پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ یوسف المشہور بہ شاہ جوسی چشتی قدس سرہ

آپ حضرت فرید شکر گنج قدس سرہ کی اولاد میں سے تھے شیخ یوسف بن شیخ محیط الدین المعروف شاہ حیط بن شخ الدین المشہور شاہ شیخو بن شمس الدین بن نصیر الدین بن بدر الدین سلیمان بن حضرت فرید الحق والدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔ آپ کو کرامات تو ورثہ میں ملی تھیں آپ راہ سلوک میں اپنے والد کے قدم قدم پر گامزن  ہؤےآپ نے ابتدائی عمر اجودہن(پاک پتن) میں گزاری بڑے مجاہدے اور ریاضتیں کیں ایک دن غیبی آواز آئی یوسف بیت اللہ کو روانہ ہونے کی تیاری کرو اور حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت کا شرف حاصل کر و آپ یہ حکم پاتے ہی تین بھائیوں کو ساتھ لے کر خشکی کے راستہ دیار حبیب کو روانہ ہوئے ادائے حج ادا کرنے کے بعد حضور کے روضہ اطہر پر حاضری دی وہاں سے اجازت پاکر قلعہ امیر کی طرف روانہ ہوئے وہاں کے والی عادل شاہ(حکمران خاندیس) نے آپ کا بڑھ کر استقبال کیا اور بڑی مسرّت کا اظہار کیا آپ عادل شا۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ مالک زادہ احمد

خواجہ مالک زادہ احمد رحمۃ اللہ علیہ آپ شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے معتقد تھے، عشق و محبت کی وجہ سے فنا فی الشیخ ہوگئے، معارج الولایت کے مصنف نے جوامع الکلم سے نقل کیا ہے کہ وہ ایسے بزرگ تھے جنہوں نے شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی سے ظاہری بیعت نہیں کی لوگوں نے پوچھا آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا فرمایا مجھے یہ طاقت نہیں ہے کہ میں شیخ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھوں، آپ کے سامنے کھانا لایا جاتا تو آپ اسے دیکھتے رہتے اور کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھاتے کہتے جب تک میں اپنے پیر کی زیارت نہ کرلوں میرے لیے کھانا حرام ہے اُٹھ کر اپنے پیر کی طرف جاتے زیارت کرتے پھر کچھ کھاتے پیتے زندگی کے آخری حصے میں خشکی کی وجہ سے بیمار ہوگئے ناک سے خون بہنے لگا اور وہ گلے میں ٹپکنے لگا، اگر کوئی خون کا قطرہ زمین پر گرتا تو آپ کے پیر کا نام لکھا جاتا، دوستوں کو پتہ چلا  تو یہ واقعہ شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی کے سامنے بیان کیا گ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ دانیال چشتی

آپ حضرت نصیرالدین محمود چراغ دہلوی کے خلیفہ خاص تھے۔ آپ کا لقب مولانا عود تھا چند واسطوں سے حضرت عباس بن علی کرم اللہ وجہہ سے سلسلسہ نسبت ملتا تھا۔ شیخ دانیال بن میر  بدرالدین بن فضل بن حسن بن عبداللہ بن عباس  بن علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ، آپ کے آباو اجداد کو اللہ تعالیٰ نے بڑی لمبی عمریں دی تھیں، آپ کے والد میر بدرالدین ایک سو بیالیس سال میں فوت ہوئے تھے۔ حضرت شیخ دانیال کے آباواجداد میں سے سب سے پہلے بزرگ آپ کے والد مکرم ہی تھے۔ جو غیاث الدین بلبیں کے عہد اقتدار میں ہندوستان آئے اور بمقام سترکہ قیام فرمایا، شیخ دانیال یہاں آکر پیدا ہوئے تھے۔ ہوش سنبھالا تو قصبہ سامامہ میں چلے گئے اور قاضی عبدالکریم کے زیر تربیت ظاہری علوم حاصل کیے، چونکہ علمی اور اخلاقی اعتبار سے حضرت دانیال بڑے ہونہار اور ذہین تھے، قاضی عبدالکریم نے آپ کو اپنی فرزندی دامادی میں قبول کرلیا، آپ تلاش حق میں نکلے۔۔۔

مزید

حضرت مولانا فخر الدین زرادی

آپ نظام الدین اولیا بدایونی قدس سرہ کے خلیفہ خاص اور جلیس خاص الخاص تھے، آپ ظاہری اور  باطنی علوم میں جامع اور مانع بزرگ تھے ورع، تقویٰ اور ذوق و شوق وجد و سماع میں بے مثال تھے، فقہ حدیث تفسیر کے علاوہ دینی علوم کے مخٹلف شعبوں میں باکمال تھے ابتدائی عمر میں مولانا فخرالدین ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ سے دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ تحصیل علوم سے فارغ ہوئے تو عملی زندگی میں قدم رکھا، آپ خوش طبع تھے خوش کلام تھے اور خوش بیان تھے تقریر و تحریر میں یکتائے زمانہ تھے فصاحت و بلاغت کے امام مانے جاتے تھے۔ شعر و سخن میں لطافت کا یہ عالم تھا کہ شاعران وقت میں ممتاز تھے جب آپ پر غلبہ جذب آیا، تو کشاں کشاں حضرت سلطان المشائخ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے، کئی بار حضرت خواجہ معین الدین رحمۃ اللہ علیہ کے روضہ عالیہ کی زیارت کو گئے، وہاں سے خواجہ فریدالملت والدین کے روضہ کی زیارت کے لیے پاک پتن جاتے تھے آپ کا زیادہ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ ضیاء الدین نخشبی

آپ سلطان التارکین حضرت خواجہ حمیدالدین صوفی قدس سرہ کے خلیفہ  اور مرید تھے، آپ کا ہندوستان کے مشہور اولیاء اللہ میں شمار ہوتا تھا۔ آپ شہر بدایوں میں خلوت  گزیں ہوئے۔ اور عام لوگوں کی مجالس سے دور رہتے تھے کسی کے عقیدہ یا افکار سے کوئی سرو کار نہ تھا، آپ بڑے صاحبِ تصانیف تھے سلک السلوک ،عشرہ مبشرہ، کلیات بخشی، جزئیات بخشی، شرح دعائے سریانی، طوطی نامہ چلپی مشہور زمانہ کتابیں آپ کے قلم کا شاہکار ہیں، آپ کے رنگین قطعات اور دلچسپ اشعار مجالس اہل ذوق کی رونق ہوتے تھے، آپ نے فرمایا: نخشبی خیز با زمانہ بساز عاقلان زمانہ میگویند   ورنہ خود را نشانہ باختن است عاقلی با زمانہ ساختن است آپ کی وفات ۷۵۱ھ میں ہوئی تھی۔ چوں ضیاء الدین ز عالم رخت بست سال وصل آج ولی نخشبی واقف اسرار اہل اسلام! ۷۵۱ھ نیز مرشد ہادی عالم ولی ۷۵۱ھ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ کمال الدین علامہ

آپ حضرت نصیرالدین محمود چراغ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ اعظم تھے اور آپ کے خواہر زادہ بھی تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے چونکہ آپ علوم حدیث، فقہ، اصول فقہ میں یگانۂ روزگار تھے اس لیے آپ کو علامہ کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا خرقۂ خلافت حاصل کرنے کے بعد آپ احمد آباد گجرات تشریف لے گئے جہاں آپ کو بڑی شہرت ملی آپ کی اولاد اور خلفا آج تک احمد آباد میں موجود ہیں۔ مولانا کمال الدین رحمۃ اللہ علیہ شجرۃ الانوار اور شجرۂ چشتیہ کی تحقیق کے مطابق ۷۵۶ھ میں فوت ہوئے تھے۔ یہ سانحۂ حضرت شیخ نصیرالدین کی رحلت سے ایک سال پہلے ہوا تھا۔ چوں کمال الدین ولی باصفا رفت از دنیا بفردوس بریں رحمت حق گو وصال پاک او ہم سفر با متقی اہلِ یقین ۷۵۶ھ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ صدر الدین حکیم

آپ شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی قدس سرہ کے خلیفہ اعظم تھے حضرت سلطان المشائخ کے منظور نظر تھے، آپ کے والد ماجد ایک بہت بڑے تاجر تھے، مگر حضرت نظام الدین محبوب الٰہی کے عقیدت مند تھے، بڑھاپا آگیا، مگر آپ کے ہاں اولاد نہ ہوئی، آپ اولاد کی محرومی کو اکثر محسوس کرتے تھے،  ایک دن  حضرت خواجہ نظام الدین حالت وجد میں تھے کہ آپ نے اولاد کے لیے سوال کردیا، حضرت شیخ نے اپنی پشت ان کی پشت سے لگادی، اور خوشخبری دی کہ اللہ تمہیں بیٹا دے گا ان کی منکوحہ بھی ضعیف ہوچکی تھی، مگر قدرت خداوندی سے اسی رات حاملہ ہوئی اور نو ماہ بعد اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا، جس کا نام صدرالدین رکھا گیا، والد نومولود کو اٹھا کر حضرت کی خدمت میں لے گیا، آپ نے اٹھایا گود میں بٹھایا، چہرے سے کپڑا ہٹایا اور اپنے ہاتھ سے خرقہ تیار کرکے پہنایا، اور شیخ نصیرالدین کی گود میں دے کر کہا کہ ا س بچے کی ظاہری باطنی تعلیم و تربیت میں پو۔۔۔

