جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

پسنديدہ شخصيات

حضرت سید عبد الرزاق مکی نیلا گنبد

حضرت سید عبد الرزاق مکی نیلا گنبد رحمۃ اللہ علیہ وفات           مزار اقدس ایڈ ورڈ روڈ پر ایک بہت بڑے گنبد میں کسٹم ہاؤس کےپاس ہی واقع ہے جو شہنشاہ اکبر نے آپ کی وفات سے قبل ہی تعمیر کروایا دیا تھا، قبہ میں گیا رہ قبریں ہیں ،نز دیک ایک مسجد بھی ہے،وفات ۱۰۱۳ھ بمطابق ۱۶۰۴ء میں بمقام خان فتا بعہد شہنشاہ اکبر ہوئی اور لاش لاہور لا کر دفن کی گئی، اس وقت آپ  کی عمر ۷۲ سال کی تھی، خان فتا میں جہاں آپ نے وفات پائی تھی وہاں بھی آپ کی ایک قبر بنائی گئی ہے، سید صفی الدین اور سید بہاء الدین فرزندن کی قبریں بھی یہاں ہی ہیں۔ محکمہ اوقات           محکمہ اوقات نے اس روضہ کے موجودہ سجادہ نشین کو برطرف کرکے اس خانقاہ کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے،ان کا اندازہ ہےکہ یہ جائیداد سوالاکھ روپے کی ہے، محکمہ اوقات اس رو۔۔۔

مزید

میاں فرید سہروردی لاہوری

میاں فرید سہر وردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ حضرت میراں محمد شاہ بخاری کے مرید تھے، ایک دفعہ اکبر بادشاہ جب شاہی قلعہ لاہور  میں قیام پذیر تھا تو وہاں کچھ امرا نے بادشاہ سے شکایت کی کہ آپ نے حضرت میراں محمد شاہ کو بہت زیادہ جاگیر دے دی ہے، بادشاہ نے کہا کہ وہ بہت خدا رسید بزرگ ہیں تو اس پر امراء نے عرض کی کہ اگر یہ حسبًا نسبًا سید ہوں گے تو آگ ان پر اثر نہ کرے گی،چنانچہ تنو ر گرم کیا گیا جس وقت آپ کے فرزند حضرت سید شہاب الدین نے سنا تو فوراً قلعہ پہنچے اس وقت دروازے سے قلعہ کے سپا ہیوں نے آپ کو گز رنے نہ  دیا، اس پر آپ نے شیر کی شکل اختیار کر لی تو محا فظ سپاہی وغیرہ بھاگ کھڑ ے ہوئے اور یہ اندرون قلعہ شاہی اپنے والد بز رگوار کے پاس پہنچ گئے اور چاہا کہ اکبر کو ایک طما نچہ رسید کریں یہ سن کر آپ اصلی شکل پرآئے اور حضر ت۔۔۔

مزید

حضرت شیخ جنید بن ابراہیم بن علی بن صدر الدین موسی سہروردی

حضرت شیخ جنید بن ابراہیم بن علی بن صدر الدین موسی سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  ۔۔۔

مزید

سید شاہ محمد سہروردی لاہوری

سید شاہ محمد سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ کے والد حضرت عثمان رحمتہ اللہ علیہ کا مقبرہ تہہ خانہ شاہی قلعہ لاہور میں ہے اور فرزند حضرت گھوڑے شاہ  سہروردی رحمتہ اللہ علیہ کا علاقہ تیزاب احاطہ میں واقع ہے، آپ اپنے والد بزر گوار کی وفات کے بعد لاہور تشریف لائے تھے، سلسلہ نسب مخدوم جہانیاں جہاں گشت رحمتہ اللہ علیہ حضرت سید جلال الدین بخاری رحمتہ اللہ علیہ تک جاتا ہے،آپ بہ اجتماع کثیر چک سروا علاقہ کلانور میں آئے اور وہاں آپ نے بہت سے لوگ مسلمان کیئے،والد ماجد کی لاہور میں وفات پر آپ نے ان کی مسند رشدو ہدایت کو زینت بخشی اور لاہور کے ارد گرد کے تمام دیہات اور دور دراز کے مقامات پر بھی وعظ و ارشاد کی غرض سے جایا کرتے تھے، ہزار ہا لوگ آپ کے وعظ و نصیحت سے راہ حق پر آئے۔ آپ کی زندگی بڑے جذب وسکر کی تھی اور اکثر عبادت وریاضت می۔۔۔

مزید

حضرت مفتی شیخ کمال الدین سہرروردی لاہوری

مفتی شیخ کمال الدین سہرروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی مفتی شیخ محمدا لمعروف میاں وڈا تھا، ان کی وفات کے بعد آپ عہد ہ افتا پر متمکن ہوئے، شیخ مر حوم کی نگرانی میں آپ نے اپنی تعلیم مکمل کی تھی اور انہیں سے سلسلہ سہروردیہ میں خلافت حاصل کی تھی۔           لاہور کے ممتاز علماء میں شامل ہوئے تھے، سلطان سکندر لودھی آپ کی بے حد عزت کرتا تھا، حضرت شیخ عبدا لجلیل چوہڑ بندگی رحمتہ اللہ علیہ حضرت شیخ کا کو چشتی رحمتہ اللہ علیہ حضرت موسیٰ آہن گر رحمتہ اللہ علیہ آپ کے معا صر اولیا ء اللہ لاہور میں سے تھے۔ مسجد مفتیاں           لاہور میں آپ نے ایک عظیم الشان مسجد بنام،مسجد مفتیاں، تعمیر کرائی جو آج تک موجود ہے اور لاہور کی قدیم۔۔۔

مزید

حضرت شیخ میر ہاشم سہروردی لاہوری

حضرت شیخ میر ہاشم سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ ہمایوں بادشاہ کے وزیر تھے اور آپ کو حضرت موسیٰ آہنگر رحمتہ اللہ علیہ سے بے پناہ عقیدت تھی۔ موصوف کی خدمت میں اکثر و بیشتر حاضر ہوا کرتے تھے، ابتداء میں آپ گھو ڑوں کی تجارت کرتے تھے، جب ہمایوں ایران سے کابل پہنچا تو میر ہاشم بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے بادشاہ نے اس کو کتاب خانہ کی خدمت سپرد کردی جس سے وہ ترقی کرکے اس کے وزیر بن گئے، ہمایوں کی وفات کے بعد اس کے بیٹے جلال الدین اکبر نے بھی  آپ کو  وزارت کے عہدے پر بحال رکھا۔ حضرت موسیٰ آہنگر رحمتہ اللہ علیہ کا آپ نے ہی روضہ تعمیر کروایا تھا، آپ ہمایوں اور اکبر کے عہد میں درباری اور منصب دار تھے، آپ کو آنجنا ب سے بے پناہ عقیدت تھی، جب بادشاہ اکبر نے اس ارادہ کا اظہار کیا کہ آپ کا مقبرہ شاہی خرچ سے تعمیر ہوتو سید ہاشم۔۔۔

مزید

شیخ اسحاق سہروردی لاہوری

شیخ اسحاق سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ شیخ المشا ئخ حضرت موسیٰ آہن گر رحمتہ اللہ علیہ کے فر زند ارجمند تھے اور بیعت بھی آپ سے ہی فرما ئی تھی، شیخ سے آپ کو جبہ اور پیر اہن مسند خلافت کے ساتھ عطا ہوا تھا، مجا ہدات اور ریاضت آپ نے بہت کیئے رشدو ہدایت اور تلقین و اور اد کے ذریعے آپ نے خلق کی بہت خدمت کی۔ وفات           آپ کی وفات پر خلافت شیخ عبد العلی کو ، پھر شاہ جمال کو، پھر شاہ جیون کو ،پھر شاہ جمال اللہ مولف کتاب،منا قب موسوی، کوملی تھی۔ (لاہور کے اولیائے سہروردیہ)۔۔۔

