محمد[1]بن محمد بن شحنہ الشہیر بہ ابن الشحنہ: محب الدین لقب اور ابو الولید کنیت تھی،۷۴۹ھ میں پید اہوئے،بڑے بڑے علماء و فضلاء سے فقہ و ادب وغیرہ علوم پڑھے،حدیث اور اہل حدیث کے بڑے محب تھے،کئی دفعہ حلب اور شام کی قضاء پر مقرر ہوئے۔ابنِ ہمام نے آپ سے پڑھا،کتاب روضۃ المناظر فی اخبار الاوائل والا اخر حوارث ۸۰۶ھ تک تصنیف کی اور حوارث ۸۰۳ھ میں وہ واقعات بیان کیے جو ان کے اور امیر تیمور کے درمیان غلبہ حلب کے وقت سوال و جواب کے طور پر واقع ہوئے تھے،علاوہ اس کے ایک کتاب سیرت نبویہ اور ایک نظم متوسطہ میں لکھی اور ۸۱۵ھ میں وفات پائی،’’محب اندیش‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ ان کے بیٹے شمس الدین ابو الفضل محمد بن محمد بن محمد بن شحنہ (۷۰۴، ۸۵۹) کے حالات تکملہ میں ملاحظہ فرمائیں (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبد الاول بن برہان الدین علی بن جلال الدین محمد بن زین الدین عبدالرحیم بن عماد الدین بن صاحب ہدایہ،فقیہ متقن محدث، مفسر ،جامع علوم مختلفہ تھے۔فقہ جلال الدین کرلانی مصنف کفایہ شرح ہدایہ سے حاصل کی اور انہیں سے ہدایہ کو بروایت مضعن روایت کیا۔آپ سے علم شمس الدین قریمی نے اخذ کیا۔وفات آپ کی ۸۱۴ھ میں ہوئی۔’’فقیہ امام الوقت‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبد الاول بن محمد سیرامی: عالمِ متجر،فقیہ فاضل تھے،اصل وطن آپ کا بلا عجم مین تھا جہاں آپ نے علم حاصل کیا اور کمال کے رتبہ کو پہنچے پھر بلا دروم میں آئے اور وہاں کے علماء و فضلاء سے مباحثے اور مناظرے کیے لوگوں نے سلطان روم کے پاس آپ کی فضیلت کی شہادت دی،پس اس نے آپ کو بلدہ کو ناہیہ کا مدرسہ عطا کیا جہاں آپنے کتاب نقایہ کی جو فقہ میں ہے ایک،نہایت نفیس شرح تصنیف کی اور اس کے مسائل معضلات کو بڑی عمدگی سے واضح کیا جس کی تصنیف سے ۸۰۶ھ میں فارغ ہوئے پھر محمد شاہ بن شمس الدین محمد فناری کے واسطے ایک کتاب اسطر لاب کے بیان میں نظم میں تصنیف کی اور ۸۱۳ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
قاسم بن یعقوب اماسی الشہیر بخطیب: علوم قراءۃ اور تفسیر و حدیث واصول کے عارف اور اہلِ تصوف کے محب تھے۔علم سید احمد قریمی تلمیذ بزازی سے حاصل کیا اور مدرسہ شہراماسیہ کے مدرس مقرر ہوئے پھر سلطان با یزیدخاں کے جب وہ امیری کی حالت میں تھا،معلم بنے اور جب وہ تخت سلطنت پر بیٹھا تو آپ کو برسامیں مدرسہ مراد خاں دیا گیا پھر سلطان نے اپنے بیٹے احمد کا آپ کو معلم بنایا اور اماسیہ میں فوت ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن حسن بن علی طاہری: ابو طاہر کنیت حافظ الدین لقب تھا، فقیہ،محدچ،مفسر،مناظر،اصولی،زبدۂ ارباب فتویٰ بقیۂ اعلامِ ہدیٰٰ،عارف اسرار طریقت،کاشفِ رموز حقیقت تھے۔عم صدر الشریعہ عبید اللہ بن مسعود بن تاج الشریعہ محبوبی سے اخذکیا اور ماہِ زیقعد ۷۴۵ھ میں آپ کو صدر الشریعہ سے اجازت ملی اور آپ نے اواخر شعبان ۷۷۶ھ میں خواجہ پارسا محمد بن محمد بن محمود حافظی صاحب فص الخطاب کو جو اس وقت بیس سال کے تھے،اجازت دی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمود رومی الشہیر بہ قوچہ آفندی: بڑے عالم فاضل،صالح،اورع، تقی، جامع علوم عقلیہ و شرعیہ تھے،علوم اپنے زمانہ کے علماء و فضلاء سے حاصل کیے۔ ۷۷۰ھ میں سلطان مراد خاں نے شہر بروسا کی قضاء آپ کو دی جس پر آپ زمانہ سلطان بایزید خاں تک قائم رہے،لوگ آپ کو بڑا چاہتے تھے۔چونکہ آپ نہایت ضعیف و پیر سال ہو گئے تھے اس لیے آپ قوچہ آفندی کے نام سے موسوم ہوئے۔ آپ کا ایک بیٹا محمد نام تھا جو بڑا عالم فاضل ہوا مگر عین شباب میں ایک لڑکا موسیٰ پاشا چھوڑ کر مرگیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن حسن بن علی طاہری: ابو طاہر کنیت حافظ الدین لقب تھا، فقیہ،محدچ،مفسر،مناظر،اصولی،زبدۂ ارباب فتویٰ بقیۂ اعلامِ ہدیٰٰ،عارف اسرار طریقت،کاشفِ رموز حقیقت تھے۔عم صدر الشریعہ عبید اللہ بن مسعود بن تاج الشریعہ محبوبی سے اخذکیا اور ماہِ زیقعد ۷۴۵ھ میں آپ کو صدر الشریعہ سے اجازت ملی اور آپ نے اواخر شعبان ۷۷۶ھ میں خواجہ پارسا محمد بن محمد بن محمود حافظی صاحب فص الخطاب کو جو اس وقت بیس سال کے تھے،اجازت دی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمود رومی الشہیر بہ قوچہ آفندی: بڑے عالم فاضل،صالح،اورع، تقی، جامع علوم عقلیہ و شرعیہ تھے،علوم اپنے زمانہ کے علماء و فضلاء سے حاصل کیے۔ ۷۷۰ھ میں سلطان مراد خاں نے شہر بروسا کی قضاء آپ کو دی جس پر آپ زمانہ سلطان بایزید خاں تک قائم رہے،لوگ آپ کو بڑا چاہتے تھے۔چونکہ آپ نہایت ضعیف و پیر سال ہو گئے تھے اس لیے آپ قوچہ آفندی کے نام سے موسوم ہوئے۔ آپ کا ایک بیٹا محمد نام تھا جو بڑا عالم فاضل ہوا مگر عین شباب میں ایک لڑکا موسیٰ پاشا چھوڑ کر مرگیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید