آپ سید حاجی عبدالوہاب بخاری قدس سرہ کے فرزند ارجمند ہیں، جن کا ذکر خیر خانوادۂ سہروردیہ میں گزرا ہے، آپ اکثر کامل سُکر اور حالت مستی میں رہتے تھے، جن دنوں تعلیم حاصل کرتے تھے اپنے ہم شعبوں سے التماس کرتے کہ انہیں سبق یاد کرائیں، اور فرمایا کرتے تم نے تو ساری عمر پڑھتے رہنا ہے مجھے اور کام بھی کرنے ہیں، اللہ ہی جانتا ہے کہ میرا کیا حال ہونا ہے، چنانچہ آپ نے مروجہ علوم اور متداولہ کتب پر عبور حاصل کرلیا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے جذبہ و مستی سے سرشار کرلیا اور آپ مجذوب ہوگئے۔ ایک دفعہ آپ کے گھر پر روٹیاں پکائی جا رہی تھیں توا سخت گرم تھا، آپ باہر سے آئے دونوں پاؤں توے پر رکھ لیے مگر آپ کو کچھ نہ ہوا، اور کسی قسم کی سوزش پاؤں پر نہ آئی۔ ایک دن اپنے بزرگوں کے مزارات کی زیارت کو گئے فاتحہ کے بعد کہنے لگے اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا تو میں بھی کل تک آپ لوگوں کے پاس سوؤں گا، گھر ۔۔۔
مزید
آپ دہلی کے اکابر کی اولاد میں سے تھے، وہ فطری اور پیدائشی طور پر مجذوب تھے، آپ کے اوضاع و اطوار عام دنیا کے لوگوں سے مختلف تھے، عجیب و غریب شکل و صورت تھی، بسا اوقات ننگے پھرا کرتے، لوگ جو کچھ دیتے قوالوں کو بخش دیتے یا دوسرے حاضرین پر نچھاور کردیتے، وقت کے ایک شیخ نے آپ کو خواب میں دیکھا کہ آپ بارگاۂ رسالت میں حاضر ہیں، اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرانے کی خدمت میں مشغول ہیں، بعض حاجی مکہ مکرمہ سے واپس آتے تو دہلی آکر کہتے امسال ہم نے شیخ حسن بودلہ کو حج کے موقعہ پر دیکھا ہے۔ اخبار الاخیار میں آپ کا سالِ وفات ۹۶۴ھ لکھا ہے، اور مزار دہلی میں ہے۔ چو رفت از دہر دنیا متصل شد عجب تاریخ وصل جلوہ گرشد بوصل حق حسن محبوب احسن ز محبوبِ الٰہ مجذوب احسن ۹۶۴ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
آپ کو شیخ علاول بلاول بھی کہا جاتا ہے کشف حال اور دلوں کے اسرار سے واقف تھے، آپ کی خدمت میں جو بھی آتا اس کی دلی کیفیت آپ پر عیاں ہوتی ابتدائی زندگی سامانہ میں گزار دی، پھر دہلی میں چلے آئے طالب علموں کے پاس رہا کرتے جذبۂ حقیقی کا زور ہوا تو اکبرآباد چلے گئے ایک عرصہ تک مجرد رہے، ایک عرصہ کے بعد آپ سے کرامات کا ظہور ہونے لگا تو مخلوق خدا آپ کے ارد گرد منڈلانے لگی، آپ بھی ضرورت مندوں کی طرف توجہ فرمایا کرتے تھے بے اولاد لوگ آپ کی دعا سے صاحب اولاد ہوجاتے تھے۔ اخبار الاخیار کے مؤلف نے لکھا ہے کہ میرے چچا زرق اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک بار میرا ایک بیٹا گم ہوا، مجھے بڑا صدمہ ہوا میں اس کے غم میں نڈھال ہوگیا، میں نے سوچا اس غم سے بچنے کے لیے یا تو صدقہ کروں یا قرآن کی تلاوت کرتا رہوں، اسمائے الٰہیہ کا ورد کرتا رہوں، اسی دوران مجھے شیخ علاء الدین مجذوب کے پاس جانے کا اتفاق ہ۔۔۔
مزید
ہندوستان کی سر زمین میں یہ مجذوب صاحب کرامات جلیلہ ہوئے ہیں کشف کی دولت میسر تھی، ہمایوں بادشاہ گجرات پہنچے تو ایک درباری کو آپ کی خدمت میں بھیجا تاکہ دربار میں تشریف لائیں اس درباری کے پاس تیروں کا ایک ترکش تھا، آپ نے ایک تیر نکالا اس کا سرا کاٹ کر پھر ترکش میں رکھ دیا وہ شخص بادشاہ کی خدمت میں آیا اور صورت حال بیان کی، ہمایوں نے کہا مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مہم فتح نہ ہوگی اور ہمیں بے سر و سامانی کے عالم میں واپس جانا ہوگا تاہم ہماری جان بچ جائے گی کیونکہ شاہ منصور نے ہمارے تیر کو ترکش میں رکھ دیا تھا۔ شیخ سیّد عبدالوہاب قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ شاہ منصور مجذوب نے شاہ بکہاری کے وضو کا باقی ماندہ پانی پیا تھا، اس دن سے مجذوب ہوگئے، آپ کی وفات ۹۴۷ھ میں ہوئی تھی۔ شاہ منصور شد چو از دنیا گفت تاریخ رحلتش سرور گشت باوصل ایز دی موصول شاہ منصور عابد مقبول ۹۴۷ھ ۔۔۔
مزید
آہ اہل حال میں سے تھے، اور صاحب تصوف بھی تھے، آپ غیر مسلم تھے دامن اسلام میں جگہ ملی، حضرت شیخ علاء الدین اجودہنی قدس سرہ کی جو حضرت فریدالدین گنج شکر قدس سرہ کے پوتے تھے۔ خدمت میں رہتے عشق و مستی میں مجذوب ہوگئے، ساری عمر اپنے پیرو مرشد کی خدمت میں گزار دی، آپ کی عادت تھی کہ بعض اوقات کئی کئی ہفتے کھانا نہ کھاتے اور پانی نہ پیتے لیکن جب کھانے پر آتے تو کئی کئی آدمیوں کا کھانا بیک وقت کھاجاتے اور پوری مشک پانی پی جاتے، ایک بار آپ چونے کے ایک ڈھیر پر بیٹھے تھے، اور چونا کھانے لگے، لوگوں نے پوچھا سو بہن کیا کھا رہے ہو، کہنے لگے کیا کروں یہ بدبخت نفس ہمیشہ کھانے کی خواہش کرتا ہے آج اسے چونے کی مار ماروں گا۔ آپ کی وفات صاحب شجرہ چشتیہ نے ۷۲۸ھ لکھی ہے۔ شیخ سوبہن صاحب جذب الٰہ شد چودر فردوس از ہاتف عیاں بود بر چرخ یقین بدر الکمال بس حبیب جاذب آمد ارتحال ۷۲۸ھ (حدائق الا۔۔۔
مزید
یہ مجذوب ہانسی (ہندوستان) میں رہا کرتے تھے، یہ وہی زمانہ تھا، جب حضرت گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ بھی ہانسی میں قیام پذیر تھے، میں سر ننگا بسا اوقات حضرت گنج شکر کی مجلس میں آکر بیٹھتے حضور بھی آپ سے بے حد محبت کرتے، حضرت گنج شکر کے خلیفہ حضرت خواجہ خطب الدین بختیار اوشی قدس سرہ دہلی میں تشریف لائے اور سجادہ مشیخیت پر جلوہ فرما ہوئے، تو میاں سر ننگا مجذوب بھی دہلی میں آگئے حضرت نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد تشریف لاتے تو راستے میں میں سر ننگا مجذوب دوڑے دوڑے آتے اور آپ کی قدم بوسی کرتے اور رونا شروع کردیتے اور کہا کرتے کہ ہانسی میں مجھے آپ کی صحبت میسر ہوتی تھی، مگر دہلی میں آکر ہجوم خلق کی وجہ سے اس نعمت سے محروم ہوگیا ہوں، آپ اُس کی باتیں سنتے تو بڑے مغموم ہوتے، اُسے تسلی دیتے ایک بار آپ نماز جمعہ سے فارغ ہوئے اور سر ننگا کو ساتھ لے کر ہانسی چلے گئے اس سفر کے بعد ہانسی میں میاں ۔۔۔
مزید