مزید

حضرت شیخ قطب الدین منور

آپ خواجہ نظام الدین اولیاء اللہ کے خاص خلیفہ تھے تجرید و تفرید میں یگانۂ روزگار تھے۔ ساری عمر خلوت میں گزار دی، اپنی مرضی سے حجرے سے ایک قدم بھی باہر نہیں رکھا اور کسی دنیا دار کے گھر نہیں گئے آپ کے والد برہان الدین بن شیخ جمال الدین  ہانسوی قدس سرہما تھے، بچپن میں والد کے انتقال کے بعد خواجہ فرید شکر گنج کی خدمت میں حاضر ہوئے، ظاہری و باطنی تعلیم حضرت خواجہ نظام الدین محبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی، آپ ہر سال ہانسی سے دہلی آتے اور حضرت محبو ب الٰہی کی صحبت میں رہ کر تربیت پاتے۔ ایک بار سلطان محمد تغلق نے قاضی کمال الدین حیدر جہاں کو حضرت شیخ قطب الدین کی خدمت میں ہانسی بھیجا، اور ساتھ ہی چند مواضعات کی ملکیت کے کاغذات بھی بھیجے۔ اس کی خواہش تھی کہ پہلے آپ کو دنیاوی لالچ میں دے کر زیر کرے پھر شاہی عتاب سے سرنگوں کرے کیونکہ یہ بادشاہ درویشوں اور فقراء کے خلاف تھا قاضی کمال الدین۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علاؤالدین نیلی

آپ اودھ کے عالمِ اجل  تھے آپ کا ظاہری اور باطنی مزاج عالمانہ تھا لیکن صوفیانہ طرزِ ندگی کو اپنائے رکھتے تھے۔ اگرچہ آپ کو حضرت سلطان المشائخ سے خرقۂ خلافت  و اجازت ملا تھا، لیکن کسی کو بیعت نہیں کیا کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے اگر میرے پیر و مرشد زندہ ہوتے تو میں یہ اجازت نامہ انہیں  واپس کردیتا، کیونکہ  مجھ جیسے ناکارہ آدمی سے اتنی عظیم ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی۔ میر حسن علائی سنجری کی کتاب فوائد الفوائد جو حضرت خواجہ نظام الدین کے ملفوضات پر مشتمل ہے اپنے قلم سے لکھ کر ہمیشہ اپنے پاس رکھتے تھے اور  دن رات مطالعہ کرتے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ تصوف، فقہ، حدیث اور تفسیر کی ہزاروں کتابیں آپ کے پاس موجود ہیں، مگر آپ سوائے فوائد الفواد کے کسی میں دلچسپی نہیں لیتے اور اسے تعویذ بناکر پاس رکھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سلوک کی کتابوں سے سارا جہاں بھرا پڑا ہے مگر میرے پیر و مرشد ک۔۔۔

مزید

حضرت شیخ سراج الدین چشتی

آپ چشتیہ  سلسلہ کے مشہور مشائخ میں شمار ہوتے ہیں آپ نے سلسلہ سہروردیہ سے بھی فیض پایا تھا زاہد۔ متقی۔ عاشق۔ بعشق الٰہی دنیا داری سے کوئی واسطہ نہ تھا روزی کے معاملہ میں بڑے محتاط تھے حلال کا رزق حاصل کرنے کے لیے مختصر سی کھیتی باڑی کرلیا کرتے تھے ایک وقت آیا کہ ملک میں بعض حوادثات کی وجہ سے کاشتکاری میں بھی روکاوٹ آگئی تو بھوک اور فاقہ اختیار کرلیا کئی بار ایسا ہوتا  کہ یوں پورا ہفتہ لقمہ نہ ملتا اگر کوئی کھانا لاتا تو شبہ کی بنا پر دوسروں کو کھلا دیتے اور خود دست  کش رہتے آپ اسی خیال میں آخری دم تک کھانے سے اجتناب کرتے رہے۔ ایک بار آپ نے اپنے گھر کھانا تیار کرایا جب کھا  چکے تو فرمانے لگے کہ آج مجھے اس  کھانے  سے بوجھ اور کدورت محسوس ہوئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کچھ ملاوٹ کی گئی ہے کھانا تیار کرنے والوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ نہایت احتیاط سے کھ۔۔۔

مزید