجیہ رضی اللہ عنہ

   بن حارث بن کلثوم خزاعی ثم المصطلقے۔مدینہ کے رہنے والےتھےمگرپھربادیہ میں سکونت اختیارکرلی تھی ہمیں یحییٰ  بن ابی الرجاء نے اجازۃاپنی سندکے ساتھ احمد بن عمروبن ضحاک سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سےیعقوب بن حمید نے عیسیٰ بن حضرمی بن کلثوم بن علقمہ بن ناجیہ بن حارث خزاعی سے انھوں نے اپنے داداعلقمہ سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کوہمارے مال کی زکوۃ کی تحصیل کرنےکے لیے بھیجا وہ گئے اورہمارے قریب پہنچ کر واپس آگئے ہم بھی ان کے پیچھے ہی چل دئیےاوراپنی کچھ زکوۃ بھی ساتھ لے لی ولید ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے اورانھوں نے (جھوٹ) کہدیا کہ یارسول اللہ میں جہاں گیاتھا وہ ایسے لوگ تھے کہ وہ اسی جاہلیت کی حالت میں باقی ہیں لڑنے کے لیے تیارہوگئےتھےاورزکوۃ ان لوگوں نے نہیں دی اس بات کوسن کر رسول خدا صلی اللہ ع۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن مجزز رضی اللہ عنہ

   بن اعوربن جعدہ بن معاذ بن عثوارہ بن عمروبن مدبح کنانی مدبحی۔ان کونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی لشکر کا سردارمقررکیاتھااورعبداللہ حذافہ سہمی کو کسی سریہ (یعنی چھوٹے لشکر) کا سرداربنایاتھا۔ان کی طبیعت میں کچھ مذاق تھا ایک مرتبہ انھوں نے خوب آگ دہکائی بعد اس کے اپنے ساتھیوں سے کہاکہ کیا میری اطاعت تم پر واجب نہیں لوگوں نے کہاہاں واجب ہے پس انھوں نے کہااس آگ میں کود پڑو ایک شخص کھڑاہواچاہتاتھا کہ آگ میں کودے یہ ہنسنے لگےاورکہاکہ میں توصرف مذاق کرتاتھا۔یہ خبرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کوپہنچی آپ نے فرمایاکہ خبردارہوجاؤ جب تمھارے سرداراس قسم کی بات کریں تواللہ کی معصیت میں ان کی فرماں برداری مت کرو۔حضرت عمربن خطاب نے ان علقمہ کو لشکرکاسرداربناکرحبش کی طرف بھیجاتھایہ سب لشکر وہاں ہلاک ہوگیا توعلقمہ عذری نےان کا مرثیہ ان اشعارمیں کہاتھا۔ ۱؎ ان السلام و حسن کل تحیتہ   &n۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن فغوا رضی اللہ عنہ

  ۔بعض لوگ ان  کوابن فغواکہتےہیں فغوا بیٹے تھے عبیدبن عمروبن مازن بن عدی بن عمروبن ربیعہ کے خزاعی تھے۔صحابی تھے۔مدینہ منورہ میں رہتےتھے۔عمروبن فعوا کے بھائی تھے ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مال دےکرابوسفیان بن حرب کے پاس بھیجاتھاتاکہ وہ اس مال کو فقرا میں تقسیم کردیں غزوۂ تبوک میں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رہنماتھے۔ابوبکربن محمد بن عمروبن حزم نے عبداللہ بن علقمہ بن فغواسے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کے لیے بیٹھے ہوتے تواگرہم آپ سے کچھ بات کرتے تو آپ جواب نہ دیتےاوراگرہم سلام کرتے توبھی اس کا جواب نہ دیتے یہاں تک کہ پھراپنے گھر تشریف لے جاکروضوکرتے توہم لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم آپ سے بات کرتے ہیں تو آپ جواب نہیں دیتے اوراگرہم سلام کرتے ہیں توبھی جواب نہیں دیے پس یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ یاایہاالذین ا۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن علاثہ رضی اللہ عنہ

   بن عوف بن احوص بن جعفربن کلاب بن ربیعہ بن عامربن صعصعہ عامری کلابی۔قبیلہ بنی ربیعہ بن عامرکے بزرگ لوگوں میں تھے مولفتہ القلوب سے تھے۔اپنی قوم میں سردارتھے حلیم تھے عقلمندتھے مگربخشش چاہیے ان میں نہ تھی یہی ہیں جنھوں نے عامربن طفیل بن مالک بن جعفر بن کلاب سے مخالفت کی تھی اوران کے سامنے اپنی فخریہ باتیں بیان کی تھیں یہ دونوں کلابی تھے قصہ ان کا مشہورہےجب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے لوٹے توعلقمہ مرتدہوکر شام چلے گئےپھرآپ کی وفات کے فوراًبعد یہ اپنے قبیلہ میں آئے اورلشکرجمع کیاپس حضرت ابوبکرنے لشکر ان کی طرف روانہ کیااس لشکرنے علقمہ سے شکست کھائی مسلمان ان کے گھرکے لوگوں پکڑ کر حضرت ابوبکرکی خدمت میں لےگئےان لوگوں نے کہاہم علقمہ کی طرح مرتدنہیں ہوئےتھے اور حضرت ابوبکر کو ان لوگوں کی طرف سے کوئی بات خلاف معلوم بھی نہ ہوئی تھی پس حضرت ابوبکر نے ان سب کوچھوڑدیابعداس کے علق۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن طلحہ رضی اللہ عنہ

 بن ابی طلحہ۔علقمہ بن طلحہ ان کے بھائی کا نام بھی تھا۔ان کانسب اوپر بیان ہو چکاہے۔یہ اسلام لائےتھے اورصحابی تھے یرموک کی لڑائی میں شہیدہوئے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن طلحہ رضی اللہ عنہ

 بن ابی طلحہ۔علقمہ بن طلحہ ان کے بھائی کا نام بھی تھا۔ان کانسب اوپر بیان ہو چکاہے۔یہ اسلام لائےتھے اورصحابی تھے یرموک کی لڑائی میں شہیدہوئے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا علقمہ ابن سمی رضی اللہ عنہ

   خولانی۔صحابی ہیں۔فتح مصرمیں شریک تھے۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔یہ ابن یونس کا قول ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید