سید جلال الدین شمس الدین خوارزمی کرلانی: بڑے عالم فاضل،فقیہ کامل،جامع منقول ومعقول،حاوی فروع واصول تھے اور یہاں تک ضرب المثل اور مشہور زمانہ تھے کہ دور دور سے لوگ آپ کے پاس آتے اور فوائد علمیہ و دینیہ سے فیض یاب ہوتے تھے۔علم آپ نے حسام الدین حسن سغناقی مصنف نہایہ اور عبدالعزیز بخاری صاحبِ کشف بزدوی سے حاصل کیا اور آپ سے ناصر الدین محمد بن شہاب بن یوسف والد حافظ الدین محمد بزازی صاحب فتاویٰ بزازیہ اور طاہر بن سلام بن قاسم خوارزمی المعروف بہ سعد غد بوش صاحبِ جواہر الفقہ اور عبد الاول بن برہان الدین علی بن علی بن عماد الدین وغیرہ نے حاصل کیا اور ہدایہ کی شرح کفایہ نام ایسی عمدہ لکھی جو مقبول ہوکر متد اول بین الانام ہوئی۔اگر چہ اس شرح کے مصنف کے باب میں علماء نےاختلاف کیا ہے مگر کفوی اور صاحب شقائق نعمانیہ وغیرہ مؤرخین معتبرہ ع۔۔۔
مزید
محمد بن حسین بن ناصر عبدالعزیز[1]بندینجی: ضیاء الدین لقب تھا،فقیہ متجر محدث بے نظیر تھے،فقہ علاء الدین ابی بکر محمد بن احمد سمر قندی سے حاصل کی اور ۵۲۵ھ میں کتاب صحیح مسلم کو محمد بن فضل نیشا پوری سے سنا اور روایت کیا جنہوں نے عبد الغافر فارسی اور انہوں نےجلودی اور انہوں نے امام مسلم سے سنا تھا،آپ سے صاحب ہدایہ نے فقہ پرھی۔صاحب ہدایہ کہتے ہیں کہ مرو میں ۵۴۵ھ کو انہوں نے اپنی تمام مسوعات کی بالمشافہہ مجھ کو روایت کرنے کی اجازت دی۔ 1۔ یر سوخی یرسوخ بلاد فرغانہ میں واقع ہے’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
حضرت سید منظور احمد مکان شیلفی گوردا سپوری مجددی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
سید علی قومناتی رومی: عالم فاضل،فقیہ کامل،جامع علوم مختلفہ،واقفِ فنون متعددہ تھے اور موضع توقات میں جو روم کے علاقہ مین واقع ہے،رہتے تھے، شرح وقایہ کی شرح عنایہ نام تصنیف کی اور میر ریج کی شرح لکھی۔اخیر آٹھویں صدی میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
علاء الدین الاسود المشہور بقرہ خواجہ: پہلے اپنے ملک کے علماء سے علم پڑھنا شروع کیا پھر بلاد عجم میں کوچ کیا اور وہاں کے علماء وفضلاء سے علم حاصل کیا یہاں تک کہ رتبۂ فضل و کمال کو پہنچے اور اپنے ہم عصروں پر فوقیت حاصل کی بعد ازاں روم میں عہد سلطان اور خان بن عثمان غازی میں آئے،اس نے آپ کو مدرس مقرر کردیا جہاں آپ نے علم کو پھیلایا اور فقہ کی تدریس کی اور علماء وائمہ سے مناظرے کیے۔اثناء تدریس مدرسہ ازنیق میں آپ نے حل مشکلات کتاب و قایہ میں ایک شرح حافلہ کافلہ عنایہ سے تصنیف کی۔ صاحبِ کشف الظنون کہتے ہیں کہ آپ کا نام علی بن عمر تھا اور آپ نے ایک بڑی شرح کتاب مغنی کی بھی تصنیف کی ہے جس کی تصنیف سے ۷۸۷ھ میں فارغ ہوئے اور ۸۰۰ھ میں وفات پائی۔آپ سے آپ کے بیٹے حسن پاشا اور شمش الدین محمد فناری نے علم پڑھا،پھر یہ دونوں مدرسہ مسلسل۔۔۔
مزید
نجم الائمہ بخاری: علمائے کبار و فضلائے نامدار میں سے تھے،آپ کے زمانہ میں بخارا و خوارزم میں فتوےٰ کا مدار صرف آپ ہی پر منحصر تھا،آپ برہان الدین کبیر اور عطاء الدین حمامی اور بدر طاہر کے اقران میں سے تھے،فخر الدین بدیع قزنبی نے آپ سے علم پڑھا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عمر بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن نسر بسطامی ثم البلخی: ضیاء الاسلام لقب اور ابو شجاع کنیت تھی۔ماہِ ذی الحجہ ۴۷۵ھ میں بلخ میں پیدا ہوئے۔ جد اعلیٰ آپ کا بسطا کا رہنے والا تھا جو بلخ میں آکر سکونت پذیر ہوا۔آپ بڑے فقیہ، حافظ،محدث ،مفسر،ادیب،شاعر،کاتب،حسن اخلاق اور صاحب ہدایہ کے استاد تھے،آپ کو اجازت عالیہ حاصل تھی اور تمام علوم میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ عبدالکریم بن محمد سمعانی شافعی نے اپنی کتاب انساب میں آپ کے حال میں لکھا ہے کہ میں نے آپ سے مرو بلخ و ہرات و بخاراو سمر قند میں حدیث کو سُنا اور استفادہ کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
اشرف بن ابی الوجاح محمد بن امام ابی شجاع سید محمد: فروع واصول اور حسن طریقہ میں امام مشہور تھے،فقہ اپنے باپ سے پرھی اور یہاں تک کوشش کی کہ متعدد علوم میں فائق اور معاملات مذہب و خلاف میں عالم فاضل ہوکر استاذ کل ہوئے۔قاضی بلادروم عبد المجید بن اسمٰعیل متوفی ۵۳۷ھ اور علاؤ الدین محمد بن عبد المجید سمر قندی وغیرہ نے آپ سے فقہ حاصل کی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبدالعزیز بن عمر بن مازہ: اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ کامل تھے،ابو محمد کنیت تھی،برہان الائمہ اور برہان الالدین کبیر اور صدر الماضی اور صدر الکبیر آپ کے لقب تھے،ان لقبوں سے ملقب ہونے کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ ۴۹۵ھ میں سلطان سنجر بن ملک شاہ سلجوقی نے آپ کو بخارا کی طرف کسی مہم کے لیے بھیجا تھا اور اس مہم کانام صدر رکھا تھا اس لیے صدر کے لقب سے مشہور ہوئے۔علوم آپ نے امام سر خستی تلمیذ حلوائی سے اخذ کیے اور آپ سے آپ کے دونوں بیٹوں صدر السعید تاج الدین احمد و صدر الشہید حسام الدین عمراور ظہیر الدین کبیر علی بن عبدالعزیز مر غینانی وگیرہ نے تفقہ کیا۔برہان الاسلام زرنوجی نے کتاب تعلیم المتعلم میں اپنے شیخ صاحب ہدایہ سے حکایت کی ہے کہ عبدالعزیز بن عمر نے اپنے دونوں بیٹوں مذکورہ بالا کا سبق سب طلباء سے پیچھے دوپہر کے وقت مقرر کیا تھا جس پر وہ دونوں شکایت کیا کرتے تھے کہ اس وقت ہماری طبیعتیں سست ۔۔۔
مزید