ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ ابوالحسین دراج رحمۃ اللہ علیہ

  بغداد کے رہنے والے تھے، حضرت ابراہیم خواص رحمۃ اللہ علیہ سے فرقہ خلافت پایا تھا سماع اور وجد کے دلدادہ تھے۔ مجلس سماع میں بیٹھتے تو بے خود ہوجاتے ایک دن سماع کے دوران آہ کھینچی اور واصل بحق ہوگئے، آپ کا وصال ۳۲۰ھ میں ہوا۔ احسن الخلق بو الحسین ولی رحلتش ہادی مکرم واں   رفت چوں زین جہاں بخلد بریں ہم بخواں بوالحسین محی الدین ۳۲۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسن وراق رحمۃ اللہ علیہ

  آپ کا اسم گرامی محمد عبداللہ بن سعد ہے، آپ قدما اور کبار مشائخ میں سے تھے حضرت عثمان حدی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے آپ کی وفات ۳۱۹ھ میں ہوئی۔ بوالحسن آں رہبر دنیا و دین حق نما دین ولی سالش بگو ۳۱۹   ور مشائخ بود شمع انجمن نیر عبداللہ ہادی بو الحسن ۳۱۹ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ محمد بن فضل قدس سرہ

آپ کی کنیت ابوعبیدہ تھی، بلخ کے رہنے والے تھے، شیخ احمد خضرویہ کے مرید تھے، آپ نے بلخ میں ایسی باتیں کیں کہ لوگ آپ کے گرویدہ ہوگئے مگر بعض متعصب حاسدوں نے آپ کو شہر سے نکال دیا، شہر سے باہر جاکر آپ نے مڑ کر شہر کو دیکھا اور اہل شہر پر لعنت کہی کچھ عرصہ کے بعد بہت سے شہری وباء کا شکار ہوگئے وہاں سے سمر قند پہنچے اور اپنی لیاقت اور قابلیت سے قاضی شہر مقرر ہوئے اس کے بعد حج کرلیا اور واپسی پر نیشا پور قیام پذیر ہوئے وہاں وعظ و نصیحت کی مسند بچھائی، اور ۳۱۹ھ میں فوت ہوئے، آپ کا مزار سمرقند میں بنایا گیا۔ چوں محمد جناب  ابن فضل یار حق گفت دل بر حلت او   یافت با قرب حق کمال وصال پیشوا نیز گفت مہر جمال ۳۱۹ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ عیسی مغربی

حضرت شیخ عیسی مغربی﷫۔۔۔

مزید

قاضی القضاۃ احمد بن حسن انقروی

احمد بن حسن بن احمد بن حسن انقروی: ۶۵۱؁ھ میں پیداہوئے،ابو المفاخر کنیت جلال الدین لقب اور قاضی القضاۃ خطاب تھا اور شہر انقرہ میں جو روم کے شہروں میں سے ایک شہر ہے،رہنے والے تھے۔فقہ اپنے باپ سے پڑھی،جامع کبیر اور زیادات کی شرح کو جو عتابی نے تصنیف کی ہے،فخر الدین عثمان بن مصطفیٰ ماردینی اور فرائض ابی العلاء کو شمس الدین محمود فرضی سے پڑھا۔قطب نے تاریخ مصر میں لکھا ہے کہ آپ جامع فضائل اور سخی اور ذی مرور اور حسن المعاشرت اور محب اہلِ علم تھے۔             جب سترہ سال کے ہوئے تودمشق کی قضاء آپ کے سپرد کی گئی جہاں آپ نے تدریس بھی کی،۷۳۰؁ھ میں مصر میں تشریف لائے،جب بیمار ہوتے تو کہتے کہ مجھ کو خواب میں آنحضرتﷺنے فرمایا ہے کہ توبڑی عمر کا ہوگا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ مارے بڑھاپے کے کوزہ پشت ہو گئے اور ۷۹۱؁ھ میں ایک سو بیالیس سال کی عمر میں و۔۔۔

مزید

شیخ ابو محمد جریدی قدس سرہ

  تذکرہ نگاروں نے آپ کے مختلف نام لکھے ہیں، احمد بن محمد بن حسین، حسین بن محمد اور عبداللہ بن یحییٰ تھا، حضرت جنید بغدادی﷫ کے خلفاء کبار میں سے تھے، حضرت جنید بغدادی کی وفات کے بعد آپ ہی ان کے مسند ارشاد پر بیٹھے آپ فقہ تصوف اور علم اصول کے امام تھے حضرت شیخ سہیل تستری  رحمۃ اللہ علیہ سے خاص اُنس رکھتے تھے۔ ایک دفعہ سارا سال مکہ مکرمہ میں قیام فرما  ہوئے ازرۂ ادب نہ تو پاؤں پھیلائے نہ دیوار سے سہارا لیا، اور نہ سوئے۔ صاحب نفحات الانس نے آپ کی وفات ۳۱۲ھ میں لکھی ہے ایک تذکرہ نگار نے ۳۱۴ھ لکھی ہے، سفینۃ الاولیاء میں ۳۱۴ھ درج ہے، ہماری تحقیق میں بھی ۳۱۴ھ ہی صحیح ہے۔ آپ جنگ قرامطہ میں شریک تھے اور تشنگی کے غلبہ سے جاں بحق ہوئے۔ بو محمد شیخ پیر دستگیر بو محمد پیر تاریخش بگو ۳۱۴   یافت از عالم چوں حق اتصال ہم بخواں زندہ دلی سالک کمال ۳۱۴ھ۔۳۱۴ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

علامہ مسعود تفتزانی

حضرت علامہ مسعود تفتزانی﷫ مسعود بن عمر بن عبداللہ تفتازانی: سعد الدین لقب تھا۔ ۷۲۲؁ھ شہر تفتازان واقع خراسان میں پیدا ہوئے۔علوم قطب اور عضد سے اخذ کیے یہاں تک کہ امامِ اجل،علامہ،فاضل،صرف ونحو معانی بیان کے عالم ماہر اور اصول مذہب و منطق وغیرہ کے عارف اکمل،استاذ علی الاطلاق،مشہور آفاق ہوئے۔مدت تک آپ امیر تیمور کی مجلس میں صدر الصدوررہے۔کفوی نے کہا ہے کہ آنکھوں نے آپ جیسا اعلام و اعیان میں کوئی نہیں دیکھا یہاں تک کہ سیّد شریف مبادی تالیف اور اثناء تصنیف میں آپ کے بحار تحقیق و تحریر میں غوطےمارتے تھے اور تدقیق و تسطیر کے موتی چُنتے اور آپ کی شان، جلالت و فضیلت کی تعریف کرتے تھے لیکن جب آپ کا اور سید شریف کا تیمور کی مجلس میں مباحچہ و منظرہ ہوا تو پھر باہم اتفاق ائم نہ رہا اور سید شریف آپ کے اقوال کی تردید میں ملتزم ہوئے۔بعض نے آپ کو حنفی المزہب اور بعض نے شافعی قرار دیا  ہے مگر اس میں ک۔۔۔

مزید

شیخ ابو محمد نصر

حضرت شیخ ابو محمد بن ابی نصر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

مولانا عبدالقادر بن مولانا ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ

  عالم و عامل، فقیہہ کامل تھے علمِ حدیث و تفسیر میں بڑے معروف تھے، آپ نے تفسیر فتح الرحمان کے نام سے قرآن پاک کا اُردو (ہندی) ترجمہ بڑی فصاحت و بلاغت سے کیا تھا یہ تفسیر اُردو کی ابتدائی تفسیروں میں سے ہے جو بہت مقبول و محبوب خاص و عام ہوئی۔ آپ کی وفات ۲۴۲ھ میں ہوئی۔ جناب عبد قادر آنکہ علمش ولی منظور گو سال وصالش ۱۲۴۲ھ   چومہ روشن شد از مہ تابہ ماہی دوبارہ جوز منظور الٰہی ۱۲۴۲ھ   (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ سلطان بالا دین اویسی قدس سرہ

  آپ خواجہ صالح محمد بن خواجہ عبدالخالق اویسی کے خلیفہ خاص تھے حضرت خواجہ محکم الدین اویسی قدس سرہ سے بھی فیض پایا تھا، اپنے والد کی وفات کے بعد مسند ارشاد پر جلوہ فرما ہوئے اور ایک عرصہ تک خلق خدا کو ہدایت کرتے رہے۔ آپ کی وفات ۱۲۴۱ھ میں بتاریخ چہارم جمادی الثانی کو ہوئی تھی شعرا میں سے ایک نے آپ کی وفات پر مصرع لکھا تھا        ؎ آہ خالا خلق بے سلطان شد ۱۲۴۱ھ آپ کے فرزند ارجمند شیخ شہاب الدین سجادہ نشین اور شیخ غلام اویس تاہنوز (بجیات صاحب خزینۃ الاصفیاء) بقیدِ حیات ہیں، اللہ انہیں سلامت رکھے۔ چو سلطان ز دار الفتا بست رخت ز مخدوم سلطان عرفان بجو ۱۲۴۱ھ   تو تاریخ ترحیل توصیل آن وگر نامور شیخ بالا بخواں ۱۲۴۱ھ (خذینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید