پیر , 18 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 06 April,2026

پسنديدہ شخصيات

سلطان الواعظین مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی

سلطان الواعظین مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسمِ گرامی :عبدالاحد۔لقب:سلطان الواعظین ۔والد کا اسمِ گرامی:استاذالمحدثین مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی علیہ الرحمہ ۔سلسلہ ٔنسب اسطرح ہے :مولاناعبدالاحد محدث پیلی بھیتی بن مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتی بن مولانا محمد طیب بن مولانا محمد طاہرعلیہم الرحمہ۔ تاریخِ ولادت:  مولانا عبدالاحد محدث پیلی بھیتی  1298ھ  بمطابق 1883ء   کو  پیلی بھیت میں پیدا ہوئے۔ تحصیلِ علم: ابتدائی تعلیم اپنے چچا مولانا عبداللطیف سورتی سے حاصل کی اور بعد میں اپنے والدِ گرامی سے تمام علوم و فنون کی تکمیل کی۔ اور تیرہ برس کی عمر میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کی خدمت میں پہنچے۔ جہاں آپ نے باقاعدہ اعلیٰ حضرت  علیہ الرحمہ سے دورۂ حدیث کیا،اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ  نے اپنے دست مبارک ۔۔۔

مزید

حضرت سید داود بن سید سلیمان

حضرت سید داود بن سید سلیمان علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت سید داؤد

حضرت سید داؤد ابن حضرت سید حسین علیہ الرحمۃ ۔۔۔

مزید

حضرت ابراہیم بلخی

حضرت ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: حضرت ابراہیم بلخی رحمۃ اللہ علیہ۔لقب: رئیس الاصفیاء،سند الفقہاء۔بلخ کی نسبت سے"بلخی"کہلاتے ہیں۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: ابراہیم بن یوسف بن میمون بن قدامہ بلخی  ۔علیہم الرحمہ۔آپ کا خاندان صوفیاء وصلحاء کا خاندان تھا۔جس میں بڑے شیوخ وعلماء پیدا ہوئے۔ مقامِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت تقریباً دوسری صدی ہجری کےآخر میں "بلخ"ایران میں ہوئی۔ تحصیل علم: ابتدائی اپنے علاقے میں حاصل کی۔پھر اعلی تعلیم کےلئے عراق کا سفر کیا کیونکہ اس وقت عراق کےبہت سے شہر علوم کےبہت بڑے مراکز تھے۔بغداد ،کوفہ،بصرہ میں بڑےآئمہ علم کےجام لٹا رہےتھے۔آپ ایک مدت تک تلمیذ امام اعظم،فقیہ اعظم،قاضی القضاۃ حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کےسامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔انہیں کی صحبت وشاگردی کی نسبت سےاصحاب امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے ج۔۔۔

مزید

پیر محی الدین لال بادشاہ مکھڈوی

پیر محی الدین لال بادشاہ مکھڈوی رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی: پیر سید محی الدین ۔لقب:لال بادشاہ،راہنما تحریک پاکستان۔سلسلہ نسب اس طرح ہے:پیر سید محی الدین لال بادشاہ بن پیر غلام عباس شاہ بن پیر غلام جعفر شاہ۔علیہم الرحمہ۔ تاریخِ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت 1326ھ مطابق 1908ء کو"مکھڈ شریف" ضلع اٹک میں ہوئی۔ تحصیل علم: آپ کی ابتدائی تعلیم خانقاہ کےمدرسے میں ہوئی۔اسی مدرسے میں علومِ دینیہ کی تکمیل فرمائی۔حضرت لال بادشاہ انتہائی ذہین،معاملہ فہم،زیرک اور صاحبِ علم وفضل انسان تھے۔علم دوستی میں مشہور تھے۔خانقاہ کےمدرسہ غوثیہ کوترقی ووسعت آپ کی کوششوں کی بدولت ہوئی۔ بیعت وخلافت: اپنے والد گرامی سید غلام عباس شاہ صاحب علیہ الرحمہ کےدست پر بیعت ہوئے،اور ان کےوصال کےبعد ان کےمسن نشین ہوئے۔ سیرت وخصائص: پیر طریقت،صاحبِ تقویٰ وفضیلت،شیخ المشائخ،راہنماء تحریک پاکستان،حضرت پیر سید محی الدین ل۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی

حضرت خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت مخدوم ابو القاسم نورالحق ٹھٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

حضرت مخدوم ابو القاسم نورالحق ٹھٹھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مخدوم ابو القاسم نور الحق بن درس ابراہیم ٹھٹوی سندھ کے مشاہیر علما اور معروف اولیا میں سے ہیں۔ آپ کے پیر و مرشد شاہ سیف الدین قُدِّسَ سِرُّہُ الْعَزِیْز نے آپ کو’’ نور الحق‘‘ کا لقب دیا تھا، لیکن آپ پورے سندھ میں ’’حضرت نقشبندی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ کے آنے سے پہلے سندھ میں صرف سہر وردیہ اور قادریہ سلاسل تھے ، سلسلۂ نقشبندیّہ کا وجود نہ تھا ۔ علومِ ظاہری حاصل کرنے کے بعد آپ نے مخدوم آدم کی رہبری میں منازلِ تصوّف طے کیں ۔ مخدوم آدم نے آپ کی ذات میں جو ہرِ قابل دیکھ کر آپ کو سرہند میں حضرت مجددِ الفِ ثانی کے پوتے حضرت سیف الدین رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی خدمت میں بھیج دیا، کسبِ فیض کے بعد آپ واپس ٹھٹھہ تشریف لائے تو سندھ کے جلیل القدر علمانے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مخدوم ابو القاسم ج۔۔۔

مزید

نذیر احمد خجندی، خطیب العلماء، علامہ مولانا ، رحمۃ اللہ تعالی علیہ

نذیر احمد خجندی، خطیب العلماء، علامہ مولانا ، رحمۃ اللہ تعالی علیہ نام ونسب:اسم گرامی: مولانا نذیر احمد خجندی۔لقب:خطیب العلماء۔آپ کےآباؤاجداد میں سےکچھ بزرگ ثمر قند (ترکستان)کےعلاقہ "خجند"کےرہنےوالےتھے۔اسی مناسبت کی وجہ سےمولانا نےاسی نسبت کو پسند فرمایا۔(جب جب تذکرہ خجندی ہوا:16)۔سلسلہ نسب اسطرح ہے:مولانا نزیر احمد خجندی بن شاہ عبدالحکیم جوش بن شیخ پیر بخش بن شیخ غلام احمد بن مولانا محمد باقر بن مولانا محمد عاقل بن مولانا محمد شاکر بن مولانا عبداللطیف بن مولانا یوسف  بن مولانا داؤد بن مولانا احمد دین بن قاضی صوفی حمید الدین صدیقی،علیہم الرحمۃ والرضوان ۔آپ کاسلسلہ نسب سینتیسویں پشت میں  امیر المؤمنین خلیفۂ اول حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتاہے۔(ایضاًٍ:21)۔آپ کےآباؤ اجداد میں سے کچھ لوگ مدینۂ منورہ سےتبلیغ ِ دین کےسلسلے میں ریاستِ فرغانہ کےشہر "خجند"پہن۔۔۔

مزید

قمر رضا بریلوی، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، علامہ محمد

 قمر رضا بریلوی، نبیرۂ اعلیٰ حضرت، علامہ محمد، رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ  اللہ ہی کا ہے جو اس نے دیا اور جو اس نے لیا اور ہر شے کی اس کے یہاں ایک مقدار مقرر ہے، دنیا میں جو آیا ہے اسے ایک نہ ایک دن فیصلہ کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت جانا ہے، ہر دن ہزاروں آتے ہیں اور ہزاروں جاتے ہیں نہ ان کا آنا کوئی بڑی خوشی کی بات ، نہ انکا جانا کوئی بڑا صدمہ شمار، پر بندگانِ خُدا میں سے کوئی فرد ایسا ہوتا ہے کہ جس کے آنے سے اَن گنت لوگوں کو خوشی ہوتی ہے اور جانے پر بےشمار آنکھیں اشکبار، یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چن لیتا ہے، ان کے دلوں میں اپنی اور اپنے محبوب منزہ عن العیوب  علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کی الفت و محبت نقش فرمادیتا ہے، اور ان کا انتخاب دینِ مبین کی خدمت کے لئے فرماتا ہے، اب خواہ وہ خدمتِ دین بصورتِ خدمتِ خلق ہو جیسا کہ ابدالِ کرام انجام دیتے ہیں یا وہ خدمتِ دین بصو۔۔۔

مزید

حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم

حضرت خواجہ ابراہیم بن ادھم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نام ونسب:اسمِ گرامی:ابراہیم۔کنیت:ابواسحق ۔القاب:مفتاح العلوم،سلطان التارکین،سیدالمتوکلین،امام الاولیاء۔سلسلہ نسب اسطرح ہے: سلطان ابراہیم بن ادہم بن سلیمان بن منصوربن یزیدبن جابر۔(علیہم الرحمہ) ولادت با سعادت: آپ کی ولادت  باسعادت  بلخ (افغانستان)میں ہوئی۔ تحصیل علم: شاہی خاندان سےتعلق تھا،شہزادے تھے،ابتدائی تعلیم  شاہی محل میں ہوئی،جب خداطلبی میں بادشاہت کوترک کرکےمکۃ المکرمہ پہنچے،وہاں کےمشائخ سے تحصیل ِعلم کیا۔وہاں سےبغداد،بصرہ،کوفہ،بلادِشام کاسفرکیا۔آپ نےجلیل القدر مشائخ  خواجہ فضیل بن عیاض، امام باقر،سفیان ثوری ،خواجہ عمران بن موسیٰ ، شیخ منصورسلمی،خواجہ اویس قرنی ،حضرت امام اعظم ابو حنیفہ،حضرت جنید بغدادی (رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) سےعلم حاصل کیا اور انکی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔جنید بغدادی آپ کو"مفاتیح العلوم۔۔۔

مزید