بدھ , 05 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 22 April,2026

پسنديدہ شخصيات

فاضل گرامی مولانا محمد ایوب عالم رضوی بنگالی

مدرس دارالعلوم منظر اسلام بریلی شریف ولادت حضرت مولاننا محمد ایوب عالم رجوی ۱۸؍مارچ ۱۹۶۲ء کو علاقہ اسلام پور موضع پانچ ڈیمٹھی کالو بستی دینا جپور بنگال میں پیدا ہوئے۔ یہ علاقہ ایک تاریخی علاقہ ہے۔ اہل علم کی کثرت ہے۔ علمی مذہبی اور دینی ماحول ہے۔ مولانا ایوب عالم رضوی کی پرورش والدین کریمین کے سایہ عاطفت میں ہوئی۔ مولانا ایوب عالم نسبتاً شیخ ہیں، ذریعہ معاش کاشنکاری اور تدریس ہے۔ خاندانی حالات مولانا ایوب عالم کے دادا نہایت سادہ طبیعت اور نیک سیرت پنج وقتہ نمازی تھے مسجد میں پانچوں وقت کی اذان بھی دیا کرتےتھے اور والد ماجد اہل علم میں سے ہیں۔ علماء درس وتدریس کی خدمات کبھی انجام دیں۔ اور امامت کے فرائض بھی انجام دیئے۔ فی الوقت ضعف ونقاہت کی وجہ سے گھر ہی میں رہتے ہیں اور ذکر الٰہی ورسولﷺ میں مشغول رہنا مشغلہ ہوگیا ہے۔ تعلیم وتربیت ۔۔۔

مزید

عمدۃ المحققین مولانا بدر الدین احمد رضوی گور کپھوری

شیخ الحدیث مدرسہ غوثیہ بڑھیا کھنڈ سری بازار بستی ولادت حضرت علامہ مولانا بدر الدین احمد رضوی بن عاشق علی بن احمد حسن بن غلام نبی بن محمدنا در صدیقی ۱۲۴۸ھ ۱۹۲۹ء موضع حمید پور ضلع گور کھپور میں پیدا ہوئے جو روات سے تقریباً دو میل کے فاصلہ پر ہے۔ خاندانی حالات شیخ محمد نادر مرحوم کے آباواجداد وقصبہ یوسف پور محمد آباد ضلع غازی پور (یو۔پی) کے باشندے شاہ کوٹ تحصیل بانس گاؤں ضلع گور کھپور کےنواب سید شاہ عنایت علی مرحوم کے شاہی خاندان سے گہرے روابط اور دیرینہ تعلیقات تھے۔ اسی دیرینہ تعلق کی بناء پر شیخ محمد نادر کے والد ماجد اور چچا سید عنایت علی کی ایک جنگیم ہم میں بحیثیت افسر فوج شریک ہوکر جاں بحق ہوئے۔ اس زمانے میں شیخ محمد نادر کمسن تھے۔ سید عنایت علی نے اپنے ایک جاںن ثار فوجی افسر کی سعادت مند یادگار کو اپنی تربیت وکفالت میں پروان چڑھایا۔ ج۔۔۔

مزید

شاعر اسلام مولانا جابر علی رضوی راز الٰہ آبادی

مقیم محلہ بھاد گنج ھٹیہ الٰہ آباد ولادت بلبل گلشن رضا، شاعر فطر جناب مولانا جابر علی رضوی راز الٰہ آبادی ۱۹۳۰ء کو بہادر گنج ہٹیہ الٰہ آباد میں پیدا ہوئے۔ والد گرامی کا نام حاجی عابد علی شاہ تھا۔ والدین کے سایہ میں پرورش ہوئی۔ خاندانی حالات شاعر اسلام راز الٰہ آبادی علوی النسب ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب حضرت حنفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کا پورا خاندان حضور مفتی اعظم قدس سرہٗ سے بیعت ہے۔ اور خاندان کے بعض افراد جانشین مفتی اعظم علامہ مفتی الشاہ محمد اختررضا خاں ازہری قادری بریلوی دامت برکاتہم القدسیہ سے بیعت ہیں۔ تعلیم وتربیت مولانا راز الٰہ آبادی رضوی کی ابتدائی تعلیم فارسی، عربی، گور کھپور کے مدرسہ میں ہوئی، وہاں سےجب راز الٰہ آبادی تشریف لائے تو اسکول میں داخلہ لیا اور ہندی انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور ساتھ عربی فارسی کی تعلیم۔۔۔

مزید

قاطع نجدیت مولانا محمد حسن علی رضوی

بانی انوارِ رضا اہلسنت میلسی، پاکستان ولادت قاطع کفر و بدعت حضرت مولانا محمد حسن علی رضوی کی ولادت تقسیم ہند اور قیام پاکستان سےکچھ پیشتر ہریانہ شہر ہانسی شریف ضلع حصار نبالہ ڈویژن میں ہوئی۔ جو دہلی سے ۸۰ میل جانب مغرب میں روہتک سے کچھ آگے ہے۔ جہاں تارا گڑھ اجمیر مقدس کے بعد پر تھوی راج کا دوسرا بڑا قلعہ تھا۔جس کو سلطان اسلام شہاب الدین محمد غوری نے فتح کیا تھا۔ یہ شہر اولیاء اللہ کا مرکز و مسکن رہا ہے۔ حضرت باب فرید گنج شکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت خواجہ مسعود علیہ الرحمۃ یہاں بارہ سال رونق افروز رہے۔ قلعہ پر حضرت میراں نعمت اللہ ولی شہید رضی اللہ عنہ کا مزار ہے۔ اور شہر ہانسی کے مغرب میں شمالی ہند کی عظیم درساہ چار قطب آستانہ خواجہ قطب جمال ہے۔ جو حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے اولین و محبوب ترین خلیفہ و مجاز مہر ولایت تھے۔ پاکستان آمد ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا حبیب اللہ بھاگلپوری رحمۃ اللہ

ضلع بھاگل پور صوبہ بہار میں ولادت وئی،درمیات کی تکمیل جامعہ نعیمیہ مراد آباد کے اساتذہ حضرت مولانا محمد عمر نعیمی ونیرہ سے کی،حضرت صدر الافاضل مولانا سید نعیم الدین علیہ الرحمۃ سے کسب علوم کیا،اور فخر العارفین حضرت مولانا الحاج سید شاہ محمد مختار اشرف سجادہ نشین کچھوچھہ شریف سے مرید ہوئے، تدریس کی ابتداء جامعہ نسیمیہ سے کی،اب اس کے صدر مدرس،مفتی اور روحِ رواں ہیں، ابلاغ نظر،تبحر علم میں اپنے معاصرین میں خاص مقام پایا ہے،کثرت سے جزئیات فقہ ازبریں،عمر ۵۵اور ۶۰کے درمیان ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا شاہ حامد اشرف کچھوچھوی رحمۃ اللہ

شیخ المشائخ مخدوم شاہ علی حسین اشرفی میاں سرکار کچھوچھہ شریف کے فرزند اصغر قدوۃ الاصفیا حضرت مولانا سید شاہ مصطفیٰ اشرف مدظلہٗ العالی کے چھوٹے بیٹے، علوم اسلامیہ کے فاضل،دار العلوم اشرفیہ مبارک پور کے اساتذہ سے تکمیل درمیات کی دس برس تک وہیں درس دیا،تین سال ہوئے کہ بمبئی کے دار العلوم اہل سنّت کے صدر مدرس کی حیثیت سے بمبئی رونق افروز ہیں،والد ماجد سے بیعت واجازت حاصل ہے،اوصاف میں اپنے بزرگوں کے مظہر کامل ہیں،درس کے علاوہ اوقات طاعات وعبادات سے معمور رہتے ہیں،متواضع،خلیق ، ہمدرد خلائق ہیں،خداوند قدوس آپ کا سایہ تادیر قائم رکھے،آمین۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا خلیل الرحمٰن رامپوری علیہ الرحمۃ

شہر دربھنگہ سے دور،اتروکچھم جانب کوردنی، بھپوری وہ بستیاں ہیں، جو ایک ساتھ بولی جاتی ہیں،صاحب ترجمہ بھپورہ کے ساکن تھے،اپنی بغی کے ضرب وجوار میں فارسی عربی پڑھی،مدرسہ عالیہ رام پور سے علوم متعارفہ کی تکمیل کی، مولوی محمد طیب عرب التوفی ۱۳۲۳؁ھ، مولانا فضل حق رامپوری المتوفی ۱۹۴۰؁ھ نامور اساتذہ کی شاگردی میں کئی سال رہے،مولوی محمد شاہ محدث رام پور ی المتوفی ۱۳۲۸؁ھ سے حدیث پاک پڑھی،مدرسہ شمس العلوم بد ایوں (قائم کردہ حضرت شہید مرحوم مولانا حکیم عبد القیوم بد ایونی) اور رام پور کی عربی درسگاہ مدرسہ انوار العلوم میں مدرس اوّل رہے،جامعہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ صوبہ بہار میں مدرس ہوئے،جب مدرہ گورنمنٹ صوبہ بہار کے تحت آیا،سینیر مدرس مدرس قرار دیئے گئے،بعدہ پرسنپل کے عہدہ سے ریٹائرڈ ہوکر وطن میں رہے اور وہیں ۱۳۷۰؁ھ میں فوت ہوئے،ہدایہ توضیح و تلویح اور حمداللہ کا درس صوبہ بھ۔۔۔

مزید

سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ

بن عبد سعد بن عامر بن عدی بن مجدعۃ بن حارثہ بن حارث الانصاری حارثی: غزوہ اُحد میں مع اپنے بیٹے تمیم بن معبد کے شریک تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔سیّدنا معبد رضی اللہ عنہ بن قیس بن صخر اور ایک روایت میں معبد بن وہب بن قیس صخر آیا ہے۔ ایک روایت میں معبد بن قیس بن صیفی بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: یہ غزوۂ بدر میں شریک تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابنِ اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر ان کا نسب یوں بیان کیا ہے: معبد بن قیس بن صخر بن حرام بن ربیعہ بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ۔ ان کے بھائی کا نام عبد اللہ تھا۔ اس روایت کے رو سے معبد غزوۂ احد میں بھی شریک تھے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا ریحان حسین رام پوری علیہ الرحمۃ

حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے صاحبزادے محلہ کھاری کنواں رام پور میں ۱۳۰۰؁ھ میں پیدا ہوئے،والد کے شاگردوں مریدوں مولانا شاہ سلامت اللہ رام پوری،مولانا عبد الغفار خاں رام پوری وغیرہ سے کسب علوم کیا۔ ۔۔۔

مزید

معمار ملت مولانا شبیہہ القادری رضوی

پرنسپل غوث الوریٰ کالج سیوان بہار ولادت حضرت علامہ مولانا شبیہہ القادری رضوی بن محمد منظور عالم بن شتاب علی کی ولادت ان کی ننہال موضع کٹیائی ضلع مظفر پور (بہار) میں ۱۵؍جولائی ۱۹۸۳ء بروز دو شنبہ بوقت پانچ بجے صبح ہوئی۔ آپ کے دادا موضع پوکھریرا ضلع سیتا مڑھی کے اچھے زمیندار اور کم و بیش تین سوا یکڑ آراضی کے کاشتکار تھے۔ مزاج بہت مخیر تھا۔ اس لیے مساجد، عید گاہ ہیں وغیرہ علاقہ وجوار میں بنوائیں۔ مولانا شبیہہ القادری کے والد ماجد بھی اپ نے والد کے نقش قدم پر چلے اور ہمیشہ غیر جانبداری کو پیش نظر رکھا۔ آپ کٹائی سے آکر موضع پوکھریرا سیتا مڑھی میں مقیم ہوگئے۔ اس موضع میں مدرسہ نور نور الہدیٰ (جودارالعلوم منظر اسلام بریلی کی معاصر ہے) میں مولانا شبیہہ القادری کے جد امجد نے چند ایکڑ زمین بھی وقف کی تھی۔ تسمیہ خوانی غالباً پانچ سال کی عمر میں مولانا۔۔۔

مزید