ام یحییٰ ،یہ اوپر مذکور خواتین کے علاوہ ہیں،ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے،اور یہ بھی لِکھا ہے کہ ہم زیدہ کے ترجمے میں ان کا ذکر کرآئے ہیں،ایک روایت زائد ہ مذکور ہے،جو حضرت علی کی لونڈی تھیں۔ ۔۔۔
مزید
ام یحییٰ زوجۂ اسد بن حضیر،حدیث قرأتِ اسید میں ان کا ذکر آیا ہے،مگر ان سے کوئی حدیث مروی نہیں،ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابنِ شاہین نے ان کا نسب یوں بیان کیا ہے۔ ابو خیثمہ مالک بن قیس بن ثعلبہ بن عجلان بن زید بن غنم بن سالم بن عمرو بن عوف بن خزرج۔ سوائے بدر کے تمام غزوت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ اور غزوۂ تبوک کے موقع پر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھر کو کوچ فرمایا، تو یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ دے سکے، اور پیچھے رہ گئے اور چند دنوں کے بعد مدینے سے حضور کے تعاقب میں چل دیے اور دس دن کے بعد اسلامی لشکر سے جاکر مل گئے۔ ہمیں عبیداللہ بن احمد نے اپنے استاد یونس سے اس نے ابنِ اسحاق سے یوں روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بیان کیا کہ ابو خیثمہ، بنو سالم کا بھائی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک کو روانگی کے بعد، گرم دنوں میں اپنے گھر آگیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی دونوں بیویوں نے اپنے اپنے کمروں کو اس کی پذیرائی کےلیے سجایا ہوا۔۔۔
مزید
ام یقیظ دختر علقمہ زوجۂ سلیط بن عمرو،انہوں نے اپنے خاوند کے ساتھ حبشہ کوہجرت کی،اور وہاں انہوں نے ایک لڑکا سلیط نامی جنا۔ ان صحابیات کا ذکر جو اپنے بھائیوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اخوات جابر بن عبداللہ انصاری،ان کی تعداد کے بارے میں اختلاف ہے،کوئی سات کہتا ہے اور کوئی نو۔ ابوالقاسم یعیش بن صدقہ بن علی نے باسنادہ تا ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب اور اسماعیل بن مسعود سے،انہوں نے خالد سے،انہوں نے عبدالملک سے،انہوں نے عطاء سے،انہوں نے جابر سے روایت کی کہ میں نے شادی کی،حضورِ اکرم سے ملاقات ہوئی،تو دریافت فرمایا،کیاتم نےشادی کی ہے،میں نے کہا،ہاں یا رسول اللہ،پوچھا باکرہ یا ثبیہ،میں نے کہا،ثبیہ یارسول اللہ ،کنواری لڑکی سے شادی کی ہوتی ،کہ وہ تم سے کھیلتی،میں نے کہا،یارسولِ خدا،میری کئی بہنیں ہیں،مجھے فکر تھی،مبادا وہ مجھ میں اور میری بہنوں میں گڑبڑ نہ پیدا کردے،آپ ۔۔۔
مزید
ام یزید دختر حارث،حماد بن سلمہ نے حجاج بن ارطاہ سے،انہوں نے یزید بن حارث سے،انہوں نے اپنی والدہ سے روایت کی،کہ انہوں نے رسولِ کریم کو عرفات یا منیٰ کے مقام پر فرماتے سُنا، اے لوگو!اطمینان اور وقار سے کام کرو،یزید بن ہارون نےاس حدیث کو حجاج سے ،انہوں نے ابویزید مولیٰ عبداللہ بن حارث سے،انہوں نے جندب ازدیہ سے روایت کیا،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن صحیح روایت کعب بن مالک ہے۔ عبدالوہاب بن سجدہ نے ولید بن مسلم سے، اُس نے مرزوق بن ابی ہذیل سے، اس نے زہری سے اس نے عبدالرحمان بن کعب سے۔ اُس نے عبداللہ بن کعب سے، اس نے اپنے چچا مالک بن کعب سے روایت بیان کی کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبائل عرب کے تعاقب سے واپس مدینہ میں تشریف لے آئےتو آپ نے ذرہ اُتاری، خوشبو لگائی اور غسل فرمایا۔ یہ روایت اسی طریقے سے ابن بجدہ نے ولید سے بیان کی ہے۔ اس نے صحابی کا نام مالک بن کعب بتایا ہے۔ حالانکہ صحیح نام کعب بن مالک ہے۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام زیددختر حرام بن عمرو صاحبتہ الجمل انصاریہ از بنو مالک،انہوں نے بقولِ ابن حبیب حضور سےبیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام زید دخترسکن بن عتبہ بن عمرو بن خدیج انصاریہ از بنو مالک،انہوں نے بقول ِ ابن حبیب حضور سے بیعت کی۔ ۔۔۔
مزید
ام زید ،اسباط نے سَدی سے روایت کی،کہ انصار میں ام زید نامی ایک خاتون تھی جو اپنے شوہر سے لڑ پڑی اور چاہا کہ اپنے سُسرال چلی جائے،جب خاوند نے بیوی کو روکا ،تواس خاتون کے اعزہ اور اس کے شوہر میں جھگڑا اُٹھ کھڑا ہوا،چنانچہ اس موقعہ پر درج ذیل آیت نازل ہوئی۔ وَاِن طَائِفَتَانِ مِنَ المُومِنِینَ اقتَتَلُوفَاصلِحُوابَینَھُمَا،میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ خاتون ماقبل الذکر خواتین سے ہیں یا ان کے علاوہ ہیں،کیونکہ ان کا نسب نہیں بتایاگیا،تاکہ او معاملہ پر غور کیا جا سکتا،ہم نے احتیاطاً ان کا ذکر کردیا ہے،تاکہ تحقیق کی جاسکے۔ ۔۔۔
مزید
محمد بن خلیفۃ الاسدی نے حسن بن محمد سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس سے کہا کہ میں آپ کو ایک ایسی بات سناتا ہوں، جسے سن کر آپ کو تعجب ہوگا مجھے خریم بن فاتک الاسدی نے بتایا کہ میں ایک دفعہ ایک اونٹ کی تلاش میں گھر سے نکلا۔ وہ مجھے ابرق الغزاف کے مقام پر مل گیا۔ میں نے اسے رسی سے باندھ دیا، اور اس کی اگلی ٹانگوں پر تکیہ لگاکر بیٹھ گیا۔ یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تھی، میں نے کہا میں اس وادی کے بڑے جن سے پناہ مانگتا ہوں اور لوگ اسی طرح کہا کرتے تھے اتنے میں ہاتف کی آواز آئی جو کہہ رہا تھا: ۱۔ وَیُحکَ عَذب۔۔۔
مزید