شاہ جیونہ کر و ڑی بخاری نقوی سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ سادات بخاری سے تعلق رکھتے تھے،نام نامی سید محبوب عالم تھا، والد ماجد اور جد امجد کا اسم گرامی سید احمد کبیر ثانی اور مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہر وردی رحمتہ اللہ علیہ تھا، آپ اپنے والد کے تیسرے فرزند تھے، ولادت قنو ج بھارت کے علاقہ میں ہوئی جہاں آپ کے والد اوچ سے اس شہر میں چلے گئے تھے، ولا دت آپ کی ۸۹۵ھ مطابق ۱۴۸۹ء بعہد سلطان بہلو ل لودھی ہوئی، اکیس سال تک والدین کی سرپرستی میں رہے پھر دہلی تشریف لائے اور حضرت نصیر الدین چراغ دہلی چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی وہاں سے ہدایت پاکر پنجاب تشریف لائے۔ لاہور میں آمد: دہلی سے براستہ سامانہ اور پٹیا لہ آپ لاہور تشریف لائے اور یہاں کئی سال قیام فرمایا قیام لاہور کے وقت آپ کو۔۔۔
مزید
پیر کا لیہ سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ کا خاندانی شجرہ نسب حضرت برہان الدین ولی آف لنگر مخدوم سے جا ملتا ہے، والد گرامی شیخ سعد اللہ سلسلہ سہر وردیہ سے بیعت تھے، نام نامی محی الدین تھا، ولادت ۸۸۰ھ مطابق ۱۴۷۵ء بعہد سلطان بہلو ل لودھی ہوئی، خلافت اپنے والد سے پائی۔ لاہور آمد: آپ نے کثرت سے سیرو سیاحت کی اور بیس سال کی عمر میں سیا حت ہندوستان کےلیئے نکل کھڑے ہوئے اور لاہور تشریف لائے اور یہاں سے ہی آپ کو علاقہ ککی نو تحصیل شور کوٹ میں مقیم ہونے کی بشارت ملی، چنا نچہ آپ وہاں چلے گئے اور باقی زندگی وہاں ہی مقیم رہے۔ وفات: ۹۶۲ھ مطابق ۱۵۵۴ء میں بعہد ابراہیم سوری ککی میں ہوئی اوروہاں ہی اپنے والد شیخ سعد اللہ کے پہلو میں دفن ہوئے، مزار عالی پختہ ہے جو شور کوٹ ۔۔۔
مزید
شیخ جمال الدین ابوبکر سہروردی رحمتہ اللہ علیہ آپ حضرت عبد الجلیل چوہٹر بند گی رحمتہ اللہ علیہ کے حقیقی بھائی ہے، سلطان سکندر لودھی کے زمانہ میں حضرت قطب الدین آگرہ چلے گئے تھے،آپ لکھتے ہیں کہ حضرت قطب الدین عالم رحمتہ اللہ علیہ نے بڑے اصرار سے آپ کی شادی سلطان بابک کی صاحبز ادی سے کردی۔ بیعت: آپ نے حضرت چوہٹر بندگی رحمتہ اللہ علیہ سے بیعت کی تھی اور انہیں سے خلافت حاصل کی، اس موقع پر شیخ جلال الدین گوجر،شیخ مولانا نجار اور شیخ لد ھا کمبو ہ حاضر تھے، جب آپ نے خرقہ خلافت عطا فرمایا تو حصا ر فیروز شاہ کی جانب جانے کا ارشاد فرمایا۔ تذکرہ قطبیھ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بابر کے عہد میں ۱۵۲۶ء سے ۱۵۳۰ء تک کسی وقت خانقاہ جلیلہ میں پھر واپس آکر ہدایت کی تلقین کرنے لگے تھے،اس زمانہ میں سید علی بخاری نے آپ سے فیضان حاصل کیا تھا اور پھر آگرہ چلے گئے،اذکار ابرار،تالیف ۱۶۰۵ءمیں بھی آپ کا ذکر ہے۔۔۔۔
مزید
حضرت شیخ پیر پٹھا سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ف۔۔۔۔ ۶۶۶ھ ابو الخیر حسین بن راجبار شاہ عالم، شیخ پٹھا کے نام سے مشہور تھے، آپ قوم ایان سے تھا، سلسلہ نسب یہ ہے حسین بن راجبا ربن کاہ بن سخیر ہ، والد کا نام سلطانی بنت مرادبن شرفو ہے۔ (حاشیہ حدیقۃ الاولیاء ازحسام الدین راشدی ،ص ۴۸) حدیقۃ الاولیاء میں مثنوی کے انداز میں آپ کا حال بیان ہوا ہے ، بتایا گیا کہ آپ نے ایک مقام عزلتکدہ کو اپنا مسکن بنا رکھا تھا اور خلق اللہ سےمحبوب ومستور رہنا پسند کیا تھا، اتفاقاً اس مقام کے پاس سے حضرت شاہ عثمان شاہ باز اور شیخ بہاؤ الدین ذکریا کا گزر ہوا۔ جب شیخ بہاؤ الدین ذکریا اور شیخ پٹھا کی نطریں دو چار ہوئیں تو نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کو جام معرفت پیش کیا، اور بالآخر شیخ پ۔۔۔
مزید
آپ سلطان المشائخ نظام الدین دہلوی کے خلفائے باوقار میں سے تھے۔ زہد و تقویٰ اور ریاضت میں اپنے احباب میں ممتاز تھے۔ حضرت شیخ سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ دہلی شہر شیخ حسام الدین کے ظلِ حمایت میں ہے۔ آپ ایک دن کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں مشغول بحق ہونے کی وجہ سے اتنی محویت طاری تھی کہ آپ کے کندھے پر سے مصلی گر پڑا، کسی شخص نے دیکھا تو چلا کر آواز دی، یا شیخ، مگر شیخ کو قطعاً کوئی خبر نہ ہوئی، آخرکار مصلی اُٹھاکر آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا میں نے کئی بار یا شیخ یا شیخ کہا، مگر آپ نے کچھ نہ سنا اور مصلی نہ اٹھایا آپ نے مسکرا کر فرمایا، بھلے آدمی میں دراصل شیخ نہیں ہوں، ایک فقیر بے نوا ہوں، اگر اس نام سے آواز دیتے تو میں سن لیتا! ایک بار آپ حضرت پیر روشن ضمیر کی اجازت سے حج بیت اللہ کو گئے حج کی سعادت اور گنبد خضریٰ کی زیارت سے واپس آئے تو شیخ نے فرمایا اگر کوئی شخص حج کو جاتا ہے تو اس۔۔۔
مزید
آپ علاقہ گجرات کے بزرگوں میں سے بڑے بزرگ تھے۔ احمد آباد کے مضافات میں ایک قصبہ سرکچ میں آپ کا مزار ہے۔ آپ کا مقبرہ نہایت ہی پاکیزہ، منزہ اور ہوادار ہے کہ اس کی مثال دنیا میں شاید ہی کہیں ہو۔ کھتو ایک گاؤں کا نام ہے جو اجمیر کے قریب ہے، شیخ احمد کے آباؤاجداد دہلی کے باشندے تھے اور آپ کا بھی بچپن دہلی میں گزرا تھا۔ مشہور ہے کہ آپ ایک بار ایک گاؤں میں بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ سخت طوفان و آندھی آئی جو آپ کو وہاں سے اڑا کر کسی اور جگہ لے گئی اور آپ اپنے وطن سے دور مسافروں کی طرح بے یار و مددگار ہوگئے۔اس زمانے میں آپ کسمپرسی کی حالت میں اِدھر اُدھر گھوم کر وقت گزارا کرتے تھے۔ ایک دن بابا اسحاق مغربی کے ہاتھ لگ گئے جو اس وقت کے بڑے کامل درویش تھے وہ آپ کو اپنی قیام گاہ علاقہ کھتو میں جو اجمیر کے قریب ایک گاؤں ہے اپنے ہمراہ لے آئے چنانچہ شیخ احمد نے با۔۔۔
مزید
حضرت شیخ مخدوم محمود ناصر الدین بخاری سہروردی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
حضرت سید صدر الدین المعروف راجن قتال بخاری سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:سیدصدرالدین۔لقب:راجن قتال۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:حضرت صدرالدین راجن قتال سہروردی بن سیداحمدکبیربخاری سہروردی بن حضرت سید مخدوم جلال الدین سرخ بخاری بن سید ابو المؤید علی بن سیدجعفرحسینی بن سیدمحمودبن سید احمدبن سید عبد اللہ بن سید علی اصغر بن سید جعفر ثانی بن امام محمد نقی رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ۔آپ کاتعلق سادات بخاراسےہے۔آپ حضرت سیدجلال الدین سرخ پوش بخاری کےپوتے،اورحضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت کےبرادرِ اصغرہیں۔ لقب کی وجہ تسمیہ: آپ راجن قتال کے لقب سے مشہور ہیں۔آپ کے لقب راجن کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے۔کہ تمام اہل شہر کے دلوں پر آپ کی روحانی حکومت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔اور اوچ شریف اور گردونواح کے لوگ خود کو آپ کی رعایا کہلوانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔اس لیے راجن (یعنی بادشاہ)آپ کا لقب پڑ۔۔۔
مزید
حضرت سید احمد کبیر سہروردی بن جلال الدین سرخ پوش بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۔۔۔
مزید
مولانا حافظ شاہ محمد مسعود احمد چشتی صابری دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی:محمد مسعود احمد ۔لقب: چشتی صابری۔دہلی کی نسبت سے "دہلوی" کہلاتے ہیں۔ والد کااسمِ گرامی: شاہ محمدکرامت اللہ چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ قبلہ شاہ صاحب کے سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ تارریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1325ھ، بمطابق 1907ء کو شاہ محمد کرامت اللہ علیہ الرحمہ کے گھر دہلی(انڈیا) میں ہوئی۔ تحصیلِ علم: حضرت مولانا حافظ محمدمسعود احمد صاحب چشتی صابری علیہ الرحمۃکے اساتذہ کرام میں مندرجہ ذیل نامی گرامی اکابر ہیں۔ جن سے آپ نے حفظ اور علومِ دینیہ کی تحصیل و تکمیل فرمائی۔ حافظ و قاری عبد الرحیم دہلوی علیہ الرحمۃ، حضرت صدر الفاضل مناظر اسلام مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب مراد آبادی علیہ الرحمۃ، شیخ التفسیر والحدیث حضرت علامہ مولانا سید ابو البرکا۔۔۔
مزید