بدھ , 10 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 21 October,2026

زرنوجی

برہان الاسلام زرنوجی: بڑے عالم فاضل،فقیہ محدث،جامع معقولات و منقولات تھے۔فقہ وغیرہ برہان الدین مر غینانی صاحب ہدایہ اور حماد بن ابراہیم صفار اور امام زادہ چوغی سے حاس کی اور کتاب تعلیم المتعلم نہایت نفیس و مفید قلیل الحجم کثیر المنافع تصنیف کی حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

رکن الدین خوارزمی

رکن الدین والجبانی خوارزمی: امام جلیل القدر کثیر العلم،معرفت اصول دینیہ میں او حد زمانہ اور مذہب و خلاف میں مجتہد یگانہ تھے۔نجم الدین حکیمی شاگرد فخر الدین حسن قاضی خان سے تفقہ کیا ور آپ سے نجم الدین مختار زاہدی صاحب قنیہ نے فقہ کو حاصل کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

شیخ الاسلام حناطی

شیخ الاسلام سدید بن محمد حنافی: علاؤ الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام کبیر اور فقہ و کلام یں رئیس بے نظیر تھے۔علم نجم المشائخ علی بن محمد عمر انی تلمیذ زمخشری سے حاصل کیا اور آپ سے ابو یعقوب یوسف سکاکی اور حسین بن محمد بارعی نے تفقہ کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

امام شمس الدین فرضی

محمود بن ابی بکر ابو العلاء[1]بن علی کلا باذی بخاری: شمس الدین فرضی لقب تھا۔۶۴۴؁ھ میں شہر بخارا کے محلہ کلا باذ میں پیدا ہوئے۔اپنے زمانہ کے امام محدث، متقن،فقیہ،صالح،فرضی،عارف رجال حدیث،جم الفضائل،ملیح الکتابت،واسع الرحلۃ،جبر فاخر،بحر ذاخر علوم عقیلہ و نقلیہ تھے۔آپ کے مشائخ سات سو سے کچھ اوپر تھے جن میں سے حافظ الدین کبیر محمد اور حمید الدین علی ضریر اور صدر الدین محمد خلاطی اور صدر الدین سلیمان بن وہب وغیرہ ہیں،حدیث کو ایک جماعت محدثین خراسان و بخارا و بغداد و دمشق و مصر وغیرہ سے سُنا اور اپنے ہاتھ سے بکثرت لکھا اور معجم کا مسودہ کیا۔فرائض کو نجم الدین عمر احمد کاخشتوانی سے پڑھا اور یہاں تک اس علم میں مہارت پیدا کی کہ لقب سے مشہور ہوکر فرائض میں امام وراس ہوئے اور مختصر سراجی کی شرح ضوء السراج نام نہایت نفیس مشتمل برذکرادلّۂ مذاہب مختلفہ تصنیف کی جو آپ کے  تجر علمی پر ایک دلیل ساطع ا۔۔۔

مزید

محمد بن سلیمان دمشقی

محمد سلیمان بن وہب ‎[1]بن ابی العزدمشقی: شمس الدین لقب تھا۔علم خلاف کے عالم فاضل اور فروع و اصول کے جامع تھے۔علم اپنے باپ شاگرد حصیری تلمیذ قاضی خان سے پڑھا اور دمشق میں تیس سال سے زیادہ مفتی رہے۔بعد ازاں وہاں کے قاضی مقرر ہوئے یہاں تک کہ ۶۹۹؁ھ میں وفا ت پائی۔   1۔ محمد بن سلیمان ابن ابی المعزوہیب’’جواہر المضیۃ‘‘  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

حسن بن احمد رازی

حسن بن احمد بن حسن بن انوشر وان رازی: ۶۳۱؁ھ میں پیدا ہوئے۔ اپنے وقت کے امام کامل،علامۂ اضل،مفروع واصول میں سر آمد اور حدیث و تفسیر میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔حسام الدین کے لقب سے ملقب اور قاضی القضاۃ کے خطاب سے پکارے جاتے تھے۔۶۷۵؁ھ کو دمشق میں تشریف لائے اور یہاں بیس برس تک قاضی رہے،پھر مصر میں گئے اور وہاں چار سال تک دار القضاء کے متولی رہےاور ۶۹۹؁ھ میں تا تار کی لڑائی میں فوت ہوئے۔’’تجلیٔ نور‘‘ تاریخ وفا ت ہے۔ حدائق الحنفیہ  ۔۔۔

مزید

احمد حصیری

احمد بن جمال الدین ابی المحامد محمود بن احمد بن عبد السعید بن عثمان‎[1] بن نصر عبد الملک بخاری المعروف با لحصیری: بخارا میں ماہ رجب ۵۴۶؁ھ میں پیدا ہوئے۔ نظام الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام فاضل،فقیہ اجل تھے یہاں تک کہ حنفیوں میں سے آپ کے وقت میں کوئی آپ سے ہمسری نہ کر سکتا تھا۔فقہ اجل تھے یہاں تک کہ حنفیوں میں سے آپ کے وقت میں کوئی آپ سے ہمسری نہ کر سکتا تھا۔فقہ اپنے باپ جمال الدین محمود حصیری سے پڑھی۔مدت تک مدرسہ نوریہ میں تدریس پر رہے اور ۶۹۸؁ھ کو دمشق میں وفا ت پائی۔’’علامۂ محدث‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ احمد بن جمال الدین ابی المھامد محمود بن احمد بن عبد السید بن عثمان ہمام الدین لقب ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

احمد بعلبکی

احمد بن علی بن ثعلب بعلبکی: مظفر الدین لقب تھا مگر ابن ساعاقی کےنام سے اس لیےمشہور تھےکہ  آپ کے والد ماجد علی بن ثعلب علم ہئیت اور نجوم اور عمل ساعات میں بڑے ماہر باہر اور یگانۂ زمانہ تھے۔آپ شہر بعلبک میںجود دمشق سے بارہ فرسنگ کے فاصلہ پر ہے،پیدا ہوئے ور بغدد میں نشونما پایا اور کمال اکے رتبہ کو پہنچ کر علوم شرعیہ میں امام زمانہ اور فروع و اصول میں حافظ،متقن،اہل ثقاہت ہوئے چنانچہ مشائخ زمانہ نے اس بات پر اقرار کیا کہ آپ جو انمروی کے میدان کے شہسور گذرے ہیں۔شمس الدین اصفہانی شافعی شارح کتاب محصول آپ کو ابن حاجب پر فضیلت دیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ ابن حاجب سے بہت ذکی ہیں،یہاں تک کہ لوگ ذکاء اور فصاحت و خوشخطی میں آپ سے تمثیل دیا کرتے تھے۔           علوم آپ نے تاج الدین علی بن سنجر تلمیذظہیر الدین  محمد مصنف فتاویٰ ظہیریہ شاگرد حسن ق۔۔۔

مزید

عبدالوہاب

عبدالوہاب بن احمد بن سحنون الخطیب: مجد الدین لقب تھا۔فضلاء حنفیہ میں سے عالم ماہر،فاضل بارع،ادیب کامل،شاعر بے مثل،خطیب نیرب تھے۔ مدت تک مدرسہ دماغیہ کے مدرس رہے اور پچھتر سال کی عمر میں ۶۹۴؁ھ میں وفات پائی۔’’بلند درجات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید

محمد بخاری

محمد بن محمد بن نصر بخاری: ابو الفضل کنیت،حافظ الدین کبیر لقب تھا۔ بخارا میں ۶۱۵؁ھ میں پیدا ہوئے۔اپنے زمانہ کے امام فاضل،عالم ربانی،زاہد عابد، فقیہ محدث،ثقہ متقن،حافظ،مفصر،محقق،مدقق جامع انواع علوم و فنون تھے۔علوم فقہ وغیرہ حسام الدین حسین سغناقی اور شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری اوراحمد بن اسعد خریفعنی اور عبد العزیز بن احمد بخاری اور محمد بن بخاری اور شمس الدین محمود کلا باذی فرضی سے پڑھے اور حدیث کو شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری اور ابی الفضل عبید اللہ محبوبی سے سنا اور روایت کیا۔آپ سے حدیث کو ابی العلاء بخاری نے سنا اور اپنی معجم شیوخ میں آپ کا ذکر کیا۔وفات آپ کی بخارا میں نصف شعبان ۶۹۳؁ھ میں واقع ہوئی اور کلا باذ میں اپنے باپ کے پاس متصل امام ابی بکر طرخان کے دفن کیے گئے۔’’آرائش عالم‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔

مزید