مزید

شیخ موسی آہنگر سہروردی لاہوری

شیخ موسی آہنگر سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ           آپ کی ولادت ۱۴۳۷ء بمطابق ۸۴۱ھ میں ہوئی، والد کا اسم گرامی سلطان عرب تھا اور والدہ کا بی بی عائشہ تھا، آپ کا شجرہ نسب حضرت امام محمد تقی اور پھر حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ختم ہوتا ہے، آپ کی بیوی کا نام بی بی ملکی تھا جو شیخ زکریا رحمتہ اللہ علیہ کی دختر نیک اختر تھی۔ خلا فت           حضرت شاہ عبد الجلیل چوہڑ بندگی رحمتہ اللہ علیہ سے خلافت پائی تو مرشد نے اپنے پاس ہی دو بیگھ زمین دے دی، پہلے شیخ شہر اللہ بن یوسف سجادہ نشین روضہ انور حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت تھے ان کی وفات کے بعد لاہور آئے اور پیرو مرشد کی خدمت میں رہنے لگے اور بالآخر یہاں کے ہی ہورہے، لاہور آنے سے قبل آپ تقریباً دس برس تک حرمین الشر فین میں مقیم ۔۔۔

مزید

شیخ ابو الفتح ثانی

شیخ ابو الفتح ثانی رحمتہ اللہ علیہ فرزند حضرت چوہڑ بندگی سہروردی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ آپ سلطان سکندر لودھی کی دختر کے بطن سے پیدا ہوئے،آپ کی اولاد کی سکونت دو پشت تک لاہور میں رہی،پھر ان کے کے پوتے بر خوردار عبد الجلیل ثانی کوٹلی پیراں چلے گئے،یہ گاؤں انہوں نے خود بسایا تھا اور لاہور شمال مشرق کی طرف واقع ہے۔ اس گاؤں میں سہروردی سلسلہ کے رہنماؤں میں سب سے پہلی قبر جو بنی وہ شیخ غلام علی بن شیخ  فخر اللہ بن شیخ ابو الفتح ثالث رحمتہ اللہ علیہ کی تھی،آپ کی اولاد لاہور اور شاہد رہ کی تحصیلوں میں آباد ہے۔ بیعت           آپ نے اپنے والد گرامی حضرت چوہڑ بندگی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کی تھی اور خرقہ خلافت انہی سے حاصل کیا۔اپنے والد کی وفات پر لاہور میں مسند نشین ہوئے اور لوگوں کو آپ سے فیضان جاری رہا، پیر فرح بخش،اذکار قلندری،میں لکھتے ہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسن محمد بن میاں جیون

شیخ حسن بن میاں جیون رحمۃ اللہ علیہ نام و نسب:آپ کا نام حسن بن شاہ میاں جیون بن شیخ نصیر الدین شیخ امجدالدین بن شیخ سراج الدین بن کمال الدین قدس سرہم ہے۔ بیعت و خلافت:آپ روحانی طورپرشیخ جمال الدین المعروف شیخ جمن کے مرید تھے۔ شیخ جمن  شیخ محمد المعروف شیخ راجن کے وہ شیخ علم الدین کے اور وہ شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی قد س سرہم کے مرید تھے۔ سیرت وخصائص:شیخ حسن بن میاں جیون قدس سرہ ایک بڑے جلیل القدر اور اپنے زمانے کے مایہ ناز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر ہی سے حاصل کی، مزید علوم  کے حصول کے  لئے کئی مقامات کا سفر کرکے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ آپ متبحر اور وسیع  العلم  علماء میں سے ہوگئے۔  حصولِ علم سے فراغت کے بعد آپ مخلوق کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت شروع کی۔ آپ کے حلقۂ ارادت سے کافی لوگوں نے فائدہ حاصل کیا۔آپ۔۔۔

مزید