ہفتہ , 01 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 18 April,2026

سیّدنا عمرو ابن یثربی رضی اللہ عنہ

  ۔ضمری حجازی خبث الجمیش میں جوسیف البحر کا علاقہ ہے رہتےتھے۔فتح مکہ کے سال اسلام لائےتھےاورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہوئےتھےاورآپ سے احادیث کی کی روایت کہ ہے۔ہمیں ابویاسربن ابی حبہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے خبر دی وہ کہتےتھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہمیں ابوعامر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے عبدالملک یعنی ابن حسن حارثی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن بن ابی سعید نے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے عمارہ بن جاریہ ضمری سے سنا وہ کہتےتھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ منیٰ میں سناآپ کے خطبہ میں ایک مضمون یہ بھی تھاکہ کسی مسلمان کودوسرے مسلمان کا مال حلال نہیں ہے مگرجو وہ اپنی خوشی سے دے دے یہ کہتےتھےجب میں نے اس کو سناتومیں نے کہاکہ یا رسول اللہ بتائیےاگرمیں اپنے چچازاد بھائی کی بکریوں میں سے کوئی بکری لے لوں تو مجھ پر کیاہوگا آپ نے ۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن وہب رضی اللہ عنہ

   ثقفی۔ہم ان کا تذکرہ سعدسلمی کے نام میں کرچکے ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ

  ابن واثلہ۔کنیت ان کی ابوالطفیل تھی۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ اسی طرح لکھاہے مبار ک بن فضالہ نے کثیر یعنی ابومحمدکوفی سے انھوں نے عمروبن واثلہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےایک مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ دندان مبارک کھل گئے پھرآپ نے فرمایاکہ تم لوگ مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں کیوں ہنسا سب نے عرض کیاکہ اللہ اوراس کے رسول کو خوب علم ہے آپ نے فرمایااس وقت مجھے اس بات پر ہنسی آئی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ زنجیروں میں باندھ کرکشاں  کشاں جنت  کی طرف لائے جاتے ہیں اوروہ خودآنا نہیں چاہتےصحابہ نے عرض کیاکہ یارسول اللہ یہ کیابات ہےآپ نے فرمایاعجم کے کچھ قومیں ہوں گی جن کو مہاجرین قید کرکے اسلام میں داخل کریں گے وہ خوداسلام میں داخل ہونانہ چاہتے ہوں گے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن ہرم رضی اللہ عنہ

   بیان کیاگیاہے کہ یہ بھی ان لوگوں میں تھےجن کے حق میں آیہ کریمہتولوواعینہم تفیض من الدمعنازل ہوئی تھی۔ان کا تذکرہ اوپرکرچکے ہیں۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو رضی اللہ عنہ

  لقب ان کا ذوالنورتھا۔طفیل دوسی کے بیٹےہیں ۔موسیٰ بن سہل برمکی  نے ان کانسب بیان کیاہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک مرتبہ دعادی تھی تو ان کے کوڑے میں روشنی  پیداہوگئی تھی۔ واقعہ یرموک میں شہید ہوئےان کو لوگ ذوالنورکہتےتھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے اورابونعیم نے کہاہے کہ ان کے والد طفیل کے کوڑے میں روشنی پیداہوگئی تھی ہم اس کو بیان کرچکے ہیں اوران کے بیٹے عمروکے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن یغمان رضی اللہ عنہ

   ان سے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے روایت کی ہے۔ ان کاتذکرہ ابوعمرنے اسی طرح مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن نعمان رضی اللہ عنہ

   بن مقرن۔مازنی۔اوربعض لوگ ان کو نعمان بن عمروکہتے ہیں یہ ابن مندہ اورابونعیم کا قول ہے۔ان کی حدیث بکربن خلف نے علاء بن عبدالجبار سے انھوں نے عبدالواحد ابن زیاد سے انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابوخالدوالبی سے انھوں نے عمروبن نعمان سے روایت کی ہےکہ بکرنامی صحابی بیان کرتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا گذرایک مرتبہ انصارکی ایک مجلس میں ہواانصارمیں ایک شخص تھےجن کی نسبت مشہورتھاکہ وہ لوگوں کی بدگوئی کیاکرتے ہیں ان سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مسلمان کی بدگوئی فسق ہے اوراس سے لڑناکفر تواس انصاری نے عرض کیاکہ واللہ اب میں کسی کی بدگوئی کبھی نہ کروں گا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے ابوعمر نے کہاہےکہ  عمروبن نعمان صحابی ہیں اوران کے والداجلہ صحابہ میں سے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن نعمان رضی اللہ عنہ

   بن مقرن۔مازنی۔اوربعض لوگ ان کو نعمان بن عمروکہتے ہیں یہ ابن مندہ اورابونعیم کا قول ہے۔ان کی حدیث بکربن خلف نے علاء بن عبدالجبار سے انھوں نے عبدالواحد ابن زیاد سے انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابوخالدوالبی سے انھوں نے عمروبن نعمان سے روایت کی ہےکہ بکرنامی صحابی بیان کرتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا گذرایک مرتبہ انصارکی ایک مجلس میں ہواانصارمیں ایک شخص تھےجن کی نسبت مشہورتھاکہ وہ لوگوں کی بدگوئی کیاکرتے ہیں ان سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ مسلمان کی بدگوئی فسق ہے اوراس سے لڑناکفر تواس انصاری نے عرض کیاکہ واللہ اب میں کسی کی بدگوئی کبھی نہ کروں گا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے ابوعمر نے کہاہےکہ  عمروبن نعمان صحابی ہیں اوران کے والداجلہ صحابہ میں سے تھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   ان کے نام میں اختلاف ہے معاذ بن رفاعہ نے ابوعبیدہ حاجب سے انھوں نےعمروبن نضلہ سے روایت کی ہے مگرصحیح یہ ہے کہ اوزاعی نے ابوعبیدہ سے جو سلیمان بن عبدالملک کے دربان سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصراً لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن نضلہ رضی اللہ عنہ

   ان کے نام میں اختلاف ہے معاذ بن رفاعہ نے ابوعبیدہ حاجب سے انھوں نےعمروبن نضلہ سے روایت کی ہے مگرصحیح یہ ہے کہ اوزاعی نے ابوعبیدہ سے جو سلیمان بن عبدالملک کے دربان سے انھوں نے عبیدبن نضلہ سے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصراً لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید