اخوعمروبن امیہ ضمری،ابواحمد عسکری کاخیال ہےکہ انہیں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ۔۔۔
مزید
العَرَکی،یہ وہی صاحب ہیں جنہوں نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندری پانی سے وضوکے بارے میں دریافت کیاتھا،ان سے عبداللہ بن جریرنےروایت کی،یہ ایسانام ہے،جوصفت نسبتی سے ملتاجلتاہے۔ ۔۔۔
مزید
الدیل حنظلہ بن علی الدیل،بنودیل کے ایک آدمی سے،ان سے مروی ہےکہ میں نے گھرمیں ظہر کی نمازاداکی،مسجدنبوی کے پاس سےگزرا،توحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، میں پاس سےگزرگیا،حضوراکرم نے دریافت کیا،تم کیوں شریک نماز نہ ہوئے،میں نے عرض کیا، یارسول اللہ،میں نمازاداکرچکاتھا،فرمایا،تاہم تمہیں شریک ہوجاناچاہئیے تھے،ابونعیم نےذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
الدوسی،یحییٰ بن محموداورابویاسرنے باسنادہماتامسلم،ابوبکربن ابوشیبہ اوراسحاق بن ابراہیم سے، انہوں نے سلیمان سے،ابوبکرکہتے ہیں،ہمیں سلیمان بن حرب نے انہوں نے حمادسے،انہوں نے حجاج الصواف سے،انہوں نے ابوالزبیرسے،انہوں نے جابرسے روایت کی کہ طفیل بن عمروالدوسی حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے،کیاآپ کے پاس مضبوط قلعہ ہے،پھرحدیث بیان کی۔ ان سے مروی ہےکہ رسولِ کریم نے ہجرت کی،توطفیل بن عمرواوران کے قبیلے کے ایک اورآدمی نے بھی ان کے ساتھ ہجرت کی،انہوں نے مدینے میں سکونت اختیارکرلی،طفیل کاساتھی بیمارپڑگیا، اورآہ وزاری کرنےلگ گیا،اس نےتیرکاپیکان لیااورہاتھوں کی انگلیوں کے پیوندکاٹ ڈالے،اس کے ہاتھوں سےخون بہنےلگ گیا،اوروہ مرگیا،اسےطفیل نےخواب میں دیکھاکہ وہ اچھی حالت میں تھا،مگرہاتھ ڈھانپ رکھےتھے،طفیل نے پوچھا،کہو،خدانےتم۔۔۔
مزید
الیمن،یحییٰ بن عمارہ بن حزم نےبنویمن کےایک شخص سے،وہ کہتےہیں کہ ابوطالب کی وفات میں حضورکی خدمت میں حاضرہوامیں نےدل میں کہا،کہ میں ضرور آپ کی خدمت میں حاضرہوں گا، اورآپ کی گفتگو سنوں گا،میں آپ کےگھرمیں داخل ہوااورپانی طلب کیا،آپ کی ایک صاحبزادی نےاٹھ کرایک پیالے میں مجھےپانی دیا،مجھےاس سے ایسی خوشبوآئی کہ سبحان اللہ!اس سے حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےپانی پیاتھا،میں نے آپ کوفرماتے سنا،اے اللہ تواس سے دوگنابھلائی کر، جومحمدسےبھلائی کرے،ابوطالب کےبعدخدیجتہ الکبریٰ مرگئی،اورآپ پرغم ٹوٹ پڑے، ابونعیم نےذکرکیاہے۔ ان حضرات کاذکرجنہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صِرف صحبت نصیب ہوئی ۔۔۔
مزید
علی بن علی بن سائب نےاپنےبھائی سے،انہوں نےایک صحابی سے،حمادبن سلمہ نےحجاج بن رطاہ سے،انہوں نےعلی بن علی بن سائب سے،انہوں نےاپنےبھائی سے،انہوں نےایک صحابی سے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےعورتوں کی دبرکواستعمال کرنے سے منع فرمایا، دونوں نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
علی بن بلال ازگروہِ انصار،عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے باسنادہ عبداللہ بن احمدسے،انہوں نےاپنے والدسے،انہوں نے ہشیم سے،انہوں نےابوبشرسے،انہوں نے علی بن بلال سے،انہوں نے گروہِ انصارسےروایت کی،کہ ہم رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کےساتھ نمازمغرب اداکرتے،وہاں سے فراغت کےبعدہم تیراندازی کی مشق کرتے اورجب ہم گھروں کوواپس لوٹتے تواس وقت بھی ہم اپنے تیروں کےہدف باآسانی دیکھ سکتے تھے،ابونعیم نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
علی بن ربیعہ ایک صحابی سے،عبدالعزیزبن رفیع نےعلی بن ربیعہ سے،انہوں نےایک صحابی سے روایت کی کہ حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازپڑھائی اورپھرصحابہ کی طرف منہ پھیرااور فرمایا کہ اللہ اوراس کےفرشتےپہلی صف میں کھڑےنمازیوں پردرودبھیجتے ہیں،دونوں نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
علقمہ بن عبداللہ المزنی بنومزینہ کے ایک آدمی سے،انہیں حضوراکرم کی صحبت نصیب ہوئی، انہوں نے حضوراکرم کوفرماتےسُنا،جسےاللہ اوریوم آخرت پرایمان ہے،وہ اچھی بات کہےیاخاموش رہے، جواللہ اورآخرت پرایمان رکھتاہے،وہ اپنےہمسائےکااحترام کرے،اوراسی طرح اپنے مہمان کا، ابونعیم نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
عمِ عامربن طفیل،ابوموسیٰ نے اذناً حسن بن احمدسے،انہوں نے ابونعیم سے،انہوں نے محمد بن محمد سے،انہوں نے حضرمی سے،انہوں نے شیبان بن فروخ سے،انہوں نے عقبہ بن عبداللہ رفاعی سے، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے،انہوں نے عامربن طفیل سے روایت کی،کہ عامر نے حضورِ اکرم کوایک گھوڑابطورہدیہ روانہ کیا،اورکہلابھیجاکہ مجھے ایک پھوڑانکل آیاہے،کوئی دواارسال فرمائیں،حضورِاکرم نے گھوڑاتوواپس فرمادیا،کیونکہ اس نے اسلام قبول نہیں کیاتھا،لیکن شہد کی ایک کپی روانہ کی،اورکہلابھیجاکہ اس سےپھوڑے کاعلاج کرو،ابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ابنِ اثیرلکھتےہیں،اسے صحابی کہنابالکل غلط ہے،نیزعامربن طفیل کاحضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ بھیجنابھی درست نہیں،کیونکہ وہ کافر مجاہرآپ کاشدیدترین دشمن تھا،وہ بھلاکیوں آپ سے پھوڑے کاعلاج طلب کرتاکیونکہ یہ وہی شخص ہے،جس نے۔۔۔
مزید