آپ حضرت میاں میر قادری لاہوری قدس سرہ کی ہمشیرہ تھیں، آپ عارفات و کاملات میں سے تھیں، ترک و تجرید میں رابعہ وقت تھیں، طریقہ فقر و سلوک اپنے بھائی، اپنی والدہ اور اپنی دادی سے حاصل کیا تھا، آپ سے بے شمار کرامتیں اور خوارق ظاہر ہوئی ہیں۔ سفینہ الاولیاء کے مولف جناب داراہ شکوہ فرماتے ہیں کہ ایک بار آپ نے دو سیر غلط اپنے ہاتھ سے ایک برتن میں ڈالا، آپ کا معمول تھا کہ ہر روز ضرورت کے مطابق اسی برتن سے غلہ نکالتیں، رشتہ داروں سائلوں اور فقیروں کو تقسیم کرتی رہیں، یہ سلسلہ ایک سال تک جاری رہا، کسی نے دیکھ لیا، تو یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ ایک دن کسی عقیدت مند نے مچھلی کا شکار کرکے بی بی جمال کی خدمت میں پیش کی، آپ اس وقت تشریف فرما تھیں، مچھلی پر نگاہ ڈالی تو نور کی ایک کرن نمودار ہوئی، فرمانے لگیں، یہ بڑی بابرکت مچھلی ہے، اسے محفوظ کرلو کہتے ہیں ایک عرصہ تک وہ مچھلی آپ کے حوض میں محفوظ رہی، اس۔۔۔
مزید
حضرت میراں محمد شاہ موج دریا بخاری لاہوری قدس سرہ کی زوجہ محترمہ تھیں، اور سیدی صفی الدین کی والدہ مکرمہ تھیں، آپ سادات گیلانیہ میں سے تھیں، آپ کے والد کا اسم گرامی سید عبدالقادر ثالث بن سید عبدالوہاب بن سید محمد بالا پیر گیلانی تھا، آپ نہایت ہی بزرگ عابدہ، زاہدہ اور متقیہ تھیں، آپ صاحب کرامت و خوارق تھیںِ، شرافت و نجابت وراثت میں ملی تھی، بی بی کلاں (بڑی بی بی صاحبہ) کے نام سے شہرت رکھتی تھیں۔ ایک بار آپ اپنے گھر میں تھیں، آپ کی چادر مبارک کسی وجہ سے مشکو ہوگئی، جسے دھو کر آپ نے دھوپ میں ڈالا تاکہ خشک ہوجائے چونکہ عصر کا وقت تھا، سورج کی دھوپ صرف آپ کے صحن کےا س درخت کے ایک کونے پر پڑ رہی تھی جو گھر کے ایک گوشے میں تھا آپ درخت کے پاس آکر کہنے لگیں میں تو تمہاری شاخوں پر چادر ڈالنا چاہتی ہوں، مگر تمہاری شاخیں تو بہت اونچی ہیں، فوراً درخت نے اپنا سر جھکا دیا، آپ نے ۔۔۔
مزید
آپ خطۂ کشمیر بے نظیر کی عارفہ کاملہ تھیں، آپ بی بی ملالی کے نام سے شہرت رکھتی تھیں، کشف القلوب اور کشف قبور میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں، خوارق و کرامت میں اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی، آپ کے والدین نے سلطان رنجو شاہ کے ساتھ اسلام قبول کیا تھا اور حضرت بل بل شاہ کشمیری جنہوں نے وادیٔ کشمیر میں اسلام پھیلایا تھا کی خدمت میں حاضر ہوئیں بی بی لَل بھی اپنے والدین کے ساتھ ہی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس وقت آپ کی عمر نو سال تھی، حضرت بل بل شاہ نے آپ کو اپنی بیٹی بنالیا، اور بڑی نظرِ شفقت رکھتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ لَلَ بی بی عارفہ کاملہ ہوں گی، آپ جوان ہوئیں تو والدین نے آپ کی شادی ایک ایسے شخص سے کی جو آپ کے مقام اور عرفان سے ناواقف تھا، بی بی لَلہ ظاہر میں گھر کا کام کاج کرتیں مگر رات بھر یاد خداوندی میں مشغول رہتیں دن کے وقت کام کے دوران میں یاد خداوندی سے غافل نہ ہوئ۔۔۔
مزید
آپ اپنے وقت کی صالحات میں سے تھیں، دہلی میں سکونت رکھتی تھیں صاحب الاخبار الاخیار نے لکھا ہے کہ آپ چالیس دن تک اپنے حجرے میں رہتیں، اسی دوران اپنے ساتھ چالیس کھجوریں رکھ لیتیں، چالیس دن مکمل ہوتے تو کھجوریں تمام کی تمام موجود ہوتیں۔ سلطان محمد تغلق آپ کا عقیدت مند تھا، آپ کی وفات ۶۵۵ھ میں ہوئی۔ رفت از دنیا چو در خلد بریں ارتحال او چو جستم از خرد عارفہ والا ولیہ اولیاء مستقیہ گشت از رضوان ندا ۶۵۵ھ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید