منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

پسنديدہ شخصيات

شیخ محمد حسن قدس سرہ

آپ حضرت حسن طاہر کے لڑکے تھے بڑے باکمال اور صاحب کرامت بزرگ تھے صحیح حال اور عالی مشرب کے مالک تھے اخبار الاخیار میں لکھا ہے کہ جب آپ اپنے حجرے سے نکل کر باہر آتے جو ہندو یا مسلمان آپ پر نظر ڈالتا بے اختیار اللہ اکبر کہہ اٹھتا وہ علوم حال اور قال میں بڑے باکمال تھے وہ اپنے والد کی نسبت سے سلسلۂ چشتیہ میں وابستہ تھے مگر آپ کو قادریہ سلسلہ سے بھی بڑا فیض ملا تھا کافی عرصہ حضور نبی کریم کی بارگاہ میں  حاضر رہے اور مجاوری کی اسی اثنا میں آپ کو سلسلۂ قادریہ کے بزرگوں کی مجالس نصیب ہوئیں بیعت بھی ہوئے اور خلافت بھی پائی۔ آپ جونپور میں پیدا ہوئے آگرہ میں رہے اور دہلی میں فوت ہوئے کہتے ہیں کہ عصر کے وقت وہ شام کا انتظار کرتے اور اس قدر خوش ہوئے جیسے کوئی اپنے محبوب کے استقبال کو کھڑا ہوا شام ہوتے ہی حجرے میں چلے جاتے دروازہ بند کر دیتے چراغ روشن کرتے اور یاد خداوندی میں مشغول ہوجاتے دن کے وقت۔۔۔

مزید

شاہ عنایت قادری شطاری لاہوری

والد کا نام پیر محمد تھا۔ قوم کے باغبان تھے۔ لاہور سے نقلِ مکانی کر کے قصور جارہے تھے شاہ عنایت بھی قصور ہی پیدا ہوئے۔ یہیں ابتدائی تعلیم و تربیت پائی۔ قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تکمیلِ علوم کے لیے قصور سے نکلے۔ لاہور پہنچ کر حضرت شاہ محمد رضا قادری شطاری لاہوری﷫  کے حلقۂ درس میں شامل ہُوئے۔ استاد کی زبردست شخصیت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہی کے ہاتھ پر سلسلۂ قادریہ کی بیعت کر کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر تکمیلِ سلوک کی اور خرقۂ خلافت سے سرفراز ہوئے۔ پھر مرشد کے حکم کے مطابق قصور آکر ہدایتِ خلق میں مصروف ہوگئے۔ حلقۂ درس بڑا وسیع تھا۔ قرآن و تفسیر، حدیث و فقہ کا درس دیا کرتے تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے استفادہ کیا۔ مرجع خلائق ہونے کے باعث حسین خاں افغان حاکمِ قصور کو آپ کی شہرت و مقبولیت ایک آنکھ نہ بھائی۔ چنانچہ آپ کو قصور سے نکل ج۔۔۔

مزید

مولانا حافظ معموری قادری نوشاہی

مشائخ نوشاہیہ قادریہ میں اپنے فضل و کمال کے باعث بڑے عظیم المرتبت بزرگ گزرے ہیں۔ آپ نہایت بزرگ اور عابد و زاہد صاحبِ شوق تھے۔ ذوقِ وجد و سماع سے بھی معمور تھے۔ حضرت نوشہ گنج بخش صاحب﷫  کے مرید و خلیفہ اور داماد تھے۔ حضرت نوشہ صاحب کی دختر حضرت سائرہ ان کے نکاح میں تھیں۔ آپ کے چار فرزند تھے: ایک شیخ تاج الدین جواہل معرفت کے سر کے تاج تھے اور باطنی فیض شیخ نور محمد﷫  سے پایا۔ خواب میں حضرت ابو بکر صدیق﷜ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ دو دم شیخ ہدایت اللہ صوفی۔ سوم شیخ نظام الدین۔ چہارم شیخ امام الدین[1] جو قلندر مشرب اور آزاد منش تھے۔ ہمیشہ مثنوی مولانا روم کا مطالعہ رکھتے۔ شیخ معموری کی وفات ۱۱۴۵ھ میں ہوئی۔ درجناں شد از جہاں باصد صفا ظاہر از ’’مظہر‘‘ شدہ تاریخِ او ۱۱۴۵ھ   شیخِ معموری چو آں شیخِ زماں ’’مجتبیٰ مخدوم‘‘ ہم آمد عیاں[۔۔۔

مزید

مولانا قازی رکن الدین قادری نوشاہی

آپ حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے ہمدم یاروں اور محرم راز دوستوں اور مشہور خلیفوں سے تھے قاضی صاحب پہلے قصبۂ وزیرآباد میں عہدۂ قضا پر مامور تھے۔ پھر ترکِ علائق کر کے حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش﷫  کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے اور خدمتِ مرشد میں حاضر رہ کر سلسلۂ قادریہ نوشاہیہ میں تکمیل پاکر خرقۂ خلافت سے سرفراز ہُوئے۔ اپنے علم و فضل اور زہد و تقویٰ میں شہرۂ آفاق تھے۔ صاحبِ ذوق و شوق اور عشق و محبّت اور وجد و تواجد ہوگئے۔ مرشد کی وفات کے بعد تادمِ حیات ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ آپ کی وفات ۱۱۵۲ھ میں ہُوئی۔ رفت از دہر چوں بہ خلدِ بریں! سالِ تاریخِ ارتحالِ او!!   رکنِ دیں صاحبِ یقیں قاضی ہست ’’مصباح اہلِ دیں قاضی‘‘[1] ۱۱۵۲ھ   [1]۔ قاضی رضی الدین کا صحیح سالِ وفات ۱۱۱۳ھ ہے (شریف التواریخ جلد سوم اول تحالیف الاطہار ص ۱۸۰)۔۔۔۔

مزید

شیخ عبد الرحمان قادری نوشاہی

حضرت حاجی محمّد نوشاہ گنج بخش ﷫ کے کبار خلیفوں سے تھے۔ آپ کی ذات پر مرشد کی توجہ و التفات بے حد و نہایت تھی جیسی کسی دوسرے خلیفے کے حال پر نہ تھی۔ یہی سبب تھا کہ آپ عرفان و حقیقت شناسی کے مقامِ اعلیٰ پر فائز ہُوئے۔ مرشد کو آپ پر اس قدر اعتماد تھا کہ اپنے مریدوں کو تہذیب و تکمیل کے لیے آپ کے سپرد کردیتے تھے اور یہ سلسلہ حضرت نوشاہ گنج بخش کی وفات کے بعد بھی جاری رہا کہ حضرت نوشاہ عالی جاہ کے بہت سارے خلیفے شیخ عبدالرحمٰان کی خدمت سے تکمیل کو پہنچے۔ حتّٰی کہ مولانا حافظ برخوردار کے فرزندوں اور حضرت نوشاہ کے پوتوں نے بھی آپ ہی کی زیرِ نگرانی تربیّت و تکمیل پائی۔ جو شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا، ناکام نہیں رہتا تھا۔ کمالِ علم و فضل کے ساتھ آپ پر غلبۂ صمدیت بھی بے انتہا تھا۔ کئی کئی روز بغیر کھائے پیے گزر جاتے تھے۔ صاحبِ تذکرۂ نوشاہی لکھتے ہیں کہ ایک روز میں نے حاضرِ خدمت ہوکر طعام نہ کھانے کی ۔۔۔

مزید

شیخ عنایت اللہ قادری نوشاہی

مولانا حافظ محمد برخوردار کے فرزند ارجمند تھے اور حضرت شاہ حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے پوتے تھے۔ حضرت شیخ عبدالرحمٰن المشہور پاک سرہٗ سے تربیت و تکمیل پائی تھی۔ صاحب فضل و کمال تھے۔ حالتِ استغراق کا غلبہ رہتا تھا۔ گیارہ سال تک طعام نہیں کھایا۔ صائم الدہر اور قائم الیل تھے۔ صاحبِ تذکرہ نوشاہی بختاور نامی ایک شخص کی زبانی جو موضع ٹھٹھہ عثمان کا مقدم تھا، بیان کرتے ہیں کہ شیخ عنایت اللہ زیادہ تر اپنی زرعی اراضی پر رہا کرتے تھے اور وہاں اپنے رہنے کے لیے ایک حجرہ بنالیا تھا۔ ایک رات میں آپ کی زیارت کے لیے گیا۔ جب حجرے میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہُوں کہ آپ کا ایک عضو تن بدن سے جدا پڑا ہوا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا اور دل میں کہنے لگا نہ جانے کون ظالم بے رحم قزاق غارت گر آپ کو شہید کر گیا ہے۔ میں ابھی اسی عالمِ حیرت میں تھا کہ آپ کے بھائی شیخ عصمت اللہ تشریف لے آئے۔ فرمایا بختاور یہ مقامِ حیرت نہیں ہے بل۔۔۔

مزید

شیخ محمد سلطان لاہوری

سلسلۂ قادریہ میں عظیم القدر بزرگ گزرے ہیں۔ حضرت شیخ سعدی شاہ کے مرید و خلیفہ تھے عجیب و غریب احوال و مقامات کے مالک تھے۔ مجذوبوں میں مجذوب اور سالکوں میں سالک تھے۔ طبع عالی پر جذب و سُکر اور عشق ع محبّت کا غلبہ طاری رہتا تھا۔ قدرت نے آنکھیں بڑی خوبصورت دی تھیں اس لیے بارگاہِ مرشد س مرگ نینی یعنی آہُو چشم کا خطاب حاصل تھا۔ ۱۱۵۸ھ میں دفات پائی۔ مزار لاہور میں ہے شاہ نواز خاں صوبہ دار لاہور نے آپ کا مزار تعمیر کرایا تھا۔ چو سلطانِ دنیا  و دیں بادشاہ! وصالش شدہ روشن از ’’نور بخش‘‘ ۱۱۵۸ھ   زدنیائے دوں شد بہ ملکِ جناں دگر ’’شیخ سلطان محمود‘‘ خواں ۱۱۵۸ھ ۔۔۔

مزید

سیّد شاہ حسین بن سیّد نور محمد حجروی

اپنے علمی اور روحانی فضل و کمال کے باعث مشائخ قادریہ میں بڑے عظیم المرتبت شیخ گزرے ہیں۔ صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ مکارمِ اخلاق میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ نقل ہے ایک دفعہ کسی حادثہ کے باعث آپ کے ساتھی سواروں میں سے ایک سوار کے گھوڑے کی آنکھ کا ڈھیلا نکل گیا۔ فرمایا: ابھی یہ ڈھیلا گھوڑے کی آنکھ میں رکھ کر پٹّی باندھ دو۔ تھوڑی دیر کے بعد فرمایا: گھوڑے کی آنکھ سے پٹّی کھول دو۔ چنانچہ پٹّی کھول کر گھوڑے کی آنکھ کو دیکھا گیا تو درست اور صحیح و سلامت تھی اور اسے نظر آرہا تھا۔ نقل ہے ایک دفعہ آپ سفر میں تھے۔ رات کو ایک جگہ پر قیام فرمایا۔ آپ آرام فرمارہے تھے کہ چند قزاقوں نے آکر سامان لُوٹنا شروع کردیا۔ اتنے میں خادم کی آنکھ کُھل گئی۔ اس نے آپ کو پکارا کہ تشریف لایئے، مدد کیجئے۔ قزاق سامان لُوٹ رہے ہیں۔ فرمایا: کچھ غم نہ کرو، لُوٹنے دو واپس لے آئیں گے۔ قزاق سامان لُوٹ کر ابھی تھوڑی دُور ہی گئے تھے۔۔۔

مزید

میاں شیخ رحمت اللہ قادری نوشاہی

مولانا حافظ برخوردار ابن حضرت نوشاہی عالیجاہ﷫ ﷫ کے فرزند سوم تھے۔ صاحبِ علم و عمل تھے۔ زہد و ورع، عبادت و ریاضت ،اور سخاوت و شجاعت، میں شہرۂ آفاق تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تھے آپ کے دادا حضرت نوشاہ گنج بخش نے آپ کے لیے دعائے درازی عمر فرمائی تھی۔ چنانچہ آپ نے طویل عمر پائی۔ بڑے پُر جلال تھے۔ ایک دفعہ حاکمِ پرگنہ نے ادائیگیِٔ مال  کے لیے اپنا پیادہ بھیجا۔ اس پر جلال میں آگئے۔ اُسی وقت حاکم پرگنہ کے پاس گئے۔ فرمایا کہ جب میں خودبخود مالیہ ادا کردیتا ہُوں تو پھر پیادہ بھیجنے کی کیا ضرورت تھی تُو مسندِ حکومت کے لائق نہیں ہے تجھے معزول کیا جاتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہُوا۔ اسی روز صوبہ دارِ لاہور کی طرف سے اسے اپنا معزولی نامہ وصول ہوگیا۔ مسمّی نور محمد ترکھان جو آپ کے خادموں سے تھا، موضع باہو کی میں کھیتی باڑی کرتا تھا وہاں کے مقدم مہربان نامی نے کچھ لگان بڑھا کر ایک سوار وصولی کے واسطے نور محمد ک۔۔۔

مزید

شیخ نصرت اللہ قادری نوشاہی

مولانا حافظ برخوردار ابن حضرت نوشاہ عالیجاہ﷫ کے فرزندِ چہارم تھے۔ عالمِ متبحر اور عارفِ کامل و اکمل تھے۔ تحصیلِ علوم سیالکوٹ میں کی تھی۔ اپنے والدِ بزرگوار کی خدمت میں حاضر رہ کر سلسلۂ قادریہ نوشاہیہ کی تکمیل کی تھی اور ریاضت و مجاہدہ سے ولایت باطنی کو کمال تک حاصل کیا۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد احمد بیگ ﷫ سے بھی اخذِ فیض کیا تھا۔ ۱۱۷۰ھ میں وفات پائی۔ مزار ساہن پال میں اپنے والدِ گرامی کے مزار کے قریب ہے۔ رفت از دنیا چو در خلدِ بریں ’’رستمِ عشق‘‘ است سالش کن رقم ۱۱۷۰ھ   نصرت اللہ رہبرِ کون و مکاں نیز ’’نصرت واصلِ کامل‘‘ بخواں ۱۱۷۰ھ ۔۔۔

مزید