ہفتہ , 23 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 11 April,2026

پسنديدہ شخصيات

عبدالرحمٰن کرمانی  

           عبدالرحمٰن بن محمد بن امیر ویہ بن محمد کرمانی: کرمان میں ماہ شوال ۴۵۷؁ھ میں پیدا ہوئے،ابو الفضل کنیت اور رکن الاسلام و رکن الدین لقب تھا۔مرو میں آکر فخر القضاۃ محمد بن حسین ار سانیدی تلمیذ منصور شاگرد مستغفری تلمیذ پر تمیز علی نسفی شاگرد ابی بکر بن فضل تلمیذ سبذ مونی سے تفقہ کیا اور دن بدن علوم میں ترقی کرتے گئے یہاں تک کہ اپنے زمانہ کے شیخ کبیر امام بے نظیر ہوئے اور خراسان میں مذہب امام کی ریاست آپ پر منتہیٰ ہوئی اور تصنیف و تذکیر میں مشہورزمانہ اور یگانۂ آفاق ہوئے۔عبد الغفور بن لقمان کروری اور ابو الفتح محمد بن یوسف سمر قندی اور بد الدین عمر بن عبد الکریم اور سکی بخاری وغیر ہم نے آپ سے تفقہ کیا اور آپ کے اصحاب زمانہ میں پھیل گئے۔فقہ میں تجرید فام کتاب تصنیف فرمائی پھر اس شرح ایضاح نام تین جلدوں میں لکھی۔آپ کی اس کتاب کی آپ کے شاگرد عبدالغفور نے بھ۔۔۔

مزید

حسن بن علی مرغینانی

          حسن بن علی بن عبد العزیز مرغینانی: ابو المحاسن کنیت اور ظہیر الدین کبیر لقب تھا،شہر مرغینان کے جو کہ،وراء النہر میں شہر فرغانہ کے مضافات میں سے ہے، رہنے والے تھے،اپنے وقت کے فقیہ فاضل محدث کامل تھے،علم کو تصنیف اور املاء سے شائع کیا چنانچہ کتاب الاقضیۃ والشروطہ والفتاویٰ والفوائد آپ کی تصنیفات میں سے ہیں فقہ برہان الدین کبیر عبدالعزیز بن عمر بن مازہ اور شمس الائمہ محمود اور جندی اور زکی الدین خطیب مسعود بن حسن کشانی تلامذہ شمس الائمہ سر خسی سے حاصل کی اورآپ سے آپ کے بھانجےافتخارالدین طاہر صاحب خلاصۃ الفتاوے اور ظہیرالدین محمد بن احمد صاحب فتاویٰ  ظہیریہ اور فخر الدین حسن بن منصور اور جندی وغیرہ نے تفقہ کیا اور ۵۳۲؁ھ میں وفات پائی۔تاریخ وفات آپ کی ’’فقیہ مقبول دھر‘‘ سے نکلتی ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

طاہر بخاری

    طاہربن احمد بن عبدالرشید بن الحسین بخاری: افتخار الدین لقب تھا،اپنے زمانہ کے امام عدیم النظیر فرید الدہر علامہ اور مجتہدین فی المسائل میں سے ماوراء النہر کے شیخ حنفیہ تھے،مولیٰ ابن کمال پا شانے آپ کو طبقہ مجتہدین فی المسائل میں سے شمار کیا ہے۔علم اپنے باپ احمد بن عبدالرشید اور ماموں ظہیرالدین حسن بن علی مر غینانی اور نیز حماد بن ابراہیم صفار اور قاضی خان حسن بن منصور سے پڑھا اور اخذ کیا۔ تصانیف بھی مقبولہ اور مقبرہ کیں،منجملہ ان کے کتاب خلاصۃ الفتاویٰ اور کتاب خزانۃ الواقعات اور کتاب نصاب معروف و مشہور ہیں۔۵۴۲؁ھ میں فو ت ہوئے۔ ’’قمر عالمیان‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

احمد محمد بزدوی  

           احمد بن ابی الیسر صدر الاسلام بن محمد بن حسین بن عبدالکریم بن موسیٰ بن عیسیٰ بزدوی صدر الائمہ لقب تھا اور ابو المعالی کی کنیت سےپکارے جاتے تھے۔ابو سعید کا قول ہے کہ آپ اپنے زمانہ کے امام فاضل اور مفتی مناظر نیک سیرت،پسندیدہ اخلاق خاندان حدیث و علم میں سے تھے،فقہ اپنے والد محمد ابی الیسر صدر الاسلام سے حاصل کی،مدت تک بخار ا کی قجا کے متولی رہے،حج سے واپس ہو کر جب شہر سرخس میں پہنچے تو وہاں ۵۴۲؁ھ میں آپ نے انتقال کیا[1]لیکن یہاں سے آپ کا جنازہ بخارا میں  لے جار دفن کیا گیا۔’’طرفہ محقق‘‘ تاریخ وفات ہے۔بزدوی قلعۂ بزدہ کی برف منسوب ہے جو چھ فرسنگ کے فاصلہ شہر نسف سے واقع ہے۔                       1۔ ولادت ۵۴۰’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحن۔۔۔

مزید

محمد قنطری

          محمد بن یوسف بن احمد قنطری: ابو الفتح کنیت تھی،عالم فاضل فقیہ بے بدل تھے،ابی الفضل عبدالرحمٰن کرمانی سے تفقہ کیا اور کمالیت و فضیلت کے رتبہ کو پہنچے، کچھ اوپر ۵۴۰؁ھ میںملک حجاز کو تشریف لے گئے اور وہاں پر وفات[1]پائی۔قنطری منسوب طرف راس قنطرہ کے ہے جو نیشاپور میں ایک محلہ کا نام ہے۔   1۔ ولادت ۴۹۲ حج سے واپس آکر وفات پائی (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

صاحب فتاویٰ ولوالجیہ  

              عبدالرشید بن ابی حنفیہ بن عبدالرزاق ولوالجی: ابو الفتح کنیت[1]تھی،۴۲۷؁ھ کو شہر ولوالج میں جو بد خشاں کے ملک میں واقع ہے،پیدا ہوئے،اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ و نظار کامل تھے،بلخ میں جاکر فقہ ابی بکر قزار محمد بن علی اور علی بن حسن برہان بلخی سے پڑھی اور ولواج میں بعد ۵۴۰؁ھ کو فوت ہوئے۔فتاویٰ ولواجیہ آپ کی تصنیفات سے یادگار ہے۔’’تاج کونین‘‘تاریخ وفات ہے۔   1۔ظہیرالدین لقب تھا’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

علی خوارزمی  

              علی بن عراق بن محمد بن علی عمرانی خوارزمی: ابو الحسن کنیت تھی۔اپنے زمانہ کے فقیہ فاضل مفسر کامل شیخ حنفیہ مرجع انام تھے۔آپ کی تصنیفات سے تفسیر خوارزمی یادگار ہے۔۵۳۹؁ھ میں وفات پائی۔’’طوطئی شہر‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

مفتی ثقلین

           عمر بن محمد بن احمد بن اسمٰعیل بن محمد بن لقمان نسفی المعروف بہ مفتی ثقلین: نجم الدین لقباور ابو حفص کنیت تھی۔شہر نسف میں ۴۲۶؁ھ میں پیدا ہوئے۔ امام فاضل،اصولی،متکلم،مفسر،محدث فقی،حافظ،متقن،لغوی،نحوی،ادیب،عارف مذہب تھے اور بسبب کثرت حفظ اور قبولیت خواص وعوام کے ائمہ مشہور بن میں سے ہوئے ہیں۔فقہ صدر الاسلام ابی الیسر محمد بزدوی شاگرد ابی یعقوب یوسف سیّاری تلمیذ ابی اسحٰق حاکم نوقدی شاگرد ہندوانی سے حاصل کی اور آپ سے آپ کے بیٹے ابو اللیث احمد بن عمر المعروف بہ مجد نسفی نے تفقہ کیا اور آپ کی بعض تصانیف صاحب ہدایہ اور ابو بکر احمد بلخی المعروف بہ ظہیر نے آپ سے پڑھیں اور عمر بن محمد عقیلی نے روایت کی۔چونکہ آپ انس و جن کا جانتے تھے اس لیے لوگ آپ کو مفتی ثقلین کہتے تھے،مشائخ بھی آپ کے بہت تھے اس لیے ایک کتاب آپ نے اپنے مشائخ کے اسماء میں۔۔۔

مزید

عبد الغافر  

              عبد الغافر[1]: اپنے زمانہ کے امام فاضل شیخ کامل فقیہ جید محدث ثقہ جامع علوم و فنون ظاہر یہ ورسمیہ تھے۔کتاب مجمع الغرائب فی غریب الحدیث نہایت نفیس بڑی تحقیق و تدقیق کے ساتھ تصنیف کی اور ۵۳۷؁ھ میں وفات پائی،تاریخ وفات آپ کی ’’زیب ادبستان‘‘ ہے۔   1۔ عبدالغافر بن اسمٰعیل فارسی امام قیشری کے اسے شافعی المذہب تھے ’’معجم المؤیضین‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عبد المجید قیسی ہروی

                عبدالمجید بن اسمٰعیل بن محمد ابو سعد قیسی ہروی: آپ اصل میں ہرات کے رہنے والتے تھے،ماوراء النہر کے علماء و فضلاء مثل فخل الاسلام بزدوی وغیرہ سے فقہ حاصل کی اور مدت تک بغداد،بصرہ،ہمدان و بلا روم میں درس و تدریس میں مشغول رہے،اخیر کو بلا دروم کے قاضی مقرر ہوئے۔فروع واصول میں کتابیں تصنیف کیں۔آپ کے دونون بیٹوں اسمٰعیل و احمد نے آپ سے اخذ کیا اور علم پڑھا۔۵۳۴؁ھ میں دمشق میں آئے اور مقام قیساریہ میں ۵۳۷؁ھ کو وفات [1] پائی،’’تاریخ مجلس‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ معبر ۸۰ سال ابو سعد یعقوب علمی جواہر المضیۃ                          (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید