جمعرات , 20 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 07 May,2026

پسنديدہ شخصيات

سیدنا محمّد بن شرید رضی اللہ عنہ

بن سوید الثقفی: محمد بن حسین بن مکرم نے محمد بن یحییٰ القطعی سے، اس نے زیاد بن ربیع سے، اُس نے محمد بن عمرو سے، اُس نے ابو سلمہ سے، اُس نے ابو ہریرہ سے روایت کی کہ محمد بن شرید ایک کالی سی لونڈی کو ساتھ لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گذارش کی: ’’یا رسول اللہ! میری ماں نے ایک مومنہ لونڈی کے منت مانی تھی، میں آپ سے یہ دریافت کرنے حاضر ہوا ہوں، آیا اس سے کام چل جائے گا‘‘؟ حضور نے اس پر لونڈی سے دریافت کیا تیرا رب کہاں ہے، اس نے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھایا، پھر پوچھا میں کون ہوں؟ اُس نے جواب دیا اللہ کے رسول حضور نے محمد بن شرید سے مخاطب ہوکر فرمایا یہ مسلمان ہے اسے آزاد کردو۔ ابن مندہ کی روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ ابو نعیم کہتا ہے کہ یہ شخص عمرو بن شرید ہے۔ اُس نے اپنے استاد ابراہیم بن حرب العسکری سے اس نے محمد بن یحییٰ القطعی سے، اس نے باسنا۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر جابر احمسیہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور ان سے عبداللہ بن جابر احمسی نے روایت کی،ابن مندہ نے تاریخ میں اسی طرح لکھا ہے،اور ایک روایت میں ہے کہ وہ مہاجربن جابر کی دختر تھیں،اور یہ بھی ہوسکتا ہے،کہ وہ نبیط بن جابر کی بیٹی اور انس بن مالک کی بیوی ہوں کیونکہ وہ بنو احمس سے ہیں،ابو موسیٰ نے اسی طرح مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں کہ ابن مندہ نے معرفتہ الصحابہ میں ان کا ذکر کیا ہے،اور انہیں دختر جابر احمسیہ لکھا ہے اور ان سے وہ حدیث زینب دختر نبیط کے ترجمے میں مذکو ر ہے اس لئے استدراک بلاوجہ ہے،(واللہ اعلم)۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر خباب بن ارت،بقول جعفر،امام بخاری نے ان کا ذکر ان راویوں میں کیا ہے،جنہوں نے نبیِ کریم رؤف و رحیم علیہ الصلوۃ والتسلیم سے روایت کی۔ اعمش نے ابو اسحاق سے ،انہوں نے عبدالرحمٰن بن زید الفایشی سے،انہوں نے دختر خباب بن ارت سے روایت کی،کہ حضورِاکرم نے میرے والد کو ایک سریے میں روانہ کیا،چنانچہ والد کی غیر حاضری میں آپ ہمارا خاص خیال رکھتے،اور ایک برتن میں بکری کا دودھ دوہ کر ہمیں پلایا کرتے تھے،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن صفوان الانصاری رضی اللہ عنہ

ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ (۱) صفوان بن محمد (۲) عبد اللہ بن صفوان (۳) خالد بن صفوان۔ یہ کوفی تھے اور شعبی کے بغیر کسی اور نے ان سے روایت نہیں کی۔ ابو یاسر نے باسنادہ عبد اللہ بن احمد سے، اس نے اپنے والد سے، اس نے محمد بن جعفر سے، اُس نے شعبہ سے اُس نے عاصم الاحول سے، اُس نے شعبی سے اُس نے محمد بن صفوان سے روایت کی، کہ اس نے دو خرگوش شکار کیے اور مروہ پر ذبح کرکے حضور اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے ان کے کھانے کی اجازت دے دی۔ ابو الاحوص نے اسے عاصم سے اس نے شعبی سے اس نے محمد بن صفوان سے روایت کی ابو عوانہ نے یہ روایت عاصم سے اس نے شعبی سے بیان کی اور آگے محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد لکھا ہے۔ اسی طرح حصین نے شعبی سے اور آخر میں محمد بن صیغی تحریر کیا ہے۔ واللہ اعلم ابو عمر کہتا ہے یہ دو آدمی ہیں محمد بن صفوان اور محمد بن صیفی الانصاری جس کا ذکر آ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر خناس،عبیداللہ بن سمین نے باسنادہ یونس سے،انہوں نے ابنِ اسحاق سے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو ہوازن کے اسیرانِ جنگ سے زینب دختر خناس سے حضرت عثمان ذوالنورین کو دی،ابن اسحاق کے مطابق ابو وجزہ نے ان سے بیان کیا،کہ جب عثمان بن عفان کو بنو ہوازن کی ایک لڑکی اسیران جنگ سے دی گئی،تو انہوں نے اس لڑکی کے ابن عم سے جس سے وہ منسوب تھی،اور ناکارہ ساتھ،نکاح کی خواہش کا اظہارکیا،بعد میں یہ قیدی بنو ہوازن کو لوٹادئیے گئے،کچھ عرصے کے بعد زینب خاوند کو ساتھ لئے حضرت عمر یا عثمان کے زمانے میں مدینےمیں آئیں تو حضرت عثمان نے اس لڑکی کوبوجہ تمتع کے کچھ رقم ادا کی اور زینب سے کہا کہ کیا تُو نے اس شخص کو مجھ پر قابل ترجیح گردانا تھا،اس نے جواب دیا،ہاں،یہ میرا خاوند اور ابن عم تھا۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ضمرہ رضی اللہ عنہ

بن اسود بن عباد بن غنم بن سواد: حضور اکرم نے ان کا نام محمد رکھا تھا۔ فتح مکّہ کے موقعہ پر موجود تھے۔ اس کی تخریج ابو موسیٰ نے کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر معاویہ،ایک اور روایت کی رُو سے زینب کے والد کا نام ابو معاویہ تھا،اور وہ عبداللہ بن مسعود کی زوجہ تھیں،یہ رائے ابن مندہ اور ابونعیم کی ہے،بقول ابوعمران کا نسب کچھ یوں ہے، زینب دختر عبداللہ بن معاویہ بن عتاب بن اسد بن غاضرہ بن حطیطہ بن جشم بن ثقیف،یہ خاتون ابو معاویہ ثقفی کی بیٹی تھیں،ان سے بشر بن سعید اور ان کے بھتیجے نے روایت کی۔ ابوالفرح بن ابوالرجأ اور ابو یاسر بن ابوحبہ نے باسنادہما تا مسلم حسن بن ربیع سے،انہوں نے ابوالاحوص سے،انہوں نے اعمش سے،انہوں نے شفیق سے،انہوں نے عمروبن حارث سے ، انہوں نے زینب سے روایت کی،کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،اے خواتین،تم ضرور صدق کیا کرو،خواہ اپنے دودھ سے کیوں نہ دینا پڑےزینب سے مروی ہے کہ میں حضورِاکرم سے ملنے چلی،جب وہاں پہنچی تو دیکھا کہ دروازے پر انصار کی ایک عورت کھڑی تھی،اور اس کی غرض وہی تھی جو میری ت۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ

بن عبید اللہ القرشی التمیمی: ہم ان کا نسب ان کے باپ کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں۔ ان کے والد انھیں اٹھا کر حضور اکرم کی خدمت میں لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سر پر ہاتھ پھیرا اور محمد نام رکھا اور اپنی کنیت بھی عطا فرمائی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کی کنیت ابو سلیمان تھی ان کی والدہ حمۂ بنت حجش تھیں جو ام المومنین زینب کی ہمشیرہ تھیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضور اکرم نے ان کی کنیت ابو سلیمان رکھی تو جنابِ طلحہ نے گزارش کی۔ یا رسول اللہ! ابو القاسم کی اجازت فرمادیجیے، ارشاد ہوا نہیں مَیں نام اور کنیت جمع نہیں کرنا چاہتا یہ ابو سلیمان ہے لیکن پہلی روایت درست ہے۔ ابو راشد بن حفص الزہری کا بیان ہے کہ مَیں صحابہ کی اولاد میں سے چار ایسے آدمیوں کو جانتا ہوں جن کے نام محمد اور کنیت ابو القاسم تھی۔ محمد بن علی، محمد بن ابی بکر، محمد بن طلحہ اور محمد بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن عاصم رضی اللہ عنہ

بن ثابت بن ابی الاقلح: ان کا نسب ان کے باپ کے ترجمے میں لکھ آیا ہوں وہ انصاری ہیں اِن کا ذکر اس حدیث میں مذکور ہے جو ان کے والد عاصم کے غزوۂ رجیع میں تیسرے سال ہجری میں شہادت کے بارے میں مروی ہے جناب محمد کو مصاحبت کا شرف حاصل ہوا ہوگا۔ ابن مندہ نے اس کی تخریج کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ بیعت رضوان کے موقعہ پر موجود تھے۔ نیز اس کے بعد تمام غزوات میں جو صلح حدیبیہ کے بعد وقوع پذیر ہوئے شامل رہے ابو موسیٰ نے بھی اس کی تخریج کی ہے اس لیے استدراک بلا وجہ ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )زینب ( رضی اللہ عنہا)

زینب دختر مالک،ہمشیرۂ ابو سعید خدری،ان کا نسب ہم پہلے ان کے والد اور بھائی کے تراجم میں بیان کرآئے ہیں،ابو ضمرہ نے سعد بن اسحاق بن کعب بن عمرہ سے،انہوں نے زینب دختر کعب سے ، انہوں نے ابو سعید اور ان کی ہمشیرہ زینب سے،انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفارۂ مرض کے بارے میں روایت کی،اسے یحییٰ بن سعید نے سعد سے روایت کی،اور ابو سعید کی ہمشیرہ کا ذکر نہیں کیا،ابو موسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید