شہید غزوہ احد حضرت سیدنا مالک بن ایاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ خزرجی، انصاری ہیں۔ آپ نے بھی غزوۂ احد میں جامِ شہادت نوش فرمایا۔ (شہدائے بدر و احد) ۔۔۔
مزید
آپ خانوادہ چشت میں ایک عظیم شیخ ہیں آپ کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے روحانی فیض ملا۔ بعض مشائخ آپ کو سلسلہ سہروردیہ کے مشائخ سے تصور کرتے ہیں۔ کشف و کرامات میں بے نظیر تھے۔ ترک و تجرد میں بے مثال تھے۔ ابتدائی سلوک کے سات سال شیخ الشیوخ سہروردی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے (غالباً اسی وجہ سے بعض حضرات آپ کو سہروردیوں میں شمار کرتے ہیں) اگرچہ شیخ جلال الدین تبریزی حضرت شیخ ابوسعید تبریزی قدس سرہ کے مرید تھے۔ مگر ابوسعید کی وفات کے بعد آپ شیخ الشیوخ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کمال کو پہنچے کچھ عرصہ بعد آپ کی ملاقات حضرت خواجہ معین الدین سنجری قدس سرہ سے ہوئی وہاں ہی آپ نے حضرت خواجہ قطب الدین اوشی کو دیکھا۔ حضرت خواجہ قطب الدین نے آپ کو اپنی روحانی تربیت سے درجۂ کمال تک پہنچا دیا اور اس طرح ان کے خلیفہ خاص بنے۔ اور خانواہ چشت میں معروف ہوئے۔ حضرت شیخ الشیوخ خواجہ ش۔۔۔
مزید
حضرت حافظ اکبر امام عبدالرزاق رضی اللہ عنہ ولادت: ۱۲۶ھ وفات: ۲۱۱ھ اسم گرامی عبدالزاق ابو بکر کنیت۔ سلسلۂ نسب یہ ہے عبدالرزاق ابو بکر کنیت۔ سلسلۂ نسب یہ ہے عبدالرزاق بن ہمام بن نافع یمن کے پایۂ تخت صنعاء میں ۱۲۶ھ میں آپ کی ولادت ہوئی صنعانی مشہور ہوئے آپ کے والد ہمام ثقہ تابعین میں شمار ہوتے تھے۔ ابتداء میں اپنے والد اور مقامی شیوخ سے علم حاصل کیا تجارت کے لیے اسلامی بلادو امصار کے سفر کیے اور وہاں کے شیوخ سے استفادہ کیا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں: ‘‘رحل فی تجارۃ الی الشام ولقی الکبار’’ وہ تجارت کی غرض سے شام ہوجاتے اور وہاں کے کبار علماء کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ (تذکرہ، ج۱، ص۳۳۱) غیر معمولی قوت حفظ و ضبط کے مالک تھے ابراہیم بن عباد زہری کا بیان ہے کہ ان کو سترہ ہزار حدیثیں یاد تھیں۔ (الاعلام، ج۲، ص۵۱۹) امام عبدالرزاق نے بیس سال کی عمر میں تمام علوم متداولہ میں مہارت ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا بشارت علی خان آفریدی ارمان قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مولانا بشارت علی خان آفریدی ارمان قادری بن مولوی امداد حسین خان بن اکبر آباد (انڈیا) میں ۱۹۰۱ء کو تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت: آپ خود لکھتے ہیں : ’’فارغ التحصیل ہو چکا تھا‘‘۔ (حیات قدسی ) اس سے یقین ہو جاتا ہے ۔کہ آپ فارغ التحصیل عالم تھے لیکن تفصیلات کا علم آپ کی تعلیم یافتہ اولاد کو بھی نہیں ہے۔ آپ کی علمیت شاعری اور حیات قدسی (تصنیف)سے آشکارا ہے ۔ قادر الکلام شاعر علامہ سیماب اکبر آبادی ثم کراچی آپ کے شاعری میں استاد تھے۔ بیعت: آپ سلسلہ عالیہ قادر یہ میں قدوۃ السالکین حضوت مولانا بہاوٗ الدین بنگلوری ؒ دزبار شریف غوثیہ مرشد آباد (انڈیا) سے اپنے والد محترم کے ہمراہ دست بیعت ہوئے۔ آپ کو اپنے مرشد سے والہانہ محبت تھی اور یہ محبت ہی کا نتیجہ ہے کہ آپ نے ان کے حالات سے متعلق کتاب ’&rsq۔۔۔
مزید
حضرت ابوالمجد مجدود بن آدم حکیم سنائی علیہ الرحمۃ آپ کی کنیت و نام ابو المجد مجد بن آدم ہے۔وہ اور شیخ رضی الدین کے باپ علی لالا دونوں چچا زاد بھائی تھے۔صوفیوں میں سے بڑے شاعر گذرے ہیں"اور لوگ ان کے شعروں کو اپنی تصنیفات میں بطور دلیل کرتے ہیں۔ان کی کتاب"حدیقہ الحقیقت"ان کی شعردانی ذوق اور ارباب معرفت کے وجد اور توحید کے کمال پر قاطع دلیل اور روشن برہان ہے۔خواجہ یوسف ہمدانی کے آپ مرید ہیں۔آپ کی توبہ کا یہ سبب تھا کہ سلطان محمود سبکتگین سردی کے موسم میں کفار کے بعض ملک لینےکے لیے غزنی سے باہر نکل آیا تھا۔سنائی نے اس کی تعریف میں قصیدہ کہا تھا۔اس کے پاس اس لیے جاتے تھے کہ پیش کریں۔ایک بھٹی کے دروازہ پر پہنچے وہاں ایک مجذوب محبوب تھا"جو کہ تکلیف کی حد سے ہاہر نکل گیا تھا۔جو لاخوار کے نام سے مشہور تھا۔کیونکہ وہ ہمیشہ رومی شراب پیا کرتا تھا۔اس کی آ۔۔۔
مزید
عنایت احمد کاکوروی، مولانا مفتی محمد نام ونسب: اسم گرامی: حضرت مولانا مفتی عنایت احمد کاکوروی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب: مجاہدِجنگ آزادی،امام الصرف،جامع العلوم۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:حضرت علامہ مفتی عنایت احمد کاکوروی بن منشی محمد بخش بن منشی غلام محمد بن منشی لطف اللہ علیہم الرحمہ۔آپ کےآباؤاجدادمیں امیر حسام نامی ایک بزرگ بغداد سےہندوستان آئے۔دیوہ ضلع بارہ بنکی اودھ میں مقیم ہوگئے۔امیر حسام کےصاحبزادےضیاء الدین دیوہ کےقاضی مقررہوئے۔آپ کاخاندان علم وفضل اور دینی ودنیاوی وجاہت میں معروف تھا۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 9/شوال المکرم 1228ھ/مطابق اوائل ماہ اکتوبر/1813ء کو دیوہ ضلع بارہ بنکی میں ہوئی۔کچھ عرصہ بعد آپ کےوالد گرامی نےکاکوروی ضلع لکھنؤ اپنےسسرال منتقل ہوئےتوآپ بھی اپنی ننھیال میں مستقل سکونت اختیارکرلی۔جس کی نسبت سےآپ کو’’کاکوروی‘‘ کہا جانےلگا۔ ت۔۔۔
مزید
شیخ الاسلام حضرت مولانا شاہ عبد القدیر قادری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی: حضرت مولانا شاہ عبدالقدیر بدایونی۔کنیت: ابوالسالم۔لقب: شیخ الاسلام، عاشق رسولﷺ،ظہورِ حق۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالقادر بدایونی بن تاج الفحول محب رسول مولانا شاہعبدالقادر بدایونی بن سیف اللہ المسلول حضرت مولانا شاہ فضل ِرسول بدایونی بن عین الحق شاہ عبد المجید بد ایونی،بن شاہ عبد الحمید بد ایونی۔رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی تک منتہی ہوتاہے۔(اکمل التاریخ:33) تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 11/شوال المکرم1311ھ،مطابق وسط اپریل/1894ء کوبدایوں شریف(انڈیا) میں ہوئی۔ ولادت سے قبل بشارت:آپ کی ولادت سے قبل ہی جد کریم سیف اللہ المسلول حضرتمولانا شاہ فضل رسول بدایونی نے1283ھ /1866ء میں ہی بشارت دے دی تھی کہ اس وقت تشریف لانے والے عبدالمقت۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی قدس سرہ کے چار خلیفہ تھے۔ خواجہ احمد صدیق، خواجہ اولیائے کبیر، خواجہ سلیمان کرمینی اور خواجہ عارف ریوگری رحمۃ اللہ علیہم، خواجہ عارف ریوگری خلیفۂ اعظم تھے۔ تمام عمر اپنے پیر روشن ضمیر کی خدمت بابرکت میں رہے اور باطنی فیوض و برکات سے مالا مال ہوئے۔ علم و حلم، زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور رشد و ہدایت میں عالی شان رکھتے تھے۔ حضرت خواجہ عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد سجادہ نشین بنے اور ایک خلق کو راہِ ہدایت پر گامزن کیا۔ آپ کا مولد و مدفن ریوگر (بخارا سے ۱۸؍میل اور غجدوان سے ۳؍میل دور ایک موضع) ہے آپ کی ولادت ۲۷؍رجب المرجب ۵۵۱ھ مطابق ۱۵؍ستمبر ۱۱۵۶ء اور وفات یکم شوال ۷۱۵ھ مطابق ۲۹؍دسمبر ۱۳۱۵ھ ہے۔ آپ کی عمر شریف بہت دراز تھی۔ آپ کے پیر و مرشد خواجہ عبدالخالق غجدوانی کی وفات ۵۷۵ھ میں ہوئی اور آپ کی ۷۱۵ھ م۔۔۔
مزید