اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

سیّدنا عتبہ ابن عویم رضی اللہ عنہ

   بن ساعدہ انصاری ہیں انشاء  اللہ تعالیٰ ان کانسب ان کے والد کے تذکرے میں بیان کیاجائےگاابن ابی داؤد نےکہاہے کہ یہ درخت کے نیچے بیعت الرضوان میں شریک تھے اور اس کے بعد تمام مشاہد میں شریک رہے عبدالرحمن بن سالم بن عبدالرحمن بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ نے اپنے والد سےانھوں نے اپنے داداعتبہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اللہ تعالیٰ نے میرے لئے(جو)اصحاب بنائے ہیں انکوتمام عالم سے)منتخب کرکے تجویزکیاہے اوران صحابہ کومیراانصاراوروزیربنادیاہے جس شخص نے ان کوبراکہااس پر اللہ اورتمام فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

  بن صالح بن ذبحان رعینی پھرذبحانی ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اورفتح مصر کے واقعہ میں شریک تھے اس کوابن ماکولانے ابن یونس سے نقل کرکے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عمرو رضی اللہ عنہ

   بن جروہ بن عدی بن عامر بن عدی بن کعب بن خزرج انصاری ہیں یہ غزوۂ احد میں شریک تھےان کی کوئی اولاد نہ تھی اس کوابن دباغ نے عدوی سے نقل کرکے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عبدسلمی رضی اللہ عنہ

   ہیں۔ان کی کنیت ابوالولید تھی اورنام عتلہ تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ نام رکھا یہ حمص میں رہتے تھے ان کی حدیث شریح بن عبیداورلقمان بن عامراورکثیربن مرہ حضرمی اور خالد بن معدان اورعبداللہ بن ناشج اورعقیل بن درک اورحبیب بن عبدالرحبی اور راشد بن سعد وغیرہم سے مروی ہے اسماعیل بن عیاش نے ضمضم بن زوحہ سے انھوں نے شریح بن عبیدسے روایت کی ہے کہ عتبہ بن عبدسلمی نے بیان کیا کہ جب کوئی شخص ان کی خدمت میں  حاضرہوتااوراس کانام پسند نہ آتاتوآپ اس نام کوبدل دیاکرتے تھے اورہم بھی آپ کے پاس حاضرہوئے ہم سات شخص (آئے)تھےقبیلہ بنی سلیم کے ہم میں سے بڑے عرباض بن ساریہ تھے ہم سب نے آپ سے بیعت کی ہم کوابویاسر بن ہبتہ اللہ نے اپنی سندکے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حکم بن نافع نے ب۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عبدشمالی رضی اللہ عنہ

     ان کی (روایت کردہ)حدیث یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایااگرمیں اس بات پرقسم کھالوں تووہ بہت سچی ہوگی کہ میری امت سے پہلے جو لوگ جنت میں داخل ہوں گے وہ پورے بیس بھی نہ ہوں گے منجملہ ان کے ابراہیم اوراسمعیل اوراسحاق اوریعقوب اور بارہ اسباط اور موسیٰ اور عیسیٰ اورمریم بنت عمران علیہم السلام ہوں گے ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اوربیان کیاہے کہ میں نے یعقوب بن سفیان کی تاریخ میں اسی طرح پایاہے اورصحیح عبداللہ بن عبد ہے ہم ان کا ذکرکرچکے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

   اسماعیلی نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے اسماعیل بن عیاش نے حسن بن ایوب سے انھوں نے عبداللہ بن ناشج سے انھوں نے عتبہ بن عبداللہ سے نقل کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کادوشخصوں کے پاس جوباہم ایک بکری کی خرید وفروخت کررہے تھے گذرہوا اورآپس میں دونوں قسمیں کھارہے تھےپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ قسم برکت کودورکرتی ہے۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورشاید یہ وہ عتبہ ہیں جن کا ذکر اس بیان کے بعدآئےگااور وہ عتبہ بن عبدسلمی ہیں ابونعیم نے ان کے بیان میں ذکرکیاہے کہ عبداللہ بن ناشج ان سے روایت کرتے ہیں بعض راویوں نے ان کے والد کوعبداللہ اوربعض نے عبدکہاہے اس قسم کااختلاف راویوں میں بہت ہواکرتاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

   بن صخربن خنسابن سنان بن عبیدبن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ انصاری خزرجی سلمی ہیں یہ بیعت عقبہ اورغزوہ ٔ بدرمیں شریک تھے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے مگرابوموسیٰ نے کہاکہ ان کا نسب اس طرح ہے عتبہ بن عبداللہ بن عبیدبن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ پھرخنساکی اولادسے ہیں غزوۂ بدرمیں شریک تھے اس کوابوموسیٰ نے ابن اسحاق سے روایت کر کے نقل توکیاہے۔مگران کے نسب میں صخر اورخنساء اورسنان تین پشتوں تک ساقط کردیااور کہا کہ خنساکی اولادسے ہیں لیکن بنی خنساء کونسب میں نہیں ذکرکیاہے تاکہ سمجھاجاتا کہ یہ نسب کیوں کر ہے میں ان کا نسب صحت کے ساتھ پہلے ہی ذکرکرچکاہوں واللہ اعلم اورجوابن اسحاق  نے بیان کیاہے وہ وہی ہیں جوہم  سےعبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سندسے یونس بن بکیرتک پہنچاکر ابن اسحاق سے ان لوگوں کے نام جوغزوۂ بدرمیں شریک تھے روایت کی ہے کہ  بین عبیدبن عدی بن غنم ب۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن عائذ رضی اللہ عنہ

  ۔ان کو ابن شاہین نے بیان کرکے کہاہے کہ اگرابن عائذہیں (توخیر)ورنہ یہ ابن عبدہیں کیوں کہ حدیثیں دونوں کی روایت کردہ  ایک ہیں خالدبن معدان نے عتبہ بن عائذسے روایت کی ہے ۔اوراسی طرح ابن عائذ ہی بیان کیاہے یہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اورکہتے تھے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جس شخص نے فجراورعشاء کی نمازجماعت کے ساتھ پڑھی اس کوحج اورعمرہ کرنے والے کاثواب ملے گا۔اس کوابوعامر الہانی نے ابوامامہ اورعتبہ بن عبید سے روایتک کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن طویع رضی اللہ عنہ

  ۔مازنی ہیں۔ان کا ذکرصحابہ میں کیاتوگیاہے مگرصحابی ہوناثابت نہیں ہے ان سے ابن جریج نے یزیدبن عبداللہ بن سفیان سے انھوں نے عتبہ بن طویع مازنی سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااے غلاموں کے گروہ تم میں شریروہ ہیں جو عرب (کی عورتوں)سے نکاح کرےاوراے عرب تم میں وہ شخص بدہےجوکہ غلاموں میں نکاح کرے جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ کلام سناتوآپ سے ایک غلام کی نسبت جس نے انصارکی عورت سے نکاح کرلیاتھا عرض کیاگیاآپ نے فرمایاکہ وہ عورت راضی ہے۔لوگوں نے کہا ہاں راضی ہے پس آپ نے اس کو روا رکھاان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن سالم رضی اللہ عنہ

   بن حرملہ عدوی تھے صحابی ہیں ان کومستغفری نے بیان کیاہے اوراس سے زیادہ کچھ نہیں لکھا ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید