جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

والدِ حکیم: ایک روایت میں ابن ابی حکیم اور ایک میں حکیم بن ابی یزید ہے۔ علی بن عاصم نے عطاء بن سائب سے، انہوں نے حکیم بن یزید سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لوگوں کو نیکی کی دعوت دو، اس طرح لوگ ایک دوسرے سے اچھا اثر لیتے ہیں۔ اور جب کوئی آدمی مشورہ کرے، تو اسے اچھا مشورہ دو۔ نیز ہمام بن یحییٰ، وہیب بن خالد اور ایک جماعت نے عطاء بن سائب سے اسی طرح روایت کی تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

بن عبد یا یسار بن عمرو یا ابن عبد اشہر: وہ بنو لحیان بن ہذیل سے تھے۔ کنیت ابو عزہ تھی۔ بصری تھے۔ ان سے ابو المیلح ہذلی نے روایت کی۔ نضر بن شمیل نے عبد اللہ بن حمید سے انہوں نے ابو عزہ یسار بن عبد سے، جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے تھے، روایت کی، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں۔ جنہیں خدا کے بغیر کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے ’’اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ‘‘ آیت پڑھی تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن حمزہ بن عوف: اپنے والد کی معیت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی ان کی حدیث کے راوی ان کی اولاد ہی ہے۔ ہاشم بن یزید بن حمزہ نے اپنے والد حمزہ سے روایت کی کہ وہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور میں اور خزیم ان کے ساتھ تھے۔ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

مولی فضالہ بن ہلال: انہیں اور فضالہ کو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابو عمر نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ انہوں نے یسار کو (یسار بن سوید نہ) فضالہ کا مولی لکھا ہے۔ لیکن ابن مندہ اور ابو نعیم دونوں نے یسار کو فضالہ کا مولی اور مسلم کا والد اور سوید کا بیٹا قرار دیا ہے۔ اور دونوں نے عبد اللہ بن موسیٰ علوی کی حدیث جو انہوں نے عبد اللہ بن مسلم بن یسار سے، انہوں نے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی بیان کی، کہ وہ اپنے آقا فضالہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں موجود تھے، کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، نماز، نماز، خواتین، خواتین۔ جس کا مطلب یہ تھا۔ کہ دونوں کی حیثیت برابر ہے واللہ اعلم۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن حوثرہ انصاری: بقول ابن کلبی وہ احد میں اور صفیں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

ابو فکیمہ، جو صفوان بن امیہ کے مولی تھے۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جناب عمار، ابو فکیمہ یسار اور اس قسم کی مفلس لوگوں کے ساتھ مل بیٹھتے، تو کفارِ قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی اڑایا کرتے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن خالد العصری: ابو بکر بن مردویہ نے ان کا ذکر کیا ہے، اور باسنادہ سعید بن عبد الرحمٰن بن یزید بن خالد العصری سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے جان بوجھ کر مجھ سے جھوٹ کو منسوب کیا، اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یزید رضی اللہ عنہ

بن خدارہ بن سبیع: ابن ابو علی نے ان کا ذکر کیا ہے۔ اور باسنادہ موسیٰ بن عقبہ سے انہوں نے زہری سے بہ سلسلۂ شرکائے غزوۂ بہ معیت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (غزوہ کا نام مذکور نہیں) یزید بن خدارہ بن سبیع کا ذکر کیا ہے جعفر کا قول ہے، کہ یزید بن جذام بن سبیع بن خنساء بن سنان بن عبید بن عدی بن غنم بن کعب بن سلمہ، غزوۂ بدر اور بیعت عقبہ ثالثہ میں موجود تھے، اور ستر کے گروہ میں شامل تھے۔ ابن اسحاق نے انہیں ان لوگوں میں شامل کیا ہے، جو عقبہ ثانی میں موجود تھے۔ ان کا ذکر گزر چکا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

یہ صحابی محمد بن اسحاق صاحب المغازی کے دادا تھے۔ جعفر بن عبد الواحد سے مروی ہے کہ ان سے محمد بن اسحاق بن کثیر بن یسار نے بیان کیا، کہ ان سے کرامہ دخترِ محمد بن اسحاق بن یسار نے اپنے والد محمد سے، انہون نے اپنے والد اسحاق سے انہوں نے یسار سے روایت کی، کہ انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا، اور دعا فرمائی۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا یسار رضی اللہ عنہ

مولی عمرو بن عمیر ثقفی: یہ طائف سے نکل کر حضور کے پاس آگئے تھے۔ اور آپ نے آزاد فرما دیا تھا ان کے نوے یا ستر بچے تھے۔ بہ مقام سرف بنو تمیم اور بنو عقیل میں شادی کی تھی۔ اور حجاج بن یوسف کی سرکار میں ملازم رہے تھے۔ یہ جعفر کا بیان ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید