جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

(سیّدہ)امامہ(رضی اللہ عنہا)

امامہ دخترسماک بن عتیک اوسیہ اشہلیہ،بقول ابن حبیب وہ حارث بن اوس بن معاذ کی والدہ تھیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )امامہ( رضی اللہ عنہا)

امامہ،فرقد عجلی کی ماں تھیں،اپنے بیٹے کے ساتھ خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئیں،ان کے بیٹے کے گیسو تھے،جنہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے چھوا،اور دعا فرمائی،ابو عمر نےان کا ذکر فرقد کے ترجمے میں کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )امامتہ المریدیہ( رضی اللہ عنہا)

امامتہ المریدیہ،ان سے مروی ہے،جب سالم بن عمیر نے،ابو عتیک منافق کو قتل کردیا،جس کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا،اور اس کا نفاق عیاں ہو گیا تھااور آپ نے فرمایا تھا،کہ اس خبیث سے میرا پیچھا کون چھڑائے گا، تو اس موقعہ پر جناب امامہ رضی اللہ عنہ نے ذیل کا شعر کہا تھا۔ تُکَذِّبُ دِینِ اللہِ وَالمَرااَحمَدَا لَعَمَرَالَّذِی اَمنِاکَ اَن بِئسَ مَایَمنٰی (ترجمہ )تو اللہ کے دین اور رسولِ اکرم کی تکذیب کرتا ہے،بخدا جس نے تیرے دل میں یہ خواہش پیدا کی، اس نے بہت بُری خواہش پیدا کی۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )امتہ اللہ( رضی اللہ عنہا)

امتہ اللہ رضی اللہ عنہا،دختر ابوبکر ثقفیہ صحابہ میں ان سے عطأ بن ابی میمونہ نے روایت کی بصری تھیں،ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )امتہ ( رضی اللہ عنہا)

امتہ دختر ابوالحکم غفاریہ،یہ جعفر اور ابو عمر کا قول ہے، خطیب نے ان کا نام امیّہ دختر ابو الصلت غفاریہ تحریر کیا ہے،ابن ِ مندہ نے اپنی تاریخ میں یہی لکھا ہے،مگر معرفتہ الصحابہ میں ان کا ذکر نہیں کیا،اور یہی قول ہے عبدالغنی کا ہمیں ابو موسیٰ نے کتا بتہً ابو غالب احمد بن عباس سے،انہوں نے ابوبکر سے (ح) ابو موسٰی نے ابو علی سے ، انہوں نے ابو نعیم سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے،انہوں نے حجاج بن عمران اسدوسی بن سحیم سے،انہوں نے امہ دخترِ ابوالحکم غفاری سے روایت کی،انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، کہ ایک وقت ایسا ہوتا ہے،جب آدمی جنّت کے اتنا قریب ہوجاتا ہے،کہ ان میں باہم گز بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے،پھر وہی آدمی اس سے اتنا دُور ہوجاتا ہے، جتنا کہ یہاں سے صنعأ ابو موسٰی اور ابو عمر نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )امتہ اللہ( رضی اللہ عنہا)

امتہ اللہ دختر رزینہ،حضور ِ اکرم کی خدمات گزار تھیں،محمد بن موسٰی جرشی نے ان کا ذکر علیہ دختر کمیت کی روایت میں کیا ہے،ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے،ابو نعیم کا کہنا ہے کہ ابن مندہ کو ان کے بارے میں وہم ہوا ہے،کیونکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی صحبت ان کی والدہ کو نصیب ہوئی،اور ان کی حدیث کو ردیف را میں بیان کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں،کہ ابنِ مندہ نے اس باب میں ابن ابی عاصم سے، انہوں نے عقبہ بن مکرم سے انہوں نے محمد بن موسٰی سے انہوں نے علیہ دختر کمیت سے،اُنہوں نے اپنی والدہ سے،انہوں نے امتہ اللہ سے روایت کی، کہ حضور اکرم نے بنو قریظہ اور بنو نضیر سے جنگ کے موقعہ پر جناب صفیہ کو جو بطور جنگی قیدی گرفتار ہو گئی تھیں،آزاد کر کے رزینہ کو انہیں بطورِ مہر دے دی تھیں۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عنقوذہ(رضی اللہ عنہا)

عنقوذہ،ابوموسیٰ نے کتابتہً حسن بن احمد سے ،انہوں نے ابونعیم سے ،انہوں نے احمد بن ابراہیم بن علی سے،انہوں نے محمد بن قارن سے،انہوں نے ابوزرعہ سے،انہوں نے غسان بن فصل ابوعمر سے،انہوں نے صبیح بن سعید نجاشی مدنی سے،بہ عمر ایک سواَسّی سال روایت سُنی اور ان کا خیال ہے کہ وہ ایک سوباون برس کے تھے،ان سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی ماں سے سناکہ ان کا نام عنبسہ تھا،جسے حضورِاکرم نے عنقوذہ بنادیا،ابونعیم اور ابوموسٰی نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عنقوذہ(رضی اللہ عنہا)

عنقوذہ جوجناب عائشہ کی لونڈی تھیں،صرف ابوموسیٰ نے ان کا علیحدہ ترجمہ لکھاہے،اور کہا ہے کہ جعفر نے بھی ان کا ترجمہ تحریری کیا ہے،اس حدیث کے اسناد میں شبہ ہے۔ حمید بن حوشب نے حسن سے،انہوں نے حضرت علی سے روایت کی،کہ جب حضور سرورِکائنات نے معاذ بن جبل کویمن میں حاکم بناکر بھیجنے کا ارادہ کیا،تو ایک دن نماز صبح کے بعد ہماری طرف رُخ پھیر کر فرمایا،اے گروہ مہاجرین و انصار!یمن میں فرائض حکومت ادا کرنے کے لئے کون جانا چاہتا ہے،حضرت ابوبکر نے خود کو پیش کیا،تو آپ خاموش رہے،حضورِاکرم نے پھر اپنی بات کو دہرایا،تو معاذ بن جبل اُٹھے،فرمایا،ہاں تم اس منصب کے لئےموزوں ہو،اور یہ منصب تمہارے لئے،اس لئے تیاری کرو،چنانچہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین کے علاوہ مختلف گروہوں نے ان کی مشایعت کی۔ آپ نے فرمایا،اے معاذ میں تجھے بطور ایک شفیق اور مہربان دوست کے وصیت کرتاہ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عقیلہ(رضی اللہ عنہا)

عقیلہ دختر عبید بن حارث عتواریہ،حضورِاکرم سے بیعت کی اور مدینے کو ہجرت کی،ان سے ان کی بیٹی حجہ دختر قریط نے روایت کی،ایک روایت میں ان کی بیٹی کا نام حجبہ دختر فرطہ مذکور ہے،اور ان کی بیٹی سے زید بن عبدالرحمٰن بن ابو سلامہ یا ابن سلام نے روایت کی۔ بخاری اور طبرانی نے ان کانام عقیلہ اور ابنِ مندہ نے غفیلہ لکھاہے،ابو نعیم،ابوعمر اور ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عقرب(رضی اللہ عنہا)

عقرب دختر معاذ بن نعمان بن امراء القیس بن زید بن عبدالاشہل،رافع بن عبدالاشہل یزید اور ثابت پسران خطیم کی والدہ تھیں،بقولِ ابن حبیب حضورِ اکرم سے بیعت کی۔ ۔۔۔

مزید