جمعہ , 22 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 10 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا مجزأۃ بن ثور رضی اللہ عنہ

بن عفیر بن زہیر بن کعب بن عمرو بن سدوس السدوسی: حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں قتل ہوئے۔ امام بخاری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ لیکن ثابت نہیں اور اُنہوں نے عبد الرحمٰن بن ابو بکر سے روایت کی ہے۔ یہ صاحب منجوف بن ثور کے بھائی تھے۔ انہوں نے ایرانیوں کے خلاف جنگ میں زبردست حصّہ لیا۔ فتح تستر کے موقعہ پر ایک سو ایرانی قتل ہوئے تھے۔ جب ہر مزان گرفتار ہوا، اور حضرت عمر کے پاس لایا گیا تو حضرت عمر نے اسے قتل کا ارادہ کیا۔ کسی نے کہا، کہ میں نے اسے امان دی ہے۔ خلیفہ نے کہا کہ مَیں اس شخص کو کیسے پناہ دے سکتا ہوں، جس نے مجزأۃ بن ثور اور براء بن مالک کو قتل کیا ہے۔ ہر مزان مسلمان ہوگیا اور حضرت عمر سے جان بچا لے گیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری

امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمہ اللہ تعالیٰ اسمِ گرامی:آپ کا نام عبد الغفور تھا۔ تاریخِ ولادت: مولانا اخوند عبد الغفور صاحب 1184ھ/1770ء میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: آپ کو ابتداء ہی سے دینی تعلیم کا اشتیاق تھا چنانچہ ابتدائی کتب اپنے علاقہ کے علماء سے پڑھیں ، بعد ازاں پشاور کے مشہور زمانہ فاضل حضرت مولانا حافظ محمد عظیم پشاری رحمہ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر تقریباً چار برس میں تمام کتبِ متداولہ کی تحصیل و تکمیل کی سند فراغت حاصل کی۔ بیعت وخلافت: شیخ المشائخ حضرت مولانا محمد شیعب حمۃ اللہ علیہ ساکن تورڈھیری کے دست اقدس پر سلسلۂ عالیہ قادریہ میں بیعت ہوئے۔اور سلاسل اربعہ میں ماذون و مجاز ہوئے۔  سیرت وخصائص: امام المجاہدین شیخ الاسلام والمسلمین حضرت مولانا اخوند عبد الغفور صاحب سواتی قادری رحمہ اللہ تعالیٰ صاحبِ تقو۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک ابن نمیلہ رضی اللہ عنہ

نمیلہ ان کی ماں کا نام ہے۔ یہ صاحب ہیں مالک بن ثابت المزنی جو بنو معاویہ بن عدف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کے حلیف تھے۔ غزوۂ بدر میں شامل تھے۔ غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ یہ قول ہے ابراہیم بن سعد کا جو ابن اسحاق سے مروی ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن التیہان بن مالک

بن التیہان بن مالک بن عبید بن عمرو بن عبدالاعلم بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو (یعنی النبیت بن مالک بن اوس انصاری الاوسی مراد ہے) ایک روایت کی رو سے وہ بلی بن عمرو بن الحاف ابن قضاعہ کے قبیلے سے ہے۔ جو بنو عبدالاشہل کے حلیف تھے اور مالک بن التیہان ان چھ انصار میں شامل تھے۔ جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ اول اور ثانی میں ملاقات کی تھی اور بنو عبدالاشہل کی روایت کے مطابق مالک رضی اللہ عنہ پہلے انصاری  ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، بنو النجار کا قول ہے کہ اسعد بن زرارہ نے سب سے پہلے بیعت کی، بنو سلمہ کی رائے میں یہ اعزاز کعب بن مالک کو نصیب ہوا ایک اور روایت کے مطابق البراء بن معرور نے اول از ہمہ بیعت کی۔ مالک اور اسید بن حضیر بنو عبدالاشہل کے نقیب تھے۔ اول الذکر بدر و احد کے علاوہ تمام غزوات میں شریک رہے اور حضرت عمر کے دورِ خلافت  میں بہ م۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن برھ بن نہثل المجاشعی: ابن شاہین نے انھیں صحابی میں شمار کیا ہے۔ ابو معشر نجیح نے یزید بن رومان اور محمد بن کعب القرظی سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ مالک بن برھ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا، یا رسول اللہ کیا میں اپنے قبیلے کا بہترین فرد نہیں ہوں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر تم میں عقل ہے، تو بلاشبہ یہ خوبی وجہ فضیلت ہوگی، اگر تم میں اخلاق فاضلہ پائے جاتے ہوں، تو با مروت ہو گے اور اگر تم مالدار ہو تو با حیثیت شمار ہوگے اور اگر تم دین دار ہو تو متقی اور پرہیزگار ہوگے۔ اک روایت یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم متقی ہو تو لازماً دین دار ہوگے۔ ایک اور روایت کے مطابق جناب مالک رضی اللہ عنہ کے سلسلہ نسب میں کچھ اختلاف ہے! مالک بن عمرو بن مالک بن برھ۔ یعنی سلسلۂ نسب میں بعض نام رہ گئے ہیں۔ جس کا ذکر آتا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن اوس بن عتیک بن عمرو بن عبدالاعلم بن عامر بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو بن مالک بن اوس الانصاری الاوسی۔ زعوراء عبدالاشہل کا بھائی تھا اور یہ دونوں مدینے کے پاس ایک ٹیلے پر رہتے تھے۔ جناب مالک غزوۂ احد، خندق اور بعد کے غزوات  میں شریک رہے تھے۔ بعد میں دونوں بھائی جنگ یمامہ میں شریک ہوئے اور شہادت پائی۔ ابوعمر نے اس کی تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

امام عافیت

              عافیت بن یزید بن قیس۱  الا زدی کوفی : امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے آپ بڑے فقیہ دانااور محدث صدوق تھے یہاں تک کہ امام موصوف آپ کے وجود سے بڑےنازاں تھے اور آپ کی تعظیم و تکریم میں بڑا مبالغہ کیا کرتےتھے اور جب تک آپ سے مشورہ نہ لیتے کوئی بات اپنی کتابوں میں ملحق نہ کرتے اور اپنے  اصحاب کو حکم دیتے کہ اب اس مسئلہ کو لکھ لو ۔ آپ نے امام اعمش اور ہشام بن عروہ سے بھی حدیث کی روایت کی،مدت تک کوفہ میں قاضی مقرر ہے اور ۱۸۰ھ؁ میں وفات پائی ۔نسائی نے آپ سے تخریج کی ۔’’امام زماں‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔   ۱ اودی ۲  سعد بن عینہ ’’جواہر مضیہ ‘‘(مرتب) (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شُریک

        شریک بن عبد اللہ کوفی۔کنیت آپ کی ابو عبد اللہ تھی اور ان علمائے کرام میں سے تھےجنہوں نے ابو حنیفہ کی صحبت اختیار کی اور ان سے روایت کی ، امام موصوف آپ کو کثیر العقل سے موصوف کیا کرتےتھے ۔آپ نے امام اعمش اور ابن شیبہ سے بھی حدیث کو سنا اور آپ سے عبد اللہ بن مبارک اور یحٰی سعید نے روایت کی۔ تقریب التہذیب میں لکھا ہے کہ آپ اور اہل ہوا اور بدعت پر بڑے سخت گیر تھے۔ جب کوفہ کی قضا کے متولی ہوئے تو آپ کا حافظ متغیر ہو گیا اور اکثر خطا کرنے لگے ۔وفات آپ کی ۱۷۷ھ؁ یا ۱۷۸ھ؁ میں ہوئی اور امام مسلم و ابو داؤد ترمذی و نسائی دابن ماجہ نے اپنی  اپنی سنن میں آپ سے تخریج کی ۔’’کوہ علوم ‘‘آپ کی تاریخ وفات ہے۔   (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

لیث بن سعد

    لیث بن سعد بن عبد الرحمٰن فہمی :ابو الحارث کنت تھی،فقہ و حدیث میں امام اہل مصر ثقہ سری تھے ۔ اصل میں اصفہان کے باشندہ اوت قیس بن رفاعہ مولیٰ عبد الرحمٰن بن خالد بن مسافر فہمی کے مولیٰ تھے ۔آپ کٍا قول ہے کہ میں نے محمد بن شہاب زہری کےعلم سےعلم کثیر لکھا ۔ امام شافعی کہتے ہیں کہ آپ امام مالک سے افقہ تھے مگر اصحاب آپ کے ساتھ قائم نہ ہوئے۔ آپ عطاءوخلف اورابن ملیکہ نافع ابن مولیٰ عمر سے روایت کرتے تھے اورآپ سےشعیب اور ابن مبارک نے روایت کی۔بڑے سخی و کریم تھے یہاں تک کہ سال بھر میں آپ کو پانچ ہزار دینار کی آمدنی تھی مگر زکوٰ ۃ آپ پر واجب نہ ہوتی تھی کیونکہ آپ کا دستو تھا کہ ہر روز جب تک آپ تین سو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا نہیں لیتے تھے تو آپ روٹی نہیں کھاتے تھے۔ تاریخ خلکان میں لکھا ہے کہ میں نے بعض مجامیع میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ حنفی المذہب تھے اور مصر کی قضا آپ کو تفویض تھی ، اما۔۔۔

مزید