عزہ دختر حارث جو میمونہ اور لبابہ کی ہمشیرہ تھیں،ان کا نسب بیان کر آئے ہیں،ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے،اور کسی نے انہیں صحابہ میں شمار نہیں کیا،بلکہ ابن اثیر کے مطابق انہوں نے اسلام ہی قبول نہیں کیا تھا۔ ۔۔۔
مزید
عزہ دختر خابل الخزاعیہ،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے بیعت کی،یحییٰ بن محمد نے اجازۃً باسنادہ ابن ابو عاصم سے انہوں نے دحیم سے،انہوں نے ابن ابوفدیک سے،انہوں نے موسیٰ بن یعقوب سے،انہوں نے عطابن مسعود الکعبی سے،انہوں نے اپنی پھوپھی عزہ سے روایت کی،کہ وہ بیعت کے لئے حضورِاکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں،آپ نے ان امور میں بیعت لی،کہ نہ تو ہم چوری کااور زناکاارتکاب کریں گی،اور نہ کسی کو ظاہراً اور اخفاءً دکھ دیں گی،ایذائے ظاہری کو تومیں سمجھتی تھی،یعنی قتل ِاولاد،رہا ایذائے خفی،اس کے بارے میں نہ حضورِاکرم نے وضاحت فرمائی، اور نہ ہم نے دریافت کیا،یوں ازخود میرے دماغ میں خیال آیا کہ اس سے مراد اسقاط ہو سکتا ہے، لیکن نہ تو ہمارے یہاں کوئی ایسا واقعہ پیش آیا،اور نہ میری پھوپھی کے یہاں جب تک وہ زندہ رہی، اورافسادالولد سے مراد الغیل بھی ہے،یعنی بحالت حمل بچے کو دُددھ پل۔۔۔
مزید
بادیہ دختر غیلان ثقفیہ،قاسم بن محمد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی،کہ بادیہ دختر غیلان خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی،اور گزارش کی،یا رسول اللہ! میں طہر قائم نہیں رکھ سکتی،کیا میں نماز چھوڑ دوں،فرمایا،تیری شکایت کا تعلق حیض سے نہیں، جب حیض کا دورانیہ ختم ہوجائے،اور خون بند ہو جائے تو نہالو اور نماز ادا کرو۔ یہ وہی بادیہ ہیں،جن کے بارے میں ہہیہہ مخنث نے کہا تھا،کہ وہ سامنے سے چار گُنا اور پیچھے سے آٹھ گُنا معلوم ہوتی ہے،ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بدیلہ دختر مسلم بن عمیرہ بن سلمی حارثیہ ،از انصار،انہیں حضور کی زیارت نصیب ہوئی،جعفر بن محمود بن محمد بن مسلمہ نے اپنی دادی بدیلہ سے روایت کی،کہ ہمارے یہاں بنو حارثہ کا ایک آدمی آیا،جس کا نام عباد بن بشر تھا، اس نے ہمیں بتایا،کہ تحویل ِ قبلہ کا حکم آگیا ہے، ان کی حدیث کو واقدی نے روایت کیا ہے، تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
البغول دختر معدل کنانیہ ،یہ خاتون صفوان بن امیہ بن خلف کی زوجہ تھیں،فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا،یہ واقد ی کا قول ہے، اورابو علی نے ابو عمر پر استدراک کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بہیہ دختر عبداللہ البکریہ از بکر بن وائل،یہ خاتون اپنے والد کے ساتھ دربار رسالت میں حاضر ہوئیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں سے بیعت کی،اور مصافحہ کیا،لیکن خواتین سے صرف بیعت فرمائی،پھر آپ نے ان کی طرف دیکھا،دعا فرمائی،اور ان کے سر پر ہاتھ پھیرا،نیز ان کی اولاد کے لئے دعا فرمائی،چنانچہ ان کے ساٹھ اولادیں ہوئیں ، چالیس مرد تھے اور بیس عورتیں،ان میں سے بیس شہید ہوئے تھے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بہیہ،ایک روایت میں بہیہ دختر بسر مذکور ہے،عبداللہ بن بسر مازنی کی ہمشیرہ تھیں،ان کا عرف صماء تھا،ابو زرعہ سے منقول ہے کہ انہیں وحیم نے بتایا ،کہ اس خاندان کے چار آدمی حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے،بسر اور ان کے دو بیٹے،عبداللہ اور عطیہ اور بیٹی صماء ، دارقطنی کا قول ،کہ صماء دختر بسر کا نام بہیمیہ تھا، اس خاتون نےرسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی،کہ آپ نے ہفتے کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایا،لیکن فرض روزہ مستثنیٰ ہے،اس خاتون سے ان کے بھائی عبداللہ نے روایت کی ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بجینہ دختر حارث یعنی ارت بن مطلب،عبداللہ بن بجینہ کی والدہ تھیں اور عبداللہ کے والد کا نام مالک تھا،اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خراج خیبر سے انہیں حصہ دیا تھا۔ ابو جعفر نے باسناد ہ یونس سے ،انہوں نے ابن اسحاق سے دربارۂ تقسیم غنیمتِ خیبر روایت کیا،کہ حضورِ اکرم نے تیس وسق عطا فرمائے تھے، ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بقیرہ،یہ خاتون مقاع بن ابو حدر اسلمی کی بیوی تھیں،ابن ابی خثیمہ کا قول ہے،کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اسلمیہ تھیں یا نہعبدالوہاب بن ابی حبہ نے باسنادہ عبداللہ سے ،انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے سفیان بن عینیہ سے،انہوں نے ابن اسحاق سے،انہوں نے محمد بن ابراہیم سے روایت کی ، کہ انہوں نے بقیرہ سے روایت کی،حضور ِ اکرم نے فرمایا،جب تم سنو، کہ تمہارے قرب و جوار میں کوئی لشکر زمین میں دھنس گیا ہے،تو سمجھ لو کہ یہ قیامت کا سایہ ہے،تینوں نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
برہ دختر عامر بن حارث بن سباق بن عبدالدار بن قصی قرشیہ عبدریہ،ابو اسرائیل کی بیوی تھیں،جو بنو حارث سے تھے،یہ وہی صاحب ہیں، جن کے قصّے میں حدیث فی النذر مذکور ہے،اور جن کے یہاں اسرائیل نامی ایک بچہ پیدا ہوا تھا،ابو اسرائیل جنگ جمل میں مارےگئے تھے،برہ نے ہجرت کی تھی،ابو عمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید