پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت سیّد تاج الدین شیر سوار

آپ شیخ قطب الدین منور ہانسوی رحمۃ اللہ علیہ کے مشہور خلیفہ اور نامور مرید تھے۔ ہمیشہ زہد و ریاضت میں مصروف رہتے ایک وقت ایسا آیا کہ جنگل کے درندے پرندے و چار پائے اور مویشی آپ کے اشارے پر چلنے لگے۔ جنگل میں چلتے چلتے اگر انہیں اپنے پیر روشن ضمیر کی زیارت کا خیال آتا تو کسی شیر ببر کو پکڑتے اور اُس پر سوار ہوجاتے اور خونخوار سانپ کو اٹھاتے چابک بناکر چل نکلتے اور شہر کو جانکلتے شہر کے قریب پہنچ کر سانپ اور شیر کو شہر کے باہو چھوڑ دیتے اور خود ننگے پاؤں حضرت پیر کی خدمت میں حاضر ہوجاتے ایک دن آپ بے خودی کی حالت میں شیر پر سوار اپنے پیر  کی خدمت میں جا پہنچے، آپ کے پیراس وقت ایک دیوار پر بیٹھے تھے۔ سید تاج  دین کو شیر پر سوار دیکھ کر فرمایا تاج دین شیروں اور حیوانوں کو قابو کرلینا کوئی بڑی بات نہیں ہے اللہ کے بندے تو دیوار کو حکم کریں تو وہ بھی چل پڑتی ہے ابھی تک شیخ قطب الدین کی زب۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علاؤالدین بنگالی

آپ شیخ سراج الدین  رضی عثمان قدس سرہ  کے خلیفہ اعظم تھے۔ ابتدائی زندگی میں بہت خوشحال دنیا دار علماء وقت اور اکابر زمان کی حیثیت سے رہتے تھے مگر جب سلسلہ نظامیہ میں داخل ہوئے تو سب شان و شوکت چھوڑ کر صرف یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے۔ اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ جن دنوں حضرت شیخ سراج الدین رضی حضرت خواجہ محبوب الٰہی سے خرقۂ خلافت پاکر جدا ہونے لگے تو آپ نے آپ کی خدمت میں استدعا  کی کہ یہاں ایک عالم دین اور دانش ور مفکر ہے جس سے ہمیں تاب بحث و مناظرہ نہیں ہے مگر وہ عام طور پر مسائل دینیہ پر گفتگو کرنے آجاتاہے آپ نے فرمایافکر نہ کرو وہ ایک دن آپ کا مرید ہوجائے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ معارج الولایت کے مصنف لکھتے ہیں کہ علاء الدین صحیح النسب قریشی تھے۔ آپ کا نسب نامہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے کہتے ہیں کہ شیخ رضی سراج قدس سرہ کے یہاں آنے سے پہلے بڑے متکبرانہ انداز میں۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم حسام الدین فتح پوری

آپ قاضی عبدالمقتدر کے خلفاء میں سے تھے عرفانی اوصاف سے موصوف تھے۔ کشف و کرامت میں معروف تھے۔ صاحبِ معارج الولایت لکھتے ہیں کہ حسام الدین اولیائے تاجدار اولیائے باوقار میں مانے جاتے تھے، آپ نے اپنی خصوصی توجہ سے بے پناہ مخلوق کی راہنمائی فرمائی، آپ کے خلیفہ شیخ بڈھن چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو بچپن سے ہی تربیت دی اور ظاہری و باطنی کمالات تک پہنچا دیا، کہتے ہیں کہ شیخ بڈھن ابھی چھ سال کی عمر میں تھے کہ آپ کے والد ماجد نے انہیں حضرت شیخ حسام الدین کی خدمت میں پیش کردیا، اور عرض کی حضور میرے کئی بچے بچپن میں ہی فوت ہوگئے ہیں، اس بچے کو میں آپ کی نگرانی میں دیتا ہوں تاکہ یہ طبعی عمر تک پہنچے، آپ نے فرمایا  ان شاء اللہ یہ بہت بڑا پیر بنے گا، باپ نے پھر کہا اگر اس بچے کو تھوڑا سا علم بھی عطا فرما دیا جائے تو میرا دل خوش ہوجائے گا آپ نے فرمایا یہ عالم متبحر ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ، باپ نے عرض کیا۔۔۔

مزید

شیخ فتح اللہ ترین سنبہلی چشتی قدس سرہ

آپ حضرت خواجہ سلیم چشتی کے خلیفہ تھے آپ فتح پور سکیری کے پہاڑ کی چوٹی پر عبادت میں مشغول رہتے تھے ایک دن شیخ سدھاری جو حضرت شیخ اسلیم کے خلیفہ  تھے آپ کو دیکھنے کے لیے پہاڑی کی چوٹی پر گئے چند لمحے بیٹھے تو  شیخ  فتح اللہ نے ہوا  میں اڑنا  شروع کردیا شیخ سدھاری  نے دوڑ  کر آپ کا دامن پکڑا اور کھینچ کر نیچے لائے اور اپنی جگہ پر بیٹھا  دیا۔ آپ نے کہا شیخ سدھاری تم جانتے ہو کہ میں کہاں جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے  معلوم نہیں شیخ فتح اللہ نے بتایا کہ آج میرے پیر و مرشد اسلیم چشتی کی خانقاہ میں بہت سے بزرگ جمع ہوئے تھے حضرت غوثِ اعظم اُس مجلس سے واپس ہوتے ہوئے۔ اس طرف گزرے تھے میں اُن کی خدمت میں حاضری کے لیے آگے بڑھا جب تم نے میرا دامن پکڑا تو حضرت غوث اعظم نے مجھے اجازت دے دی تومیں واپس اپنی جگہ پر آگیا ورنہ میرا دامن تمہارے ہاتھ میں رہتا اور ۔۔۔

مزید

شیخ نظام نار نولی قدس سرہ

آپ  شیخ خانو قدس سرہ کے مریدان پاک اور خلیفہ خاص میں سے تھے گوالیار میں سکونت پذیر رہے اور ہزاروں طالبان حق کو چالیس سال تک روحانی تربیت دیتے  رہے آپ کی توجہ سے بڑی کثیر مخلوق راہ ہدایت پر آئی  سفینۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ شیخ نظام رحمۃ اللہ علیہ ہر سال نارنول  سے پا پیادہ چلتے  اور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پُر انوار پر  جاتے سارے راستے میں آپ پر ذوق اور وجد  طاری  رہتا وہاں سے اجمیر شریف چلے جاتے اور  حضرت خواجہ معین الدین اجمیری  کے بازار کی زیارت کرتے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑی قبولیت بخشی  تھی بڑے بڑے کامل مرید اور ممتاز اولیاء آپ کی تربیت میں رہے آپ کے پیر و مرشد کا نام شیخ خانو گوار پائی تھا۔ وہ خواجہ  حسین ناگوری کے مرید  تھے آپ  کو شیخ اسماعیل بن شیخ حسن سرمست  سے خرقۂ فقر ملا تھا اس۔۔۔

مزید

شیخ مٹہہ کا کرونی قدس سرہ

آپ بڑے کامل درویش  اور مکمل  ولی اللہ تھے حضرت خواجہ معین الدین کے روحانی فیض یافتہ  تھے کہتے ہیں کہ آپ بیس (۲۰) سال تک خواجہ اجمیری کے روضہ منورہ پر جھاڑو دیتے  رہے۔ بیس (۲۰) سال کے بعد  روضۂ منورہ سے آواز سنی کہ اے مٹہہ تم کو ولی کامل بنا دیا  گیا  اور ولایت  کا  کرون تمہارے حوالے کردی گئی ہے اور وہاں کی تمام چیزیں تمہارے تصرّف میں ہوں گی۔ شیخ مٹہہ اجمیر سے اُٹھے تو  کاکرون آگئے ایک خانقاہ بنائی اور لوگوں کی ہدایت میں مشغول  ہوگئے۔ آپ کی وفات ۱۰۰۳ھ ہجری میں ہوئی اور آپ کا  مزار کاکرون میں ہی ہے۔ لذت وصل خدا در خلد یافت مٹہہ پیر باخبر شیرین  کلام از دل سرور وصل پاک او شد عیان والا قدر شیرین کلام وفات: (دس سو  تین ۱۰۰۳ھ ہجری)۔۔۔

مزید

حضرت قاضی سادی چشتی

آپ حضرت شیخ نصیرالدین محمود چراغ دہلی قدس سرہ کے خلیفہ اعظم تھے۔ وقت کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے ۔ نہایت متقی اور متورع تھے۔ ہزاروں لوگ آپ کی توجہ سے ہدایت یافتہ ہوئے۔ خواجہ اختیار الدین عمر ایرچی قدس سرہ آپ کے خلیفہ تھے۔ شجرہ چشتیہ اور دوسرے تذکروں میں آپ کا سال وفات ۸۰۱ھ لکھا گیا ہے۔ معارخ الولایت کے مولف نے ۷۸۹ھ تحریر کیا ہے۔ مگر ہماری تحقیق میں  پہلا قول درست ہےاو ر ہم نے جتنی بھی کتابیں دیکھی ہیں، ان میں سال وصال ۸۰۱ھ ہی دیکھا ہے۔ قاضی سادی کہ مثلش مادر گیتی نزاد شد چو از دارالفنا آں شیخ والا در عدم کن بیان محبوب خالق سال وصل آں دگر ۷۸۹ھ سالک مخدوم وہم مخدوم عالی کن رقم ۸۰۱ھ    ۔۔۔

مزید

مولانا عبداللہ سلطان پوری الانصاری قدس سرہ

آپ بر صغیر کے زبردست علماء کرام اور ولی اللہ تھے چشتی سلسلے میں بیعت تھے۔ شیر شاہ سوری کے زمانہ سے لے کر  شہنشاہ اکبر تک آپ کومخدوم الملک کا خطاب رہا۔ چونکہ شریعت کے عالم اور طریقت کے عارف تھے۔  کفر اور بدعت کے خلاف بڑا کام کرتے تھے اور کلمۂ توحید کے اعلان میں پیش پیش تھے۔ آپ  نے سُنت نبوی کو جاری کرنے میں بڑی جدو  جہد کی حتٰی کہ جن دنوں شہنشاہ  اکبر نے دین الٰہی کا اعلان کیا اور  ملک میں غیر اسلامی رسومات کو رواج دیا پھر اس نے لوگوں کو یہ بھی کہا کہ صبح خوبصورت سورج کو چڑھتے وقت سجدہ کیا جائے اور کلمۂ محمدی کی بجائے لا الہ اللہ ہو اکبر خلیفہ اللہ پڑھا جائے تو مولانا عبد اللہ انصاری رحمۃ اللہ علیہ جہاد کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے آخر بار اکبر نے انہیں حکم دیا کہ وہ میرے ملک سے نکل جائے آپ مسجد میں جا بیٹھے اکبر نے کہا کہ مسجد بھی ہمارے ملک میں ہے یہاں سے بھی باہر&nb۔۔۔

مزید

شیخ اختیار الدین مروانی قدس  سرہ

آپ نظام الدین نار نولی  کے خلیفہ  تھے آپ کا پہلا نام اختیار خان تھا جب جذب الٰہی دامن گیر ہوا  تو آپ اجمیر میں چلے گئے اور  کافی عرصہ حضرت خواجہ اجمیری کے بازار میں پڑے رہے  ایک دن آپ نے حضرت خواجہ اجمیری کو خواب میں دیکھا تو  آپ نے فرمایا کہ تمہارے پیر نار  نول میں ہیں اُن کا  نام  نظام الدین  ہے تم جاؤ  آپ نے حضرت  شیخ نظام الدین کو دیکھا کہ ایک پرانی چار پائی  پر بیٹھے ہیں اورسر جھکا ہوا ہے آپ کے دل میں خیال آیا  کہ جو شخص نیند میں اونگھتا رہتا  ہو  وہ میری اصلاح کیا کرے گا حضرت شیخ نے نورِ باطن سے اختیار الدین کے اس خدشے کو معلوم کیا اور  سر اٹھا  کر  فرمایا کہ آپ کو  حضرت  خواجہ معین الدین نے بھیجا ہے ان کے حکم سے میرے پاس آئے ہو۔ اب ان حالات میں شک  کرنا یا ڈرنا کیا معنی رکھت۔۔۔

مزید

شیخ جلال الدین کاسی چشتی قدس سرہ

آپ کا  نام جلال خان تھا پٹھانوں کے کاسی قبیلہ کے بہت  بڑے رئیس تھے شیر شاہ سوری کے دربار میں اعلیٰ منصب پر فائز تھے سلطنت  افغانان کے زوال کے بعد  مغلوں نے انتقامی کاروائیاں شروع کیں تو  جلال خان کے دل سے دنیا کے جاہ و جلال سے دل اچاٹ ہوگیا اور شاہ محمد چشتی قدس سرہ کی خدمت میں حاضر ہوئے مرید  ہوئے مگر ایک عرصہ  تک فتح کے دروازے نہ کھل پائے ایک عرصہ کے بعد شاہ محمد چشتی نے بتایا کہ آپ کے معاملات شیخ بدرالدین صاحب ولایت کے اختیار میں ہیں۔ وہاں جائیں جلال خاں وہاں پہنچے تو ایک عرصہ تک خانقاہ کی جاروب کشی کرتے رہے فارغ اوقات میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے رات کو مجاہدات اور ریاضت میں گزارتے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا تو ان کے مرشد نے ایک نگاہ سے انہیں منازل سلوک طے کرادئیے مزار اقدس سے آواز آئی جلال بدر الدین۔ بدرالدین جلال۔ اس  طرح آپ کمالات کو پہنچے لوگو۔۔۔

مزید