تیمی ہیں۔حصن بن عثمان نے کہاہے کہ عثمان بن عبدالرحمٰن تیمی نے جن کی کنیت ابوعبدالرحمٰن تھی۷۴ھ ہجری میں وفات پائی اورصحابی تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن بشربن عبدبن دہمان بعض نے عبددہمان کہاہے ابن عبداللہ بن ہمام بن ایان بن سیاربن مالک بن حطیط بن خثیم بن ثقیف ثقفی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی یہ ثقیف کے وفد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے اوراسلام لائے تھے ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر طائف کاعامل کردیاتھاہم کوعبیداللہ بن احمد بن سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیر تک پہنچاکر ابن اسحاق سے روایت کرکے خبردی اور ثقیف کے وفد کے قصہ کوبیان کرکے کہاکہ جب ثقیف کے وفوداسلام لائے تو آپ نے ان کوایک تحریر لکھ دی اورعثمان بن ابی عاص کو ان کا امیرکر دیایہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ نوجوان تھے اور اس زمانے میں یہ مسائل دینی اور قرآن کے سیکھنے میں زیادہ حریص تھے چنانچہ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے کہایارسول اللہ میں اس لڑکے کو مسائل دینی اورقرآن کے سیکھنے میں سب سے زیادہ حریص پاتاہوں عبیداللہ بن۔۔۔
مزید
بن ابی طلحہ یعنی عبداللہ بن عبدالعزیٰ بن عثمان بن عبدالدار بن قصی بن کلاب بن مرہ قریشی عبدری حجمی ہیں ام سعید ان کی والدہ تھیں اوروہ عمروبن عوف کی اولادمیں سے تھیں ان کے والد طلحہ اور چچا عثمان بن ابی طلحہ غزوہ احد میں بحالت کفرقتل کیے گئے حضرت حمزہ نے عثمان کو اور حضرت علی نے طلحہ کو مقابلے کے وقت قتل کیاتھا۔نیز واقعۂ احد میں سافع اورجلاس کواورزبیرنے کلاب کواورقزمان نے حارث کوقتل کیاتھا اور عثما ن بن طلحہ خالد بن ولید کے ساتھ صلح حدیبیہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کرآئے تھے (اثناء راہ میں) ان دونوں نے عمروبن عاص سے ملاقات کی کیوں کہ وہ بھی نجاشی کے پاس بارادہ ہجرت آرہے تھے پس یہ سب ساتھ ہوگئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ میں حاضرہوئے ان کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر صحابہ سے فرمایاکہ مکہ نے اپنے جگرکے ٹکڑے تمھارے حوالے کردیے یعنی ی۔۔۔
مزید
بن لبیہ مخزومی مہاجری ہیں غزوہ بدر میں شریک تھےاورغزوہ احد میں شہیدہوئے اس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اورانھوں نے یونس بن بکیرسے انھوں نے ابن اسحاق سے ہجرت کے ذکر میں روایت کی ہے کہ پھرمصعب بن عمیراور عثمان بن مظعون اور عثمان بن شماس بن شرید اورایک گروہ جن کا انھوں نے اپنی روایت میں نام بیان کیاہے(ہجرت کے واسطے)نکلےاورابن مندہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ عثمان بن شماس بن لبید ان میں ہیں جن کے حق میں اللہ عزوجل نے آیات قرآنیہ نازل کی ہیں اور ان کواپنی کتاب میں یادکیاہے ابن مندہ نے شماس بن لبید کے نام میں ایساہی بیان کیاہے اور جس شخص نےابن اسحاق سے روایت کرکے شماس بن شرید کہاہے ابونعیم کا بیان ہے کہ اس کی بہت بڑی غلطی ہے کیوں کہ وہ عثمان بن شماس بن شرید ہیں جیساکہ ابن بکیر نےابن اسحاق سے ان لوگوں کے نام میں جو کہ مخزوم کی اولاد سے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے روایت کی ہے یہ حال شماس ک۔۔۔
مزید
بن اہیان بن وہب بن حذافہ بن جمح قریشی جمحی ہیں یہ مہاجرین حبشہ میں سے تھے اس کو ابن اسحاق نے بیان کیاہے اورواقدی نے کہاہے کہ ان کے بیٹے نبیہ بن عثمان وہی ہیں جنھوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
انصاری اوسی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی سہل بن حنیف کے تذکرے میں بیان ہوچکاہے۔ ان کی کنیت ابوعمرتھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ تھی یہ احد اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک تھے ان کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ملک عراق کی پیمائش کرنے پرمقررکیا تھاانھوں نے وہاں کی مزروعہ اورغیرمزروعہ زمین کی پیمائش کی اور اس پر خراج مقررکیااور ان کو حضرت علی نے بصر ہ پرعامل بنادیاتھاچنانچہ یہ وہاں عامل رہے یہاں تک کہ حضرت طلحہ وزبیر حضرت عائشہ کے ہمراہ واقعہ جمل میں وہاں پہنچے تو انھوں نے ان کو بصرہ سے نکال دیاپھرحضرت علی کرم اللہ وجہہ بصرے میں آئے اورجنگ جمل شروع ہوئی جب حضرت علی نے لوگوں پر فتح پائی تو عبداللہ بن عباس کوبصرہ کاعامل کردیااور عثمان بن حنیف نے کوفہ میں سکونت اختیارکرلی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے تک زندہ رہے ان سے ان کے بھتیجے ابوامامہ بن سہل اوران کے بیٹے عبدالرحمن اور۔۔۔
مزید
بن زیادنے عماربن سعدسے روایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ)عثمان بن ارزق ہم لوگوں کے پاس جمعہ کے دن مسجد میں آئے امام خطبہ پڑھ رہاتھاپس انھوں نے آگے آنے میں کمی کی اور وہیں مسجد میں بیٹھ گئے ہم لوگوں نے ان سے کہاآپ پراللہ رحم کرے اگرآپ ہم لوگوں تک پہنچ جاتے توآپ کو بہت مناسب تھاانھوں نے کہا میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو سناہے کہ خروج امام کے بعد(یعنی امام جب مسجد میں اپنی جگہ پر پہنچ جائے)جوشخص آدمیوں کو نانگھےپھاندے یا آدمیوں میں تفرقہ ڈالدے (یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے)وہ مثل اس شخص کے ہوگا جو دوزخ میں اپنی انتڑیوں کو کھینچے گا ان کا تذکرہ ابوموسیٰ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
مخزومی ہیں۔ہم کوابوالفرح بن ابی الرجانے اپنی سند کے ساتھ احمد بن عمربن ضحاک سے نقل کرکے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن علی نےبیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے عطاف بن خالد مخزومی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن عثمان بن ارقم نے اپنے داداعثمان بن ارقم سے روایت کرکے بیان کیاکہ میں (ایک روز)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہواآپ نے مجھ سے فرمایاکہ کہاں(جانے)کاارادہ رکھتے ہو میں نے عرض کیا کہ بیت المقدس کا ارادہ کرتاہوں آپ نے فرمایاکیاسوداگری کے ارادے سے وہاں جاتے ہو میں نے کہانہیں لیکن یارسول اللہ میراارادہ ہے کہ اس میں نمازپڑھوں آپ نے فرمایا کہ اس مسجد میں ایک نمازہزارنمازوں سے بہترہے پھربیت المقدس کاکوئی کیوں ارادہ کرے اس کو ابن عفیرنے عطاف بن خالد مخزومی سے انھوں نے عبداللہ بن عثمان بن ارقم سے انھوں نے اپنے دادا ارقم سے روای۔۔۔
مزید
جہنی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدمیں آئے تھے(پہلے ) ان کانام عبدالعزٰی تھااس کورسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے بدل دیا۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بعض نے ان کا نام عسامہ بیان کیاہےابوبشیربن عثامہ بن قیس ازدی نے عبداللہ بن سفیان ازدی سے روایت کی ہے یہ دونوں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوشخص اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھتاہے اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ کی آگ سے بقدر سوبرس کی مسافت کے دورکردےگا۔عبداللہ بن سفیان نے کہاہے کہ میں تم سے وہی بیان کرتاہوں جو میں نے سناہے عثامہ سے بلال بن ابی بلال نے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ ہم ابراہیم سے زیادہ شک۱؎ کرنے کے حقدارہیں اور اللہ تعالیٰ حضرت لوط پر رحم کرے کہ وہ رکن شدید ۲؎کی طرف پناہ ڈھونڈتے تھےان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ۱؎اشارہ ہے ان آیات قرآنی کی طرف کہ حضرت ابراہیم نے ایک مرتبہ عرض کیاتھاکہ میرے پروردگارمجھے دکھادےکہ تومردوں کوکس طرح زندہ کرتاہے اللہ نے فرمایا کیاتم ایمان نہیں لائے حض۔۔۔
مزید