ذکر حضرت شیخ کبیر الدین اسمٰعیل سُہروردی رحمۃ اللہ علیہ پوتے اور مرید کے تھے اور چند سے مخدوم میں حاضر رہ کر ولایت اور کرامت میں مشہور ہوئے اور آدھی رات سے روضہ مخدوم پر صبح تک عبادت میں مشغول رہتے تھے۔وفات حضرت کی ۸۲۵ھ میں ہوئی۔۔۔۔
مزید
حضرت سائیں محمد عبداللہ ساقی سرمست قلندر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ ابراہیم بن شعبان کرمان شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کی کنیت ابواسحاق تھی جیلان کے قدما مشائخ میں سے تھے، حضرت ابوعبداللہ مغربی کے خاص احباب میں سے تھے، حضرت عبداللہ منازل رحمۃ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ شیخ ابراہیم کا کیا مقام ہے، آپ نے فرمایا ابراہیم حجۃ اللہ علی الفقراء دلاہل الادآب والمعاملات ہیں۔ آپ ۳۳۸ھ میں فوت ہوئے۔ شیخ ابراہیم شاہی شاہ دین جست سرور سال ترحیلش زدل شد چو از دنیا سوئے جنت روان گفت ابراہیم ہادیٔ جہاں ۳۳۸ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
والد کا نام سیّد عمر بن حاجی محمد ہاشم تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار کے زیر سایہ پائی تھی۔ سلسلۂ قادریہ میں بھی انہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ ان کے علاوہ سیّد عبداللہ مکّی، سید عبدالرحمٰن، سیّد محمد[1] بن سیّد علاءالدین حسینی ایسے باکمال بزرگوں سے بھی اخذِ فیض کیا تھا۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ کی سند اپنے خالو مولانا سیّد اسماعیل گیلانی سے حاصل کی تھی۔ طب مولانا شاہ عبدالرسول زنجانی لاہوری سے پڑھی تھی۔ اپنے عہد کے باکمال عالم و عارف تھے۔ بڑے شہ زور تھے۔ شکار کا بھی شوق تھا۔ ایک دفعہ جنگل میں شیر سے مقابلہ آپڑا۔ اس کے دونوں ہاتھ پکڑ کر ایسا جھنجھوڑا کہ اس کے ہاتھوں کے جوڑ الگ الگ ہوگئے۔ آپ نےجہاں اپنے علمی و روحانی فضل و کمال سے دنیا والوں کو فیض بخشا وہاں طبابت سے بھی خلقِ خدا کی بڑی خدمت کی۔ صاحبِ قلم تھے۔ کتاب کشف الاسرار خورد، کتاب کشف الاسرار بزرگ اور رسالۂ اسرار الکتما۔۔۔
مزید
بڑے صاحب حال اور صاحب جذب بزرگ تھے بازاروں میں رقص کرتے رہتے اور ہندی میں دوہڑے گاتے پھرتے تھے، ایک دن بیمار ہوگئے گھر والوں کو کہا مجھے گھر کی دہلیز پر بٹھادو، لوگوں نے کندھوں کو سہارا دے کر آپ کو گھر کی دہلیز پر بٹھادیا، اور گھر آگئے آپ وہاں سے غائب ہوگئے تلاش بسیار کے باوجود نہ مل سکے، اس دن کے بعد آپ کو کسی نے بھی نہ دیکھا۔ اخبار الاخیار کے مؤلّف نے لکھا ہے کہ میرے عم مکرم جناب رزق اللہ فرماتے ہیں کہ میں گجرات گیا وہاں لوگوں کی زبانی شیخ عبداللہ ابدال کا تذکرہ سنا، لوگ آپ کی بے حد تعریف کرتے، میں نے کہا وہ یہاں کدھر آگئے وہ تو دہلی میں تھے میں کچھ دنوں بعد دہلی آیا تو انہیں وہاں موجود پایا، آپ کی تاریخ معلوم نہیں ہوسکی۔ (حدائق الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ عبد العلیٰ بن محمد بن حسین برجندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عبد العلیٰ بن محمد بن حسین برجندی: جامع اصناف علوم محسوس و منقول، حاوی انواع مسائل فروع واصول،فقیہ محدث،صاحب زد و تقویٰ تھے خصوصاً علم نجوم و حکمیات وریاضی میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا۔علم حدیث کا خواجہ مولانا اصفہانی اور فنون حکمیہ مولانا منصور ولد مولانا معین الدین کاشی سے حاصل کیے، باقی علوم متداولہ مولانا کمال الدین شیخ حسین قنوی سے اخذ کیے اور مولانا سیف الدین احمد تفتازانی اور مولانا کمال المسعود شروانی سے بھی استفادہ کیا اور ہمیشہ اوصاف تواضع و پرہیز گاری و حلم اور دینداری سے متصف رہ کر نشر علوم اور تالیف و تصنیف میں مصروف رہے۔۹۳۱ھ میں کتاب مجسطی کی شرح لکھی،فقہ میں مختصر وقایہ کی شرح نقایہ اور مناظرہ میں رسالہ عضد یہ کی شرح اور فن اصطر لاب میں رسالہ طوسی کی ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ کمال الدین چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ آپ رحمۃ اللہ علیہ شیخ عثمان المعروف زندہ پیر چشتی صابری بن عبد الکبیر چشتی صابری پانی پتی بن شیخ عبد القدوس گنگوہی کے بڑے صاحبزادے تھے۔آپ اسم با مسمیٰ تھے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد آپ نے دستار سجادہ اُتار کر اپنے چھوٹے بھائی شیخ نظام الدین چشتی صابری کے سر پر رکھ دی۔ آپ ہر وقت ذکر و اذکار میں مصروف رہتے ۔۔۔۔
مزید
حضرت علامہ برہان الدین ابو محمد ابراہیم خجندی الاصل ثم مدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ علامہ برہان الدین ابو محمد ابراہیم بن احمد بن محمد بن محمد بن محمد خجندی الاصل ثم المدنی: ادیب فقیہ اور محدث تھے۔ان کے والد شیخ جلال الدین ابی طاہر احمد خجندی شارح قصیدہ بردہ خجند سے آکر مدینہ منورہ میں آباد ہوگئے جہاں علامہ ابراہیم ۷۷۵ھ میں پیدا ہوئے۔اپنے والد ماور عبد الرحمٰن بن علی انصاری زرندی قاضی مدینہ وغیرہ سے تحصیل علم کی۔دیوان، متعدد رسائل اور شرح اربعین نووی آپ کی یادگار ہیں۔رجب ۸۵۱ھ میں مدینہ منورہ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
حضرت شیخ نظام الدین چشتی صابری علیہ الرحمۃ تعارف:۔ صاحب فضل و کمال و کشف و کرامات کا عارف حق ، ہمہ صفت موصوف حضرت شیخ نظام الدین چشتی صابری رحمۃ اللہ علیہ مصدر جو دیز دانی ہیں۔آپ شیخ عبد الکبیر چشتی صابری پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ کے بیٹے ہیں۔ مشائخ وقت میں آپکا بہت بلند مقام تھا۔ دور دور تک آپکی ولایت کا شہرہ تھا۔ ہمہ وقت مخلوق خداد ادرسی اور اپنی حاجات پر آری کےلیے آپ کے پاس جمع رہتی۔ آپ انتہائی راست گو انسان تھے۔ آنے والوں سے وجہ اللہ پیارا اور شفقت فرماتے تھے۔ فقر و وفاقہ اور ترک و تفرید میں اپنے اسلام کا نمونہ تھے۔ آپ اپے والد گرامی حضرت عثمان زندہ پیر چشتی صابری علیہ الرحمہ کے مرید و خلیفہ اور جانشین تھے۔ جب آپ کے وال۔۔۔
مزید