محمد بن نصر بن منصور علی بن محمد بن محمد بن فضل عامری مدینی: ابو المعالی کنیت تھی،امام زاہد،فقیہ کامل اور سمر قند کے خطیب تھے۔۴۵۰ھ میں پیدا ہوئے۔فقہ صدر الاسلام محمد بن محمد بزدوی اور فخر الاسلام علی بن محمد بن بزدوی سے حاصل کی اور بڑی عمر پائی،یہاں تک کہ آپ کے اقران سب فوت ہو گئے تھے۔ سمعانی شافعی نے کہاہے کہ میں نے آپ سے ابی العباس مستغفری کی دلائل النبوہ کو سُنا۔ سمر قند میں ۵۵۵ھ میں فوت ہوئے۔’’فقیہ عصر‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
ہبۃ اللہ بن محمد بن ہبۃ اللہ بن احمد بن یحییٰ عقیلی: بڑے عالم فاضل فقیہ کامل اور کمال الدین عمر بن احمد صاحب تاریخ حلب کے دادا تھے۔حلب کی قضاء مدت تک آپ کے سپرد رہی اور ۵۵۴ھ میں وفات پائی۔’’شمع انجمن‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبدالرحمٰن بن محمد بن عبداللہ نیشا پوری خرقی: ۴۲۹ھ میں پیدا ہوئے،اپنے زمانہ کے فقیہ فاضل واعظ خوش خلق تھے،مدت تک بخارا میں رہے،جمال الدین ابی نصر احمد بن عبدالرحمٰن ریغد مونی تلمیذ ابی زیددبوسی سے پڑھا اور ۵۵۳ھ میں وفات پائی۔خرقی بفتحۂ خاء شہر خرق کی طرف منسوب ہے جو مرو سے تین فرسنگ کے فاصلہ پر واقع ہے اور خرقی بکسر خاء گودڑی فروش کو کہتے ہیں سو یہ ٹھیک معلوم نہیں کہ ان دونسبتوں میں سے آپ کس نسبت کی طرف منسوب ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
احمد بن علی بن عبدالعزیز بلخی: ابو بکر کنیت اور ظہیر بلخی کے لقب سے مشہور ہوئے،فروغ و اصول میں امام فاضل اورمعقول و منقول میں علام کامل تھے،علم نجم الدین عمر نسفی تلمیذ صدر الاسلام ابی الیسر محمد بزدودی سے حاصل کیا اور نیز بہاءالدین مر غینانی و محمد بن احمد اسپیجابی سے فقہ پڑھی اور مراغہ میں تدریس کو جاری کیا اور جامع صغیرامام محمد کی شرح تصنیف کی۔محمود بن زنگی کےعہد میں حلب میں تشریف لائے پھر دمشق کو گئے۔آخر کو حلب میں ۵۵۳ھ میں وفات پائی۔’’آرائش بلدہ‘‘تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
صاعد بن محمد بن عبدالرحمٰن بذخاری اصفہانی: آپ کی کنیت بھی ابو العلاتھی اور ابن الراسمندی کے نام سے معروف تھے،اپنے زمانہ کے امام فاضل اور محدث و فقیہ کامل تھے یہاں تک کہ اپنے ہمعصروں پر فضیلت و علمیت و دیانت میں سبقت لے گئے۔۴۴۸ھ میں پیدا ہوئے۔علم علی بن عبداللہ خطیبی سے پڑھا اور حدیث کو سُنا اور خطیبی اپنے استاذ کے ساتھ واسطے زیارت مکہ معظمہ کے نکلے،آپ کے ہمراہ آپ کا بیٹا اور عورت بھی تھی،عورت تو بصرہ میں فوت ہو گئی اور آپ کو عربوں نے جنگل میں گرفتار کرلیا چنانچہ سات مہینے تک ان کی قید میں رہے بعد ازاں نظام الملک و شرف الملک کو آپ کے قید ہونے کی خبر پہنچی،انہوں نے سات سو دینار عربوں کو دیکر آپ کو رہا کرادیا،پھر خطیبی تو۴۶۷ھ میں جحفہ میں فوت ہو گئے اور آپ بہ ہمرا بی اپنے بیٹے کے مکہ معظمہ کو گئے اور حج کر کے بغداد میں آئے،جب قاضی اسمٰع۔۔۔
مزید
محمد بن مسعود حسین بن حسن بن محمد بن ابراہیم کشانی: ابو الفتح کنیت تھی، فاضل عصر فقیہ متجر تھے۔۴۹۰ھ میں شہر کشان علاقۂ سمر قند میں پیدا ہوئے۔آپ نے اپنے باپ مسعود صاحب مختصر مسعودی اور ابا القاسم علی بن احمد بن اسمٰعیل کلاباذی وغیرہ سے اخذ کیا اور حدیث کو سُنا،بخارا کی قضاء آپ کے سپردکی گئی لیکن آپ کی سیرت قضاء کی حالت میں اچھی نہ رہی۔وفات آپ کی اتفاقیہ شب چہارم ماہِ رمضان المبارک ۵۵۲ھ میں بعد ادائے نماز تراویح کے واقع ہوئی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عثمان بن علی بن محمد بن محمد بن علی بیکندی بخاری: ۴۶۵ھ میں پیدا ہوئے، ابو عمرو کنیت تھی۔اپنے زمانہ کے امام فاضل فقیہ محدث،زاہد متگورع،عفیف قانع، متواضع کثیر العبادت تھے۔فقہ امام ابی بکر محمد بن ابی سہل سرخسی سے حاصل کی اور حدیث کو ابا محمد بخاری المعروف بہ بکر خواہر زادہ سے سماعت کیا۔آپ صاحب ہدایہ کے مشائخ میں سے ہیں اور آخر تک ان لوگوں سے باقی رہے ہیں جنہوں نے امام ابی بکر محمد بن ابی سہل سرخسی سے تفقہ کیا تھا۔۵۵۲ھ میں فوت ہوئے،[1] ’’محدث‘‘ تاریخ وفات ہے۔بیکندی بیکند کی طرف منسوب ہے جو ماوراءالنہر کے شہروں میں سے ایک شہر بخارا سے ایک منزل کے فاصلہ پر واقع ہے۔یہ شہر نہایت خوبصورت تھا مگر اب خراب پڑا ہے،سمعانی نے لکھا ہے کہ میں نے سنا ہے کہ جب یہ شہر آباد تھا تو اس میں تین ہزار مکان تو صرف قاریوں کے تھے جن کے آثار خود میں نے۔۔۔
مزید
علی بن حسن بن محمد بن ابی جعفر بلخی: ابو الحسن کنیت اور بوہان بلخی کے نام سے مشہور تھے۔شہر سکندر میں جو نواحی طحار ستان علاقہ بلخ میں واقع ہے،پیدا ہوئے۔امام جلیل القدر کثیر العلم مشہور زمان ممدوح دوران تھے،بخارا میں برہان الدین کبیر عبدالعزیز عمرو بن مازہ سے تفقہ کیا یہاں تک کہ فقہ اور اصول فقہ میں فائق ہوئے اور علم کو بلاد اسلام میں پھیلایا اور دمشق میں آکر درس و تدریس کا کام دیا۔آپ سے عبدالرشیدولوالجی و محمد بن یوسف بن علی عقیلی اور بدر ابیض یوسف وغیرہم نے تفقہ کیا۔ کہتے ہیں کہ جب آپ کو امور دینیہ میں کوئی مہم آن پڑتی تو آپ نماز سے استمداد کرتے اور غسل کیا کرتے تھےایک دن صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ آیت ’’منہم ابی البخ‘‘ پڑھتے بسبب گریہ وزاری کے بند ہوگئے جب گریہ تھم گیا تو پھر آپ نے نماز کو از سر نو پڑھا اور غسل کر کے گھر می۔۔۔
مزید
محمد بن عبد الرحمٰن بخاری المعروف بہ علاء زاہد: ابو عبداللہ کنیت اور علاءالدین لقب تھا،فقیہ فاضل مفتی عالم اصولی،متکلم اور صاحب ہدایہ کے مشائخ میں سے تھے۔علم جمال ابی نصر احمد بن عبدالرحمٰن ریغد مونی تلمیذ قاضی ابی زید دبوسی سے پڑھا اور آپ سے شرف الدین عمر بن محمد عقیلی نے فقہ پڑھی،ایک نہایت کلاں تفسیر قرآن شریف کی کچھ اوپر ایک ہزار جزو میں تصنیف کی اور ۱۲؍تاریخ ماہ جمادی الاخریٰ ۵۴۶ھ میں رات کے وقت وفات پائی۔تاریخ وفات آپ کی لفظ’’ہادئ کشور‘‘ سے نکلتی ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
محمد بن محمدبن محمد الملقب بہ رضی الدین[1]سرخسی: اپنے وقت کےکبیر فاضل بے نظیر جامع علوم عقیلہ و نقلیہ تھے،علم صدر الشہید حسام الدین عمر قلمیذ اپنے والد ماجد برہان الدین کبیر عبد العزیز شاگرد حولائی سے حاصل کیا اور کتاب محیط تصنیف کی،ابن عدیم کہتے ہیں کہ آپ حلب میں تشریف لائے اور بعد محمود غزنوی کے مدرسہ نوریہ و حلاویہ کے مدرس مقرر ہوئے چونکہ آپ زبان میں لکنت تھی اس لیے فقہاء نے آپ پر تعصب کیا اور آپ کو سُستی کی طرف منسوب کر کے فقہ میں کم استعدار بنایا اوریہ ظاہر کیا کہ کتاب۔محیط آپ کی تصنیف نہیں بلکہ آپ کے استاذ کی تصنیفات سے ہے اور آپ نے اپنا نام کرلیا ہے چنانچہ آپ سے بہت تعصب شیخ افتخارالدین ابو ہاشم عبد المطلب بن فضل بلخی کرتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے نورالدین محمود بن زنگی کی طرف رقعے لکھے اور ان میں آپ کی بہت غلطیاں پکڑ۔۔۔
مزید