نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شیخ عبدالغفور چشتی صابری۔ لقب: سراج العارفین۔ تحصیل علم: ابتدا میں آپ سپاہی تھے، بعد میں حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی صحبت اختیار کی اور علوم ظاہری و باطنی سے مالامال ہوئے۔ بیعت و خلافت: سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں قطب العالم حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، اور عبادات و ریاضات کےبعد خرقہ خلافت سے مشرف ہوئے۔ سیرت وخصائص: سراج العارفین حضرت شیخ عبدالغفور چشتی صابری۔ آپ مشاہیر اولیائے کبار سے ہیں۔آپ ابتدائی زمانہ میں سپہ گری اور ملازمت کرتے تھے۔ایک دن بازار میں کھڑے تھے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں حضرت شیخ شرف الدین یحیٰ منیری کے مکتوبات کی ایک جلد لے کر کھڑا ہوا تھاکہ آپ نے اس سے کتاب لے کر مطالعہ شروع کیا اور اس میں دنیا اور اس کی مذمت کا بیان تھا۔اس کو پڑھتے ہی آپ کے دل سے دنیا کی محبت جاتی رہی اور سارا مال و اسباب راہ حق میں دے کر خ۔۔۔
مزید
نام ونسب: اسم گرامی: حضرت شیخ بڈھن۔ لقب: شیخ الاولیاء۔ سلسلہ نسب: حضرت شیخ بڈھن بن مخدوم الاولیاء حضرت شیخ محمد بن حضرت شیخ عارف بن حضرت شیخ احمد عبد الحق ردولوی چشتی صابری۔علیہم الرحمہ۔ تحصیل علم: آپ کا خاندان علم و معرفت کا منبع تھا۔اس میں بڑے بڑے اولیاء و صلحاء موجود تھے، ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے گھر پر ہوئی، پھر آپ کو قطب العالم حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی کی تربیت میں دےدیاگیا،انہوں نے آپ کو علم و معرفت میں کمال تک پہنچایا۔ بیعت وخلافت: سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں قطب العالم حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی مجددسلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ سے بیعت ہوئے، اور فیوضات باطنیہ سے مالامال ہوئے۔ سیرت وخصائص: عارف باللہ، فنافی اللہ، سید الاولیاء حضرت شیخ بڈھن چشتی صابری۔آپ اپنے زمانے کے عظیم بزرگ باکمال و صاحب کشف و کرامت اور اہل یقین اور ذات وحدہٗ لاشریک میں فنا کے درجہ پر فائز المرام تھے۔ آپ کے ۔۔۔
مزید
حمزہ، سیّدالشہداء سیّدنا امیر اسمِ گرامی: امیرحمزہ۔ کنیت: ابوعمارہ۔ لقب: اسداللہ واسدرسول اللہﷺ۔ والدۂ ماجدہ: ہالہ بنتِ اہیب بن عبدِ مناف بن زہرہ۔ حضرت ہالہ نبی اکرم ﷺکی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ کی چچا زاد بہن تھیں۔ سیّدنا امیرحمزہ نبی اکرم ﷺکے چچا اور رضاعی بھائی ہیں۔ ابو لہب کی آزاد کردہ کنیز ثویبہ نے ان دونوں ہستیوں اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد مخزومی (حضرت اُمّ المؤمنین امِّ سلمہکے پہلے شوہر) کو دودھ پلایا تھا۔ نسب: سیّدالشہداء حضرت سیّدنا امیرحمزہ کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے: سیّدنا حمزہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی بن غالب اِلٰی اٰخِرِہٖ)۔ ولا۔۔۔
مزید
شہید غزوہ احد حضرت سیدنا مصعب بن عمیر بن ہاشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصی بن کلاب بن مرہ قرشی عبدری: ان کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور برگزیدہ فضلائے صحابہ اور سابقوں اولون سے تھے۔ انہوں نے اس وقت اسلام قبول کیا۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دار ارقم میں قیام فرما تھے۔ انہوں نے قوم اور ماں کے ڈر سے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا۔ وہ وقتاً فوقتاً چھپ چھپا کر حضور سے ملتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ عثمان بن طلحہ العبدری نے انہیں نماز پڑھتے دیکھ لیا اور ان کے خاندان والوں کو بتا دیا، جنہوں نے اُنہیں گھر میں بند کردیا، تا آنکہ وہ ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے۔ وہاں سے واپسی پر وہ عقبہ اول کے بعد، اہلِ مدینہ کو نماز اور قرآن پڑھانے کے لیے مدینے چلے گئے تھے۔ عبید اللہ بن احمد نے باسنادہ تایونس بن بکیر سے، انہوں نے ابن اسحاق سے انہوں نے یزید بن حبیب سے روایت ۔۔۔
مزید
مولانا مفتی عسجد رضا خان صاحب زید شر، فہ تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خاں الازہری کے اکلوتے صاحبزادے اور اس وقت ان کے جانشین ہیں۔مولانا عسجد رضا صاحب کی ولادت 14؍؍شعبان المعظم 1390ھ/1970ءکومحلہ خواجہ قطب بریلی میں ہوئی۔ حضور تاج الشریعہ کے یہاں پہلی ولادت تھی، خاندان والوں بالخصوص مفتی اعظم ہند کو بے انتہا خوشی ہوئی، تشریف لائے اور لعاب دہن نومولود کے منہ میں ڈالا اور اسی موقع پر نومولود کےمنہ میں انگلی داخل کرکے داخل سلسلہ بھی کرلیا۔اس نومولود کانام ’’محمد‘‘ رکھا گیا، اور پکارنے کےلئے ’’منور رضا محامد‘‘ تجویز ہوا، اور عرفیت ’’محمد عسجد رضا‘‘ قرار پائی۔ اسی عرفیت سے مولانا عسجد رضا صاحب معروف ہوئے۔والدین کے زیر سایہ تربیت ہوئی۔ ’’محمد‘‘ نام پر شاندار عقیقہ ہوا۔ جب آپ 4؍ سال 4 ؍ ماہ ؍4 ؍ دن کے ہو۔۔۔
مزید
برہان الحق جبل پوری، مولانا محمد مفتی نام و نسب: اسم گرامی: خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری۔لقب: برہانِ ملت،برہان الدین، برہان السنت،خلیفۂ اعلیٰ حضرت،ممدوحِ اعلیٰ حضرت،مظہرِ شریعت۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ مولانا مفتی برہان الحق جبل پوری بن عید الاسلام حضرت علامہ مولانا شاہ عبد السلام جبل پوری بن مولانا شاہ محمد عبد الکریم قادری نقشبندی بن مولانا شاہ محمد عبدالرحمن بن مولانا شاہ محمد عبدالرحیم بن مولانا شاہ محمد عبد اللہ بن مولانا شاہ محمد فتح بن مولانا شاہ محمد ناصر بن مولانا شاہ محمد عبدالوہاب صدیقی طائفی۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔آپ کا خاندانی تعلق حضرت سیدنا صدیق اکبر سےہے۔نویں پشت میں آپ کے جد اعلیٰ حضرت شاہ عبدالوہاب صدیقیسلطنتِ آصفیہ کے دورِ حکومت میں نواب صلابت جنگ بہادر کے ساتھ طائف سے ہندوستان تشریف لائے،اور حیدر آباد دکن میں سکونت اختیار کی۔۔۔
مزید
خدیجۃ الکبریٰ، اُمّ المومنین سیّدتنا اسمِ گرامی: خدیجۃ الکبریٰ۔کنیت: اُمِّ ہند ۔لقب: سیّدہ، طاہرہ۔نسب:حضرت سیّدتنا اُمّ المومنین خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:خدیجہ بنتِ خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔سیّدہ کا نسب حضور ﷺ سے قصی پرمل جاتا ہے۔ آپ کی والدہ فاطمہ بنتِ زائدہ بن الاصم بنی عامر بن لوی سے تھیں ۔ولادت: سیّدتنا حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا شرافت ،امانت ،ایفائے عہد ،سخاوت،غریب پروری ، فراخ دلی اورعفّت و حیاجیسی اعلیٰ صفات اور خوبیوں کے ساتھ واقعۂ فیل سے 15 سال پہلے، 555ء میں اس دنیا میں تشریف لائیں ا۔۔۔
مزید
فاطمۃ الزہرا، خاتون جنت سیّدۃ النساءاسمِ گرامی: فاطمہ۔اَلقاب: سیّدہ، سیّدۃ النساء، خاتونِ جنّت، مخدومۂ کائنات، طیّبہ، طاہرہ، عابدہ، زاہدہ، زہرا، بتول۔ وغیرہ۔کنیت: اُمّ الحسنین۔نسب:حضرت سیّدۃ النّسا فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے:سیّدۃ النساء فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا بنتِ سیّدالانبیا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بن عبد اللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف (علیہم الرحمۃ والرضوان)۔آپ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالٰی عنہا کےبطن سے پیدا ہوئیں اور رسولِ اکرم ﷺکی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔فاطمہ کی وجہِ تسمیہ:سَرورِ عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:انما سمیت فاطمۃ لان اللہ تعال۔۔۔
مزید