حضرت اخی محمد ؑدہقانی علیہ الرحمۃ شیخ نے فرمایا ہے کہ چلہ میں جمعرات کی شب ۲۹رات کو میں نے عالم غیب میں یہ دیکھا ،کہ مسافروں کی ایک جماعت آئی ہے۔ان میں ایک ایسا جوان ہے کہ پروردگار کی اس کی طرف نظر عنایت ہے۔اس کو میرے حوالے کردیا ہے۔جب میں ہوش میں آیا تو میں نے خادم سے کہا کہ میرے باہر آنے سے پہلے کسی مسافر کو باہر جانے کی اجازت نہ دیجؤ۔اتفاقاً اسی وقت مسافروں کی ایک جماعت آئی۔میں نے کہا کہ ، کل جمعہ کا دن ہے میرا چلہ پورا ہوچکا ہوگا۔تو جمعہ مسجد میں جہاں بیٹھا ہوں گا ان سب کو لانا تاکہ ان سب کو دیکھوں۔جب میں جمعہ کے دن مسجد میں گیا۔مسافر درویش آئے،اور سلام کہا۔میں نے ہر چند نظر کی جس کو میں نےدیکھا تھا۔وہ ان میں نہ تھا۔میں نے کاہ ، شاید یہ اور لوگ ہوں گے ہم سب نے نماز پڑھی اور خانقاہ میں آگئے۔خادم نے کہا ان درویشوں میں سے ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ نجم الدین محمد بن الاوکانی علیہ الرحمۃ آپ شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ علیہ الرحمۃ کے مرید ہیں۔آپ کی عمر اسی سال تک پہنچی تھی۔۷۷۸ہجری کے مہینوں میں دنیا سے رحلت فرما گئے۔اسفراین کے علاقہ کے ایک قلعہ میں دفن ہوئے۔آپ فرماتے ہیں کہ رسولؑ کا یہ فرمانا:علیکم بالسواد الا عظم ای بالقران۔یعنی بڑی جماعت کی تابعداری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی تابعداری کرو۔ (نفحاتُ الاُنس)۔۔۔
مزید
حضرت میرے بھائی علی مصری رحمتہ اللہ تعالی آپ ملک شام و روم میں شیخ تھے۔بہت سے ان کے مرید جمع ہو گئے تھے ۔چونکہ وہ ایک منصف مزاج شخص تھے۔مریدوں کی ایک جماعت سے جو کہ مستعد تھی۔کہا،اگر تم حق کے طالب ہو تو میں بھی اسی کا طالب ہوں۔میں نے کوئی مرشد نہیں پایاکہ جس کے پاس سلوک پورا کرتا۔میں نے اب خواب میں دیکھا ہے اور ظاہر بھی سنتا ہوں کہ خراسان میں ایک کامل مرشد ہیں۔اٹھو تاکہ ان کے پاس چلیں،اور ان سے ملیں۔مرشد کی خدمت میں چند دن سلوک پورا کریں،اور جو کچھ کے لوگ ہم پر گمان رکھتے ہیں۔اس کو حاصل کریں۔القصہ اس وجہ سے وہ آئے تھےاور شیخ(رکن الدین علاؤ الدولہ)کو مریدوں کے حلقہ میں اپنے مریدوں کی ایک جماعت کے ساتھ داخل ہوئے۔شیخ نے فرمایا کہ پہلے ان کا عقیدہ تمہارے ساتھ ہے۔اس کے بعد میرے ساتھ تمہارا وسیلہ ان کو نفع دے گا۔کیونکہ میرے نزدیک شیخ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ جمال الدین احد جو زفانی رحمتہ اللہ تعالٰی آپ شیخ رضی الدین علی لالا کے مریدوں میں سے ہیں۔شیخ رکن الدین علاؤ الدولہ کہتے ہیں"شیخ احمد عجب ذاکر شخص ہوئے ہیں۔ان کا بڑا مرتبہ ہے۔میں نے عالم غیب میں ان کے سلوک کا مرتبہ شیخ ابو الحسن خرقانی کے مناسب پایا"اور شیخ رضی الدین علی لالا کو سلطان با یزید قدس اللہ تعالٰی ارواہم کے مناسب پایا۔شیخ رضی الدین علی لالا کہتے ہیں"جو شخص کو ہمارے احمد کی خاموشی کی موافقت کرے تو جو کچھ لوگوں نے حضرت جنید اور ثبلیؒ سے حاصل کیا تھا۔اس سے حاصل کریں۔ایک دن شیخ سعد الدین حموی جو رفان میں پہنچے کسی کو بھیجا"اور شیخ احمد کو طلب کیا۔شیخ احمد نےگوشہ نشینی کی نیت کرلی تھی"نہ آئے۔پھر بھیجا کہ آنا چاہیئے"کیونکہ مجھے اشارہ ہوا ہے کہ جب تمہارے لیے شیخ علی نےاجازت نامہ لکھ دیا ہے۔میں بھی لکھ دوں۔شیخ احمد نے جواب کہلا بھیجا کہ میں خدا تعالٰی کے اجازت ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ رضی الدین علی لالا غزنوی علیہ الرحمۃ وھو علی بن سعید بن عبدالجلیل اللا لا ء الغزنوی۔یعنی وہ علی بن سعید بن عبد الجلیل لالا غزنوی ہیں،اور یہ شیخ سعید کہ شیخ علی لالا کے فرزند ہیں۔حکیم سنائی کے چچا زاد بھائی ہیں۔حج کے قصد سے خراسان میں آئے تھے،اور شیخ ابو یعقوب یوسف ہمدانی رحمتہ اللہ کی خدمت میں پہنچے تھے۔ان دنوں میں کہ شیخ نجم الدین کبرے ہمدان کو حدیث کی طلب کے لیے جاتے تھے،تو وہاں سے ایک فرسنگ کے فاصلہ پر جو ایک گاؤں تھا۔جہاں علی لالا رہتے تھے۔وہاں پر شیخ اترے تھے۔اتفاقاً شیخ علی لالا نے خواب میں دیکھا کہ ایک سیڑھی آمان تک لگائی گئی ہے۔ایک شخص سیڑھی کے پاس کھڑا ہےلوگ ایک ایک کر کے اس کے پاس آتے ہیں،اور وہ ان کا ہاتھ پکڑکر اس کو آسمان کے دروازہ تک لے جاتا ہےاور وہاں پر ایک شخص ہے کہ ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ میں دیتا ہےاور وہ ان کو ۔۔۔
مزید
حضرت علامہ مولانا محمد بوستان قادری (برطانیہ) حضرت مولانا محمد بوستان قادری نے برطانیہ میں دینی ترویج و اشاعت 1962میں حضرت پیر سید معروف حسین شاہ عارف قادری نوشاہی مد ظلہ کی راہنمائی اور معیت میں شروع کی۔ آپ جمعیت تبلیغ الاسلام بریڈفورڈ اور ورلڈ اسلامک مشن کے بانی اراکین میں سے تھے۔بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں آپ نے حضرت قبلہ پیر سید معروف حسین شاہ صاحب کے ساتھ اہل سنت کی تنظیم سازی اور مساجد کے قیام میں انتھک محنت کی- آپ برمنگھم منتقل ہوئے تو وہاں اہل سنت کا تشخص اجاگر فرمایا۔ آپ نے گذشتہ 55 سال دن رات دین اسلام کی اشاعت میں صرف کیے۔حضرت مولانا محمد بوستان قادری کو ورلڈ اسلامک مشن کے قیام اور پاکستان میں قادیانیوں کے غیر مسلم قرار دینے کے بعد قائدین اہل سنت مولانا شاہ احمد نورانی ،مولانا عبد الستار خان نیازی، علامہ ارشد القادری، علامہ شاہ فرید الحق اور جناب ظہور الحسن بھوپ۔۔۔
مزید
حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے ہیں حضرت اسحاق علیہ السلام کی والدہ کا نام حضرت سارہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا ہے۔ اسماعیل علیہ السلام کے بعد اسحاق علیہ السلام کی بشارت: فَبَشَّرْنَاھَا بِاِسْحَاقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحَاقَ یَعْقُوْبَ (پ۱۲/ سورۃ ھود ۷۱) تو ہم نے اسے (حضرت سارہ) کو اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی۔حضرت سارہ کو بشارت دینے کی وجہ یہ تھی کہ اولاد کی خوشی عورتوں کو بنسبت مردوں کے زیادہ ہوتی ہے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی۔ "لم یکن لھا ولد وکان لابراھیم ولد وھو اسماعیل"کہ حضرت سارہ کی اولاد نہیں تھی اس لیے زیادہ خوشی ان کو ہی حاصل ہوئی تھی کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیٹا اسماعیل پہلے پیدا ہوچکا تھا۔۔۔۔
مزید
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَھُمُ اللہ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْیَاھُمْ اِنَّ اللہ لَذُوْفَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَلٰکِنَّ اَ کْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں، جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا: مرجاؤ! پھر انہیں زندہ فرمادیا، بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائیل کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ نے اپنی قوم کو جہاد کرنے کے لیے کہا تو گھروں سے باہر نکل کر وہ کہنے لگے ہم تو اس زمین میں نہیں جائیں گے جہاں تم ہمیں لے جانا چاہتے ہو؛ کیونکہ وہاں وباء پھیلی ہوئی ہے۔ جب وباء (طاعون) وہاں سے زائل ہوجائے گی تو پھر ہم جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام پر جو ہزاروں ۔۔۔
مزید
حضرت صالح علیہ السلام ’’قوم ثمود‘‘ کی طرف آئے، آپ علیہ السلام بھی ثمود قوم سے ہی ہیں ’’ثمود‘‘ ایک شخص کا نام تھا۔ اس کی اولاد ’’قوم ثمود کہلائی‘‘۔ ثمود کا نسب نوح علیہ السلام سے ملتا ہے۔ یعنی ثمود بن عابر بن ارم بن سام بن نوح اور حضرت صالح علیہ السلام کا نسب اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ صالح بن عبید بن ماسخ بن عبد بن جاور بن ثمود۔ (روح البیان، حاشیہ جلالین ص۱۸۴) اور ثمود کا نسب اس طرح بھی بیان کیا گیا ہے۔ ثمود بن عبید بن عوص بن عاد بن ارم بن سام بن نوح یہی زیادہ صحیح ہے۔ (حاشیہ جلالین ص۳۱۴) حضرت صالح علیہ السلام اور حضرت ہود علیہ السلام کے درمیان ایک سو سال کا فاصلہ ہے، یعنی صالح علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کے ایک سو سال بعد تشریف لائے حضرت صالح علیہ السلام کی مر دو سو اسی (۲۸۰) سال تھی۔ (حاشیہ ۔۔۔
مزید
اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّھُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ قَالَ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا قَالُوْا وَمَالَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَاَبْنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِ لَّا قَلِیْلًا مِّنْھُمْ وَاللہ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ (پ۲ سورۃ البقرۃ ۲۴۶) اے محبوب کیا تم نے دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوا جب اپنے ایک نبی سے بولے ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردو کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں نبی نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو؟ بولے ہمیں کیا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم۔۔۔
مزید