ابوعبدالرحمٰن مخزومی،طبرانی نے بھی انہیں صحابہ میں شمارکیا ہے،ابوموسیٰ نے اذناً ابوغالب سے،انہوں نے ابوبکرسے(ح)ابوموسیٰ لکھتے ہیں،حسن بن احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے سلیمان بن محمد بن عبدوس بن کامل السراج سے،انہوں نے ابوکریب سے،انہوں نے زیدبن حباب سے، انہوں نے عثمان بن عبدالرحمٰن مخزومی سے،انہوں نے اپنے والد سے ،انہوں نے داداسے روایت کی، کہ سعد نے حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وصیّت کے بارے میں دریافت کیا،آپ نے چوتھے حصے کی اجازت دی،ابونعیم اورابوموسیٰ نے ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعبدالرحمٰن مذحجی،ان کی حدیث کو عیاض بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،جیساکہ پہلے ذکرہوچکاہے،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابورفاعہ عدوی،ازبنوعدی بن عبدمناہ بن اوبن طانجہ(عدی الرباب)خلیفہ نے ان کا نسب حسبِ ذیل بیان کیاہے،عبداللہ بن حارث بن اسد بن عدی بن جندل بن عامر بن مالک بن تمیم بن دوئل بن جبل بن عدی بن مناہ بن اوابورفاعہ فضلاصحابہ سے تھے،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں تمیم بن اسد،ایک میں تمیم بن اسید اور ایک میں ابن اسدمذکورہے،بصری تھے، ۲۴ہجری میں کابل میں قتل ہوگئے تھے،ان سے صلہ بن اشیم اور حمید بن ہلال نے روایت کی،یحییٰ بن محمودنے اذناً باسنادہ ابوبکر احمد بن عمروسے انہیں شیبان بن فروخ نے،انہیں سلیمان بن مغیرہ نے ، انہیں حمید بن بلال نے انہیں ابورفاعہ نے بتایا،کہ وہ حضورِاکرم کی خدمت میں حاضرہوئے،اور آپ خطبہ دے رہے تھے،انہوں نے عرض کیا ،یارسول اللہ،میں ایک غریب الوطن ہوں اور احکام دین سے ناواقف ،حضورِ اکرم نے خطبہ دینا بند کردیا،نیچے اترے،میرے۔۔۔
مزید
ابورافع صائع،ان کا نا م نفیع تھا،ابورافع(اول الذکر)کہتے ہیں،نہ تو مجھے ان کی اولاد کا علم ہے اور ان کا نسب کا،مشہورتابعی عالم ہیں،انہوں نے زمانۂ جاہلیت پایا،ان سے ثابت البنانی اور حلاس بن عمروالہجری نے روایت کی،بصری شمار ہوتے ہیں،انہوں نے زیادہ تر احادیث حضرت عمر اور ابوہریرہ سے روایت کیں،ثابت البنانی نے ان سے روایت کی،کہ ایک دفعہ انہوں نے مجھے بتایا کہ لذیذ گوشت جو انہوں نے زمانۂ جاہلیت میں کھایا تھا،وہ ایک درندے کا تھا،ابوعمرنے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ تھے،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں اسلم،ایک میں ابراہیم اور ایک میں صالح مذکورہے،اورہم پیشترازیں ان ناموں کے تراجم میں ان کا ذکر کر آئے ہیں،عکرمہ مولی ابنِ عباس نے بیان کیا،کہ ان سے ابورافع نے جوجناب عباس کے مولی تھے،بیان کیا،کہ اہل ِبیت میں اسلام داخل ہوچکاتھا،اورجناب عباس ام الفضل اور میں نے اسلام قبول کرلیاتھا،چونکہ عباس اپنی قوم سے ڈرتے تھے اور ان کی مخالفت شاق گزرتی تھی اور ان کاکافی روپیہ قریش میں بکھراہواتھا،اس لئے مارے ڈر کے اسلام کو ظاہر نہیں کرتے تھے۔ ہمیں کئی راویوں نے اپنے اپنے اسنادسے محمد بن عیسیٰ سے،انہوں نے یحییٰ بن موسیٰ سے،انہوں نے عبدالرزاق سے،انہوں نے ابن جریج سے،انہوں نے عمرابن بن موسیٰ سے،انہوں نے سعید بن ابوسعید سے،انہوں نے ابورافع سے روایت کی۔۔۔
مزید
ابورحیمہ،ایک روایت میں ابورحمہ ہے،حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے،اور آپ کی فصد لی،عطابن نافع نے حسن بن ابوالحسن سےانہوں نے ابورحیمہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضورِاکرم کے فصد لی اور حضورِ اکرم نے انہیں ایک درہم عطافرمایا،ابونعیم اور ابن مندہ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابورائطہ،ان کا نام عبداللہ بن کرامتہ المذحجی تھا،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،شعبی نے ان سے روایت کی،کہ وہ حضورِاکرم کی مجلس میں بیٹھےہوئےتھے،پھرانہوں نے حدیث بیان کی،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوالرجاءالعطاردی بصری،ان کا نام عمران تھا،ان کے والد کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،ایک روایت میں عمران بن تمیم اور ایک میں عمران بن عبداللہ ہے،زمانۂ جاہلیت پایا،اوربعدازفتح مکہ اسلام قبول کیا،اورلمبی عمر پائی،جب ابورجاءفوت ہوئے تو فرزوق نے ذیل کا شعرکہا۔ الم تر ان الناس مات کبیرھم وقدکان قبل البعث ،بعث محمد ہم پیشتر عمران کے ترجمے میں ان کا ذکر کرچکے ہیں،ابوعمر نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابورمداء،اورایک روایت میں ابوالربداء البلوی ہے،جو اس قبیلے کے آزاد کردہ غلام تھے،اکثر اہلِ حدیث انہیں رمداء لکھتے ہیں،اور اہلِ مِصر ربداء لکھتے ہیں،ابن غفیر نے ابوالربداء لکھاہے،اور انہیں اس خاندان کی ایک عورت (جس کانام ربداءدختر عمروبن عمارہ بن عطیتہ البلوی تھا)کاغلام بتایا ہے، ان سے مروی ہے کہ وہ بکریاں چراتے تھے کہ حضور ان کے پاس سے گزرے،اس ریوڑ میں ان کی بھی دوبکریاں تھیں،حضورِاکرم نے ان سے پانی طلب کیا،انہوں نے آپ کے لئے دو بکریوں کا دودھ دوہا،پھر دم لیا،اوردونوں بکریوں کے تھنوں میں دُودھ پھربھرگیا،انہوں نے اس کا اپنی مالکہ سےذکرکیا ،اس نے انہیں آزادکردیا،اورانہوں نے اپنی کنیت ابوالربداء رکھ لی۔ اور ابن وہب نے ان کی حدیث ابن لہیعہ سے،انہوں نے ابوسلیمان مولی ام سلمی سے،انہوں نے ابوالرمداء البلوی سے روایت کی،کہ ایک شرا۔۔۔
مزید
ابورمثہ بلوی،انہیں حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی،مصرمیں سکونت اختیارکی اور افریکہ میں وفات پائی،انہوں نے وصیت کی تھی،کہ دفن کرنے کے بعد ان کی قبرزمین سے ہموار کردی جائے،اہلِ مصر ان کے راوی ہیں،ابوعمرنے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید