ام مسلم اشجعیہ،انہیں صحبت نصیب ہوئی،ان کی حدیث کے راوی اہلِ کوفہ ہیںابویاسر نے باسنادہ عبداللہ سے،انہوں نے اپنی والدہ سے،انہوں نے عبدالرحمٰن بن مہدی سے، انہوں نےسفیان سے،انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے،انہوں نے بنومصطلق کے ایک شخص سے،انہوں نے ام مسلم اشجعیہ سے روایت کی کہ حضور اکرم ان کے ہاں تشریف لائے،اور وہ حمڑے کے ایک قبہ میں تھیں،آپ نے فرمایا،کتنااچھاہوتا،اگراس میں مردہ نہ ہوتا،اس کے بعد میں آپ کی پیروی کرتی تھی،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام مسلم جو جناب صفیہ کی خدمت گار تھیں،ان کاشمار صحابی میں ہوتا ہے،لیکن ان کی صحبت ثابت نہیں،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن الحارث الذہلی: ذہل بن ثعلبہ بن عکابہ بن صعب بن علی بن بکیر بن وائل الربعی البکری سے منسوب ہیں۔ خمخام کے لقب سے مشہور تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے بعد بہراء کا قبیلہ بھی دربارِ رسالت میں حاضر ہوا، ان کا وفد بکر بن وائل کے وفد میں شامل تھا، فرات بن حبان اور بشیر بن خصاصیہ وغیرہ بھی ساتھ تھے۔ ابنِ مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ام مسطح دختر ابورہم بن مطلب بن عبدمناف قرشیہ مطلبیہ،اور ابورہم کا نام انیس تھا،اور ام مسطح ابوبکر صدیق کی خالہ کی بیتی تھیں اور ان کی والدہ صخر بن عامر کی بیٹی کہتی ہیں،ان کا نام سلمیٰ دختر صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ تھا،حدیث افک میں انکا ذکر آیا ہے ابوعمراور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
امِ قیس دخترمحصن بن حرثان اسدیہ ،جوعکاشہ بن محصن کی ہمشیرہ تھیں،مکے میں اسلام قبول کیا، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلّم سے بیعت کی اور پھر مدینے کو ہجرت کی۔ روات کی ایک جماعت نے ابوعیسیٰ سے،انہوں نے قتیبہ اور احمد بن منیع سے،انہوں نے سفیان سے، انہوں نے زہری سے ،انہوں نےعبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے،انہوں نے ام قیس سےروایت کی کہ وہ اپنے بیٹے کو جو ابھی روٹی نہیں کھاتا تھا،ساتھ لے کر حضورِ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اسے نے آپ پر پیشاب کردیا،آپ نے پانی طلب فرمایا اور کپڑے پر پانی چھڑکا۔ ابوعمر کہتے ہیں کہ صحابہ میں سے وابصہ بن معبد ،عبیداللہ اور رافع مولیٰ حمنہ دختر شجاع نے ان سے روایت کی،اور وہ حدیث جو ابنِ لہیعہ نے ابوالاسود سے،انہوں نے درہ دختر معاذ سے روایت کی، بقول عقیلی انہوں نے وہ حدیث ام قیس سے روایت کی،انہوں نے حضور اکرم سے دریافت کیا، یارسول اللہ!کیا ہ۔۔۔
مزید
ام قیس ہذلیہ،جعفر نے انہیں صحابیات میں شمار کیا ہے،لیکن ان سے کوئی روایت بیان نہیں کی، ابوموسیٰ نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ بن حارث العامری: ابویاسر نے عبداللہ بن احمد سے اس نے اپنے والد سے اس نے ہشیم سے اس نے علی بن زید سے اس نے زرارہ بن اوفی سے، اس نے مالک بن حارث سے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایک مسلمان یتیم بچے کو اپنے ساتھ کھانے پینے میں شریک کیا، تاآنکہ اُس نے خوب پیٹ بھر کر کھایا پیا، اس نے جنت میں اپنا گھر بنالیا، اسی طرح جس نے ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا، وہ جہنم کی آگ سے نجات پاگیا خدا اس زاد کردہ غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والےکے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کردے گا۔ اسے شعبہ نے علی بن زید سے اس نے اپنے چچا مالک یا ابومالک سے اور ایک روایت میں ہے کہ مالک بن عمرو یا عمرو بن مالک سے روایت کیا ہے اور اس میں بہت اختلاف ہے۔ اسے ہم نے مالک بن عمرو السلمی کے تذکرے میں بیان کیا۔۔۔
مزید
ام قیس مہاجرات سھ ہیں،اور غیر منسوب،اعمش نے ابووائل سے،انہوں نے ابن مسعود سے روایت کی کہ ہم میں ایک آدمی تھا،جس نے ام قیس کو نکاح کا پیغام بھیجا،ام قیس نے جواب دیا، کہ اگروہ ہجرت کرے تو مجھے اس سے نکاح کرنے میں کوئی تامّل نہ ہوگا،اس آدمی نے ہجرت کی اور نکاح ہوگیا،ہم اس آدمی کو مہاجر ام قیس کہتے تھے ابنِ مندہ اور ابو نعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
صفیہ ،یہ صفیہ دختربجیرالہذلیَّہ ہیں،انہوں نے حضورِاکرم سے آب زم زم کے بار ے میں ایک حدیث روایت کی،ابوعمر نے مختصراً ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
امِ قرثع،ان کا نسب مذکورنہیں،ابوموسیٰ نے اذا ابوعلی سے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے ابو محمد بن حبان سے،انہوں نے محمد بن جریر سے،انہوں نے عصام بن رواد سے،انہوں نے والد سے ، انہوں نے عمرو بن قیس سے،انہوں نے عطاء سے،انہوں نےام قرثع سے روایت کی کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،اور انہوں نے گزارش کی،یارسول اللہ! میری عقل میں کچھ فتور ہوگیا ہے،آپ میرے لئے دعا فرمائیں کہ یہ فتور رفع ہوجائے آپ نے فرمایا، اگر تو چاہتی ہے،کہ تو تندرست ہوجائے،تو میں جنابِ باری میں شفاکی دعا کرتا ہوں،تو ٹھیک ہوجائیگی لیکن اگرتو صبر کرتی ہے،تو تجھے جنت کی بشارت دیتاہوں،ابوموسیٰ اور ابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ہم اس حدیث کو ام زفر کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نام میں تصحیف ہوگئی ہے۔ ۔۔۔
مزید