ہفتہ , 16 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 04 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سید احمد توختہ ترمذی ثُم لاہوری قدس سرہٗ

  آپ قدماء مشائخ عظام اور سادات کرام لاہور میں سے تھے اوّل عمر میں ترمذی میں رہے پھر اشارۂ غیبی سے وطن مالوف سے عازم ہندوستان ہوئے دورانِ سفر آپ اپنے ساتھ اپنی دوبیٹیاں جن کے نام بی بی حاج اور بی بی تاج تھے ہندوستان لائے آپ براہ کیج مکران پہنچے بڑی بیٹی بی بی حاج شاہزادہ بہاء الدین محمد ولد سلطان قطب الدین محمد شاہ والی کیچ مکران کے نکاح میں دی یہ شاہزادہ حضرت شیخ ابوالحسن ہنکاری قریشی کی اولاد میں سے تھے آگے بڑھے لاہور آئے اور لاہور کے محلہ چہل بی بی میں سکونت اختیار کی اور ہزاروں طالبان حق کی راہنمائی فرماتے رہے کثیر خلق کو راہ ہدایت پر لائے اور فیضانِ روحانیت سے مالا مال کیا آپ کے لاہور کے قیام کے دوران آپ کے برادر زادہ سید شاہ زید بھی لاہور پہنچے دوسری لڑکی تاج بی بی اس برادر زادے سے بیاہ دی۔ اور انہیں ہندوستان کے وسطی علاقہ کی طرف جانے کا حکم دیا شہزادہ سید شاہ زید بمقام سوانہ بر۔۔۔

مزید

شیخ نظام الدّین گنجوی قدس سرہٗ

  آپ مشہور شاعر اَجلّ صوفی اور عظیم عالم دین تھے گنجہ شہر میں رہائش پذیر رہے آپ ظاہری اور باطنی علوم کے ماہر عالم دین تھے زہدوتقویٰ ورع و فقہ میں بے مثال تھے۔ رَضی زنجانی سے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا عمر گراں یہ قناعت اور غرلت میں گزار دی۔ اہل دنیا سے ہمیشہ دور رہے سلاطین کی صحبت سے پرہیز کیا۔ بڑے بڑے شہنشاہوں کی دلی تمنا ہوتی کہ آپ کی تصانیف میں ان کا نام آئے تاکہ وہ بھی یاد گار صفحہ ہستی بن سکیں آپ کی پانچ کتابیں یاد گار زمانہ ہیں۔ اور ان کا نام پنج گنج ہے حقیقت یہ ہے کہ پنج گنج لطافت و بلاغت کا مرقع ہے اور حقائق و معرفت کا خزینہ ہے آپ کی آخرین کتاب سکندر نامہ ہے یہ کتاب ۵۹۲ھ میں مکمل ہوئی تھی اور فارسی ادب و تاریخ میں بہترین کتاب مانی جاتی ہے۔ تاریخ فرشتہ میں لکھا ہے کہ جب خواجہ امیر خسرو﷫ نے آپ کی کتاب مخزن الاسرار کے جواب میں مطلع الانوار لکھی اور اس زور دارفخریہ شعر لکھا۔ دبدب۔۔۔

مزید

شیخ ماجد گردی قدس سرہٗ

  آپ تاج العارفین ابوالوفا قدس سرہ کے مرید اور خلیفۂ خاص تھے صاحب کشف و کرامت تھے آپ کی توجہات عالیہ سے بے پناہ مخلوق خدا ہدایت یافتہ ہوئی آپ حضرت غوث الاعظم کے احباب اور اصحاب میں سے تھے اور آپ سے ہی فیض نامہ حاصل کیا تھا۔ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہنے لگا حضرت مجھے کعبۃ اللہ کی زیارت اور طواف کی اجازت دیں میں سفر حج میں تن تنہا جانا چاہتا ہوں حضرت نے اپنا کوزہ اسے دیا فرمایا سفر میں جہاں بھوک اور پیاس لگے اس کوزہ سے ٹھنڈا میٹھا پانی اور روٹی ملے گی دورانِ سفر واقعی ایسا ہی ہوتا رہا۔ آپ ۵۶۱ھ میں فوت ہوئے آپ کا مزار پر انوار جبل حمرین پر واقع ہے۔ شیخ دین ماجد چو زین دنیائے دوں رحلتش سردارِ ماجد آمداست ۵۶۱ھ   رفت ہمچو سر و در باغ جنان نیز ماجد ہادی الاسرار خواں ۵۶۱ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ عبدالاوّل بن شعیب سنجری ہردی﷫

  ابوالوقت کنیّت تھی خاص و ظاہر و باطن میں ماہر تھے حدیث میں شیخ الاسلام جبال الاسلام داودی﷫ کے شاگرد تھے حضرت شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی صحبت میں رہے خراسان سے بغداد میں پہنچے۔ آپ کی ولادت ماہ ذی القعدہ ۴۵۸ھ میں ہوئی اور وفات ماہ ذیقعد ۵۵۳ھ میں بغداد میں ہوئی آپ کا مزار شونیز متصل مزار شیخ رویم ہے یاد رہے کہ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی نے آپ کی نماز جنازہ کی امامت کرائی تھی۔ جناب عبد اول شیخ والا اگر خواہی ولا سالِ وصالش ۵۵۳ھ   کہ از روز ازل مقبول حق بود بداں ابن شعیب ہادی محمود (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ عبدالاوّل بن شعیب سنجری ہردی﷫

  ابوالوقت کنیّت تھی خاص و ظاہر و باطن میں ماہر تھے حدیث میں شیخ الاسلام جبال الاسلام داودی﷫ کے شاگرد تھے حضرت شیخ الاسلام عبداللہ انصاری کی صحبت میں رہے خراسان سے بغداد میں پہنچے۔ آپ کی ولادت ماہ ذی القعدہ ۴۵۸ھ میں ہوئی اور وفات ماہ ذیقعد ۵۵۳ھ میں بغداد میں ہوئی آپ کا مزار شونیز متصل مزار شیخ رویم ہے یاد رہے کہ حضرت شیخ سیّد عبدالقادر جیلانی نے آپ کی نماز جنازہ کی امامت کرائی تھی۔ جناب عبد اول شیخ والا اگر خواہی ولا سالِ وصالش ۵۵۳ھ   کہ از روز ازل مقبول حق بود بداں ابن شعیب ہادی محمود (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

شیخ ابو نصر احمد جام زندہ پیل قدس سرہٗ

  کنیت ابونصر والد کا اسم گرامی ابوالحسن تھا جام کے نزدیک موضع ناحق میں پیدا ہوئے مقتدائے اہل طریقت تھے پھر یگانہ زمانہ بنے قطب العہد اور غوث الوقت مشہور ہوئے آپ حریر بن عبداللہ الجیلی کی اولاد میں سے تھے جنہیں حضرت عمر ابن الخطاب﷜ نے یوسفِ اُمت محمّدیہ کہا تھا۔ حضرت شیخ احمد اول عمر میں اُمیّ محض تھے بائیس سال گزرے تو اللہ کی رحمت نے علم کی روشنی سے نوازا۔ پہاڑوں میں گوشہ نشین ہوئے ریاضت اور مجاہدہ میں پورے تیرہ سال گزار دئیے چالیس سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ کے الہام کی روشنی میں مخلوق خدا کی راہنمائی میں نکلے علم الدّنی کے ابواب کھل گئے آپ نے توحید اسرار اور حکمت میں تین سو کتابیں لکھیں یہ کتابیں وقت کے عارفین اور حکماء کے لیے مطالعہ کا ذریعہ بنیں اسرار تصوف میں عمدہ اشعار کہتے گفتگو اور تحریر آیات قرآنی اور احادیث کے حوالے سے پُر ہوتی تھی اللہ تعالیٰ نے کثیرالادلاد کیا تھا آپ کے بی۔۔۔

مزید

خواجہ عبداللہ جوی قدس سرہٗ

  اسمِ گرامی محمد بن حمویہ تھا۔ خراسان کے اَجّلہ مشائخ میں سے تھے اور حضرت شیخ عبداللہ بستی کے عظماء خلفاء میں سے شمار ہوتے تھے علوم شریعت اور طریقت میں ماہر تھے حضرت عین القضات اپنے اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں تین حضرات مقتدائے وقت میں سے ہیں ایک شیخ احمد بن محمد غزالی دوسرے محمد بن محمد غزالی اور تیسرے خواجہ عبداللہ بن محمد حمویہ جوی﷫ حضرت شیخ حموی ایک کتاب صلواۃ الطاعین جو حقایٔق و دقائق سے مالا مال ہے صوفیہ کے لیے مشعل راہ بنی آپ کی وفات ۵۳۰ھ ہجری میں ہوئی جبکہ آپ کی عمر نوے سال تھی۔ خواجۂ دین شیخ عبداللہ پیر سن و سالِ رحلتش ہادی تقی ست ۵۳۰ھ   یافت از دنیا چو در جنت قرار نیز عبداللہ محمد نامدار ۵۳۰ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

تاج العارفین ابوالفاء قدس سرہٗ

   اسم گرامی کاکیش تھا۔ کبار مشائخ اور بزرگان دین میں سے تھے شیخ محمد شپکنی کے مرید تھے۔ ارشاد طالبان میں اپنی مثال آپ تھے شیخ علی ہیتی شیخ بقاء و شیخ عبدالرحمان طفسونجی شیخ مطرالبازدونی شیخ ماجد گردی شیخ جاگیر شیخ احمد جیسے آپ کے ہی مرید اور تربیت یافتہ تھے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی﷜ جوانی کے عالم میں آپ کی مجلس میں حاضر ہوئے تو حضرت شیخ ابوفاء نے سلسلۂِ گفتگو منقطع کرتے ہوئے حاضرین مجلس کو کہا۔ ’’یہ نوجوان جو ابھی میری مجلس میں آیا ہے اسے مجلس سے باہر نکال دو۔‘‘ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تھوڑے دنوں بعد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی پھر اسی مجلس میں چلے گئے تو شیخ ابوالوفاء نے دوبارہ کہا۔ ’’اس نوجوان کو میری مجلس سے اٹھا دیا جائے۔‘‘ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ مگر شیخ بار بار اس مجلس میں جاتے رہے حتّٰی کہ جب آپ چوتھی بار مجلس میں داخل ہوئے تو شی۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسن ہردی الخانجہ آبادی قدس سرہٗ

  اسم گرامی ابونصربن ابی جعفر بن ابی اسحاق خانجہ آبادی تھا ایک اور مقام پر آپ کا نام محمد بن احمد بن ابی جعفر لکھا ہے کرمان کے رہنے والے تھے علوم ظاہری اور باطنی کے عالم تھے فقہ و حدیث میں یکتائے زمانہ تھے آپ کی توبہ کا سبب یہ ہوا کہ ایک دن ایک شخص ایک کاغذ پر فتویٰ پوچھنے آیا جس کا مضمون اور مفہوم یہ تھا ’’کیا فرماتے ہیں آیٔمہ دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے جوانی کے عالم میں اپنی گدھی کو لاٹھیوں سے پیٹا گدھی نے اسے مخاطب کرکے کہا۔ اے شخص! تم نے مجھے جس طرح ظلم کا نشان نہ بنایا ہے قیامت کے دن اس کا کیا جواز پیش کرے گا اور اس ظلم سے کیسے نجات حاصل کرسکے گا۔‘‘ اس دن سے آج تک بیس سال گزر چکے ہیں کہ وہ شخص اللہ کے خوف سے رو رہا ہے اور آنسو کے بجائے خون بہتا ہے آپ ازروئے شرع شریف بتائیں کہ اُس کے وضو طہارت اور نماز کا کیا حکم ہے حضرت ابونصر نے یہ فتویٰ پڑھا تو اس وا۔۔۔

مزید

شیخ ابو عبداللہ حمیدی قدس سرہ

  آپ علماء عظام اور فقہا اعلام میں سے تھے علوم حدیث و تفسیر میں بڑے بلند مراتب کے مالک پر فائز تھے آپ کی مشہور کتاب جمع بین الصحیحیں ہے۔ آپ کی وفات ۴۸۸ھ میں ہوئی۔ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید