ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا معن رضی اللہ عنہ

بن یزید بن اخنس بن حبیب بن جرہ بن رغب بن مالک بن خفاف بن امرؤ القیس بن بہشہ بن سلیم السلمی: معن ان کے والد اور دادا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ ان کی کنیت ابو یزید تھی۔ یزید بن حبیب کا قول ہے کہ معن اپنے والد اور دادا کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک تھے ابو عمر کہتے تھے کہ ان کی یا ان کے والد اور ان کے دادا کی شرکت کی روایت درست نہیں ہے بلکہ اس سلسلے میں صحیح روایت ابو الجویریہ کی ہے جو ابو الفضل بن ابو الحسن طبری فقیہ نے ابویعلی موصلی سے انہوں نے عبد الاعلی بن حماد اور عبد الرحمان بن سلام سے انہوں نے ابو عوانہ سے انہوں نے ابو الجویریہ سے انہوں نے معن بن زید سے روایت کی، کہ انہوں نے اور ان کے والد اور دادا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ مَیں نے حضور کی خدمت میں اپنی خستہ حالی کی شکایت کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری امداد فرمائی۔ پھر مَیں نے نکاح کی خو۔۔۔

مزید

سیّدنا ہرم رضی اللہ عنہ

بن قطبۃ الفزاری: یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے عیینہ رضی اللہ عنہ بن حصن کو فتنۂ ارتداد کے دوران ثابت قدم رہنے کا مشورہ دیا تھا وشمیہ نے ابن اسحاق سے یہ قول بیان کیا ہے جسے ابن الدباغ نے ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا معن رضی اللہ عنہ

بن یزید الخفاجی: خفاجہ سے مراد ابنِ عمرو بن عقیل بن کعب بن عامر بن صعصعہ ہے۔ عقبہ بن نافع انصاری سے مروی ہے کہ وہ ایک جنگی مہم میں عمر صائفہ کے ساتھ تھے اور معن بن یزید الخفاجی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جب ہم دشمن کے علاقے میں پہنچے تو ہم نے وہاں پڑاؤ کیا۔ اس پر معن بن یزید کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہنے لگے: اے لوگو! ہم بکریاں، کھانے کی چیزیں اور اسی طرح کی اور اشیاء تقسیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جو چیز آپ کو پسند ہے، وہ اٹھا لیجیے۔ ہماری طرف سے اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہَرم رضی اللہ عنہ

بن مسعدہ: ابو حفص بن شاہیم نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے اور باسنادہ ہشام بن محمد سے انہوں نے ابو التقب العبی سے روایت کی کہ بنو عبس کے نو آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہ صورت وفد حاضر ہوئے ان میں ہرم بن مسعدہ بھی شامل تھے ان سب نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے ابو موسیٰ نے ہدم رضی اللہ عنہ کے ترجمے میں ان کا ذکر کرنے کے بعد دوبارہ ہرم کے تحت بھی ان کا ذکر کیا ہے جو غلط ہے کیونکہ ابن ماکولا نے جو اس فن کے امام ہین ان کا نام ہدم ہی لکھا ہے نیز ہشام بن محمد الکبی نے الجہرہ میں ہدم ہی تحریر کیا ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصحیف ہے۔ واللہ اعلم۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہزال رضی اللہ عنہ

بیعت رضوان میں شریک تھے معاویہ بن قرہ نے ان سے روایت کی انہوں نے کہا تم لوگ بعض اوقات ایسے گناہ کر بیٹھے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے بھی باریک ہوتے ہیں حالانکہ ہم انہیں گناہوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہلاکت انگیز گردانتے تھے ابو عمر نے نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان سے اس کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی گئی۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہزال رضی اللہ عنہ

بن مرہ اشجعی: ازرق نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے ابو عمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہزال رضی اللہ عنہ

بن ذماب بن یزید بن کلیب بن عامر بن خزیمہ بن مازن بن حارث بن سلاماں بن اسلم بن افصی الاسلمی: ابو عمر نے ان کا نسب اسی طرح بیان کیا ہے ابن مندہ اور ابو نعیم کے مطابق ان کا نسب یوں ہے! ’’ہزال بن یزید الاسلمی‘‘ شعہ نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے ابن ہزال سے انہوں نے اپنے والد ہزال سے روایت کی کہ جس دن ہم نے ماعز کو رجم کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم ماعز کی میت کو اپنے کپڑے ہی سے ڈھانپ دیتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ یحییٰ بن ابی کثیر نے ابی سلمہ سے انہوں نے نعیم بن ہزال سے روایت کی کہ ہزال کے پاس ایک لونڈیا تھی جوان کی بکریاں چراتی تھی ماعز نے اس سے جماع کیا تو ہزال نے اسے فریب دیا اور کہا آؤ تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلیں آپ کو اصل واقعہ بتائیں، شاید قرآن کا کوئی حکم نازل ہو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ بیان کی۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن جیش بن خالد بن اشعر یحییٰ بن یونس کہتے ہیں مجھے اس کا علم نہیں کہ آیا انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میسّر آئی یا نہ لیکن ابو حاتم بن حبان کہتے ہیں کہ جناب ہشام کو حضور کی صحبت نصیب ہوئی۔ امام بخاری کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر سے سماع کیا اور یہ سب کچھ جعفر المتغفری کا بیان ہے۔ عبد اللہ بن یزداد نے ابو ادریس سے انہوں نے حزام بن ہشام بن حبیش بن اشعر نے اپنے والد سے سنا کہ ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وادی میں ایک بادل کو آتے دیکھا تو فرمایا کہ یہ بادل نصر بن کعب کی بستی پر برسے گا۔ ایک روایت میں ہے کہ اشعر بنو حزام کا لقب ہے ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصر بن کعب کا نام اس وقت لیا تھا جب عمرو بن سالم الخزاعی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اہل مکّہ کی شکایت کی تھی اس کا ذکر ہم عمرو بن سالم کے ترجمے میں کر آئے ہیں ابو نعی۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن ابو حذیفہ: اور ابو حزیفہ کا نام مہشم بن مغیرہ مخزومی تھا اور ان کی والدہ ام حزیفہ اسد بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم کی دختر تھیں اور جنابِ ہشام مہاجرین حبشہ سے تھے اور ان لوگوں کے ساتھ واپس مدینہ آئے تھے جو حبشہ سے دو کشتیوں میں سوار ہوکر آئے تھے۔ ابو جعفر نے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ مہاجرین حبشہ از بنو مخزوم، ان کا نام ہشام بن ابی حذیفہ لکھا ہے۔ واقدی نے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے لیکن انہوں نے ان کا نام ہاشم بن ابو حزیفہ تحریر کیا ہے(جو دہم ہے) زبیر نے ان کا نام ہشام لکھا ہے اور مہاجرین حبشہ میں شمار کیا ہے لیکن موسیٰ بن عقبہ اور ابو معشر نے انہیں مہاجرین حبشہ میں شمار نہیں کیا تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا ہشام رضی اللہ عنہ

بن حکیم بن حزام بن خویلہ بن اسد بن عبد العزی میں قصی، قرشی اسدی حضرت خدیجہ الکبریٰ ان کے والد کی پھوپھی تھیں بقول ابو عمر وہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے اور اپنے والد سے پہلے وفات پاگئے ابن مندہ کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام مخزومی بن خویلدہ کا نام ملیکہ دختر مالک از بنو حارث بن فہر مذکور ہے ان کی وفات اپنے والس سے پہلے ہوئی اور بروایتے وہ جنگ اجنادین میں شہید ہوئے تھے عیاض بن غنم کے ساتھ انہیں جو واقعہ پیش آتا تھا وہ ہم عیاض کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں وہ ان لوگوں میں سے تھے جو او امر کا حکم دیتے اور نواہی سے روکتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے جب کسی نا پسندیدہ کام کا ذکر ہوتا تو فرماتے جب تک میں اور ہشام زندہ ہیں ایسی بات نہیں ہوسکتی۔ ابراہیم بن محمد فقیہ وغیرہ نے باسنادہ ہم ابو عیسیٰ ترمذی سے بیان کیا کہ ہم سے حسن بن علی کے علاوہ اور کئی لوگوں نے بیان کیا کہ ان سے عبد الرزاق نے ۔۔۔

مزید