پیر , 17 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 04 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن عمرو الثقفی: مدینے میں سکونت اختیار کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دربارۂ کراہیت سوال ایک حدیث بیان کی۔ ان سے سعید بن یزید نے روایت کی کہ محمد بن جامع العطار ہی وہ اکیلا شخص ہے جس نے ان سے یہ حدیث روایت کی اور وہ متردک الحدیث ہے۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ان سے ایک اور حدیث مذکور ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں پائے جانے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا۔ ان سے حسن نے روایت کی۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن عمرو القاری: ان کا تعلّق قارہ قبیلے سے تھا۔ غزوہ حنین کے موقعہ پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مالِ غنیمت کی نگرانی پر مقرر فرمایا تھا اور جعرانہ کے مقام پر تمام جنگی قیدی اور اموالِ غنیمت ان کی تحویل میں تھا۔ قدیم الاسلام ہیں۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

فروہ الاسلمی کے غلام: ایک روایت کی رو سے ان کا نام مسعود بن ہنیدہ تھا۔ غزوۂ یسیع میں شریک تھے اور فروہ بریدہ بن سفیان کے والد تھے۔ ایک روایت کے مطابق یہ صاحب ابو تمیم بن حجیر الاسلمی کے مولی تھے۔ محمد بن سعد نے ان کا ذکر کیا ہے کہ مسعود تمیم بن حجرابی اوس الاسلمی کے مولی تھے۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقیب تھے۔اور مریسیع کے موقعہ پر مالِ خمس کی نگرانی ان کے سپرد تھی۔ یہ واقدی کی روایت ہے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اونٹ تھک گئے۔ تو ان کے مولی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ دیا اور اپنے غلام مسعود کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ روانہ کیا۔ افلح بن سعید نے بریدہ بن سفیان بن فروہ سے انہوں نے اپنے دادا کے غلام سے جس کا نام مسعود تھا۔ روایت کی، ایک روایت کی رو سے ان کا نام سعد تھا۔ جیسا کہ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن قیس بن خلدہ بن مخلد بن عامر بن زریق الانصاری الزرقی: ابن الکلبی نے ان کا نسب بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ غزوہ بدر میں شریک تھے۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ مسعود بن قیس میں شُبہ ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن وائل: یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا، تاکہ وہ اپنے قبیلے کو اسلام کی دعوت دیں۔ خود مشرف بہ اسلام ہُوئے، اور قابل قدر کام کیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی۔ یا رسول اللہ! آپ میری قوم کی طرف کسی آدمی کو روانہ فرمائیں۔ جوان میں اسلام کی تبلیغ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن یزید بن سبیع بن سنان بن عبید بن عدی بن کعب بن غنم بن کعب بن سلمۃ انصاری السلمی: عقبہ میں موجود تھے۔ ابن سمین نے باسنادہ یونس بن بکیر سے، انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بیعت عقبہ از بنو سلمہ اور مسعود بن یزید بن سبیع خنساء روایت کی ہے۔ ابو عمر اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے، لیکن ابو موسیٰ کی رائے ہے کہ مسعود بن زید بن سبیع ابو محمد کا نام ہے۔ جنہوں نے وجوب وتر کی روایت کی تھی، لیکن وتر کے وجوب کے بارے میں ابن مندہ نے مسعود بن اوس بن احرام کے ترجمے میں ذکر کیا ہے، ان کے بارے میں ایک روایت مسعود بن اوس بن زید بن اصرم سے بھی مذکور ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسلم رضی اللہ عنہ

بن بحرۃ الانصاری: ابن ابی علی نے ان کا ذکر کیا ہے یحییٰ بن محمود نے اجازۃً باسنادہ ازا بن ابی عاصم بیان کیا ہے کہ ہم سے ہشام عمار نے ان سے اسماعیل بن عیاش نے ان سے اسحاق بن عبد اللہ نے ان سے ابراہیم بن محمد بن مسلم بن بحرۃ الانصاری نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے دادا مسلم بن بحرہ روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بنو قریظ کی قیدیوں کی نگرانی پر مقرر فرمایا، چنانچہ وہ لڑکوں کے آلہ ہائے تناسل کو دیکھ رہے تھے۔ جس کے آلۂ تناسل میں انتشار پیدا ہوتا۔ اس کی گردن اڑا دیتے اور جس کے نہ ہوتا، اسے غنائم میں شمار کرتے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ابراہیم بن مسلم بن بحرہ نے اپنے باپ سے اس نے اپنے دادا سے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ان کی کتابوں کے ان نسخوں کی بنا پر جو ہمیں میسر آئے ہیں۔ بریں تقدیر بحرہ صحابی کا نام محمد ہے اور وہ جناب مسلم کے بیٹے ہ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسلم رضی اللہ عنہ

بن حارث بن بدل التمیمی: ان سے ان کے بیٹے حارث بن مسلم نے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ فرمایا۔ جب ہم ایک قبیلے پر حملہ آور ہوئے اور ہم گھوڑوں پر سوار تھے۔ تو عورتوں اور بچوں نے ہمارا استقبا کیا۔ مَیں نے اُن سے پوچھا کیا تم امان چاہتے ہو، انہوں نے کہا۔ ہاں۔ مَیں نے کہا اچھا، کلمۂ شہادت پڑھو، چنانچہ اُنہوں نے تعمیل کی۔ اس پر میرے احباب نے کہا، ہمیں حصولِ مالِ غنیمت کا ایک موقع ملا تھا۔ جو تم نے رائیگاں کھو دیا۔ واپسی پر احباب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا، تو حضور نے فرمایا، کہ تمہیں ہر آدمی کے بدلے میں اتنا اتنا اجر ملے گا۔ اس کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مخاطب ہوکر فرمایا کہ جب تم مغرب کی نماز پڑھ چکو تو یہ دُعا: ’’اللَّھُمَّ اَجِرْنِی مِنَ النّارِ‘‘ سات دفعہ پڑھ لیا کرو۔ اگر اس رات کے دوران میں تمہارا ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسلم رضی اللہ عنہ

سیّدنا مسلم رضی اللہ عنہ بن حارث الخزاعی المصطلقی: یزید بن عمرو بن مسلم الخزاعی نے اپنے والد سے اُنہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ مَیں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موید بن عامر کے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے۔ لَا تَا مَنَنُ وَاِن اِمْسَیْت فِی حَرْمٍ اِنَّ الَمنَا یَا بَجِنْبنی کُلّ اِنْسَان ترجمہ: خواہ تم حرم ہی میں رات کیوں نہ بسر کرو خود کو محفوظ نہ سمجھو۔ کیونکہ موت ہر انس۔۔۔

مزید

سیّدنا مسلم رضی اللہ عنہ

بن حبشیہ: ان کے بھائی کا نام ابو قرصاقہ ھیدرہ بن حبشیہ تھا۔ زیاد بن سیار نے عروہ بنت عیاض بن ابی قرصافہ سے انہوں نے اپنے والد قرصافہ سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کیا تمہارا کوئی عزیز ہے۔ مَیں نے کہا! ہاں رسول اللہ! میرا ایک چھوٹا بھائی ہے، فرمایا! اسے میرے پاس لے آؤ۔ مَیں اُسے لائی تو اُس نے بیعت کر کے اسلام قبول کرلیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ اس کا کیا نام ہے۔ مَیں نے عرض کیا میسم۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس کا نام آج سے مسلم ہوگا۔ مَیں نے کہا درست ہے یا رسول اللہ! ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید