ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شاہ فیروز مجذوب قدس سرہ

  آپ الہ آباد کے مجذوب تھے جس پر دم کرتے تندرست ہوجاتا اکثر اوقات ننگا پھرتے، ضروریات زندگی کے لیے جانوروں اور چار پاؤں سے اپنی خوراک حاصل کرلیا کرتے، آپ  کے زمانے میں ایک بھٹیا رن جو کہ فاحشہ عورت تھی نے آپ کو حالت جذب میں دیکھا تو کہنے لگی، میاں فیروز انسان چار پاؤں سے بہتر ہے، اگر تم کو کوئی ضرورت ہو تو میں موجود ہوں، چار پاؤں کے پاس کیوں جاتے ہو آپ نے فرمایا: اچھا تم برسر بازار ننگی ہوجاؤ، میں بھی یہاں ہی ننگا ہوجاتا ہوں کہنے لگی بھلے آدمی یہ بازار ہے شارع عام ہے، ایک گوشے میں چلے جائیں تو اچھا ہے یہ بات سن کر فیروز میاں جوش میں آگئے کہنے لگے، مکار عورت! فیروز تو اپنے آپ کو عام لوگوں کے سامنے رسوا کرنا چاہتا ہے اور تم اللہ کے سامنے رسوا ہونا چاہتی ہو اور لوگوں کا احترام کرتی ہو، دفعہ دفان ہوجاؤ۔ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شاہ  وفا مجذوب قدس سرہ

  معارج الولایت میں لکھا ہے کہ آپ پٹہ میں رہتے تھے حالت  قوی کے مالک تھے جو بھی آپ کے پاس جاتا اس سے قبل کہ وہ اپنا مطلب بیان کرتا آپ اس کا جواب عنایت فرمادیا کرتے ایک بار پٹنہ کے لوگوں سے ناراض ہوگئے جلال میں آکر ایک پھونک مار دی پٹنہ شہر میں آگ بھڑک اٹھی۔ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شاہ مرتضیٰ مجذوب قدس سرہ

  بنگالی میں بمقام راج محل رہا کرتے تھے، صاحب تصرفات صحیحہ اور کشف صددیہ کے مالک تھے، شراب پیتے اور عارفانہ اشعار کہتے، سماع اور وجد میں پورا غلو کرتے، شاہ نعمت اللہ بنگالی سے جو اپنے وقت کے صاحب تسخیر ملوک اور امرا تھے، دشمنی رکھتے تھے اور انہیں برا بھلا کہتے رہتے اور کہا کرتے یہ طالب مولیٰ نہیں شاہ نعمت اللہ فرماتے ہیں کہ ایک دن مرتضیٰ مجذوب ہمارے گھر آگئے گھر کے اندر ایک پلنگ بچھا ہوا تھا، آپ اس پر جا بیٹھے اور کہنے لگے برا نہ منانا لوگ اپنے شکاری کتے کو بھی اپنی چار پائی پر بٹھالیتے ہیں، یہ بات ان کی انکساری کی علامت تھی کہ اپنے آپ کو کتے سے تشبیہ دے دی۔ معارج الولایت کے مولف نے آپ کی بہت سی کرامات لکھی ہیں، بسا اوقات راج محل کے تالاب میں غوطہ زن ہوتے کئی کئی روز پانی میں غرق رہتے، راجہ محل سے غوطہ مارا ہوا  کئی دن کے بعد دوسرے مقامات سے سرمایہ نکالتے، اگرچہ صاحب معارج الولای۔۔۔

مزید

جیتی شاہ مجذوب کشمیری قدس سرہ

  اپنے زمانے کے کامل مجذوبوں میں سے تھے کشف و کرامات میں ایک علامت تھے جو شخص بھی آپ کی خدمت میں آتا، ما فی الضمیر سے واقف ہوجاتا اگرچہ دیوانہ وار باتیں کرتے مگر سننے والے اپنا مطلوب و مقصود پالیتے، آپ شیخ مخدوم حمزہ کشمیری کے زمانے میں اور بابا داود خای قدس سرہ کی مجلس میں آیا کرتے تھے یہ دونوں بزرگ جیسی شاہ پر بہت شفقت فرمایا کرتے تھے، مسائل طریقت و حقیقت کی تکرار فرماتے دونوں بزرگ کبھی کبھی وقت نکال کر اس مجذوب کی تلاش میں نکلتے جہاں کہیں پاتے بیٹھ جاتے اور گفتگو کیا کرتے تھے تواریخ اعظمی کے مولف نے آپ کی وفات ۹۸۱ھ لکھی ہے، آپ نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل ہی اپنی موت کے بارے میں فرمادیا تھا۔ جو بھی آپ کے پاس آتا فرماتے تمہارا دوست جیتی شاہ فلاں تاریخ کو فوت ہوگا، آپ کا مقبرہ کشمیر شیخ ہروی ریشی کشمیری کے مزار کے پاس ہے۔ شیخ جیتی شاہ مجذوب خدا وصل پاکش مست عشق ہونجواں ۹۸۱ھ &nbs۔۔۔

مزید

شیخ یوسف مجذوب قدس سرہ

  لاہور میں قیام پذیر تھے، بڑے بلند قامت جسیم، مہیب شکل اور توانا تھے، بہت بڑی پگڑی زیب سر رکھتے تھے، صاحب کشف جلی اور اشراق باطن تھے۔ شیخ قطب العالم فرماتے ہیں میں نے ایک بار شیخ یوسف کو لاہور کی منڈی میں کھڑے پایا، بڑی عارفانہ اور پُراسرار گفتگو فرما رہے تھے مجھے دیکھا تو بڑی راز دارانہ باتیں کرنے لگے ایسی باتیں ظاہر کیں جو علام الغیوب ہی جانتا تھا۔ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

میاں مونگر مجذوب﷫

  لاہور میں قیام پذیر تھے وقت کے مجاذیب میں سے تھے۔ جذبہ قومی کے مالک تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتےہیں کہ ہم ایک بار لاہور گئے شیخ حسن بودلہ سے ہمیں بہت انس تھا، وہ بھی ہمارے ساتھ ہی تھے، ایک دن میاں مونگر بھی ہماری مجلس میں آپہنچے ان کی نگاہیں شیخ حسن بودلہ پر پڑیں فرمانے لگے تم یہاں کیوں آئے ہو تمہیں ان حضرات سے کیا واسطہ ہے، شیخ حسن اسی وقت مجلس سے بھاگ گئے اس دن کے بعد کسی نے انہیں لاہور میں نہیں دیکھا دہلی دروازے تک دوڑتے نظر آئے۔ آپ کی وفات ۹۸۰ھ میں ہوئی۔ جناب شیخ مونگر عاشق مست چو سالِ ارتحالش جست سرور   چودر خلد معلیٰ یافت توفیق عیاں شد از معلیٰ پیر تحقیق (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

مفتی محمد مشرف احمد رضوی

حضرت علامہ مفتی محمد مشرف احمد رضوی مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ولادت اور تعلیم حضرت مولانا مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمۃ دہلی میں پیدا ہوئے، حفظ قرآن اور تجوید وقرأت کی تکمیل کے بعد ۱۳۵۱ھ؍۱۹۲۳ء میں مدرسہ عالیہ مسجد جامع فتحپوری دہلی سے علوم عقلیہ و نقلیہ میں سند تکمیل حاصل کی، اس کے ساتھ ساتھ فن طب میں سند حاصل کی، اورمہارت تامہ پیدا کی ابتدا میں کچھ عرصہ دہلی میں رہے اور مسجد جامع فتحپوری میں نائب مفتی کے فرائض انجام دیتے رہے۔ پھر قصبہ نوح میں گورنمنٹ ہائی اسکول میں استاد ودینیات مقرر ہوگئے۔ چند سال یہاں گزار کر پھر دہلی تشریف لے آئے اور یہاں مسجد شیخان (باڑہ ہند وراؤ) میں خطیب مقرر ہوئے۔ سالہا سال فرائض خطاب اور امامت انجام دیتے رہے اس کے علاوہ مطب بھی فرماتے۔ علم وفضل مفتی محمد مشرف احمد علیہ الرحمہ فن قرأت، حف قرآن کریم، علوم عربیہ، بالتخصیص فقہ اسلامی پر کمال رکھتے تھے اور اپنی م۔۔۔

مزید

بابا کہور مجذوب قدس سر

ہ آپ کا اسم گرامی عبدالغفور تھا ، آپ کا وطن کالپی تھا ابتدائی عمر میں راہ سلوک پر بڑی ریاضتیں کیں، لوگوں کو پانی پلاتے تھے، رات کے وقت غریبوں کے گھروں میں جاتے اور ان کے برتن پانی سے بھر دیا کرتے تھے، آخر کار جذبۂ حقیقی نے انہیں مجذوب بنادیا، گوالیار میں آئے آپ پر فتوحات کے دروازے کھل گئے عام طور پر حالت استغراق میں رہتے تھے جب حالتِ عام میں آتے تو چنوں کے چند دانے کھالیتے لباس صرف اتنا ہی پہنتے جس سے ستر عورت ہو ، لوگ آپ کی خدمت میں بڑے عمدہ اور نفیس کپڑے لایا کرتے تھے، تو آپ ان سے لے کر غریبوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے، بعض اوقات پوست کے پتے کھاتے،  آپ کا سلسلہ روحانیت شاہ مدار سے ملتا تھا، آپ بسا اوقات غیب کے اسرار سے آگاہ کردیا کرتے تھے۔ اخبار الاخیار میں آپ کی وفات ۹۷۹ھ میں لکھی ہے ایک تذکرہ نگار نے لفظ کہور مجذوب (۹۷۹ھ) سے تاریخ  وفات نکالی ہے۔ رفت از دنیا چو در خلد بریں۔۔۔

مزید

شیخ سلیمان بن عفان المندوی

  طالبان حق کی تربیت اور ارشاد میں مصروف رہتے تھے۔ اذکار و عبادات میں مصروف تھے۔ دنیا کا بڑا سفر کیا اور بڑی نعمتیں حاصل کیں۔ آپ کو تسخیر ارواح اور تصرفات اجسام میں کمال حاصل تھا۔ اس تصرّف کی وجہ سے ماضی کے پوشیدہ اسرار اور مستقبل کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آپ قرآن پاک کی تجوید میں فریدالدّھر تھے ۔ آپ کو حضورﷺ کی بارگاہ میں قرآن سنانے کا شرف حاصل تھا۔ حضرت عبدالقدوس گنگوہی﷫ جو فرد زمانہ تھے آپ کو قرآن سناتے اور ایک عرصہ تک آپ کی خانقاہ میں قیام پذیر رہے۔ آپ کی وفات چودہ (۱۴) محرم الحرام کی رات ۹۴۴ھ میں ہوئی۔ آپ کا مقبرہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار اوشی کے مزار کے عقب میں ہے۔ سلیمان ولی ہادی متقی شود سالِ ترحیل آن شاۂِ دین   سفر کرد چوں از جہاں درجنان ز شاہ ولایت سلیماں عیاں ۹۴۴ھ (خزینۃ الاصفیاء) ابن عفان مندوی دہلوی کے فرزند ارجمند تھ۔۔۔

مزید

بابن مجذوب قدس سرہ

  آپ اجمیر شریف میں رہا کرتے تھے، حضرت  خواجہ  خواجگان معین الدین اجمیری کی درگاہ کے دروازے پر پڑے رہتے تھے بڑے مقامات اور تصرفات کے مالک تھے، حضرت حمزہ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ میں ابتدائے عمر میں اجمیر شریف گیا، میں نے بابن مجذوب کو دیکھا میں کٹار اور دوسرا اسلحہ بدن سے لگائے کھڑا تھا بابن مجذوب نے مجھے پکڑ لیا اور کہا یہ کیا ہے؟  میں نے بتایا کہ یہ ہتھیار ہیں، انہیں اپنے پاس رکھنا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے میرے پاس دو کنگھیاں بھی تھیں، دونوں لے کر دور پھینک دیں، اور ایک کنگھی اپنی طرف سے مجھے دی، میں نے دیکھا کہ اسی وقت میرے سر کے بال مونڈھ گئے اور میں بالوں سے محروم ہوگیا، اسی وقت یہ خبر آئی مجھے شیخ احمد مجدد نے دی کہ قاضی کریم الدین کا بیٹا تارک الدنیا ہوکر اجمیر شریف آیا ہوا ہے مجھے اپنے گھر لے گئے مجلس میں دیکھا کہ بابن مجذوب بھی موجود ہیں، کھاان کھانے لگے تو ۔۔۔

مزید