جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

سیّدنا عرابہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

   کے والدتھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے ان کی سندوں میں ان کا ذکر ہے اوراس سے زیادہ ان کی نسبت اورکچھ نہیں بیان ہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرابہ ابن شماغ رضی اللہ عنہ

   جہنی ہیں ۔یہ اس تحریرمیں گواہ تھے جس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے علاء بن حضرمی کے لیے بحرین بھیجنے کے وقت لکھدی تھی۔اس کودباغ نےاس میں ذکرکیاہے کہ جس میں ابوعمر پر استدراک کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عرابہ رضی اللہ عنہ

  ابن اوس بن قنیطی بن عمروبن زید بن جشم بن حارثہ بن حارث بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس انصاری اوسی پھرحارثی ہیں ان کے والداوس بن قنیطی ان منافقوں کے سرداروں میں سے تھے جو کہتےتھے کہ ان بیوتناعورۃ۱؎اور ابن اسحاق نےذکرکیاہےکہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کواحد میں بوجہ کم سنی کے چنداورلوگوں کے ہمراہ جن میں ابن عمراوربراء بن عازب بھی تھے واپس کردیاتھایہ عرابہ اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھےبڑے سخی تھے سخاوت میں عبداللہ بن جعفر اورقیس بن سعد بن عبادہ کے مقابل سمجھے جاتے تھے۔ابن قتیبہ اورمبردنےذکرکیاہے کہ (ایک مرتبہ)عرابہ نے شماخ شاعرکودیکھاوہ مدینہ جارہاتھااس سےپوچھاکہ مدینہ کیوں جاتے ہو اس نے کہااپنے گھروالوں کے واسطے غلّہ لینے جاتاہوں اس کے ساتھ دواونٹ تھے پس انھوں نے چھوہارےاورگیہوں سے ان کوبھردیااوراس کوکپڑے پہنادیےاوراس کی بڑی عزت کی پس وہ مدینہ سے (اپنے مکان)چلاگیااوران کی اپنےاس۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن ہمام رضی اللہ عنہ

   بن مرہ بن حجر بن عدی بن ربیعہ بن معاویہ بن حارث اصغربن معاویہ کندی ہیں ابوعائذ ان کی کنیت تھی یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد ہوکرآئےتھے اس کوابن دباغ نے ابن کلبی سے نقل کیاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن نوفل رضی اللہ عنہ

   بن اسدبن عبدالعزی بن قصی اسدی قریشی ہیں یہ نوفل کے دونوں بیٹوں ورقہ اورصفوان کے بھائی تھے ان کی والدہ آمنہ بنت جابربن سفیان تابط شرافہمی کی بہن تھیں اس زبیر نے بیان کیاہے عدی فتح مکہ میں اسلام لائےتھےپھرحضرت عمروعثمان رضی اللہ عنہما کی طرف سے حضرموت کے عامل رہےام عبداللہ بنت ابی بختری بن ہشام ان کی زوجہ تھیں عدی ان کوبرابر لکھ لکھ بھیجتے تھےکہ تم میرے پاس چلی آؤمگروہ نہ آتی تھیں بلآخرعدی نےان کویہ شعرلکھ بھیجا  ؎ ۱؎ اذاماام عبداللہ لم تحمل بوادیہ                                       ولم تمس قریباً ہیج الشوق وداعیہ توام عبداللہ سے ان کے بھائی اسودبن ابی بختری نے کہاکہ تمھارے چچازادبھائی۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   اسی طرح ابن اسحاق اورواقدی نے کہاہےاورابن کلبی نے کہاہے کہ ابن نضیلہ اور یہ نضیلہ بن عبدالعزی بن حرثان بن عوف بن عبید بن عویج بن کعب قریشی عدوی ہیں اورعدی کی والدہ مسعود بن حذافہ بن سعد بن سہم کی بیٹی تھیں انھوں نےاورانکےبیٹے نعمان نے حبش کی طرف ہجرت کی تھی اوروہیں یہ عدی ابن نضلہ نے وفات پائی یہ اسلام میں اول مورث ہیں کہ ان کے بیٹے نعمان نے ان کی میراث پائی۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن مرہ رضی اللہ عنہ

   بن سراقہ بن خباب بن عدی بن جدبن عجلان بلوی ہیں جوانصارعمروبن عوف کی اولاد سے تھے یہ ان کے حلیف تھے اورخیبرکے واقعہ میں شہیدہوئے ان کے سینہ میں برچھاماردیاگیاتھا اسی کے صدمہ سے مرگئے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن قیس سہمی رضی اللہ عنہ

   ہیں یہ بھی مولفتہ القلوب میں سے تھے علی بن مبارک نے محمدبن ابی کثیر سے روایت کی ہےکہ وہ انہیں میں سےتھےمولفتہ القلوب تیرہ آدمی تھےآٹھ قریشی اورانھیں میں عدی بن قیس سہمی کوبھی بیان کیاابوعمرنے کہاہے کہ یہ معروف نہیں ہیں۔ان کا تذکرہ ابوعمراور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (ااسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن فروہ رضی اللہ عنہ

   ان کاتذکرہ ابوعمرنےلکھاہے اور(یہ بھی)کہاہے کہ ان کی نسبت کہاجاتاہے کہ یہ عدی بن عمیرہ بن فروہ بن زرارہ ابن ارقم کندی ہیں کوفی الاصل تھےاوروہیں ان کا مسکن تھامگرحران چلے گئےتھے بعض نےکہاہے کہ یہ وہی پہلےشخص ہیں یعنی عدی بن عمیرہ کندی ہیں یہ اکثرلوگوں کے نزدیک عمربن عبدالعزیز کے مصاحب تھے اس بخاری نے کہاہے اوربخاری کے علاوہ لوگوں نے بخاری کی مخالفت کی ہے اوران کوعدی بن عمیرہ کندی کہاہےاوربعض کے نزدیک یہ پہلے شخص نہیں ہیں اوراحمدبن زبیرنے کہاہےکہ یہ نہ توعمیرکے بیٹے ہیں نہ فروہ کے اوران کے والد کوتیسرا شخص کہاہے اور ان سے ایک شخص نے روایت کی ہے جس کولوگ عرس کہتے تھے رجاء بن حیوۃ نے عدی بن عدی بن عدی بن عمیرہ بن فروہ سےانھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔واقدی نے کہاہے کہ عدی بن عمیرہ بن زرارہ نے ۴۰ھ؁ ہجری میں بمقام کوفہ وفات پائی۔ان کو میں پہلاہی عدی خیال کرتاہوں واللہ اعلم۔ میں کہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عدی ابن عمیرہ رضی اللہ عنہ

   یہ عرس بن عمیرہ کندی کے بھائی تھےان سے ان کے بیٹے عدی بن عدی بن عمیرہ نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعورت کے معاملات مخفی ہوتے ہیں نیبہ عورت لواپنی رضامندی یانارضامندی بیان کردے مگربکرکی رضا اس کاخاموش ہوناہے۔اورسلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے ابوزبیرسے انھوں نے عدی بن عدی سے انھوں نے اپنے والد سےروایت کی ہے کہ دوشخص رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس ایک زمین کی بابت جھگڑتے ہوئے حاضرہوئے اورآپ سے ایک نے عرض کیا کہ وہ زمین میری ہےاوردوسرے نے کہاوہ میری زمین ہے اوراس نے اس کو غصب کرلیاہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس کے ہاتھ میں زمین ہے وہ قسم کھائےجب لوگوں نے اس شخص کوحلف لینے کے واسطے کھڑاکیاتوآپ نے اس سے فرمایاکہ خبرداررہوجس نے مرد مسلمان کے مال(تلف کرنے)پرقسم کھائی وہ(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کواپنے اوپرغصہ کرتے ہوئے دیکھےگا۔اس نے ک۔۔۔

مزید